ڈاكٹر محمد حسین فطرت، فن اور شخصیت- سيد ہاشم نظام ندوی

نئے ہجری سال چودھ سو چالیس كا آغاز، محرم الحرام كا پہلا عشرہ، دسویں محرم الحرام كے تاریخ ساز دن كے استقبال میں یہودیوں كی مخالفت كرتے اور نبی اكرم صلی اللہ علیہ وسلم كے ارشادات كی تعمیل میں نویں محرم كی شب روزہ داروں كو بھی سحری كا انتظارتھا، كہ جناب ڈاكٹر محمد حسین فطرت بھٹكلی كےبڑے فرزندجناب عبد الودود صاحب دیر رات سفر سے لوٹے،رات دیڑھ بج رہے تھے، اپنے والدِ ماجد كے كمرہ گئے ، دیكھا تو آواز میں كچھ فرق ہے، سانس لینے كی كیفیت بھی جدا ہے، اپنی امی جان كو آواز دی، بھائی جاوید بھی حاضر تھے ،زمزم كا پانی لایاگیا ، كلمہ كی تلقین كے ساتھ پانی حلق سے اترا ہی تھا كہ بڑی آسانی كے ساتھ دو بجے رات آخری لمحات گزارتے ہوئے آپ كی روح قفس عنصری سے پرواز كر گئی اور ہجری اعتبار سے نواسی اور عیسوی اعتبار سےاپنی عمرِ مستعار كی چھیاسی بہاریں گزار كر رفیق اعلی سے جا ملے ۔

انا للہ وانا الیہ راجعون ۔آپ كی رحلت سے قوم نوائط كا ایك سپوت رخصت ہوا، بھٹكل اپنے قابلِ فخر فرزند سے محروم ہوگیا اورآسمانِ علم و دبستان اردو ادب كا ایك چراغ گل ہو گیا۔پيدائش سے تعلیم وتربیت تك:

جناب فطرت بھٹكلی كی كتابِ زندگی کے پہلے ورق پر نظر كريں تواس پر تاريخ پيدائش ۶ /جون ۱۹۳۲ مطابق ۱۶ صفر ۱۳۵۱ ہجری درج ہے۔ آپ نے ہندوستان کےجنوبی علاقہ ، صوبہ كرناٹك كے معروف شہر بھٹكل ميں آنکھ کھولی ، پرورش اور تعليم و تربيت كا آغاز اُس زمانے کے روايتی ماحول ميں ہوا، جہاں دینی، اسلامی اور تہذيبی روايات کا بے حد خيال رکھا جاتا تھا۔

کسی بھی انسان كی کاميابی کے پیچھےجہاں اس كے والدین كا كرداراہم ہوتا ہے، وہیں ايك اچھا اور كامياب استاد بھی ناقابلِ فراموش ہے ، خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن كو اچھے استاد ميسر آجائے ، ايک معمولی سےنوخيز بچے سے لے کر ايک کامياب فرد تک كاسارا سفراچھے استاداور كامياب مربی ہی کا مرہون منت ہے ، آپ كی ابتدائی قرآنی و دینی تعليم مولوی شريف محيی الدين اكرمی رحمۃ اللہ عليہ كے پاس ہوئی، ادب و انشاء ميں مولانا محمود خيال رحمہ اللہ تعالی سے خصوصی استفادہ كیا جہاں سے ذہنی وفکری کشادگی كے ساتھ خيالات ميں تنوع پيدا ہوا، زمانہ طالبِ علمی کا پورا زمانہ ممبئی میں گزرا ، جہاں آپ نے عصری تعليم میں ہائی اسكول ايجوكیشن پاس كیا ،اس کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ارود میں ادیب ماہر کے امتحان میں امتیازی نمبرات سے كامیابی حاصل كی۔

فراغت كے بعد ہومیوپیتیك كی جزئی تعلیم حاصل كی ، ذاتی مطالعہ سے اس میں درك حاصل ہوا، اورمیڈیکل پریکٹس ایك مدت تک جاری رہی، جو آپ كا ذریعہ معاش تھا، جس سے سبکدوشی کے بعد درس وتدریس کے فرائض انجام دیے، روزگار کے سلسلے میں کچھ سال مسقط میں بھی مقیم رہے۔

ذوق مطالعہ اور ذاتی كتب خانہ :

آغازِ شاعری ميں گوناگوں ادبی رسائل زيرِ مطالعہ رہے، مثلا " نيرنگِ خيال" ، " عالمگير" لاہور" ، " ادب ِ لطيف ۔ بمبی " ، ماہنامہ " آج كل ۔ دہلی "، " نئی زندگی ۔

دہلی " ، قومی زبان ،دہلی " وغيرہ رسائل مسلسل زيرِ مطالعہ تھے۔ سچ ويكلی كا بلا ناغہ مطالعہ نے فنی اور ادبی آبیاری كی ، اور اس سے خوابيدہ صلاحيتوں كو اچھی طرح پھلنے پھولنے اور كروٹيں لينے كا نادر و ناياب موقعہ ہاتھ آیا، فارسی بھی طالبِ علمی كے زمانہ ہی میں پڑھ لی تھی ،البتہ عربی سے ناواقفیت كی كمی شدت سے محسوس كر رہے تھے ، لہذا اپنے ذاتی شوق وذوق اور اردو تفاسیر كی مدد سے عربی زبان سے قدرے واقفیت بھی حاصل كی تھی، الفاظ ومعانی كا ایك اچھا ذخیرہ بھی ذہن میں محفوظ كر لیا اور اس بات كا آپ نے با رہا اظہار كیا ہے كہ عربی زبان كو میں نے محض قرآن فہمی كی غرض سے سيكھا تھا، تاكہ اس كے ذریعہ ادبِ اسلامی كی خدمت كما حقہ كی جا سكے ۔

الغرض قديم وجديد ادب اور ادباء کو پڑھا اور ان کے ادب پاروں سےبھی مستفيد ہوئے اور اسی مطالعۂ کتب نےآپ كو فہم وفراست سے نوازا۔ساتھ ہی علم كے فروغ اور تحریر میں نكھار لانے كے لئے نثر ميں بابائے اردو مولوی عبدالحق ، محمد حسین آزاد ،سرسيداحمد خان، ڈپٹی نذير احمد، مولانا حالی، رشيد احمد صديقی،غلام رسول مہر ،آل احمد سرور، پطرس، فرحت اللہ بيگ كی كتابیں مرغوبِ خاطر رہیں،بالخصوص مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا ابوالاعلی مودودی، مولانا شبلی نعمانی، مولانا سيد سلیمان ندوی،مولاناعبدالماجد دريابادی، مولانا امين حسن اصلاحی اور مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کے تخلیقی شعور کے مداح رہے، ان کا خوب مطالعہ کیا اور ان كی تصنیفات کے مطالعے کی بدولت کسبِ علم کا شرف وامتیاز حاصل کیا ۔

اورشعراء وادباء میں اقبال، غالب، میر، جوش، جگر، ذوق، فیض،مجروح، سیماب، فراق ، احمد فراز اور سردار جعفری كے دواوین زیرِ مطالعہ رہے۔ آپ نے صرف زبانِ اردوكےمصنفین اور ادباء وشعراء سے ہی كسب ِفیض نہیں كیا، بلکہ اردو كے ساتھ ساتھ انگريزی ادباء ومصنفین سے بھی استفادہ كیا تھا بقول ان كے انگریزی میں بالخصوص ، ورڈس ورتھ، ملٹن، شیلی، گوركی، کانٹ، كیٹس، کولرج،ملٹن،ایلیٹ،روسو ان ، ايمرسن،شیكسپیئر، سويٹ مارڈن وغیرہ كی كتابیں زير مطالعہ ر ہیں۔

ڈھیروں ادبی وتنقیدی کتابوں اور درجنوں علمی ودینی كتابوں کے مطالعے کے علاوہ تاریخی اور سوانحی کتابیں بھی مطالعہ میں رہتیں تھیں۔

اسی كے ساتھ ساتھ اوائل ہی سے اپنے ذوق كی تكميل كے لئے تفسیر عثمانی ،تفسیر حقانی، ترجمان القرآن، تفہیم القرآن اور تدبر قرآن سے امكان بھر استفادہ كیا ۔یقینا مطالعہ کتب کے استغراق وانہماک نےجہاں ایک طرف مضمون نگاری میں کمال بخشا تو دوسری طرف شعر وشاعری کو جمال عطا كیا،ادبی اور علمی چمنستانوں سے گل چینی وخوشہ چینی كا موقعہ ملا، جس سے آپ ادبِ اسلامی کے نمائندہ شاعر اور نثر نگار كی حیثیت سے سامنے آئے، آپ كی تحريريں اور اشعار ادبِ اسلامی کا بلند نمونہ ہیں،مضامیں فطرت جوآپ كے رشحاتِ قلم سے سپردِ قرطاس ہوا ہے وہ آپ كے پچاس سے زیادہ مقالات ومضامین كا مجموعہ ہے، جسے مولانا عبد الحمید اطہرندوی نے ترتیب دیا ہے،وہ در اصل آپ كی مطالعاتی زندگی كا حاصلِ مطالعہ ہے ، اس كے علاوہ ابھی درجنوں مقالات ومضامین اورعلمی مكاتیب ورسائل ہیں جنہیں ترتیب دینے كا اور طباعت سے مزین كرنے كا كام تشنہ تكمیل ہے ۔

آپ كو کتابوں كا بہت شوق تھا، كتابیں خرید كر پڑھنا پسند فرماتے تھے ، اس لیے پرانی كتابیں بیچ كر نئی كتابیں خریدتے، جب اس سے فارغ ہوتے تو اسے پھر بیچتے، اگر انتہائی اہم یا نایاب ہوتیں تو اپنے پاس ركھتے ،يہاں تک کہ تھوڑے ہی دنوں میں كافی كتابیں جمع ہو جاتیں پھر ان كتابوں كو آدھی یا اس سے كم قیمت پر فروخت كرتے ، ان كتابوں كو بیچ كر كبھی الحجاز ایجنسی سے تو كبھی بذریعہ ڈاك نئی كتابیں طلب فرماتے۔

اور كبھی بعض كتابیں احباب كو ہدیہ میں دیتے ۔امامت سے درس وتدريس تك :علوہ مسجد ميں دو سال سنہ 1962 تك امامت فرمائی ،اسی مسجد میں تفسیر وحديث كے يوميہ دروس ہوتے تھے ، ان دروس كو شروع كرنے میں مولانا محمود خیال كا مشورہ نہیں بلكہ حكم شامل تھا، تعلیمی زندگی كا آغاز سب سے پہلے ۱۹۵۵ميں بورڈ اسكول بھٹكل ميں دینیات كے ٹيچر كی حيثيت سے تقرری سے ہوتا ہے ، اس كے بعد انجمن اسلامیہ ہای اسكول ميں ايك عرصہ تك جناب ماسٹر عثمان حسن صاحب كے دورِ اہتمام ميں استاذ دینیات كی حيثيت سے خدمات انجام دیتے رہے ، پھر كچھ وقفہ تك اپنے كو تدریس سے الگ ركھا، صرف كتب بینی اور شعر وشاعری میں اپنے كو وقف كر دیا ، پھر كچھ عرصہ بعد دوبارہ انجمن میں اردو كے استاد كی حيثيت سے خدمات انجام دینے لگے ۔شاعری او رفنی خصوصيات:

آپ شائقِ علم شروع سے ہی تھے ، كم عمری اور صغر سنی ہی ميں اردو ادب سے وابستگی ہوئی ، چنانچہ چوتھی جماعت ميں جب حصولِ تعليم كے لئے كوشاں تھے اس وقت شعری لگن كا شرارہ شروع ہوا، اور وہیں سے شعری زندگی كا آغاز بھی ہوا،پھرذاتی محنت، كوشش ولگن كی بدولت گرتے پڑتے جو درِ پيرِ مغاں تك پہنچے كے مصداق رفتہ رفتہ گوہرِ مقصود كو پا ليا، اور ايك كہنہ مشق استاد شاعر و اديب كی حيثيت سے اپنی پہچان كرائی ۔

شعر و شاعری كے آغاز ميں اور ادبیات كے ابتدائی دور ميں دہلی سےنكلنے والےہفتہ وار جريدہ "پيج ویكلی" ، زيرِ ادارت تلوك چند محروم والدِ ماجد جگن ناتھ آزاد اكثر زيرِ مطالعہ رہا ، كلامِ اقبال، غالب، میر، جوش، جگر، ذوق، فیض، مجروح، سیماب، فراق ، وغیرہ سے ادبی ذوق كی آبياری كی۔ فطرت صاحب نےبھی فن شعر و ادب كے سفر ميں كاميابی سے ہمكنار ہونے میں اچھے اور بلند پایہ اساتذہ پائے تھے ،شروع دور ميں مولانا محمود خيال ، تو بعد میں شعر كی اصلاح کے لئے جناب ابو بكر مصور كی شاگردی، اور جناب مصور فن شعر كا وہ عالی نسب استاذ تھا جس نے داغ دہلوی اور احسن مارہروی کے خرمن شعر سے خوشہ چينی ہی نہیں بلکہ زانوے تلمذبھی تہ كیا تھا ، اس طرح فطرت صاحب كا ادبی شجرِ نسب داغ دہلوی سے جا ملتا ہے، يعنی فطرت جيسا شاعر خود رو پودے كے مانند نہیں تھا بلكہ وہ اعلی شعری نسبت ركھتا تھا، بالفاظِ ديگر ۔نامی كوئی بغير مشقت نہیں ہوا

سو بار جب عقيق كٹا ، تب نگيں ہوا اسی لئے آپ كی شاعری ميں وہ ناياب گنجينہ اور عظيم ترين خزانہ پايا جاتا ہے جو ارباب فن و ادب اور اصحابِ علم وفضل سے داد وتحسین حاصل کر چکاہے،جس كی شہادتيں نامور معاصرین اور قدر آور مصنفین وناقدین كے رشحاتِ قلم سے نكلی ہوئی گرانمايہ تحريروں ميں موجود ہیں، اور كیوں نہ ہو جبكہ آپ کے کلام سے ہی پتہ چلتا ہے کہ آپ ايك سند يافتہ اور قادر الکلام شاعرہیں ، عاميانہ رنگ سے بہت دور ہیں، كبھی بہت بھاری الفاظ کو سلیس زبان ديکر پيکرجمال ميں ڈھال دينے كا ہنر ركھتے ہیں ،اسی طرح اس بات کابھی بين ثبوت پايا جاتا ہے کہ آپ نے بنيادی اور اہم شعراء کاخوب اور گہرامطالعہ كیا ہے،انکےتخليقی کارناموں پرغور كیا ہے، پھر کہیں جا کر بہترين شاعر كے روپ ميں ظاہر ہوئے۔

آپ كی شاعری پاكیزہ خيالات اور شائستگی کا نمونہ ہے، اس ميں روايت كی پاسداری بھی ہے اور جديد رجحانات يا مغرب كے مثبت اقدار كی بھی حوصلہ افزائی كی گئی ہے۔ يوں کہیے کہ ان کا کلام جديد و قديم کا حسين امتزاج ہے۔ انہوں نے فکروفن کے اظہار ميں نہايت سلیقے سے کام ليا ہے۔ شاعری میں علامہ اقبال اور کلامِ غالب سے ایک وجدانی تعلق رہا، علامہ كے رنگ میں رنگنے كی كافی كوشش رہی، ايك وہ دور تھا جب فطرت نے اپنی شاعری کو بے لگام چھوڑ ديا تھا جو حالی،داغ دہلوی ،مومن ،مير اور ان جيسےبہت سے شعراء كی صفوں کو چيرتے ہوئے اقبال كے شانہ بشانہ کھڑے رہنے ميں اپنی پوری صلاحيت صرف فرمائی تھی، اور يہیں پر آپ كی شاعری کا حسين امتياز پايا جاتا ہے، جس كا اظہار آپ كئی ملاقاتوں اور خصوصی موقعوں پر كر چكے ہیں۔

فطرت كے اشعار ميں اقبال كا رنگ وآہنگ موجود ہے، معانی كی گہرائی اور گيرائی پائی جاتی ہے، كبھی زندگی كے نشيب وفراز كی حسين عكاسی ہے، تو كبھی زندگی كے حقائق كا بہترين نقشہ پايا جاتا ہے، ان كے غزل ميں ايك اندارِ دلبری اور طرزِ دلربائی ہے، جذبات اور احساسات كا حسین و خوبصورت خزانہ موجود ہے ،اشعار ميں خالص تعميری ادب كی روح جھلكتی ہے ، آپ كے قلم سے اصلاحی اشعار نكلتے ہیں، بلكہ صحيح معنوں ميں ادبِ اسلامی كا پرتو ہے۔

الغرض آپ كی شاعری كے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے، كہ جس طرح اكثر وبيشتر شعراء كے يہاں ادوار كی تقسيم كی جاتی ہے ، اسی طرح آپ كی شاعری بھی انہی ادوار سے گزری ہے، جس كی تعیین كے لئے ابھی اچھا خاصہ وقت دركار ہے، اس كے لئے اختصاصی مطالعہ چاہئے ، اور ہميں يقين ہے كہ آنے والااديب، مورخ يا مبصر تمام دواوينِ فطرت كو یكجاكرنے كے بعد اپنے دقيق مطالعہ كی روشنی ميں اس كی يقينی نہیں تو تقريبیی تعیین ضرور كر سكے گا۔

آپ نے جن جن صنف ادب ميں لكھا ہے ان ميں غزل، نظم، مرثيہ شامل ہیں، ساتھ ہی طالبانِ علوم دینیہ اور عصريہ كے آخری سالوں كے الوداعی نظموں اور اسكول ومدراس كا ترانوں كا وافر حصہ بھی ہے، اہم شخصيات كی بھٹكل آمد كے موقعوں پر لكھی گئی استقباليہ نظموں اور خاص خاص موقعوں ومناسبت ميں كہی گئی نظموں كا مجموعہ حد شمار سے باہر ہے،اور رہے شادی كے سہرے يا دعوت ناموں كے لئے لكھے گئے قطعے تو ان كوبھی كون كہاں تك شمار كر سكتا ہے ۔

البتہ آپ كے آخری دور كی شاعری ميں وہ رنگ نہیں رہ سكا جو عنفوانِ شباب اور ايامِ انقلاب كا تھا، جس ميں آپ نے بڑی كھٹن بحر اور سخت سے سخت زمين پر بھی پايہ كے اشعار لكھے ،غزل نما ترانے كہے ،البتہ معیار كی كمی بھی ایك طبعی بات تھی، جس ميں آپ كی ضعیف العمری اور نقاہت و كمزوری كا بھی كافی اثر پايا جاتا تھا، آپ اپنی زندگی ميں خانگی امور سے بھی دو چار ہوئے تھے لہذازندگی كے دکھ اور سکھ کے ايک حسين سنگم سے بھی آپ گزر چكے ہیں۔

آپ كے ہنر كوسراہتے اور فن كی پذیرائی كرتے ہوئے سنہ ۱۹۸۱ كو میں اردو اکیڈمی ریاست کرناٹک کی طرف سے گل بانگِ فطرتؔ کے حسنِ کلام پر انعامِ اول کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔حمديہ كلام : ۔

آپ كا مضمون بعنوان اردو شاعری ميں حمد ومناجات کے عناصر كا مطالعہ فطرت صاحب كے نزديك اس كی اہميت كو واضح كرتا ہے ، جس ميں آپ نے حمد ومناجات كے جواہر پاروں كو مثال سے پيش كیا ہے، اور ساتھ ہی اپنا بھی كلام شكر وسپاس كے جذبات سے معمور ہو كر يوں لكھا ہے"حمد کے زير عنوان مضمون آفرينی لائق تحسین ہے اور انداز بيان كی جدت وندرت کا جواب نہیں، حمد خواني کا ايک اعجاز يہ بھی ہے کہ الفاظ اور پيرايہ اظہار کو ايسا تقدس حاصل ہوتا ہے جو جلال وجمال کے نقش ونگار کا خالق ہوتا ہے، يہی وہ نورانی كیفیات ہیں جن سے شعور ووجدان غير معمولی احساس سے متمتع ہوتے ہیں" ۔نعت گوئی : ۔

نعت گوئی فنِ شاعری ميں مانندِ پل صراط ہے ، جس میں حزم و احتياط كے ساتھ فطرت صاحب جس طرح گزرے ہیں اس كا جواب نہبں، عام طور پر نعت گوئی ميں شرك وبدعات سے اپنے دامن كو بچانا آسان نہیں ہوتا ہے ، آپ نے اس باب ميں شرك و بدعت ہی نہیں بلكہ شائبہ شرك و بدعت سے بھی اپنا دامن پچانے كی كوشش فرمائی، اپنے نعتيہ كلام كو اس سے پاك وصاف ركھا، اپنی توحيدِ خالص ميں آنچ آنے نہیں ديا، يہ ان كی دینی بصیرت اور توحيد پرستی كی واضح دليل تھی ،راقم الحروف كو فطرت صاحب كے تمام عناصر ميں يہ پہلو انتہائی موثر كن رہا، اسی لئے ميں نے خواہش ظاہر كی كہ صرف نعتیہ كلام پر مستقل مجموعہ شعر مرتب كیا جائے، جسے آپ نے بے حد پسندفرمایا، " نور علی نور" كہا اور بالآخر يہی "نور علی نور" اس نعتيہ مجموعہ كلام كا نام بھی تجويز كیا گيا۔ اس كی ترتيب ميں آپ اور رفيقی نعمان نے بھی پورا تعاون پيش كیا، اور مكتبۃ الشباب العلميہ لكھنو سے زيورِ طبع سے آراستہ ہو كر قارئين كےقابلِ استفادہ ہوا ۔

الوداعی نظميں : كسی کو رخصت کرتے ہوئے ہم جن كیفيتوں سے گزرتے ہیں انہیں محسوس تو كیا جاسکتا ہے ليکن ان کا اظہار اور انہیں زبان دينا مشکل ترين مرحلہ ہوتا ہے، صرف ايک تخليقی اظہار ہی ان كیفيتوں كی لفظی تجسيم کا متحمل ہوسکتا ہے بالخصوص جامعہ اسلامیہ كے الوداعی جلسوں كے لئے آپ نے جو نظميں لكھی ہیں بذاتِ خود يہی ايك خزانہ ہے، جس ميں وہ الوداعی كیفيات بھی پائی جاتی ہیں جو ايك طالبِ علم كے دل كے اندر موجزن ہوتے ہیں ، ان الوداعیوں میں خوبصورت پیغامات ہیں ، پند و موعظت كے ساتھ ساتھ ايك عالمِ دين كے لئے زندگی كے نشيب وفراز ميں آنے والے مرحلوں كا ذكرِ جميل بھی ہے ۔مذكورہ بالا سطروں ميں ہم نے طالبِ علمانہ كوشش كی ہے كہ اپنے استاذ مكرم جناب فطرت بھٹكلی كی زندگی اور فن شاعری كے متعلق كچھ رقم كريں ، اور اس ميں آپ كی شاعری کے مختلف پہلو پيش كیے گئے ہیں جن كو پڑھ کر يہ اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں کہ آپ كی شاعری با مقصد ہے، پر درد ہے، زندگی كی اصلاح کا لب لباب موجود ہے ،آپ کے دل ميں قوم و مذہب کا درد پايا جاتا ہے ،آنے والی نسلوں كو زندگی سنوارنے كا نسخہ موجود ہے۔

غالبا جناب عبد الرحمن باطن صاحب نے جگر مراد آبای كے حوالے سے فطرت ہی كے بارے ميں كہا تھاجگر نے كہديا آثار ہیں بہت اچھے كسی زمانہ ميں سن كر ترے اشعار شيخ وواعظ اور ساقی و ميخانہ :۔( ہم نے واعظ سے بگاڑی ہے نہ ساقی سے كبھی
( اردو ادب کے مختلف ادوا ر ميں جہاں مينا وجام ،ساقی وميخانہ اورحرم وبت خانہ كے الفاظ ومحاورات جا بجا مشقِ سخن ميں استعمال ہوئے ہیں ، وہیں زاہد وواعظ، مولوی و ملااور شيخ و مولانا كے الفاظ بھی اديبوں اور شاعروں کے مشق ستم کا نشانہ بنتے رہے ہیں،پرانی شاعری ميں واعظ، زاہد وغيرہ كی اصطلاحات پر اور آج کے دور ميں مولوی اور ملا پر ادب کے نام سے بھپتی کسی جاتی ہے?جس كا تعلق فكر سے ہوتا ہے نہ عقیدہ سے، برتنے سے ہوتا ہے نہ كرنے سے، بلكہ ادب كی تہذيب و روايت ميں شامل ہے ، فطرت صاحب بھی ان الفاظ و كلمات كو استعمال كرنے سے نہیں چكے ، بلكہ جہاں موقعہ ملا استعمال اور جہاں مناسب سمجھا لكھ ديا، جس سے كبھی مولوی ناراض ہوا تو كبھی مسٹر كو غصہ آيا ، كہیں دين دار طبقہ مطعون ہوا تو كہیں عمائدين و قائدين پر كاری ضرب پڑی ۔

آج کے دور ميں ايسے کسی ادب پر اعتراض کئے جانے پر عموماً اردو ادب كی روايات کا حوالہ ديا جاتا ہے،مثال كے طو پر کسی زمانہ ميں دینی اور مذہبی حلقوں سے علامہ اقبال كی بھی مخالفت زوروں پر ہوئی، پھر كچھ عرصہ گزرنے كے بعد مجموعی طور پر اقبال کافی احترام كی نگاہوں سے ديکھے جانے لگے، ان كے اشعار سے علماء استدلال كرنے لگے۔ جبكہ علامہ اقبال كی شاعری ميں استعمال شدہ ملّا اور مجاہد كی اصطلاحات معروف ہیں، اقبال كی شاعری ميں ملّا پر سخت تنقيد ملتی ہے اور كاری ضرب بھی ، ليکن جہاں پر بھی علامہ نے ملّا پر طنز يا تنقيد كی ہے اس کے سياق و سباق سے يہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ کس وجہ سے ملّا پر نالاں ہیں، لہذا علامہ كی كلیات كا مطالعہ بتاتا ہے كہ آپ کلی طور پر ملّا کے مخالف نہیں تھے، بلكہ جہاں ان كی تعریف كی ضرورت محسوس كی تو دل كھول كر انھیں خراج عقیدت پیش كی۔اسی تناظر ميں جب ہم كلامِ فطرت كا مطالعہ كرتے ہیں تو فطرت بھی اقبال كی فكر سے متاثرنظر آتے ہیں ، جس كی تفصيلات كسی اور مضمون ميں مثالوں كے ساتھ بيان كرنے كی كوشش كی جائے گی۔

اديب : جناب فطرت كو بحیثیت شاعر اس قدر شہرت مل گئی كہ ان كی دوسری ادبی اور علمی كاوشوں اور قلمی كوششوں پر پردہ پڑ گيا ، جبكہ آپ ايك كہنہ مشق استادشاعر ہی نہیں بلكہ ايك بلند پايہ اديب، ايك اچھے تبصرہ نگار، منجھے ہوئے قلم كار اور ايك ممتاز ناقد بھی تھے، ساتھ ہی ساتھ صحافت كے ميدان ميں بھی آپ نے قدم ركھا، آپ كی خطوط نگار ی بھی بھی ادبی شہ پاروں اور انشائيوں سے كم نہیں ہیں۔تبصرہ نگاری :
تبصرہ نگاری ایک فن ہے۔ ایك ہنر ہے،تبصرے حكومتوں پر ہوں یا حاكموں پر ، معاشرہ پر ہوں یا لوگوں پر، حالات پر ہوں یا كتابوں پر ، بہر كیف تبصرہ کائنات میں موجود ہر ہر چیز اور ہر ہر کام پر ہوسکتا ہے۔ اور تبصرہ نگاری كو اردو ادب کی جدید ترین اصناف میں شامل كیا گیا ہے جس کے ذریعہ کسی کتاب کے بارے میں بھی بنیادی معلومات فراہم كی جاتی ہیں، فطرت صاحب نے اس میں بھی اپنے نقوش چھوڑے ہیں ، آپ كے پاس كئی ایك منظوم تبصرے پائے جاتے ہیں، جن میں سے تقریبا نوے فیصد آپ كے پاس ہی محفوظ تھے، جسے آپ خصوصی مجلسوں میں سناتے، مگر اپنی كتابوں یا شعری مجموعوں میں اسے شامل كرنے سے گریز كرتے۔ مضامین فطرت كے مطبوعہ نسخہ میں جو تبصرے موجود ہیں ان میں جناب رشید كوثر فاروقی فكر وفن " جدید وجاوداں " كے آئینہ میں ، جناب كوثر جعفری مرحوم كےنعتیہ مجموعہ كلام "اوج سخن "اور "موج سخن " اور محترم جناب حنيف شباب كےمجموعہ كلام سللگتے آنسو پر لكھے گئے تبصرے بھی شامل ہیں ۔

صحافت :
اردو ادب كے ساتھ صحافت جڑی ہوئی ہے ، اس کا ایک دوسرے کے ساتھ بڑا گہرا رشتہ رہا ہے۔ جب اردو زبان کمسنی کے دور سے نکل کر شعور کی منزلوں میں قدم ركھ رہی تھی ،تو اردو صحافت کا آغاز ہوا تھا۔ جو انیسویں صدی کا بالكل ابتدائی دور تھا اور اسی زمانہ میں ،1836ءکے آس پاس محمد باقرصاحب نے دلی سے اردو اخبار نکالا اور اکبر آباد سے منشی سدا سکھ لال کی سرپرستی میں اخبار نورالبصار نکالا۔ حقیقت یہ ہے کہ اردو صحافت نے اردو ادب اور ادیبوں کو عوام سے روشناس کرایا ، اور اردو ادب صحافت کے ذریعہ ہی مقبول ِعام ہوا، آپ نے بھی بحیثیت صحافی ادرات فرمائی، زمانہ طالب علمی ہی ميں" گلزار "كے نام سے ايك قلمی رسالہ عروس البلاد ممبی سے مدت تك نكالتے رہے ، اس كے بعد بھٹكل سے پہلے انوارِ دانش سہماہی ، اس كے بعد نفیر فطرت سہماہی كا اجرا كیا، مگر دونوں پرچوں كے كچھ ہی شمارے نكلنے پائے تھے كہ دیگر پرچوں كی طرح امكانات كی كمی اور وسائل كی عمد فراہمی سے زیادہ دیر نہیں چل سكے، البتہ تاریخِ بھٹكل كی صحافتی خدمات كی دو ناموں كا اضافہ كر گئے ۔

مشاعرہ : مشاعروں ميں شعر پڑھنے كا بھی رنگ سب سے جدا تھا، ترنم كے ساتھ پڑھنا پسند فرماتے تھے، جبكہ كبھی تحت اللفظ بھی پڑھ كر مجمع كو محظوظ فرماتے، دورانِ مشاعرہ شعر پڑھتے وقت پانی طلب كرنا آپ كا وصفِ خاص تھا، سامعين كی طرف سے اس پر بھی خوب لطف ليا جاتاتھا، پانی طلب كر نے كا مقصد پينا نہیں ہوتا تھا بلكہ آپ اس كے ذريعہ مشاعرہ كا لطف دوبالا كرنا چاہتے تھے, ساقی و ميخانہ كا تصور ديتے نظر آتے ، پانی طلب كرتے وقت كبھی خود بھی مسكراتے، اور كہتے كہ جس طرح پيٹرول كے بغير گاڑی نہیں چلتی اسی طرح جام كے بغير شاعری نہیں چلتی، اچھے اشعار كو تكرار سے پڑھنا آپ كا معمول تھا، جس سے آپ كی كوشش ہوتی كہ مضمون سامعين كے دلوں تك سرايت كر جائے، مشاعرہ ميں جب دعوت دی جاتی تو پہلے ہی بتا ديتے كہ مجھے جلدی دعوتِ سخن دی جائے، تاكہ ميری آواز ترنم كے ساتھ پڑھنے ميں ساتھ دے سكے

۔مكتوب نگاری:خطوط میں علمی نکات تو وافر ہیں ، ان کے ذاتی ، گھریلو اور خاندانی معاملات بھی زیر بحث آئے ہیں۔ یہ خطوط ان کی زندگی کا مرقع ہیں۔ جیسے غالب کے خطوط سے ان کی زندگی کے حالات مرتب کیے گئے، آپ نے جتنے خطوط لکھے ہیں ، ابھی سب مرتب صورت میں سامنے نہیں آئے ہیں، آپ كے سلسلۂ مكتوبات میں بنام مفكر اسلام حضرت مولانا سيد ابو الحسن ندوی، مولانا ضياء الدين اصلاحی، مدير معارف اعظم گڑھ ، مولانا ابو البيان حماد ، جامعہ دار السلام عمر آباد۔جناب رشيد كوشر فاروقی، حضرت مولانا سيد محمد رابع حسنی ندوی،مولانا سيد سلمان حسینی ندوی، مولانا خالد غازی پوری ندوی وغیرہ قابل ذكر اور معیاری ہیں ، اور ان كے شاگردوں كے پاس بھی جو ان كے لكھے ہوئے خطوط ورسائل موجود ہیں وہ بھی علمی اور ادبی شہ پاروں كے مترادف ہیں ۔جامعہ اور فطرت ۔

يہ ايك حقيقت ہے كہ اردو كی بقا اور اس كی آبياری ميں مدارس اسلامیہ كا بڑا حصہ رہا ہے اور آج بھی يہ شمع یہیں سے فروزاں ہے، اسی لئے فطرت صاحب كا كہنا يہی تھا ہميں روحانی سرور اور فكر ی و فنی باليدگی يہیں سےمیسر آتی ہے، اسی لئے وقتا فوقتا خصوصی ركشہ كرايہ پر لئے جامعہ اسلامیہ خود سے تشريف لاتے اور يہاں كے اساتذہ كو نيا نيا كلام سنا كر داد تحسین حاصل كرتے، ہم نے جامعہ كی زندگی ميں ديكھا ہے كہ آپ كی آمد ورفت بہت ہوتی،كبھی بروز جمعہ بھی اس لئے آتے كہ یہاں جمعہ كے دن اساتذہ رہتے ہیں اور اگر كسی مہمان كی آمد كا پتہ چلتا تو ان كی حاضری كے ساتھ ساتھ خود بھی حاضر ہو جاتے اور بعض دفعہ ہميں يہ بھی ياد ہے كہ كسی مہمان كی آمد كی خبر موصول ہوئی ، مگرابھی پہنچے نہیں ہیں ، تو صرف خبر كے ساتھ ہی مہمان سے پہلے ہی حاضر ہو جاتے، خصوصی مہمانوں سے ملاقات كا وقت لے كر ان كےكی خدمت ميں حاضر ہوتے، انھيں اپنا كلام سناتے، سابق مہتممِ جامعہ مرحوم مولانا عبد الباری رحمہ اللہ علیہ كا ذكر بہت فرماتے كہ آپ جامعہ جانے كے بعد بہت اكرام فرماتے ہیں، كافی وقت ہمارے ساتھ بتاتے ہیں، سنتے بھی ہیں اور جھومتے بھی، اور ہميں قدر دانی كے جملوں سے نوازتے بھی۔ جامعہ ميں كوئی شعری نشست يا كسی ادبی مجلس كا انعقاد ہوتا تو بلانے پر حاضری ديتے، بہ خوشی تشریف لاتے، ہمارے دورِ طالبِ علمی تك يہ بات يقينی كہی جا سكتی ہے كہ جس محفلِ بيت بازی يا نشستِ ادبی ميں جنات فطرت اور مولانا منصور علی ندوی كی شركت نہ ہو تو وہ نشست ناقص شمار كی جاتی تھی ۔جامعہ سے تعلق كی یہ بھی ایك دلیل تھی كہ اپنے فرزند جاوید كو بھی جامعہ اسلامیہ میں داخل كرایا تھا، جو ہمارے ساتھیوں میں تھے، مگر مقدر آپ كے ساتھ نہ رہا اور جامعہ سے سندِ فراغت حاصل نہیں كر سكے ۔

جامعہ اسلامیہ كا تذكرہ ہو اور اس كا سدا بہار ترانہ كا ذكر نہ ہو ، ممكن نہیں ہے ، اس لئے كہ جامعہ كا شاہكار ترانہ آپ ہی كے قلم زر نگار رقم كیا گیا ہے،جو صرف ترانہ كی حیثیت ہی نہیں بلكہ ادبی حسن اور معنوی كمال میں بلند پایہ غزل كا مقام ركھتا ہے ، معانی ومفاہیم كی وسعتوں كے ساتھ تاریخ جامعہ اور بانیان و محسنین كا تذكرہ بڑے خوبصورت انداز میں كیا گیا ہے، اشعار میں بلاکی وسعت اور بلندی ملتی ہے، تشبیہات واستعارات اور تخیل کی بلندپروازی اور جذبات نگاری كو حسین قالب میں ڈھالاگیا ہے ۔اسی لئے ترانۂ جامعہ نے علمی اور ادبی حلقوں میں غیر معمولی مقام حاصل كر لیا ہے ، جو بھی سنتا ہے داد تحسین سے نوازتا ہے اورعلیگڈھ مسلم یونیورسٹی، دار العلوم دیوبند اور دار العلوم ندوۃ العلماء كے ترانوں كے برابر شمار كرتا ہے ۔ جسے داغ دہلوی سے ادبی نسبت ركھنے والا ،فطرت بھٹكلی جیسا قادر الكلام شاعر ہی كہہ سكتا تھا ۔جس كے شروع كے دو اشعار ملاحظہ فرمائیں ۔ہم شانہ کشِ زلفِ گیتی..... تزئینِ امم کے باعث ہیںہم نقش و نگارِ علم و فن....رشحاتِ قلم کے باعث ہیںآپ نے جہاں جامعہ سے تعلق ركھا ،وہیں فارغینِ جامعہ سے بھی تعلقات استوار ركھے، ان كی خدمات كو سراہتے رہے، ان كی ہمت افزائی كرتے رہے، آنے جانے والوں سے تذكرہ كرتے رہے۔

وہ كام معہد حسن البناء سے تعلق ہو یا مولانا سید ابو الحسن علی ندوی اكیڈمی سے متعلق ہو، "فكر وخبر "كی صحافتی خدمات ہوں یا بچوں كا ادبی اور تعمیری رسالہ ماہنامہ " بچوں كا پھول" ہو ، یا اس كے علاوہ جو بھی خبریں آپ تك پہنچتیں یا علم میں آتی تھیں ذكر خیر فرماتے ، آگے بڑھنے كا حوصلہ دیتے اور ہمت افزائی كرتے ۔ادبی كاوشیں اور تصنیفی كوششیں :كئی ايك نے كھل كر اس كا اعتراف كیا ہے كہ جناب فطرت كی مضمون نويسی ميں انشاء پردازی كی ہر ہر قدم پر جلوہ گری ہے، اور اس كا اظہار بھی جلی حرفوں ميں پایا جاتا ہے كہ حيرت ہوتی ہے کہ اردو کے مراکز فکر وفن سے دور جنوب کے ايک ساحلی شہر ميں جہاں كی مقامی زبان بھی اردو نہیں نوائطی ہے، اردو کا يہ قلم كاراور قدر آور نثر نگار اور بلند پايہ وہ شاعر ہے جو ہمارے علم وفن كی روايات کو فروغ دينے ميں مصروف ہے۔فطرت اردو ادب کےافق پرطلوع ہوئے، مسلسل محنت و کوشش کےذريعہ بڑی تيزي سےترقی کےمدارج و مراحل ہی طےنہیں کئےبلکہ شاعری، تحقیق، تنقيد اور تعليم كی دنيا ميں بھی اپنا ايک منفرد مقام بنايا۔

شروع سن ہی سے جو در اصل بڑے ولولوں اور امنگوں كا زمانہ ہوتا ہے، بڑے گہرے مذہبي رہے،اسی لئے آپ كے كلام ميں بھی مذہبی اور دینی رنگ غالب رہا، تخليقات ميں مشرقيت و اسلامیت ظاہر رہی ، فرنگيت كامقابلہ اپنا ادبی فريضہ سمجھا۔ آپ كے شعر وتغزل كی طرح نثری اسلوب كا معیار بھی اونچا ہے، اس ميں الفاظ کا حسين انتخاب ہے، اور معانی سيلِ رواں كی طرح بہتے ہیں، جذبات واحساسات كی عکاسی بالکل فطری ہے، اس ميں تصنع اور تکلف کا شائبہ بھی نظر نہیں آتا، جب آپ کوئی تحرير لکھنے بیٹھ جاتے تھے تو قلم سیلِ رواں كی طرح چلنے لگتا، كبھی ہم سے املا كراتے تو جلدی جلدی تیزی كے ساتھ كہتے جاتے، كہ كہیں مضامین ذہن سے نكل نہ جائیں، لكھتے وقت ذہن ودماغ پر زیادہ زور ڈالنے كی ضرورت نہیں پڑتی، فطرت صاحب كی تحريروں ميں رنگارنگی ہے، آپ نے خالص اسلامی موضوعات پر بھی قلم اٹھايا اور خالص ادبی بھی لكھتے تھے ، ادبی اور علمی قدر آور شخصيات کا تعارف بھی کرايا ، كئی كتابوں پر تقاریظ یا ابتدائیے بھی تحریر فرمائے

۔آپ كے چھ مطبوعہ مجموعہ كلام چھپ كر سامنے آئے ہیں ، جن میں سے پہلا مجموعہ كلا بعنوان "ساغر عرفان "، اس كے بعد" گلبانگ فطرت "، "ساز ازل"، اور"سخن دلنواز "كے نام یكے بعد دیگرے چھپ كر نظر قارئین ہوتے گئے ، او ران چاروں مجموعوں سےحسن انتخاب كے علاوہ مزید غیر مطبوعہ معیاری كلام كو آپ كے شاگرد خاص مولوی محمد نعمان اكرمی ندوی نے ترتیب دے كر رابطہ ادب اسلامی لكھنو سے "افق اعلی "كے نام سے شائع كرایا۔

اور آخر میں آپ كے نعتیہ كلام كا عطرِ مجموعہ كی ترتیب سے كر طباعت تك كا شرف راقم الحروف كے نصیب میں آیا، جونور علی نور كے نام سے چھپ كر آپ كی زندگی كا ختامہ مسك بنا ۔اور آپ كے شاگرد مولوی ڈاكٹر عبد الحمید اطہر ندوی نے آپ كے متفرق مضامین و مقالات كو یكجا كیا جو جناب رحمت اللہ راہی صاحب كے تعاون سے منظر عام پر آیا۔عادات وصفات :ہر انسان میں كچھ نہ كچھ ایسی صفات پائی جاتی ہیں، جو ان كی عادتِ ثانیہ ہوتی ہیں،جو ان كی پہچان بن جاتی ہیں،جن سے وہ مشہور ہوتے ہیں ، اور اكثر وبیشتر یہی صفات ان كی ترقی كےحقیقی اسباب بنتے ہیں ،ایسی صفات قابلِ قدر ہوتی ہیں اور قابل تقلید بھی ۔

ہمارے استاد محترم میں بھی ہم نے كچھ ایسی صفات پائی تھیں جن سے وہ متصف تھے۔

آپ کبھی احسان کرنے والا کا احسان نہیں بھولتے، چاہے احسان کتنا ہی چھوٹا ہی كیوں نہ ہو،بلكہ اس كی كوشش میں رہتے كہ كسی نہ كسی طرح اس كے ساتھ حسنِ سلوك سے اس كا حق ادا كریں۔ تواضع و انكساری بہت تھی،مہمان نواز تھے، ہمت افزائی آپ كا خصوصی وصف تھا، جس سے اكثر لوگ ناواقف تھے ، آپ اپنے تلامذہ میں جب كوئی صلاحیت یا آگے بڑھنے كےكی قابلیت محسوس كرتے تو انھیں آگے بڑھاتے ، ان كی قابلتوں میں نكھار لانے كی كوشش كرتے،غلطیوں پر سمجھاتے ، آپ كی طبیعت میں استغناء کا مادہ زیادہ تھا، تاہم اپنے معاصرین کے ساتھ جب روابط ركھتے یا ان كے كاموں كو پسند فرماتے تو روابط كو استوار ركھتے تھے ۔

فطرت صاحب نے بڑی حساس طبيعت پائی تھی، ويسے بھی شعراء كی طبيعتوں ميں حساسیت كا پہلو كچھ زيادہ ہی رہتا ہے ، مگر آپ ميں يہ پہلو كچھ زيادہ ہی تھا ، اس كا اثر پوشاك سے لے كر خوراك اورطبیعت سے لے كر معاشرت تك محیط تھا۔ بدن اس قدر نازك كہ ذرا سی غير موزونیت بھی طبيعت پر بارِ گراں بن جاتی ، چلنے كا ايك خاص انداز تھا ۔اشتہار بازی اور خود نمائی كے نئے نئے طريقوں سے ناواقف تھے، سفر كرنے سےہی گريز كرتے رہے، مزاج ميں حد درجہ حساسیت كی وجہ لوگوں سے بھی كم ملتے جلتے، شايد يہی وہ اسباب تھے جس كی وجہ سے شہرت و ناموری ملكی و غير ملكی سطح پر آپ كے نصیب ميں اس طرح نہیں آسكی جو آپ كے فن كا حق تھا، اور شاعری كا تقاضا بھی۔

اسی لیے اب ان كی وفات كے بعد ہم شاگردانِ فطرت كا یہ حق بنتا ہے یا ہم پر اس كا قرض رہتا ہے كہ فطرت اور كلام فطرت، ان كے فن اور شخصیت پر مزید كام كرتے ہوئے اس كی نشر واشاعت كی كوشش كی جائے اور ذرائع ابلاغ كو استعمال كرتے ہوئے ممكنہ حد تك اس عظیم شاعر سے صرف ملك ہند ہی نہیں بلكہ عالمِ اسلام میں متعارف كرائیں ۔ فطرت صاحب كی ايك نہايت قابلِ ذكر اور ما بہ الامتياز خصوصیت يہ تھی كہ وہ اوائل ہی سے قرآن كریم سے گہرا تعلق ركھتے تھے ، رات سویرے اٹھ كر ذكر واذكار كے ساتھ تلاوت وفہم قرآنی كے لیے بیٹھ جاتے۔علومِ قرآنی كے بڑے گرويدہ اور شيدائي رہے ، ان كے ذوقِ قرآنی كی عكاسی كے لئے انھی كا لكھا ہوا قطعہ كافی ہے۔ حافظِ قرآن بننے كا بڑا ارمان تھا ميرے دل ميں شوق اور جذبات كا طوفان تھاداغِ محرومی ہے ، پھر بھی خرم و شاداں ہوں ميں حافظِ قرآں نہیں ہوں ، عاشقِ قرآں ہوں ميںاس سلسلہ ميں اكثر وبيشتر احاديث ميں مذكور وہ دعا ان كے بر زبان رہتی تھی ،جس میں قرآن كے حوالے سے دعا مانگی گئی ہے اور اس كا آغاز "اللهم إني عبدك, وابن عبدك وابن أمتك ... " سے ہوتاہے۔

جناب فطرت اور خوشگوار لمحات : راقم الحروف كوجنابِ فطرت سے كسبِ فیض كا كئی سالوں تك موقعہ ملا ہے،جو تیس سے پینتیس سالوں پر محیط ہے، جامعہ اسلامیہ میں دورِ طالبِ علمی كا ایك دور وہ تھا كہ ہم چند ساتھیوں كی باری باری الگ الگ اوقات میں علوہ محلہ میں واقع آپ كی رہائش گاہ پر حاضری ہوتی ، جن میں رفیقی مولوی نعمان، مولوی عبید اللہ اسحاقی قابل ذكر ہیں ، شاید ہی ہمارا كوئی ہفتہ مجالسِ فطرت سے استفادہ كے بغیر گزرتا تھا ، اسی وقت فطرت صاحب یہ شعر گنگناتے تھے ۔ہے غنيمت وجود فطرت كا بزم ميں اك چراغ جلتا ہےاورہم سے یہ كہا كرتے تھے كہ میرے حقیقی قدر دانوں میں جامعہ اسلامیہ سے تم تین ہو اور انجمن سےتین ہیں، جناب رحمت اللہ راہی، جناب جاوید باطن اور جناب ابراہیم خلیل جوہر ۔ البتہ راہی صاحب كا كچھ زیادہ ہی تذكرہ فرماتے ۔ اور اگر ہمارا جانا كسی وجوہات كی بنا پر كم ہوتا تو شكایت كرتے،اگر عید كے دن ملاقات رہ جاتی تو ہماری شامت آجاتی، انہی شكایات كو الفاظ میں قلمبند كرتے،اسے شعر میں ڈھالتے، جس كے كچھ نمونے میرے پاس موجود ہیں ۔اور سالِ عالمیت و فضیلت اور اس كے بعد سے لے كر آخری چند سالوں كو چھوڑ كر جن میں آپ باہر نہیں نكل سكتے تھے كہ ذرا ہمارے جانے میں تاخیر ہوتی تو خود ہی گھر تشریف لاتے، اگر گھر پر والدِ ماجد دامت بركاتہم یا بہنوئی مولانا عبد الباری مرحوم موجود ہوتے تو وہ خود ہی آپ كا استقبال فرماتے، آپ كی گھر آمد كو باعث افتخار گردانتے،اور گھنٹوں شعر وشاعری اور ادب وفن گفتگو رہتی ، مگر طبیعت اتنی نازك تھی كہ ایك گھونٹ پانی سے بھی انكار فرماتے، اوراپنی شعر وشاعری كو اپنی غذا تصور كرتے ۔

كاشانۂ فطرت پر ہماری حاضری استفادہ كی غرض سے ہوتی، كبھی علم العروض كی تعلیم دیتے تو كبھی اپنی ہی نئی نئی غزلوں اور نظموں كو پڑھ كر سناتے یا ترنم سے گنگناتے، اور كبھی ایسا ہوتا كہ پرانی بیاضوں اور دستاویزوں سے نادر و نایاب كلام اور خصوصی تحریروں كو جھوم جھوم كر پڑھتے ، آپ كے پاس بھٹكل میں پیش آئے حالات ، موقعہ ومناسبات اور شخصیات كے متعلق لكھی ہوئی ایس ایسی نظمیں تھیں جسے نشر كرنا آپ خود بھی پسند نہیں فرماتے ، لیكن چونكہ شاعر معاشرہ كا عكاس ہوتا ہے، اس لئے گزرے ہوئےحالات یا پیش آمدہ واقعات كو قلمبند كرنا اپنا فرض سمجھتے، جس میں سے كچھ حصہ ہمارے نصیب میں بھی آ جاتا، اور بعض نظموں كو جو زیادہ سخت تھیں، زیادہ تنقید پر مبنی ہوتیں اسے آپ نے ایك بار سنا كر ضائع بھی كر دیں۔

آخری ملاقات سے آخری رسومات تك :راقم الحروف كو نياز مندی اس ضعیف العمری ميں بھی حاصل رہی،ا نتقال سے بیس روزقبل بھٹكل كے آخر ی سفر میں آخری ملاقات استاد مكرم كے ساتھ كر كے روانہ ہوا، عمر كے اس آخری مرحلہ پرجب حس بصارت ساتھ چھوڑرہی تھی ، تب بھی انھوں نے بادی النظر میں پہچان لیا ، فرزند جناب عبد الودود صاحب كے پوچھنے پر نام سے پكارا ، مگر ضعیف العمری اور حد درجہ نقاہت اور كمزوری كی وجہ سے كچھ بات یا تفصیلی ملاقات نہیں ہو پائی، آپ نےميرا ہاتھ اپنےسینہ پر ركھا، كافی دير تك مصافحہ كیا، اور دعائیں دیتے ہوئے رخصت كیا ، مگر كسے پتہ تھا كہ یہ اس دنیا میں ہماری آپ سے آخری ملاقات ثابت ہوگی ۔نو محرم الحرم سنہ ۱۴۴۰ ہجری ،مطابق۱۹ ستمبر ۲۰۱۸ عیسوی بروز منگل اردو ادب كی دنيا كا ستارہ اور شہر بھٹكل نير تاباں غروب ہو گيا ، اور شہر كی جامع مسجدمیں بعد نماز ظہرنماز جنازہ ادا كی گئی اور ہزاروں چاہنے والوں و سوگواروں نے كاندھا بدل بدل كرشہر كے قدیم قبرستان لے جاكر سپرد خاك كیااور وہ گھڑی بھی آگئی جس كے بارے ميں آپ پہلے ہی كہہ گئے تھے ۔كیوں كو بہ كو پھرتے ہو جنازہ ميرا لے كر سويا ہوں ميں اب تو ذرا آرام مجھے دو آپ كی چھے اولاد ہیں ، دو بیٹیاں اور چار بیٹے، بڑے بیٹے جناب عبد الودود ،ان كے بعد جناب شكیل اور تیسرے جناب جاوید اور آخری جناب ارشد صاحبان ہیں ۔آپ كا لقب شینگیری تھا مگر شہر كی نسبت سے آپ كی شہرت ہوئی اور فطرت بھٹكلی ہی كے نام سے جانے پہنچانے جاتے تھے۔

آپ کے اشہب قلم سے نکلے ہوئے لعل و گہر کے مجموعہ ہائے سخن آپ كی ادبی شان كی عبقريت پر غماز رہیں گے اور آپ كی كتابيں ادب کے شائقين كیلئے متاعِ گرانمايہ ثابت ہوں گی ، جو ان شاء اللہ آپ كے نام كے بقا كے ساتھ دعاؤں كے لينے كا سبب بنيں گیں ۔اللہ غريق رحمت فرمائے ، پسماندگان كو صبرِ جميل عطا فرمائے اور ملت كو ان كا نعم البدل عطا فرمائے آمين۔