حوثی باغیوں کے میزائل عالم اسلام کے لیے خطرہ - حافظ یوسف سراج

ایک نادان ہی یہ آرزو کر سکتا ہے، کہ اس پر کوئی تنقید نہ کرے، اور کوئی اسے برا نہ کہے۔ امام ِ شافعی فرماتے ہیں، لوگوں کی نوکِ زبان سے تو خدا کی ذات بھی معاف اور محفوظ نہ رہ سکی، تو ایسے میں وہ کون ہے جو لوگوں کی زبان سے بچنے کی تمنا کر سکے، جب کہ تنقید اور تنقیص تو رہی ایک طرف کتنے ہی لوگ خدا کے وجود کے بھی منکر ہو اٹھے۔ خطا ہر شخص سے سرزد ہوگی، سوائے اس کے کہ جس کی عصمت کا خود خدا نے ذمہ لے لیا۔ اور اس امت میں ایسی ذات ایک ہی ہے۔ رسولِ گرامی منزلت کی ذات والا صفات۔ روضۂ رسول کے پہلو میں امامِ مدینہ امام مالک حدیث ِ رسول کا درس دیا کرتے، اور گاہ انگلی اٹھا کے روضہ رسولؐ کی طرف اشارہ کرکے یہ بھی فرمایا کرتے۔ ہر شخص کی بات لی بھی جا سکتی ہے اور مسترد بھی کی جا سکتی ہے، سوائے اس مبارک روضے میں لیٹی ذاتِ گرامی کی بات کے۔ تو حقیت یہ ہے کہ ہر خطا سے پاک امت میں ایک یہی ذات ِوالا صفات ہے ، دوسرا کوئی نہیں، نہ کوئی ذات اور نہ کوئی سلطنت اور حکومت ، خواہ وہ مسلمانوں کے مقدس مقامات کی حامل ، حکومتِ سعودیہ ہی کیوں نہ ہو، لیکن کیااختلاف اور تنقید کی کوئی حد نہیں ہونی چاہیے؟

دنیا ایسی ہی ہے ، اچھی اوربری بھی۔ کہیں سے عمدہ اور خوشگوار تو کہیں سے بدنما اور ناگواربھی۔ ہر چیز کی مگر ایک حد ہوتی ہے۔ محبت کی اور نفرت کی بھی۔ ہر چیز کا مگر ایک دائرہ ہوتا ہے۔ تنقید کا بھی اورمدح و ستائش کا بھی۔ تنقید مگر جب عمل میں ڈھل کر حد سے گزرنے لگے تو اس پر گرفت ہوتی ہے۔ خود کو لبرل اور حدود و قیود سے آزاد کہنے اور کہلانے والے ممالک میں بھی جرم پر سزا دی جاتی ہے۔اس کے بغیر دنیا کا نظام چل نہیں سکتا۔ پھر یہ کہ حدود تو کوئی منصف مزاج آدمی دشمن کے خلاف بھی پھلانگنا پسند نہیں کرتا۔ مخالف کے خلاف بھی ایک صاحبِ ظرف آدمی ظلم برداشت نہیں کرتا۔ سعودی عرب سے تو پھر ہمارا ایمان اور روح کا رشتہ ہے۔ سیاست اپنی جگہ مگرکیا مسلمان رسول اطہرؐ کے قدموں تلے آئی مدینہ کی سر زمین سے بھی نظر پھیر سکتے ہیں؟ وہ سرزمیں کہ زندگی بھر جہاں امامِ مالک ننگے پاؤں چلا کیے ، یہ سوچ کر کہ کہیں محبوب کے قدموں پر اس کے غلام کا جوتا نہ آجائے، جنت کا وہ ٹکڑا کہ جہاں رسولِ رحمت کے ساتھ ان کے پیارے آرامیدہ ہیں۔ کیا مسلمان ان مقامت پر بھی جبراورظلم برداشت کر لیں گے؟ اور مکہ پر بھی ؟ وہ مکہ کہ جس کا نام قرآن میں تلاوت ہوتا ہے، وہ مکہ کہ جسے روئے ارض پر خدا کا پہلا گھر ہونے کا اعزاز نصیب ہوا۔ کیا مسلمان حوثیوں کے اس اعلان سے صرفِ نظر کر لیں گے کہ وہ مکہ مقدس تک مار کرنے والا میزائل تیار کر چکے؟ اور مکہ اب ان کے میزائلوں کی زد میں ہے؟ یہ ایک بہت نازک اور حساس معاملہ ہے کیونکہ دراصل یہ ایمان سے منسلک معاملہ ہے۔ عین ممکن ہے حوثی باغی اپنے پسِ پشت طاقتوں کی آشیر باد سے ایسا کچھ تیار کر بھی چکے ہوں ، مگر کیا انھیں علم نہیں کہ اس میزائل کو مکہ تک پہنچنے سے پہلے کتنے سینوں سے گزرنا پڑے گا۔ اور یہ کہ ایسی کوی حماقت امتِ مسلمہ پر کیسی تباہی اور افراتفری لائے گی۔ شاید ایسا کہنے والے اس کے ردِ عمل سے واقف نہیں۔ ایسی کوئی ایک حرکت بہت کچھ بہا لے جا سکتی ہے۔ کیا مکہ پر حملہ اتنا ہی آسان ہے؟ کیا مکہ کی تاریخ سے ایسا کہنے والے ناواقف ہیں؟ حملہ کی نیت سے ابرہہ بیت اللہ پر چڑھ دوڑا، اہلِ مکہ تب کمزور تھے تو کیا ہاتھیوں والا یہ لشکر کامیاب رہا؟ ظاہر ہے ، انسان بے توفیق بھی ہو جائیں تو خدا کے لشکر بے شمارہیں۔ تب ننھے پرندوں کے جھنڈ چونچوں میں مٹی کے کنکرلے آئے تھے ، گرانڈیل ہاتھیوں کے لیے جو ایٹم ثابت ہوئے۔ انجام یہ ہوا کہ تکبر سے باچھیں پھیلاتا دشمن چند لمحوں کے بعد یوں پڑا تھا، قرآن کے الفاظ میں ، جیسے کھایا ہوا بھس۔

حوثیوں کے یہ عزائم خطے کے امن اور امتِ مسلمہ کے جذبات کو سخت مشتعل کر دینے والے ہیں۔ خود پاکستان کے لیے یہ تشویش کا باعث ہیں۔ پاکستان اب عملاً اس حفاظتی دستے کا حصہ ہے، مقاماتِ مقدس کے لیے جو بوقتِ ضرورت حصار کا کام دے گا۔ چنانچہ اس عمل میں اپنوں یا پرائیوں کی طرف سے جو جو بھی شامل ہے ، جیسا کہ سعودی عرب ایران کا کھل کے نام لیتا ہے ، اور سعودیہ پر برسائے گئے میزائلوں کی ساخت بطور ثبوت پیش کی گئی ہے۔ لیکن ظاہر ہے ، دوسری کئی عالمی طاقتیں بھی اس عمل میں پوری طرح شریک ہیں۔ تو پسِ پشت ایران ہو یا کوئی دوسری یا تیسری طاقت، خطے کا امن داؤ پر لگانے سے ہر کسی کو ضرور باز رہنا چاہئے ، سمجھنے کی بات یہ ہے کہ حملوں کا ہدف مکہ اور مدینہ قرار دینے سے یہ جنگ عام جنگ نہیں رہتی۔ برصغیر اور خصوصا اہل پاکستان کو حرمین سے ایک والہانہ تعلق ہے۔سرکاری سطح پر یہ بات پاکستان واضح کر چکا کہ مکہ اور مدینہ کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کے لیے خود پاکستان دیوار بنے گا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ کوئی عام ، یا اکیلے سعودیہ کا معاملہ نہیں ہو سکتا۔ اس لیے اس معاملے کو اسی طرح دیکھا جانا چاہئے۔ حالات وہ ہیں کہ مسلم امت ایسے کسی معاملے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اللہ کا شکر ہے کہ سعودی فضائیہ اور اینٹی میزائل سسٹم چوکس ہے۔ چنانچہ اب تک کے تمام میزائل حملے ناکار بنا دئیے گئے۔ تازہ ترین حملہ بدھ کے روز ہوا۔ اب تک حوثیوں کی طرف سے سعودیہ پر ایک سو سے زائد میزائل داغے گئے ہیں۔ اس پر عالم ِ اسلام کو توجہ دینی چاہئے۔ دراصل سمجھنے کی بات یہ ہے کہ مکہ اور مدینہ کی طرف داغا گیا، خدا نخواستہ کوئی ایک میزائل بھی کسی بڑے حادثے کو جنم دے سکتا ہے۔ ایران کو بھی اس کے انجام کو ملحوظ رکھنا چاہئے۔ ترکی ، پاکستان اور دیگر اہم مسلم ممالک کو بھی اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔ باقی نفرتیں اور محبتیں ، سیاستیں اور معیشتیں اپنی جگہ ،سعودیہ کو لیکن حرمین کے ذریعے مسلمانوں کی طرف سے جو توجہ اور خدا کی طرف سے جو انعام حاصل ہے ، وہ ایک زمینی حقیقت ہے ، چنانچہ کسی بھی ملک کے لیے حرمین کو عام شہر سمجھ کے ڈیل کرنا مہنگا پڑ سکتا ہے۔ اور یہ آگ اگر سلگتی ہے تو یہ پورے مسلمان ممالک تک دراز ہو سکتی ہے۔ سو اس کی اہمیت کے مطابق اس پر توجہ دی جانی چاہیے۔

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.