ماہ ِ رمضان نیکیوں کا خزانہ - غلام نبی مدنی

رمضان المبارک امت مسلمہ پر اللہ کا خصوصی انعام ہے۔ دنیا کے کسی مذہب کے پیرکاروں کے پاس رمضان جیسا کوئی مہینہ ہے۔ یہ مہینہ اللہ کی میزبانی کا مہینہ ہے۔ ایک حدیث کے مطابق ماہ رمضان میں ایک ایسی رات ہے جس کے بارے قرآن کریم میں اللہ نے ارشاد فرمایا کہ یہ رات ہزار مہینے کی عبادت سے بہترہے۔ اس ماہ مبارک میں اللہ اپنے بندوں پر انعامات کی بارش کرتاہے۔ نیکیوں کا اجر و ثواب بڑھا دیتا ہے، گناہوں کی معافی اور جہنم سے چھٹکارے کے پروانے دیے جاتے ہیں۔ رمضان المبارک کے بارے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے جس کا مفہوم ہے کہ: جس نے رمضان میں یقین اور ثواب کی امید کےساتھ روزہ رکھا، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ ایک دوسری حدیث میں ارشاد فرمایا کہ جس نے رمضان میں یقین اور ثواب کی امید کے ساتھ قیام اللیل کیا یعنی تراویح پڑھی اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ ایک اور حدیث پاک میں نبی رحمت ﷺ نے فرمایا کہ ’’رسوا ہوجائے وہ شخص جس پر رمضان آیا اور گزرگیا اور اس نے اس میں اپنی مغفرت نہ کرائی۔‘‘

اس میں کوئی شک نہیں کہ روزہ افضل ترین عبادت اور اطاعت ہے، اس کا ثواب بھی عظیم ہے۔ روزہ صبر کرنے والوں کی عبادت، متقی لوگوں کا زادِ راہ، کامیاب لوگوں کے لیے ذخیرۂ آخرت ہے۔ روزہ بیماریوں سے شفا کا باعث ہے، روح اور جسم کی صحت، طاقت اور علاج کا ذریعہ ہے، نیز جسمانی تربیت بھی ہے، پھر ان سب سے بڑھ کر پروردگار کی اطاعت اور گناہوں کی مغفرت کا باعث بھی ہے۔ روزے کی فضیلت میں اتنا ہی کافی ہے کہ اللہ تعالی نے ابن آدم کے اعمال دو قسموں میں تقسیم کیے ہیں، اور روزوں کو مستقل الگ قسم قرار دے کر اسے اپنی طرف منسوب فرمایا، جبکہ ابن آدم کے دیگر تمام اعمال کو دوسری قسم میں شامل فرمایا، چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (ابن آدم کی تمام نیکیاں دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دی جاتی ہیں، لیکن اللہ تعالی کا فرمان ہے: سوائے روزے کے؛ کیونکہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا، روزے دار میری وجہ سے اپنی خواہشات اور کھانا پینا چھوڑتا ہے، روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک خوشی روزہ افطار کرتے ہوئے اور دوسری خوشی اپنے پروردگار سے ملاقات کے وقت)۔

ماہ رمضان میں روزہ دار کو افطار کرانے پر اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: جس نے روزے دار کو افطار کرایا، اس کے لیے روزے دار کے برابر ثواب ہے، اور روزے دار کے اجرمیں سے کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ رمضان المبارک کو ماہ قرآن بھی کہاجاتاہے کہ کیوں کہ قرآن کریم کا نزول اسی ماہ مبارک میں ہوا۔ حدیث پاک کے مطابق ’’حضرت جبرائیل امین رمضان کی ہر رات میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قرآن کا دور کرتے۔ اس لیے اس ماہ مبارک میں تلاوت کلام الہی کا اجر بے انتہاء ہے۔ حدیث شریف کے مطابق ’جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا اس کے لیے اس کے عوض ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے۔ میں نہیں کہتا الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف، لام ایک حرف اور میم ایک حرف ہے۔ ‘‘بخاری شریف کی روایت کے مطابق رمضان المبارک میں عمرہ کرنے کا ثواب حج کے برابر ہے۔ رمضان المبارک میں صدقہ وخیرات کا اجر بڑھ جاتاہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رمضان میں صدقہ کرنا افضل ہے۔ بخاری شریف کی روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت رمضان میں بہت زیادہ بڑھ جاتی تھی۔ آئیے مل کر اس ماہ رمضان کی نیکیوں کے خزانے سے مستفید ہوں!

Comments

غلام نبی مدنی

غلام نبی مدنی

غلام نبی مدنی مدینہ منورہ میں مقیم ہیں، ایم اے اسلامیات اور ماس کمیونیکیشن میں گریجوایٹ ہیں۔ 2011 سے قومی اخبارات میں معاشرتی، قومی اور بین الاقوامی ایشوز پر کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کے لیے خصوصی بلاگ اور رپورٹ بھی لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.