رمضان المبارک، چند توجہ طلب باتیں - سید معراج الدین مخلصیار

اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہمیں ایک بار پھر رمضان المبارک جیسی عظیم نعمت سے نوازا اور عجیب اتفاق ہے کہ اس سال تقریباً پورے عالم اسلام میں ایک ہی دن روزہ رکھنے کا متفقہ اعلان کیا گیا ہے اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ اس اتفاق کو قائم و دائم رکھے پورے عالم اسلام کو خصوصاً اہل پاکستان کو رمضان مبارک ہو اور ماہ مقدس کے رحمتوں اور نعمتوں سے مالا مال ہو۔

رمضان المبارک کے متعلق علماء اسلام نے چند اہم اور بنیادی ہدایات امت مسلمہ کو بتائیں ہیں جن پر کوئی بھی مسلمان عمل کرے تو، ان شاء اللہ، رمضان المبارک کے عظیم برکتوں سے بہرہ مند ہوگا۔ سب سے پہلے فرائض و واجبات کی ادائیگی اور توبہ واستغفار ماہ صیام کے برکتوں اور سعادتوں کا باعث ہیں اس بات کو حتیٰ الوسع ممکن بنائے کہ ماہ غفران میں نماز پنج گانہ باجماعت پڑھے۔ سابقہ زندگی کی تمام لغزشوں پر سچی توبہ کریں دل کو گناہوں اور برے خیالات سے پاک کریں، آنکھ، کان، زبان، ہاتھ، پاؤں اور دل و دماغ غرض جسم کے کسی بھی حصے سے صادر ہونے والے گناہوں پر پکی توبہ کریں تاکہ آپ گناہوں سے پاک ہوکر رمضان المبارک میں عبادات سے قلب صمیم کے ساتھ ادا کرسکیں۔

دوسری اہم بات، رمضان المبارک کے مسائل سیکھیں اور سکھائیں۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ماہ کو نیکیوں کا موسم بتایا ہے یعنی یہ نیکیوں کی کمائی کا سیزن ہے۔ اس لیے صرف روزہ رکھ کر اکتفا کرنے کی بجائے روزہ، تراویح، زکٰوۃ، اعتکاف اور رمضان المبارک کے متعلق دیگر احکامات سیکھیں اور دوستوں کو بھی سکھائیں۔ یہی وہ اعمال ہیں جن کی بدولت پورا مہینہ حقیقی معنوں میں سکون حاصل رہے گا۔

تیسری اہم بات اپنے نفس کو تقویٰ کا پابند بنائیں کیونکہ رمضان المبارک تقوی کی عملی تربیت گاہ اور اللہ رب العزت نے رمضان المبارک میں روزوں کی فرضیت کا اہم مقصد تقویٰ وپرہیز گاری کا حصول بتایا ہے۔

چوتھی اہم بات، اس بابرکت مہینے میں صلہ رحمی کیجیے۔ قطع رحمی یعنی رشتے ناتے توڑنا بہت بڑا گناہ ہے، قطع رحمی کی وجہ سے دعائیں قبول نہیں ہوتیں، لہٰذا رمضان کے دوران اس سنگین گناہ سے توبہ اور رشتہ داروں سے صلہ رحمی کریں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مفہوم ہے اصل صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس کے ساتھ قطع رحمی یعنی رشتے ناتے توڑنے کا معاملہ کیا جائے تب بھی وہ صلہ رحمی کرے۔ (بخاری شریف)

پانچویں بات، اپنا دل صاف کریں۔ گزشتہ گیارہ مہینے سے ہمارے دل، نفرت، جذبہ، انتقام اور حسد کی آگ میں جل راکھ ہوگئے ہیں، دل میں نفرت اور کینہ رکھنے والے کی اللہ سبحانہ وتعالیٰ مغفرت نہیں فرماتے، لہٰذا رمضان المبارک میں اپنے دل کو ان فضول مصروفیات سے فارغ کر کے خالص عبادات کی طرف اسے متوجہ کریں، سب کو دل سے معاف کردیں کسی کا کینہ اپنے دل میں نہ رکھیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا دل کے صاف ہونے سے کیا مراد ہے؟ آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا، وہ متقی اور صاف ستھرا دل ہے جس میں نہ گناہ ہو، نہ بغاوت، نہ ہی اس میں کسی کا کینہ ہو اور نہ کسی کے بارے میں حسد۔ (سنن ابن ماجہ)

یہ بھی پڑھیں:   رمضان میں ’’مت‘‘ بول - یاسر اسعد

چھٹی بات، دعاؤں کا معمول بنائیں۔ رمضان المبارک دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے، لہٰذا شروع سے اپنے آپ کو لمبی دعاؤں کا عادی بنائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول دعاؤں کے الفاظ زبانی یاد کیے جائیں، مسنون الفاظ پر مشتمل دعاؤں میں تاثیر بھی زیادہ ہوتی ہے اور قبولیت کا امکان بھی۔ لہٰذا اپنے لیے، والدین، اولاد، عزیز و اقارب، مملکت پاکستان اور پوری امت مسلمہ کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں۔

ساتویں بات، صدقہ کرنے کی عادت اپنائیں۔ اس ماہ نور کا اعزاز ہے کہ مستحب عمل کا ثواب دس گنا بڑھ کردیا جاتا ہے اس لیے رمضان المبارک میں سخاوت کرنا آسان بنائیں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسم سب لوگوں میں زیادہ سخی تھے اور رمضان المبارک میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جود و سخا تیز چلتی خوشگوار ہوا سے بھی زیادہ ہوجاتی۔ (صحیح بخاری)

آٹھویں بات، کثرت تلاوت کا معمول بنائیں۔ رمضان المبارک نزول قرآن کا مہینہ ہے خوش قسمت لوگ اس ماہ میں تلاوت کی کثرت کا معمول بناتے ہیں لہٰذا ابھی سے تلاوت قرآن کو زیادہ وقت دینا شروع کریں تاکہ رمضان المبارک کے بعد آپ کثرت سے تلاوت کرنے کے عادی بن جائیں۔ نیز، اگر توفیق عطا ہو تو قرآن کریم کے آیتوں کے معانی سیکھنے کی کوشش کریں۔

نویں بات، شب بیداری کی عادت ڈالیے۔ رمضان میں راتوں کی عبادات (تراویح، تہجد وغیرہ) کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے، ان عبادات کو احسن انداز میں اور بلا تھکاوٹ سر انجام دینے کے لیے ضروری ہے کہ شب بیداری اور نفلی عبادات کا اہتمام کریں اور اپنے بدن کو عبادات کی کثرت کا عادی بنائیں۔ اتنا خود کو عادی بنائیں کہ رمضان المبارک کے بعد آپ کو عبادت کیے بغیر سکون نہ ملے۔

دسویں بات، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سے خود کو بچائیں۔ رمضان میں اوقات کی قدردانی بڑی اہم ہے، آج کل انٹرنیٹ وسوشل میڈیا وقت کے ضیاع کا بڑا سبب بن رہے ہیں۔ لہٰذا دوران رمضان ان کے استعمال کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ امام مالکؒ ودیگر اسلافؒ کا رمضان المبارک میں تو یہاں تک معمول تھا کہ علمی مجالس بھی موقوف فرما دیتے۔ تلاوت قرآن اور دیگر عبادات میں مشغول ہوجاتے۔

گیارہویں بات، ٹی وی سے احتراز کریں کیونکہ ٹی وی خرافات کا ملغوبہ ہے لہٰذا ماہ مغفرت میں اس سے جان بچائیں۔ ٹی وی پر رمضان نشریات کے نام پر اکثر پروگرام غیر شرعی اور مخلوط ہیں ایک آدھ دینی پروگرام درست بھی ہو تو اسے بنیاد بناکر ٹی وی کے سامنے وقت ضائع کرنا ہوشمندی نہیں کیونکہ دینی پروگرامز کے دوران اشتہارات میں موسیقی اور نامحرم عورتیں رمضان کی روحانیت ختم کرنے کے لیے کافی ہیں۔

بارہویں بات، روحانی لذت کی حصول کے لیے نظام الاوقات ترتیب دیں۔ جس میں صبح اٹھ کر تہجد، ذکر، دعائیں، سحری، نماز فجر اور تلاوت سے لے کر افطاری، تراویح اور دیگر معمولات تک کے لیے مناسب وقت متعین ہو اور نیند و آرام کی بھی رعایت رکھی جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   رمضان امت مسلمہ کے لیے فتوحات کا مہینہ - ثمیرہ صدیقی

تیرہویں بات، نوکر، خادم اور ملازم پر کاموں کا بوجھ ہلکا کریں۔ رمضان المبارک میں نوکر اور ملازمین سے محنت طلب اور مشکل کام نہ کروالیں تاکہ روزے کی حالت میں ملازمین پر کام کا بوجھ ہلکا رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص رمضان کے مہینے میں اپنے غلام، خادم، ملازم، کے بوجھ کو ہلکا کردے تو حق تعالیٰ شانہ اس کی مغفرت فرماتے ہیں، اور اسے آگ سے آزادی عطا فرماتے ہیں۔ (مشکٰوۃ شریف)

چودہویں بات، ملاقاتوں کا سلسلہ محدود کریں۔ رمضان میں تقاریب، ملاقاتوں اور دعوتوں کا سلسلہ بھی محدود کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ وقت عبادت میں صرف ہوسکے، البتہ بیمار کی عیادت اور تیمارداری اسی طرح میت کی تجہیز و تکفین اور نماز جنازہ میں شرکت کے مواقع جتنے مل سکیں، غنیمت سمجھیں۔

پندرہویں بات، چھوٹی چھوٹی سورتیں زبانی یاد کریں قرآن کریم کی چھوٹی چھوٹی سورتیں یاد کرنا شروع کریں تاکہ نوافل اور تہجد میں انہیں پڑھا جاسکے۔ مقام افسوس ہے کہ عام طور پر صرف ایک یا دوسورتیں یاد ہوتی ہیں اور نماز پنج گانہ میں انہی کو بار بار دہرایا جاتا ہے، جو قطعاً مثالی طرز عمل نہیں۔

سولہویں بات، اپنے بچوں کو روزے کی عادت ڈالیں۔ سات سال یا اس سے بڑے بچوں کو روزے کے حوالے سے خصوصی ترغیب دیں اور ان کی ذہن سازی کریں تاکہ اسی ماہ رمضان سے انہیں روزے رکھنے کی عادت پڑجائے اور بچوں کے زندگی بھر کے روزے آپ کے لیے صدقہ جاریہ ہوں۔

سترہویں بات، اس رمضان کو گزشتہ سے ممتاز کریں۔ کسی ایسی عبادت کی ترتیب بنائیں جو آپ کے نامہ اعمال میں اس رمضان کو گزشتہ رمضانوں سے ممتاز کردے مثلاً تیسواں پارہ زبانی یاد کرلیں یا سورۃ رحمٰن، سورۃ یسین، سورۃ الملک زبانی یاد کرلیں، یا کسی یتیم کو ڈھونڈ کر اس کی کفالت کا بندوبست کرلیں، یا جیلوں میں قید لوگوں کی تعلیم و تربیت کی ترتیب بنائیں، یا پانی کی اشد ضرورت ہو تو ٹیوب ویل، کنواں یا ٹھنڈے پانی کا پلانٹ لگوادیں، یا مساجد و مدارس کے ساتھ پر خلوص تعاون کریں، یا نادار مستحق طلبہ کے لیے فیسوں اور یونیفارم وغیرہ کا بندوبست کرلیں، یا کسی غریب لڑکی کی رخصتی کے اخراجات کا بندوبست کردیں، یا اور کوئی کارخیر انجام دے جو آپ کا یہ رمضان گزشتہ سالوں کی رمضان المبارک سے ممتاز بنائے۔

اٹھارویں بات، مالی حقوق سے متعلق مسائل سیکھیں۔ عام طور پر رمضان المبارک میں مالی حقوق جیسے زکٰوۃ، عشر، صدقۃ الفطر، نذر وغیرہ کی ادائیگی کی جاتی ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ ان سے متعلق تفصیلی احکامات معلوم کرلیے جائیں، اسی طرح جو مالی حقوق ذمہ ہوں (جیسے بیوی کا مہر یا کسی کا قرض وغیرہ) اور ادا کرنے کی صلاحیت بھی ہو تو رمضان میں ادا کرلیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مالدار آدمی کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ (بخاری شریف)

یہ چند اہم معلومات اور ضروری ھدایات ہیں جو ہمارے اسلاف اور بزرگوں نے ہمارے لیے رمضان المبارک کے حوالے سے بتائیں ہیں اگر ہم کوشش کریں تو ماہ مقدس میں اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی اور مغفرت کے اسباب پیدا کرسکتے ہیں۔