کیا عمران خان وعدے پورے کر سکیں گے؟ سید معظم معین

عمران حکومت کو ابھی دو ماہ بھی نہیں ہوئے مگر اس پر تنقید کا سونامی آیا ہوا ہے۔ خود حکومتی وزرا اور فیصلے بھی مخالفین کو مواقع دینے میں کسی بخل سے کام نہیں لے رہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ حکومت کو زیادہ تنقید کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔ پاکستان میں اپوزیشن میں ہونا تو ایک عیاشی ہے جس سے عمران حکومت بہرحال فی الوقت محروم ہے۔ عوام کی امیدیں عمران حکومت سے بے انتہا ہیں اور اس میں عوام سے زیادہ خود عمران خان اور ان کے ساتھیوں کا کردار ہے جنھوں نے عوام کو اس قدر خواب دکھائے اور اس قدر تواتر سے دکھائے کہ عوام ان پر یقین کر بیٹھے ہیں۔ اب حال یہ ہے کہ حکومتی نااہلی اور عدم تیاری کا حال روز بروز سامنے آ رہا ہے۔ خود عمران خان اسد عمر پر برس پڑے کہ آپ کا ہوم ورک مکمل نہیں تھا۔ حالانکہ اگر ان کا ہوم ورک مکمل نہیں تھا تو اس کے قصوروار بھی خود عمران خان ہی بنتے ہیں کہ آخر کار لیڈر ہی ذمہ دار ہوتا ہے۔ تحریک انصاف کے لیڈروں کے قابلیت کے بلند بانگ دعوے بھی آہستہ آہستہ زمین بوس ہو رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کا دامن تھامنا ، پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کا دعویٰ اور یک طرفہ احتساب کا سلسلہ ایسے اقدامات ہیں جن کے دور رس نتائج ہوں گے۔

دیکھا جائے تو یہ تنقید بے جا بھی نہیں کہ بیشتر حکومت کو ان کے اپنے دعوں کے لحاظ سے پرکھا جا رہا ہے۔ جن دعوں اور نعروں پر عمران خان نے اپنی سیاست کی بنیاد رکھی تھی اب ایک ایک کر کے خود ان بنیادوں کو ڈھا رہے ہیں۔ کرپٹ عناصر سے پاک حکومت بنا کر دکھانا، آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کا دعویٰ، بجلی و گیس کی قیمتوں کا نہ بڑھانا، سب کا بے لاگ احتساب اور اسی طرز کے دوسرے نعرے عوام کو مسحور کیے ہوئے تھے مگر اب حقیقت کا دھچکا (Reality Shock) لگنے پر عوام اور حکومت خود اضطراب کا شکار ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   مولانا اب کیا کریں گے؟ خورشید ندیم

دوسری طرف تحریک انصاف کا کارکن بھی پریشان اور اپنی قیادت کی طرف سے کسی ایسے بریک تھرو کا منتظر ہے جو اسے انتخاب سے قبل کے جذبے سے سرشار کر دے مگر تاحال ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ خاص کر پنجاب میں اسے سخت مشکل کا سامنا ہے جہاں اس کے خوابوں کے بالکل برعکس بظاہر ایک متوسط صلاحیتیوں کے حامل وزیر اعلیٰ کو لا کر بٹھایا گیا ہے۔ اب ان کا موازنہ ان کے پیش رو سخت انتظامی صلاحیتیں رکھنے کا شہرہ رکھنے والے وزیر اعلیٰ سے کیا جائے گا جس میں انھیں سخت مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بہرحال اوسط صلاحیتوں کا حامل شخص بھی اپنی محنت اور دیانتداری سے بڑے سے بڑے اہداف حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن پنجاب کی گھاگ بیوروکریسی اور کرپٹ کلچر میں یہ کام ایک بڑا چیلنج رکھتا ہے۔

موجودہ حکومت کا سارا پلان اس امید پر ہے کہ وہ لوٹی ہوئی دولت ملک میں واپس لائیں گے جس سے خوشحالی آئے گی۔ یہ ایک خوشنما نعرہ تو ہو سکتا ہے مگر کیا یہ حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے۔ عام طور پر کہا جا رہا ہے کہ تین سو ارب ڈالر ملک سے باہر گیا جسے واپس لائیں گے۔ میں کوئی ماہر معیشت نہیں لیکن ایک چھوٹا سا سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ تین سو ارب ڈالر جن ملکوں میں گئے کیا وہ ملک اتنی آسانی سے یہ پیسہ لوٹا دیں گے؟ کیا ایسا آج تک انسانی تاریخ میں ہوا ہے کہ ایک ملک سے دوسرے ملک اتنی بڑی دولت بغیر جنگ و جدل کے منتقل ہوئی ہو؟ کیا عمران خان کا سوفٹ امیج دنیا کو ہمارا لوٹا ہوا مال واپس لوٹا دینے پر آمادہ کر سکے گا؟

Comments

سید معظم معین

سید معظم معین

معظم معین پیشے کے اعتبار سے مہندس کیمیائی ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ مشینوں سے باتیں کرتے کرتے انسانوں سے باتیں کرنے کی طرف آئے مگر انسانوں کو بھی مشینوں کی طرح ہی پایا، وفا مگر مشینوں میں کچھ زیادہ ہی نکلی۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.