ملائشیا میں سبز رنگ غالب آرہا ہے - محمد حسان

سبز رنگ کے درمیان سفید دائرہ۔ جی ہاں! یہ ملائیشیا کی اسلامی تحریک PAS کا لوگو ہے۔

الیکشن کمپین ایسی چلی کہ ہر جگہ سفید دائروں کے گرد سبز رنگ چھانے لگا۔ غبارے ہوں یا چھتریاں، سفید ٹوپیاں سبز قمیضیں، سفید اسکارف اور سبز گاؤن، حتیٰ کہ بچوں کا اسکول یونیفارم بھی پارٹی پرچم میں لپٹا نظر آنے لگا۔

1947 میں پیدا ہونے والے "پاس" کے سربراہ عبدالہادی اوغ معروف دینی اسکالر ہیں۔ مدینہ یونیورسٹی اور جامعہ ازہر کے فارغ التحصیل ہیں۔ سید مودودی کا نمازہ جنازہ پڑھانے والی عہد ساز شخصیت علامہ یوسف قرضاوی کی انٹرنیشنل یونین آف مسلم اسکالرز کے وائس پریزیڈنٹ بھی ہیں۔

ملائیشیا کے حالیہ عام انتخابات تاریخ کا بہت بڑا اپ سیٹ ہیں، دنیا میں طویل ترین عرصہ اقتدار میں رہنے والی حکمران پارٹی 60 سال بعد پہلی مرتبہ شکست سے دوچار ہوئی۔

1981 سے 2003 تک 22 سال اقتدار میں رہنے والے مہاتیر محمد گزشتہ سال دوبارہ الیکشن میں سرگرم ہوئے اور اپنی ماضی کی حکمران جماعت سے رشتہ توڑ کر اپوزیشن اتحاد کے سربراہ بنے۔ یعنی سب سے اہم یہ کہ انہوں نے اپنے آپ کو اسلام پسندوں کی صف میں شامل کیا اور اپ سیٹ کر دیا۔

ملائیشیا کی اسلامی تحریک "پاس" صوبہ کلنتان کی حکمران جماعت ہے مگر حالیہ الیکشن میں تن تنہا مقابلہ کرکے دو صوبوں میں اکثریت حاصل کر چکی ہے۔

اہم نکتہ یہ ہے کہ پاس جس ایک صوبے میں حکمران رہی ہے وہاں کا ماحول اور قوانین دیگر ملک کے برعکس اسلامی رنگ نور میں لپٹے ہوئے ہیں، تو ملائیشیا کے عوام نے اس اسلامی ماحول کو پذیرائی دی ہے اور دیگر صوبوں کے عام نے بھی اسے آگے بڑھ کر قبول کرنا شروع کر دیا ہے۔

پاس کے تنظیمی و تربیتی اجتماعات جماعت اسلامی اور اخوان المسلمون کی طرز پر ہی ہوتے ہیں۔ اس بار وہاں ایک قومی اور صوبائی نوجوان ممبران اسمبلی ایسے بھی ہیں جو ماضِی میں پاکستان جماعت اسلامی کے مدرسے اور پھر اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے تعلیم حاصل کرچکے ہیں۔ پاس کی طلبہ تنظیم نعرہ تکبیر اور اسلامی انقلاب کے نعرں کی گونج میں کالجز اور یونیورسٹیز کی طلبہ یونین کا الیکشن جیتتی ہے۔

مہاتیر نے اقتدار میں آنے کے بعد اگلے دوسال بعد معاہدے کے مطابق انور ابراہیم کے سپرد کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ اسلامی تحریک کا پس منظر رکھنے والے انور ابراہیم ماضی میں مہاتیر کے ساتھ نائب وزیر اعظم بھی رہے مگر تیزی سے مقبولیت اور رقابت کے باعث مہاتیر نے انہیں ایک مقدمے میں پھنسا کر جیل سے سزا کروادی تھی۔ اب مہاتیر نے اعلان کیا ہے کہ وہ اقتدار میں آکر ان کی سز ا ختم کروائیں گے اور اگلے دو سال کے لیے اقتدار بھی ان کے حوالے کر دیں گے۔

ملائیشیا کی پارلیمنٹ اس حوالے سے دلچسپ ہوگی کہ دنیا کا معمر ترین پارلیمانی ممبر اور کم عمر ترین پارلیمانی ممبر اس کا حصہ ہوں گے۔ بہرحال، ملائیشیا کے اسلام پسندوں کو پاکستان کے اسلام پسندوں کی جناب سے مبارک باد اور پھول قبول ہوں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */