بے چاری نا اہل جمہوریت - حافظ یوسف سراج

بالآخر میاں صاحب کی نااہلی کا پورا پورا بندوبست عرف تعین کر دیا گیا۔ ویسے اس میں نرے شہر کے لوگ ہی ظالم نہ تھے ، کچھ نہ کچھ میاں صاحب کو مرنے کا شوق بھی تھا۔ الحمدللہ یہ شوق اب پوری طرح پورا ہو گیا۔ کچھ اس طرح کہ ممکن ہے ، میاں صاحب اس بندے کو ڈھونڈ رہے ہوں ،جس نے انھیں عدالت سے یہ پوچھنے کا مشورہ دیا تھا۔ بہتر تھا فی الحال نا اہلیت کی وضاحت کروانے کے چکر میں نہ ہی پڑا جاتا۔ آدمی جب دلدل میں پھنسا ہو تو اس کا بہترین حل حرکت نہ کرنا اور ساکت رہنا ہوتا ہے۔ عافیت کبھی چپ رہنے میں ہوتی ہے۔ آدمی مگر یہ کب سمجھتا ہے۔ چپ نہ رہنے میں ویسے تو عام طور پر خواتین کا نام لیا جاتا ہے ، لیکن بعض مرد بھی اس سلسلے میں کمال کی خواتین ثابت ہوتے ہیں۔ لطیفہ مشہور ہے کہ تین آدمی نئے نئے نماز کے قائل ہوئے تھے۔ وہ پہلی بار اکھٹے مل کے نماز پڑھنے لگے۔ ایک کو جانے کیا یاد آیا کہ نماز کے بیچ ہی وہ اپنے ساتھی سے پوچھنے لگا۔ شاید پوچھ رہا ہو کہ یہ نااہلیت کا دورانیہ کتنا ہوتا ہے؟ بہرحال دوسرے نے نماز پڑھتے پڑھتے ہی اسے سمجھایا کہ چپ رہ اللہ کے بندے، نماز میں نہیں بولتے۔ ساتھ کھڑا آدمی یہ سب دیکھ رہا تھا، اس کے دل میں تیسرے نمازی کی قدر پیدا ہوئی کہ ان میں یہ شخص سمجھ دار معلوم ہوتا ہے۔ اس سے پہلے کہ یہ قدر برقرار رہتی۔ وہ بھی بول اٹھا۔ کہنے لگا، اللہ کا شکر ہے کہ مجھ سے تو نماز میں بولنے کی غلطی نہیں ہوئی۔ بہرحال الجھے حالات میں وضاحت پوچھنے کی غلطی میاں صاحب سے بھی ہو گئی، لیکن اس بولنے کا میاں صاحب کو کچھ فائدہ نہ ہوا۔ فائدہ رقیبوں کو ہوا کہ میاں صاحب کی نا اہلی پوری طرح ان پر آشکار ہو گئی۔ یادش بخیر، بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خان حیات تھے، اس وقت پاکستان نے بھارت سے بات چیت آگے بڑھانے کی پیشکس کی، بھارت نے جسے ٹھکرا دیا۔ نوابزادہ نصراللہ سے رپورٹر نے اس پر تبصرہ مانگا تو انھوں نے ایک شعر پڑھنے پر اکتفا کیا۔ فرمایا ؎
کیا ملا عرضِ مدعا کر کے
بات بھی کھوئی التجا کر کے

یہ بھی پڑھیں:   نواز شریف سزا۔۔ کیا واقعی احتساب ہونے جا رہا ہے؟ سید معظم معین

ن لیگ کا مسئلہ یہ ہے کہ آج تک انھوں نے پارٹی میں سوائے نواز شریف صاحب کے کوئی اور پراڈکٹ تیار اور متعارف ہی نہیں کروائی۔ چنانچہ اب اگر پارٹی سے یہ واحد اثاثہ بھی چھین لیا جاتا ہے تو باقی کچھ خاص نہیں بچتا۔ مسئلہ ویسے ہماری سب جماعتوں کا یہی ہے۔ مسلمانوں کا مسئلہ بھی یہی ہے۔شخصیت ہمارے ہاں اہم ہوتی ہے ، نظام اور اصول نہ ہم بننے دیتے ہیں اور نہ چلنے دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک آدمی کے جانے سے پوری جماعت اور محنت کی پوری عمارت ہی زمیں بوس ہو جاتی ہے۔ میاں صاحب ماشااللہ ملک کے مقبول لیڈر ہیں۔ سب سے زیادہ انھیں پاکستان میں حکومت کرنے کا موقع ملا۔ اب وہ خود کو نظریاتی بھی کہتے ہیں۔ ملک کو چھوڑئیے ، اپنی پارٹی ہی کو وہ اصولوں پر استوار کر دیتے تو یہ ان کا احسان ہوتا۔ یہ مشکل اور حوصلے والا کام مگر انھوں نے نہیں کیا۔ کیا پارٹی کی اصولوں پر تشکیل اور ترتیب سے بھی انھیں کچھ طاقتوں نے روک رکھا تھا؟ میاں صاحب ہی نہیں ، ایسا لیکن ہمارے ہاں کوئی بھی نہیں کرتا۔ لیڈر کی زندگی میں دوسری قیادت کی تیاری تو ایسی بے وفائی سمجھی جاتی ہے ، گویا یہ جمہوریت کا کوئی شرک ہو۔ لیڈر کا اشارہ ابرو اور اس کے من میں آتے خیالات ہی پارٹی کا منشور اور اصول قرار دے لیا جاتا ہے۔ ویسے کاغذی کارروائی کے لیے کچھ منشور لکھے بھی جاتے ہیں۔ کسی جلسے یا انٹرویو میں آپ کو ان لیڈروں سے ان کا منشور سننا چاہئے۔ تاکہ آپ دیکھ سکیں کہ انھیں اپنا منشور کتنا یاد ہے ، تاکہ آپ ان کا اپنے منشور سے اخلاص دیکھ سکیں۔

ہمارے ہاں پارٹیوں میں جمہوریت نام ہے، پارٹی لیڈر کو من مرضی کرنے دینے اور اس ڈکٹیٹر شپ پر لیڈر کو مسلسل داد دیئے جانے کا۔ رہے عوام تو عوام پر پارٹیاں اتنی شفقت ضرور فرماتی ہیں کہ جس طرح یہ بے وقوف بننا چاہیں ، پارٹیاں اسی طریقے سے انھیں بے وقوف بنا دیتی ہیں۔ کسی دوسرے طریقے سے نہیں بناتیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں ، جمہوریت ہمارے ہاں عوام کو اس کی مرضی کے مطابق بے وقوف بنانے کا نام رکھ لیا گیا ہے۔ حالانکہ اس قوم کی بنیادی ضروریات کچھ اور ہیں مگر چونکہ اسے پل اور سڑکیں پسند ہیں، چنانچہ حکمران وہی دیے جاتے ہیں۔ اور کچھ تو اتنا تکلف بھی نہیں کرتے۔ یعنی جمہوریت اور عوام خود ہمارے لیڈروں کے نزدیک اتنی سی اہمیت رکھتے ہیں۔ جمہوریت عوام کے مفاد اور مرضی کے لیے بروئے کار آنے کا نام ہوتا ہے عوام کو چھوڑیے، ابھی تو ہمارے ہاں پارٹی کے لیے لڑنے والے لیڈر بھی پیدا نہیں ہوئے۔ یعنی جو اپنی ہی پارٹی کے ساتھ مخلص ہو سکیں ۔ قوم کو نہ سہی اپنی پارٹی ہی کو جمہوریت دے سکیں۔ ابھی تو صرف اپنے مفاد کی جنگ ہے ، لیڈر وں کے لبادے میں جسے ابن الوقت لڑ رہے ہیں۔ مفاد کی جنگ کا اصول، کسی بھی طریقے سے محض مفاد کا حصول ہوتا ہے۔ سادہ سی بات ہے ، جو کروڑوں خرچ کر کے سیاست میں آئے گا، حج کرنے نہیں ، وہ پیسہ کمانے ہی آئے گا۔نظرئیے میں قربانی دی جاتی ہے اور مفا د میں قربانی لی جاتی ہے۔ چنانچہ ابھی قربانی دی نہیں ،لی جا رہی ہے۔ کسی جلسے میں ان کا نام لے دیا جائے ، کوئی ادنیٰ پارٹی ورکر ان سے ہاتھ ملا لے ، اپنے ساتھ تصویر کھنچوانے کا موقع دے دے۔ ہمارے عوام ابھی اسی پر بہت خوش ہیں۔ یہ اس پر بھی خوش ہیں کہ ذلت سے ہمکنار ہو کر ہی سہی اور رشوت دے کر ہی سہی ، اور اصلی کے نام پر جعلی ہی سہی ، انھیں زندگی کا کچھ نہ کچھ دھوون ملتا رہے۔ جس دن کوئی جمہوریت کی سچی جنگ لڑنے آیا۔ وہ اپنی جگہ پارٹی اور پارٹی کی جگہ ملک کے لیے سوچے گا۔ مجھے وہ لوگ اچھے لگتے ہیں جو اپنے لیڈروں پر جان وارتے ہیں۔ وہ کم از کم اتنے سچے تو ہیں کہ لیڈروں کا نام جمہوریت یا پاکستان نہیں رکھتے۔ کاش ان سے تھوڑی سی ہمت ان کے لیڈر بھی مستعار لے سکیں۔

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.