غریب آدمی اور ڈالر - ابو محمد مصعب

یقین جانیں کہ ایک غریب آدمی کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ ڈالر کتنا مہنگا ہوا اور روپیہ کتنا نیچے آیا۔ ملک کی اسٹاک ایکسچینج کریش ہونا تو ایک طرف، اسے یہ تک پتہ نہیں کہ اسٹاک ایکسچینج ہوتی کیا بلا ہے اور شیئرز کے کاروبار میں کیا کچھ ہوتا ہے۔ اسے یہ بھی خبر نہیں کہ جی ڈی پی کسے کہتے ہیں اور اس سے کس طرح کسی ملک کے عوام کی خوشحالی کو ناپا جاتا ہے۔ غریب یہ بھی نہیں جانتا کہ کساد بازاری کیا شے ہوتی ہے، افراطِ زر (inflation) کسے کہتے ہیں اور وہ کسی ملک کی معیشت پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے ۔ یقین جانیں، اپنا گھر ہونا ضرور ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے مگر ہر انسان کی ہر خواہش پوری نہیں ہوتی، لہٰذا وہ کرائے کے مکان میں رہ کر بھی گزارا کر لیتا ہے۔ میں خود کرایہ کے مکانوں میں پچھلے پچیس تیس سال سے رہتا آ رہا ہوں۔ تو پھر پاکستان کے عوام کا اصل مسئلہ کیا ہے؟ جواب یہ ہے کہ ایک نہیں بہت سے مسائل ہیں اور بڑے گمبھیر ہیں، اس لیے حکومت کو پہلے ان پر توجہ دینی چاہیے۔ آپ ایک قوم بنائیں، اسے علم و ہنر کے زیور سے آراستہ کریں، ان کی اچھی تربیت کریں، مکان وہ خود بنا لے گی۔

قوم کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ملک میں وی آئی پی کلچر اور ڈبل اسٹینڈرڈز رائج ہیں۔ یہاں بڑا آدمی جرم کرے تو اس سے صرفِ نظر کیا جاتا ہے اور غریب کرے تو اسے پکڑ لیا جاتا ہے۔ قوم کا مسئلہ یہ ہے کہ ادارے تباہ ہیں۔ بیوروکریسی تباہ ہے۔ دفاتر میں کام ٹھپ پڑے ہیں۔ ہر افسر کو اپنی جیب کی فکر ہے۔ عوام کا کوئی کام بغیر سفارش یا رشوت کے نہیں ہوتا۔ فائلیں اور معاملات مہینوں سرد خانوں کی نظر رہتے ہیں۔قوم کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ عدالتوں میں ہزاروں کیسز پڑے ہوئے ہیں اور انصاف کے حصول کے لیے مظلوم کی عمر گزر جاتی ہے اور بال سفید ہو جاتے ہیں، جوتیاں گھس جاتی ہیں اور بعض اوقات وہ قبرتک میں پہنچ جاتا ہے مگر انصاف پھر بھی حاصل نہیں کر پاتا۔ قوم کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں کی پولیس، جرائم پیشہ افراد، چور اچکوں اور بدمعاشوں کی دوست ہے اور شریف لوگوں کی دشمن۔ لوگوں کو بغیر کسی وجہ کے اٹھا لیا جاتا ہے اور تھانوں میں بند کر دیا جاتا ہے تاکہ ان سے تاوان لے کر چھوڑا جائے۔ منشیات، لوٹ مار، اسٹریٹ کرائم، بھتہ گیری، یہ سب کام پولیس کی آشیرواد اور تعاون کے ساتھ ہو رہے ہیں۔قوم کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں علاج کے نام پر کاروبار ہو رہے ہیں۔

سرکاری ڈاکٹرز اپنی ڈیوٹی صحیح طرح نہیں نبھا رہے۔ وہ مریض کو اس طرح توجہ نہیں دے رہے جس طرح اپنی پرائیویٹ کلینکس میں دیتے ہییں۔ یہ فارما کمپنیوں سے سازباز کر لیتے ہیں، وہاں سے حصہ پاتے ہیں۔ گھر، گاڑی، فرنیچر اور غیرملکی دوروں کے نام پر ان سے رشوت وصول کرتے ہیں۔ دوائیاں دو نمبر ہیں۔ پیتھالوجی لیبز غریبوں کو علیحدہ سے لوٹ رہی ہیں، اور اس لوٹ مار میں خود ڈاکٹرز شامل ہیں۔ سرکاری اسپتالوں کی حالت نابگفتہ ہے۔ فنڈز ہڑپ ہو جاتے ہیں اور دوائیاں باہر فروخت ہو جاتی ہیں۔قوم کا مسئلہ یہ ہے کہ ملک میں دوہرا تعلیمی نظام رائج ہے۔ بڑے پرائیوٹ اسکول مختلف مدات میں لوگوں کی جیبیں خالی کر رہے ہیں۔ وہاں ایسا نصاب پڑھایا جا رہا ہے اور ایسا کلچر پروان چڑھایا جا رہا ہے جو ملک و ملت کے لیے سمِ قاتل ہے۔ یہاں کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے۔ بلکہ کراچی میں تو پانی ہی نہیں ہے۔ کئی عشروں سے ٹینکر مافیا چھایا ہوا ہے جو مضبوط شخصیات کی پشت پناہی سے غریب عوام کو پانی بیچتا ہے۔ کوئی چیز خالص نہیں۔ کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ ہے۔ دودھ تک میں ملاوٹ ہے جس سے بچوں اور خاص طور پر خواتین میں بریسٹ کینسر تیزی سے پھیل رہا ہے کیوں کہ پہلے، دودھ میں صرف پانی ملایا جاتا تھا، اب مضرِ صحت کیمیکلز ملائے جا رہے ہیں۔

یہاں بے روزگاری کا مسئلہ ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان، کئی کئی سال کی پڑھائی مکمل کرنے اور والدین کا لاکھوں روپیہ خرچ کرنے کے باوجود بے روزگار پھر رہے ہیں۔ ان کے اندر مایوسی پھیل رہی ہے۔ جو ملک سے بھاگ سکتے ہیں، بھاگ جاتے ہیں، اس سے ٹیلنٹ کا ضیاع ہو رہا ہے۔ عوام کا بڑا مسئلہ انفرا اسٹرکچر بھی ہے۔ روڈ، رستے، پل، انٹرچینج، مواصلات، ٹرانسپورٹ، ریلوے، اقامتی ہوٹلز، ریسٹورنز، پبلک ٹوائلٹس، عمارتوں کا معیارِ تعمیر، ان کے ڈیزائن، ان کی مینجمینٹ، سپر مارکٹس اور مالز کی حالت۔۔۔۔۔۔ غرض ہر معاملہ میں ہم دنیا کے مقابلہ میں ابھی بہت پیچھے ہیں۔ اس کا اندازہ وہی لوگ لگا سکتے ہیں جنہوں نے باہر کی کچھ دنیا دیکھی ہے۔ یہاں خواتین کے لیے محلہ اور کمیونٹی کی سطح پر پارکس اور تفریحی مقامات نہیں ہیں جس سے ان کو جسمانی کسرت کا موقعہ نہیں ملتا۔ مکانات چھوٹے ہونے اور اکثر جگہ پر جائنٹ فیملی سسٹم کی وجہ سے وہ گھر پر بھی کوئی ورزش وغیرہ نہیں کر پاتیں جس سے ان کی صحت بہت خراب رہتی ہے۔یہاں کا ایک بڑا مسئلہ قانون کی خلاف ورزی بھی ہے۔ موٹر وہیکل سسٹم میں باضابطگیاں، بغیر نمبرپلیٹ کے گاڑیاں، فٹنس ٹیسٹ کروائے بغیر روڈوں پر دھواں اگلتی گاڑیاں، بغیر لائسنس ڈرائیونگ، ٹریفک کے اصولوں کی خلاف ورزی، سڑک پارنے کے لیے زیبرا کراسنگ اور روڈ مارکنگ وغیرہ کا فقدان ہے۔

کسی بھی قوم کے نظم و ضبط کا اندازہ آپ ٹریفک کے نظام اور سڑک کنارے چلتے راہگیروں کی چلت پھرت سے چند منٹوں میں لگا سکتے ہیں۔ اگر قوم بنانی ہے تو ڈرائیونگ اور سڑک کے اداب و قوانین کو پرائمری سطح کی تعلیم کا حصہ بنائیے۔خان صاحب، مجھے معلوم ہے کہ یہ سب کام یکایک اور ایک دو سالوں میں ہونے والے نہیں، لیکن آپ ترجیحات کا تعین تو کیجیے، آپ پہلا قدم تو اٹھائیے، آپ ان چیزوں کو اپنے ایجنڈے پر رکھ کر کوئی لائحہءعمل تو ترتیب دیجیے۔ ایک نہ ایک دن ان شاءاللہ یہ قوم دنیا کی باقی تمام اقوام سے آگے کھڑی ہوگی۔ لیکن آپ نے بھی تعمیراتی ٹائکونز اور لینڈ مافیا کی باتوں میں آ کر وہی کچھ کیا جو دوسرے لوگ کرتے تھے (جیسے پچاس لاکھ گھر بنانے کا مضحکہ خیز و حیران کن اعلان) تو پھر سنیے نیا پاکستان اس طرح کبھی نہ بن پائے گا بلکہ پہلے والی بصارت بھی جائے گی۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */