ہم کرکٹ کو جینے والے - عائشہ راٹھور

کہاوت ہے کہ صحت مند جسم ہی صحت مند دماغ کا ضامن ہے اور صحت مند جسم جسمانی ورزش کی مرہون منت ہے۔ کھیلوں میں دلچسپی ہی میں تندرست اور خوشحال زندگی کا راز پوشیدہ ہےاور مشغلوں میں بہترین مشغلہ جسمانی تگ و دو والے کھیلوں میں خود کو مصروف رکھنا ہے۔ کھیل نا صرف جسمانی بلکہ نفسیاتی صحت کی بھی ضمانت دیتا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ کھیلوں میں حصہ لینے والے لوگ نفسیاتی بیماریوں کا کم شکار ہوتے ہیں بہ نسبت ان کے جن کی زندگی میں کھیل روزمرہ کا حصہ نہیں ہوتا۔

انسان جب کھیلتا ہے تو اس کا پورا جسم بیک وقت حرکت کرتا ہے۔ شریانوں میں خون تیزی سے گردش کرنے لگتا ہے جس سے دل کو تقویت ملتی ہے۔ دماغ اپنی تمام تر توجہ کھیل کے اصولوں پر مرکوز رکھتا ہے کہ کب کیا اور کیسے کرنا ہے؟ انسانی دماغ کا مثبت استعمال اسے مزید مستحکم کرتا ہے۔ ہڈیاں، جوڑ اور گوشت مسلسل استعمال میں آنے کی وجہ سے مضبوط تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ سانس کی نالیاں صاف ہوتی ہیں اور پھیپھڑوں کی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں جبکہ کھیل کے دوران آنے والے پسینے سے زہریلا مادہ بھی جسم سے خارج ہوتا رہتا ہے۔

آج کے اس دور میں کھیلوں کا شوق ہی ذہنی اور جسمانی بیماریوں سے واحد راہ فرار ہے۔ کرکٹ کو تمام کھیلوں میں ایک انفرادی حیثیت حاصل ہے کہ پاکستان میں جتنی پذیرائی اسے ملی ہے، شاید ہی کسی اور کھیل کو ملی ہو۔ یہ گلی کوچوں میں کھیلا جانے والا کھیل ہے جسے پورا پاکستان سراہتا ہے۔

کرکٹ کا آغاز انگلینڈ سے ہوا اور اسی وجہ سے انگلینڈ کو کرکٹ کی ماں بھی کہا جاتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر تین طرز کی کرکٹ کھیلی جاتی ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ، ایک روزہ کرکٹ اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ۔ ٹیسٹ کرکٹ کرکٹ کی بہترین طرز ہے جس میں کھلاڑی کی صلاحیتیں کھل کر سامنے آتی ہیں۔ ایک روزہ میچ میں پچاس، پچاس اوورز کی اننگز کھیلی جاتی ہے جبکہ ٹی-ٹوئنٹی بیس اووروں پر مشتمل کرکٹ کی تیز ترین شکل ہے اور اب تو ٹی ٹین کے آنے کے امکانات بھی واضح ہیں۔ ایک ٹیم گیارہ کھلاڑیوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ حریف ٹیموں کے کپتانوں میں سے جو ٹاس جیتتا ہے بلّے بازی یا گیند بازی کا فیصلہ اس کا ہوتا ہے۔ امپائر کے اشارے سے میچ شروع ہوتا ہے۔ بالر گیند پھینکتا ہے اور بلے باز اپنے پورے زور سے ضرب لگا کر اسے ہوا کے سپرد کرتا ہے۔ میدان کے چاروں اطراف باؤنڈری ہوتی ہے۔ گیند اگر اسے چھو لے تو چوکا یعنی چار رنز اور سیدھا اس سے باہر چلی جائے تو چھکا یعنی چھ رنز مانے جاتے ہیں۔ گیند اگر باؤنڈری کے اندر ہی رہے تو کھلاڑی کریز پر دوڑ کر رنز بنا سکتے ہیں۔ گیند اگر وکٹ یا وکٹ کی سیدھ میں کھلاڑی پہ جا لگے یا کھلاڑی کی لگائی گئی ضرب حریف ٹیم میں سے کوئی بھی کیچ کر لے تو امپائر کی انگلی اٹھ جاتی ہے اور کھلاڑی کو پویلین لوٹنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ رنز نکالنے کے دوران اگر کھلاڑی وکٹ پر موجود نہ ہو اور حریف ٹیم کی طرف سے وکٹیں اڑا دی جائیں تو بھی آؤٹ مانا جاتا ہے۔ کھیلنے والی ٹیم رنز کا ہدف دیتی ہے اور حریف ٹیم اس کے تعاقب میں کھیلتی ہے۔ مقررہ اوورز میں رنز بنا لیے تو بعد میں کھیلنے والی ٹیم فاتح قرار پاتی ہے بصورت دیگر جیت کا سہرا پہلے کھیلنے والے کے سر جاتا ہے۔

پاکستان کرکٹ کی تاریخ کا ایک روشن ستارہ ہے اور کرکٹ کی کتابوں میں یہ نام سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ اس کھیل کے میدانوں میں پاکستانی شاہینوں نے بہت سی کامیابیاں اپنے نام کی ہیں۔ سن 1992ء میں عمران خان کی قیادت میں پاکستان نے اپنا پہلا ورلڈ کپ جیت کر ساری دنیا میں اپنا لوہا منوایا۔ سن 2009ء میں یونس خان کی قیادت میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیت کر قوم کا سر فخر سے بلند کیا اور حال ہی میں سرفراز احمد کی قیادت میں 2017ء میں اپنے روایتی حریف ہندوستان کو چاروں شانے چت کر کے چیمپئنز ٹرافی اپنے نام کی۔ یہ کرکٹ کے میدان میں حاصل کی گئی بڑی کامیابیاں ہیں۔ ان کے علاوہ ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی دو ملکی سیریز میں حاصل کی گئی فتوحات کی بھی ایک طویل فہرست ہے۔ کرکٹ کی حالیہ ٹیسٹ رینکنگ میں پاکستان ساتویں، ایک روزہ میں چھٹے جبکہ ٹی ٹوئنٹی میں پہلے نمبر پر ہے۔

کھلاڑی جب کسی کھیل پہ عبور حاصل کر لیتا ہے تو وہ کھیل اس کا تعارف بن جاتا ہے اور پاکستانی شاہین کرکٹ کے آسمان پر درخشاں ستارے بن کر ابھرے۔ عمران خان کا شمار دنیا کے بہترین آل راؤنڈرز میں ہوتا تھا۔ وہ ایک سال میں سب سے کم رنز دے کر سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے وہ کھلاڑی تھے جنہوں نے اپنی دو دہائیوں پہ مشتمل کرکٹ میں ایک بھی نو بال نہیں کرائی۔ ان کا شاندار کیریئر 1971ء سےلے کر 1992ء تک دو دہائیوں پر محیط تھا۔

حنیف محمد 1952سے 1969 تک کھیلے۔ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں ٹرپل سنچری سکور کرنے والے پہلے پاکستانی ہیں، جنہیں فرسٹ کلاس کرکٹ میں سولہ گھنٹوں پر محیط دوسری طویل ترین اننگز کھیلنے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔

ظہیر عباس جن کو "ایشیائی بریڈمین " کے نام سے جانا جاتا ہے نے 1969 سے 1985 تک قومی کرکٹ میں اپنی خدمات انجام دیں وہ ایک روزہ کرکٹ میں لگاتار تین سنچریاں سکور کرنے والے واحد بلے باز ہیں۔

یونس خان 2000 سے 2017 تک پاکستانی ٹیم کا حصہ رہے۔ وہ کرکٹ کی تاریخ کے واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے ٹیسٹ کرکٹ کی میزبانی کرنے والے تمام گیارہ ملکوں میں سنچری سکور کی ہے۔ وہ ٹیسٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے پاکستانی ہیں۔

وسیم اکرم 1985 سے 2003 تک پاکستانی ٹیم کی زینت بنے رہے جنہیں دنیا "سوئنگ کے سلطان" کے نام سے جانتی ہے۔

جاوید میانداد کا ہندوستان کو شکست دینے والا چھکا اس قدر مشہور ہے کہ ہر سال اسکی سالگرہ منائی جاتی ہے۔

مصباح الحق اب تک کے پاکستان کے کامیاب ترین کپتان ہیں۔

شاہد آفریدی کرکٹ کی دنیا میں اپنی جارحانہ بلے بازی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ 1996 سے لے کر 2017 تک ملک کےلیے کھل کر کھیلے۔ انہیں کرکٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ چھکے لگانے کا اعزاز حاصل ہے۔

حالیہ رینکنگ میں بھی پاکستانیوں کا نام نمایاں ہیں۔ ٹیسٹ رینکنگ میں اظہر علی پاکستان کے نمبر ایک بیٹسمین ہیں جبکہ ایک روزہ رینکنگ میں بابر اعظم پانچویں نمبر پر اور ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں پہلے نمبر پر ہیں۔ حسن علی، شاداب خان، محمد عامر، فخر زمان، شاہین آفریدی آج کی کرکٹ کے ابھرتے ستارے ہیں۔ کرکٹ کی کہکشاں میں ہمارا فخر پاکستان کے یہ شاہین روشن جگمگاتے ستارے ہیں جن کی روشنی دنیا کو پاکستان کی صلاحیتوں سے روشناس کراتی ہے۔

البتہ چند سیاہ ترین دن بھی پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں ہیں جیسا کہ تین مارچ 2009ء جب دہشت گردوں نے سری لنکا کی ٹیم پر حملہ کر کے یہاں کے آباد میدانوں کو ویران کردیا۔ چھ لنکن کھلاڑی زخمی ہوئے جبکہ آٹھ پاکستانی باسی جاں بحق ہوئے۔ ٹیم بس چلانے والے محمد خلیل نے مشکل کی اس گھڑی میں بس کو نہ چھوڑا اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سری لنکن ٹیم کو خیر و عافیت سے سٹیڈیم پہنچایا اور قومی ہیرو بن گئے۔ سری لنکن حکومت نے انہیں مدعو کیا اور ڈھیروں انعام و اکرام سے نوازا۔ اس دن محمد خلیل تو ہیرو بن گئے لیکن قوم اپنے کرکٹ کے ہیروز کو اپنے دیس میں کھیلتا دیکھنے سے محروم ہو گئی۔ انٹر نیشنل کرکٹ کے دروازے بند کر دیے گئے اور پاکستان کو اس کے بعد کسی بھی بین الاقوامی کھیل کی میزبانی کی اجازت نہ مل سکی۔ کرکٹ کے آباد میدانوں میں خاموشیوں نے ڈیرے ڈال لیے اور اگلے چھ سال تک ہمارا کوئی کھلاڑی اپنی سرزمین پر نہ کھیل سکا۔ چھ سال کے طویل عرصے کے بعد زمبابوے کی ٹیم نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا اور یہاں کے اجاڑ میدانوں کی رونقیں بحال ہوئیں۔ پاکستانیوں نے جی جان سے زمبابوے کی ٹیم کا شاندار استقبال کیا۔ بین الاقوامی کرکٹ کے راستے کھلنے کے امکانات واضح ہوتے دکھائی دیے اور پھر پی سی ایل 2 کا فائنل اور پی ایس ایل تھری کا سیمی فائنل لاہور میں کھیلا گیا، جسے زندہ دلان لاہور سے بھرپور پذیرائی ملی۔ پی ایس ایل تھری کے فائنل نے کراچی کے میدانوں کی روشنیوں کو بحال کیا۔ ان میچز کو دیکھنے والوں کا جوش و جذبہ اس بات کا گواہ تھا کہ کرکٹ کو پاکستان کے میدانوں سے تو نکالا جا سکتا ہے لیکن پاکستانیوں کے دلوں سے نہیں۔

25 مارچ 2018 ء خوشی اور کامیابی کا دن تھا کہ جب دنیا نے اس امن پسند قوم کا مثبت چہرہ دیکھا اور ثابت کیا کہ یہ تمام تر مشکلات کے باوجود دنیا کے شانہ بشانہ چلنے کی پوری پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ پی ایس ایل کے بعد ویسٹ انڈیز کی ٹیم کے پاکستان آنے نے بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کے امکانات روشن کر دیے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب ہماری پر امن فضائیں بھی کرکٹ کے رنگ میں رنگیں گیں اور پاکستان دنیا کے بڑے کرکٹ میلوں کی پاسبانی کرے گا۔