سائیکالوجسٹ اور سائیکاٹرسٹ کے درمیان فرق کیا؟ - اشتیاق حجازی

عام طور پر لوگ psychologist اور psychiatrist کو ایک ہی چیز سمجھتے ہیں۔ اکثر سائیکالوجسٹ سے یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ آپ دوائیاں کیوں نہیں دیتے اور سائیکالوجی کا طالبعلم ہوتے ہوئے اکثر یہ سوال مجھ سے بھی کیا جاتا ہے۔ جب میں یہ جواب دیتا ہوں کہ دوائیاں دینا ہمارا کام نہیں بلکہ سائیکاٹرسٹ کا کام ہے تو انہیں تھوڑی حیرت ہوتی ہے کہ اچھا یہ دو الگ الگ شعبے ہیں۔

آج کی تحریر میں میں چند بنیادی وجوہات کی نشاندہی کروں گا کہ کیسے یہ دونوں ایک دوسرے سے مختلف ہیں؟

1) ایک سائیکاٹرسٹ MBBS کی ڈگری حاصل کرتا ہے، یعنی کسی میڈیکل کالج میں پانچ سال زیر تعلیم رہنا جیسا کہ ایک عام ڈاکٹر کرتا ہے۔ اس کے بعد وہ psychiatry میں مہارت حاصل کرتا ہے اور psychiatrist کہلاتا ہے۔

دوسری طرف سائیکالوجسٹ نفسیات میں MSc کرتا ہے، یعنی 16 سالہ ڈگری۔ اس کے بعد ایک سال کا clinical psychology میں ڈپلومہ کرتا ہے اور psychologist کہلاتا ہے۔

2) دوسرا اور بنیادی فرق نظریے کا ہے۔ Psychiatrist کے نزدیک ہمارے جسم اور ہمارے دماغ میں کیمیکلز موجود ہوتے ہیں۔ ان کی کمی یا زیادتی ہمارے رویوں میں تبدیلی لاتی ہے اور abnormal behaviour کی طرف لے جاتی ہے۔

دوسری طرف psychologists کا یہ ماننا ہے کہ ان کیمیکلز کی کمی یا زیادتی کے پیچھے ہماری "سوچ" ہوتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ کیمیکلز میں تبدیلی ایک ثانوی چیز ہے جبکہ بنیادی چیز ہماری سوچ اور ہمارے خیالات ہیں۔ پہلے انسانی دماغ میں خیال پیدا ہوتا ہے اور اس خیال کی وجہ سے ہی دماغ میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔

مثال کے طور پر سردیوں کی تاریک رات میں آپ اکیلے کہیں جارہے ہیں، آپ ایک موڑ مڑتے ہیں تو آپ کو لگتا ہے کوئی آپ کے پیچھے چل رہا ہے، حالانکہ حقیقت میں کوئی نہیں ہوتا۔ اب جب یہ خیال آجاتا ہے دماغ میں تو اس کے ساتھ ہی آپ کے جسم میں چند تبدیلیاں رونما ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ آپ کو پسینہ آنے لگتا ہے، دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، سانس پھولنے لگتی ہے، آپ تیز تیز چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ ایک خیال کی وجہ سے رونما ہوتا ہے حالانکہ حقیقت میں اس طرح کی کسی چیز کا وجود نہیں ہوتا۔

3) تیسرا فرق طریقہ علاج کا ہے۔ Psychiatrist چونکہ کیمیکلز کو بنیادی وجہ مانتے ہیں اس لیے وہ دوائیوں کے ذریعے ان کیمیکلز کو اعتدال پر لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا بنیادی طریقہ دوائیوں کے ذریعے علاج کرنا ہوتا ہے۔

دوسری طرف psychologist کے نزدیک جیسا کہ بنیادی وجہ خیال یا سوچ ہے سو ان کا نظریہ یہ ہے کہ اگر ہم کسی کے خیالات یا سوچنے کے طریقے کو تبدیل کردیں تو وہ شخص ٹھیک ہو سکتا ہے۔ ان کے نزدیک دوائیاں دینے کی مثال ایسی ہے جیسے ہم کسی درخت کو اکھاڑنا چاہتے ہیں لیکن ہم صرف اس کی شاخیں کاٹ رہے ہیں۔ جبکہ بات چیت اور کاؤنسلنگ کے ذریعے ہم بیماری کے اس درخت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتے ہیں۔

جیسا کہ اوپر والی مثال میں اگر ہم اس شخص کا خوف ختم کردیں کہ تمہارے پیچھے کوئی نہیں ہے تو اس کو دوائیوں کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔

یہ تو تھیں چند بنیادی وجوہات لیکن یہاں یہ بات بھی بتانا بھی ضروری ہے کہ دونوں شعبوں کا کام اپنی، اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے۔ دونوں شعبوں کے لوگ اکثر مل کر کام کرتے ہیں کیونکہ کئی مریض ایسے ہوتے ہیں کہ جب تک انہیں دوا نہ دی جائے وہ بات چیت کرنے کے قابل نہیں ہوپاتے۔ جیسا کے شیزوفرینیا کے مریض کو پہلے دوائیوں کے ذریعے نارمل کیا جاتا ہے پھر ان کی کاؤنسلنگ کی جاتی ہے۔

ٹیگز
WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */