روزہ دار کے دو پر، علم اور عمل – ڈاکٹر احمد عیسیٰ

ترجمہ: ڈاکٹر میمونہ حمزہ

پچھلی قسط

دو ’’پر‘‘ جن سے روزہ دار غافل نہیں ہو سکتا، اور ان دونوں کے بغیر اڑ بھی نہیں سکتا۔ آپ نہیں سمجھتے کہ علم بھی رمضان کے فرائض میں سے ہے، پس جو کچھ جانتے ہیں اس پر عمل کیجیے۔ اور روزہ رکھیے، اور جانیے کہ قیام کا اجر کیا ہے۔ اور قیام کیجیے، اور ان دو پروں کے ہمراہ صراط ِ مستقیم کی جانب خوب اونچی پرواز کیجیے، جو ’’المغضوب علیھم‘‘ (جن پر غضب نازل ہوا) سے بہت دور کی پرواز ہے، اوریعنی جو جانتے تھے مگر انہوں نے عمل نہ کیا، اور ’’الضالین‘‘ (گمراہ) سے بھی، جنہوں نے علم کے بغیر عمل کیا۔

ابو عبد الرحمٰن سلمی کہتے ہیں: ’’ہمیں ان ان لوگوں نے بتایاجو ہمیں سکھایا کرتے تھے، کہ وہ نبی اکرم ﷺ سے قرآن سیکھا کرتے تھے، پس جب وہ دس آیتیں سیکھ لیتے، تو وہ انہیں نہیں چھوڑتے تھے، حتیٰ کہ ان پر عمل کر لیتے، پس ہم نے قرآن اور اس پر عمل ایک ساتھ سیکھا‘‘ (الطبری)۔

ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق﴾ (التوبہ، ۳۳) ﴿وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین ِ حق کے ساتھ بھیجا ہے۔﴾

پس ہدایت: علم ِ نافع ہے، اور دین الحق: عمل ِ صالح ہے۔ اور اسی طرح سورۃ الجن میں ہے: یھدی الی الحق (وہ حق کی جانب رہنمائی کرتی ہے) یعنی اعتقادات میں، والی طریق مستقیم اور سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتی ہے، یعنی عمل میں۔ (ابن ِ کثیر)

ابن ِ القیم مدارج السالکین میں فرماتے ہیں: ’’اور علم انبیاء علیھم السلام کا ترکہ اور ان کی میراث ہے، اور اہل ِ علم ان کی جماعت اور ان کے وارث ہیں، اور وہ دلوں کی زندگی، نگاہوں کا نور، سینوں کی شفاء، اور عقلوں کی شادابی اور روحوں کی لذت ہے، اور اقوال، اعمال اور احوال کی انسیت ہے، اور وہ شک اور یقین، ٹیڑھ اور سیدھی راہ، اور ہدایت اور گمراہی کے بیچ فرق کرنے والا حاکم ہے‘‘، اسی کے ذریعے اللہ کو پہچانا اور اس کی بندگی کی جاتی ہے، اور اس کا ذکر کیا جاتا ہے، اس کی یکتائی، تحمید اور تمجید بیان کی جاتی ہے۔ اسی کے ذریعے قوانین اور احکامات جانے جاتے ہیں، اور حرام اور حلال کی تمیز کی جاتی ہے۔ ‘‘۔

جب پرندہ پرواز کرتا ہے، اور فضا میں تیرتا ہے، اور انسانوں کی زندگی، ان کی شاہراہوں، عمارتوں اور بازاروں کے اوپر سے گزرتا ہے۔ انہیں علم اور قرأت سے دور بھاگتے دیکھتا ہے، (معدودے چند افراد کے) جن پر اللہ رحم فرما دے؛ اس کے کئی اسباب ہیں، جن میں وقت سے برکت ختم ہو جانا بھی ہے، کیونکہ لوگ رزق کی تلاش میں بری طرح مشغول رہتے ہیں، اور فقر بڑھ گیا ہے، یا مال کا طمع زود افزوں ہو گیا ہے، یا ہم انواع و اقسام کی لغویات، لہو اور باطل چیزوں میں مشغول ہو کر وقت کا خون کرتے رہتے ہیں!!

ہر شخص کے مناسب ِ حال:

نفس کے حالات میں درجات کے اختلاف کے باوجود؛ علم سب کے حالات سے مناسبت رکھتا ہے: ’’وہ اجنبیت کا ساتھی ہے، اور خاموشی کی زبان ہے، اور وحشت کا رفیق ہے، اور شک کو دور کرنے والا ہے۔ ‘‘، ’’اس کی دہرائی تسبیح ہے، اور اس کا سیکھنا روزے اور قیام کو معتدل بناتا ہے، اور اس کی ضرورت کھانے اور پینے سے بھی بڑھ کر ہے‘‘۔

شاید کہ روزے دار کو یاد آئے، جبکہ وہ قرآن کے مہینے میں قرآن تلاوت کر رہا ہو، کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولؐ کو دنیا کی کسی چیز میں اضافے کے لیے سوال کرنے کا حکم نہیں دیا، اور یہ حکم صرف علم میں اضافہ مانگنے کے لیے دیا وقل رب زدنی علماً (طہ، ۱۱۴)﴿اور دعا کرو کہ اے پروردگار مجھے مزید علم عطا کر۔﴾

یہ فکر سفر کرتی ہوئی، بہت دور قرون ِ سابقہ تک پہنچتی ہے، گویا کہ وہ دور سے کلیم الرحمٰن موسی ؑ کا ایک سفر دیکھ رہی ہے، جب موسیؑ ایک غلام کے ساتھ طلب ِ علم میں سفر کر رہے ہیں، حتیٰ کہ ان دونوں کو سفر میں تکان لاحق ہو جاتی ہے، اور (اتنے طویل سفر کے بعد) وہ صرف تین مسائل سیکھتے ہیں، اس سے جو مخلوق میں اللہ کے ہاں بڑے معزز تھے، اور ان سے زیادہ جاننے والے تھے۔

علم کی طلب:

اور اس امت کے فقھاء اور محدثین نے بھی ایسا ہی کیا، جب وہ فی سبیل اللہ اور علم حاصل کرنے کے لیے اللہ کی زمین میں پھرتے رہے، اور اس کو نقل کرنے اور محفوظ رکھنے کے مشتاق رہے۔ انہیں میں امام بخاری رحمہ اللہ ہیں، جنہوں نے (اپنی کتاب میں) ایک باب باندھا: (باب العلم قبل القول والعمل) ’’علم کا باب، قول اور عمل سے پہلے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کا قول ہے: فاعلم انہ لا الہ الا اﷲ (محمد ۱۹) ﴿پس اے نبی خوب جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے﴾، پس اس کی ابتدا علم سے ہوئی، اور علماء انبیاء کے وارث ہیں، جنہوں نے علم کی میراث پائی ہے، پس جس شخص کو بھی اس (علم) میں سے حصّہ ملا اسے وافر حصہ مل گیا، اور جو کوئی طلب ِ علم کے کسی راستے پر چلا، اللہ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دے گا، اور اللہ جل شانہ فرماتا ہے: انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء ان اللہ عزیز غفور (فاطر، ۲۸) ﴿حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے والے لوگ ہی اس سے ڈرتے ہیں۔﴾

اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وما یعقلھا الا العالمون (العنکبوت، ۴۳)﴿اور ان کو وہی لوگ سمجھتے ہیں جو علم والے ہیں۔﴾

اور فرماتا ہے: وقالوا لو کنا نسمع او نعقل ما کنا فی اصحاب السعیر (الملک، ۱۰) ﴿اور وہ کہیں گے ’’کاش ہم سنتے یا سمجھتے تو آج اس بھڑکتی ہوئی آگ کے سزاواروں میں شامل نہ ہوتے‘‘۔﴾

اور فرماتا ہے: قل ھل یستوی الذین یعلمون والذین لا یعلمون انما یتذکر اولوا الباب (الزمر، ۹) ﴿ان سے پوچھو، کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں کبھی یکساں ہو سکتے ہیں؟ نصیحت تو عقل رکھنے والے ہی قبول کرتے ہیں۔﴾

اور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ جس شخص سے بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین میں سمجھ بوجھ عطا کر دیتا ہے‘‘، اور علم کا تعلق سیکھنے سے ہے، اور ابن ِ عباس فرماتے ہیں: ربانی، حکیم اور فقیہہ بن جاؤ۔ اور کہا جاتا ہے: ربانی وہ ہے جو لوگوں کو چھوٹی عمر میں بڑا ہونے سے قبل علم سکھائے۔

ایمان کے ساتھ عمل:

اللہ تعالیٰ متعدد آیات میں ایمان کے ساتھ عمل ِ صالح کو لازم قرار دیتے ہیں، اور آیات اور احادیث ایمان اور استقامت کا ذکر بھی کرتی ہیں، ومن یعمل من الصالحات من ذکر او انثی وھو مؤمن فاولئک یدخلون الجنۃ ولا یظلمون نقیراً (النساء ۱۲۴) ﴿اور جو نیک عمل کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ ہو وہ مومن، تو ایسے ہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے، اور ان کی ذرہ برابر حق تلفی نہ ہونے پائے گی۔﴾

ومن احسن دیناً ممن اسلم وجھہ ﷲ وھو محسن واتبع ملۃ ابراہیم حنیفاً واتخذ اللہ ابراہیم خلیلاً (النساء، ۱۲۵)﴿اور اس شخص سے بہتر اور کس کا طریق ِ زندگی ہو سکتا ہے، جس نے اللہ کے آگے سر ِ تسلیم خم کر دیااور اپنا رویہ نیک رکھااور یکسو ہو کر ابراہیم کے طریقے پر چلا، اس ابراہیم کے طریقے پر، جسے اللہ نے اپنا دوست بنا لیا تھا۔﴾

ان الذین آمنوا وعملوا الصالحات انا لا نضیع اجر من احسن عملاً (الکھف، ۳۰) ﴿رہے وہ لوگ جو مان لیں اور نیک عمل کریں، تو یقیناً ہم نیکوکار لوگوں کا اجر ضائع نہیں کیا کرتے۔﴾

ومن احسن قولاً ممن دعا الی اللہ وعمل صالحاً وقال اننی من المسلمین (فصلت، ۳۳) ﴿اور اس شخص کی بات سے اچھی بات اور کس کی ہو گی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل اور کہا کہ میں مسلمان ہوں۔﴾

اور سفیان بن عبد اللہ ثقفی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے کہا: یا رسول اﷲ، مجھے اسلام کے بارے میں ایسی بات بتائیں، جس کے بارے میں میں آپ کے بعد کسی سے سوال نہ کروں، ابو معاویہ نے پوچھا: آپ کے بعد؟ فرمایا: کہو میں اللہ پر ایمان لایا، پھر جم جاؤ‘‘ (اسے احمد نے روایت کیا ہے)

عملی بصیرت:

صحابہ اکرام اتنی ہی آیات سیکھتے تھے جن پر عمل کر لیں، عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے، فرمایا: ’’ہم میں سے جب کوئی دس آیات سیکھ لیتا، تو وہ سب سے پہلے ان کے معنی جانتا، اور ان پر عمل کرتا‘‘، اور اللہ تعالیٰ نے صحابہ کو ساری امت سے زیادہ بصیرت کی صفت عطا کی تھی،اور علوم کی ان کے دل سے وہی نسبت تھی جو قوت ِ بصر کو آنکھ سے ہے،اور وہ علماء کے اعلیٰ درجے پر تھے، اللہ تعالیٰ کے قول کے مطابق: قل ھذہ سبیلی ادعوا الی اللہ ھلی بصیزر انا ومن اتبعنی وسبحان اللہ وما انا من المشرکین (یوسف، ۱۰۸) ﴿تم ان سے صاف کہہ دو کہ ’’میرا راستہ تو یہ ہے، میں اﷲکی طرف بلاتا ہوں، میں خود بھی پوری روشنی میں اپنا راستہ دیکھ رہا ہوں اور میرے ساتھی بھی، اور اللہ پاک ہے اور شرک کرنے والوں سے میرا کوئی واسطہ نہیں’’۔﴾

اور اس کے دو معنی ہیں: پہلا: یعنی میں اور میرے پیرو بصیرت پر ہیں۔

؁اور دوسرا: میں اللہ کی طرف دعوت دیتا ہوں بصیرت پر، اور میرے پیروکار بھی اسی طرح اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں، اور وہ بصیرت پر ہیں۔

رفعت اور بلندی:

علم کا پر اپنے ساتھی کو بلند کر سکتا ہے: یرفع اللہ الذین آمنوا منکم والذین اوتوا العلم درجات واللہ بما تعملون خبیر (المجادلہ، ۱۱) ﴿تم میں سے جو لوگ ایمان رکھنے والے ہیں اور جن کو علم بخشا گیا ہے، اللہ ان کو بلند درجے عطا فرمائے گا، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے۔﴾

لیکن پرواز کی بلندی اور منزل ِ مراد تک پہنچنے کے لیے عمل کا ’’پر‘‘ ضروری ہے، جو اگر اس کے جسم سے الگ کر دیا گیا تو پرندہ گہری کھائی میں جا گرے گا، واتل علیھم نبأ الذی آتیناہ آیاتنا فانسلخ منھا فأتبعہ الشیطان فکان من الغاوین (الاعراف، ۱۷۵) ﴿اور اے نبیؐ، ان کے سامنے اس شخص کا حال بیان کرو جس کو ہم نے اپنی آیات کا علم عطا کیا تھا مگر وہ ان کی پابندی سے نکل بھاگا۔ آخر کار شیطان اس کے پیچھے پڑ گیا یہاں تک کہ وہ بھٹکنے والوں میں شامل ہو کر رہا۔﴾

ابن ِ مسعود اور ابن ِ عباس کا قول ہے: بلعام بن باعورا حضرت موسیؑ کے زمانے میں بنی اسرائیل میں سے تھا، اس کی مجلس میں بارہ ہزار دواتیں متعلمین (طالب علموں)کے لیے تھیں، جن سے وہ لکھا کرتے تھے۔

مالک بن دینار کا قول ہے: مدین کے بادشاہ کی طرف ایمان کی دعوت بھیجی گئی، اس نے عطیے اور تحائف دیے؛ اور اس دین
کی پیروی اختیار کرلی، اور دین ِ موسی ترک کر دیا، (القرطبی)

اور تفسیر الجلالین میں ہے: وہ کفر سے اس طرح نکل گیا جس طرح سانپ اپنی کھال (کینچلی) سے نکل جاتا ہے، اس سے کہا گیا
کہ وہ موسیؑ کے لیے بد دعا کرے، اسے تحائف دیے جائیں گے، تو اس نے ایسی دعا کر دی، تو اس کا حال بدل گیا، اور اس کی زبان لٹک کر اس کے سینے سے پیوست ہو گئی، ’’پس اس نے شیطان کی پیروی کی‘‘ اور اسے معلوم ہو گیا، اور وہ اسی کا ساتھی بن گیا۔

اسی لیے بعض حکماء کا قول ہے: ’’جس شخص سے اللہ نے علم چھپا لیا اس کے لیے جہالت کو خوش کن بنا دیا، اور اس سے بھی بڑا عذاب یہ ہے کہ اس کے سامنے علم آیا مگر اس نے پیٹھ موڑ لی، اور (یا) اسے علم دیا گیا مگر اس نے اس پر عمل نہ کیا‘‘۔

علم پر محاسبہ:

اور آدمی سے اس علم کے بارے میں سوال ہو گا، کہ اس نے اس پر کتنا عمل کیا؟ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کی حدیث ہے: ’’بندۂ آدم کے قدم نہ ہل سکیں گے حتیٰ کہ اس سے پوچھا جائے کہ عمر اس نے کن کاموں میں لگائی، اور علم کے بارے میں کہ اس پر کتنا عمل کیا، اور مال کے بارے میں کہ اسے کہاں سے کمایا اور کس چیز میں خرچ کیا، اور جسم کے بارے میں کہ اسے کہاں بوسیدہ کیا‘‘ (اسے ترمذی نے روایت کیا۔ حدیث حسن صحیح)

ابو درداء ؓ کا قول ہے: ’’خرابی ہے اس کے لیے جو علم نہیں رکھتا اور ایک بار بھی عمل نہیں کرتا، خرابی ہے اس کے لیے جو علم رکھتا ہے اور سات بار بھی عمل نہیں کرتا‘‘۔

امام ابن عبد البر ’’علم جمع کرنے اور اس کی فضیلت کے باب‘‘ میں شعبی سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ہم حدیث یاد کرنے کے لیے اس پر عمل سے مدد حاصل کرتے تھے، اور اس کی طلب کے لیے روزے سے مدد حاصل کرتے تھے‘‘۔

اور تفسیر میں ہے: ’’انہوں نے اسے اپنی پشتوں سے پیچھے پھینک دیا‘‘ یعنی اس پر عمل کرنا چھوڑ دیا۔

اور جب انسان عمل کے بغیر اقوال جمع کرنا شروع کر دے، تو وہ اس پرندے کی مانند ہوتا ہے جو لنگڑا ہو، اور اس کا ایک پر ٹوٹا ہوا ہو۔ اور آسمان کے پرندے اسے کیچڑ میں رہنے کے لیے چھوڑ جائیں۔ کسی حکیم کا قول ہے: ’’اگر میری زندگی بے وقوفوں کی سی، اور میری موت جاہلوں کی سی موت ہو، تو میں نے حکمت کی جتنی نادر باتیں جمع کی ہیں وہ میرے کسی کام کی نہیں’’!

اور جب علم اور عمل دونوں مکمل ہو جائیں تو پرندہ دنیا سے دور آسمان کی بلندیوں میں تیرتا ہے۔

ثوری کا قول ہے: ’’علماء جب علم حاصل کرتے ہیں اس پر عمل کرتے ہیں، اور جب عمل کرتے ہیں تو مشغول ہو جاتے ہیں، اور جب مشغول ہو جاتے ہیں کھو جاتے ہیں، اور جب کھو جاتے ہیں تو انہیں طلب کیا جاتا ہے، اور جب انہیں طلب کیا جاتا ہے بھاگ جاتے ہیں‘‘ یعنی دنیا سے فرار چاہتے ہیں، اس کی طلب میں نہیں بھاگتے۔ تاکہ وہ تقویٰ کے درجے تک بلند ہو جائیں، اور یہی روزے کا مقصد ہے۔ ابو درداءؓ نے فرمایا: ’’تم اس وقت تک متقی نہیں ہو سکتے جب تک تم عالم نہ بن جاؤ۔ ‘‘، اور اسی سے کہنے والے نے کہا ہے: یہ کیسے کہا جا سکتا ہے: متقی ہے لیکن یہ نہیں جانتا کہ تقویٰ کیا ہے؟

Comments

میمونہ حمزہ

ڈاکٹر میمونہ حمزہ عربی ادب میں پی ایچ ڈی ہیں اور انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی میں اعزازی طور پر تدریس کے فرائض ادا کرچکی ہیں۔ کئی کتابوں کے عربی سے اردو میں تراجم کر چکی ہیں، جن میں سے افسانوں کا مجموعہ "سونے کا آدمی" ہبہ الدباغ کی خود نوشت "صرف پانچ منٹ" اور تاریخی اسلامی ناول "نور اللہ" شائع ہو چکے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.