سوشل میڈیا، قواعد و ضوابط، اور بنیادی اخلاقیات - رضوان اللہ خان

ہم کسی بھی چیز کا بھرپور اجتماعی فائدہ اُسی وقت سمیٹتے ہیں جب ہم کچھ قواعد و ضوابط اور بنیادی اخلاقیات کے تحت اُس کا استعمال کریں۔ مثلاً ٹریفک کی روانی کے لیے ہم اس کے قوانین کا احترام کریں، یا حصولِ تعلیم کے دوران ناجائز ذرائع سے اجتناب کریں، یا کہیں ہجوم کی صورت میں قطار بنائیں وغیرہ۔ ورنہ ہم نہ صرف خود بے مزہ ہوتے ہیں بلکہ اکثر اس کا انجام فساد کی صورت میں بھگتے ہیں۔

یہ دور ابلاغ کا ہے، خاص طور پر سوشل میڈیا نے بہت سارے بے زبانوں کو زبان اور ظالموں کو لگام دے دی ہے۔ جہاں یہ ایک سود مند پیش رفت ہے، وہیں اکثر اوقات یہ باعثِ فساد بھی ہے۔ کسی بھی اور چیز کی طرح اگر ہم سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے کچھ قواعد و ضوابط اور بنیادی اخلاقیات کا خیال رکھیں تو اسے رحمت سے زحمت بن جانے سے بچا سکتے ہیں۔

ذیل میں چند گذارشات پیش کی جا رہی ہیں، جو پیشہ ورانہ تربیت اور میرے ذاتی مشاہدے کا نچوڑ ہیں:

1. مقصد:
ہمیں اس بات کا شعوری ادراک ہونا چاہیے کہ ہم سوشل میڈیا سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں، مثلاً کسی مسئلہ کا حل، مخاطب کے علم و شعور میں اضافہ، یا پھر اپنے دل کی بھڑاس نکالنا؟ اصولاً مقصد میں تبدیلی کے ساتھ ہی ہمارا طرزِ عمل بھی بدل جائے گا۔

2. جلد بازی سے گریز کریں:
سوشل میڈیا کی ایک بنیادی کمزوری یہ ہے کہ اس میں جسمانی اور صوتی تاثرات کا فقدان ہوتا ہے، لکھاری اپنے ماحول اور جذبات کے غلبہ میں لکھتا ہے، جبکہ ہر قاری اُسے اپنے ماحول اور جذبات کے غلبہ میں پڑھتا اور سمجھتا ہے۔ اس لیے کوئی بھی حساس اور جذباتی بات پڑھ کر فوری ردّ عمل نہ بھیجیں، بلکہ کچھ وقفہ سے اُسے دوبارہ پڑھیں، پھر اپنی رائے لکھیں۔ بعض اوقات آپ کو خود حیرت ہوگی کہ ایک ہی بات دو مختلف اوقات میں پڑھ کر آپ کا ردِّعمل مختلف بھی ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   تقلید کیوں ضروری ہے - سلمان اسلم

3. اپنی تحریر لکھتے ہی نہ بھیجیں:
ہم میں سے کوئی بھی عقلِ کُل نہیں، اکثر و بیشتر ہمیں اپنی رائے سے رجوع بھی کرنا پڑتا ہے۔ جب بھی کسی حساس موضوع پر رائے زنی کریں تو اُسے لکھ کر کچھ دیر کے لیے چھوڑ کر کوئی اور کام کریں، پھر واپس آکر پڑھیں، یوں ہم پر خود اپنی تحریر اور اپنی رائے کی کمزوریاں عیاں ہو جاتی ہیں اور ہمیں آپ اپنی تحریر اور اپنی رائے کو پختہ کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔

4. پہلے تولو پھر بولو:
بحث کے لغوی معنی ”تلاش کرنا“ ہیں، کسی بھی موضوع پر بحث کرنا اُسی وقت سودمند ہوتا ہے جب شُرکا کے دلائل کا انحصار اپنی انا اور تعصب کی جگہ اپنی تحقیق پر ہو۔ اِس لیے ہمیشہ کھلے دل اور کھلے ذہن کے ساتھ زیرِ بحث موضوع پر تحقیق کیجیے اور اُس کو بنیاد بنا کر اپنی رائے کا جامع اظہار کیجیے۔ اس طرح کے مباحث سے سوچ میں پختگی اور تعلقات میں بہتری آتی ہے۔

5. رسمُ الخط اور الفاظ کا چناؤ:
اکثر اوقات تساہل یا جلد بازی میں ہم رومن اردو یعنی اردو کو انگریزی ”کی بورڈ“ سے لکھتے ہیں۔ یہ حساس موضوعات کو مشکل تر، اور بعض اوقات خودکار سپیلنگ چیک کی وجہ سے مضحکہ خیز بنا دیتا ہے۔ اگر آپ کو انگریزی پر عبور نہیں تو یہ کوئی خامی نہیں، آپ اردو میں کھل کر اظہارِ رائے کریں مگر خدارا اردو کی بورڈ کا استعمال کریں تاکہ قاری وہی پڑھے جو آپ کہنا چاہتے تھے۔ اپنی آسانی سے زیادہ قاری تک اپنی بات پہنچانے کی فکر کریں۔ اردو ہماری اپنی زبان ہے اس لیے بہترین اور مناسب ترین الفاظ کا چناؤ کریں تاکہ قاری کا ذہن ہمارے دلائل کی پختگی پر مرکوز رہے نہ کہ ہماری تحریر کی ناپختگی پر۔ یاد رکھیے ہماری الفاظ ہماری شخصیت اور تربیت کا عکس ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ہمارا مسئلہ کیا ہے ؟ - محمدجمیل اختر

6. ایک، دو اور بس کردو:
عام مشاہدہ یہی ہے کہ ہم پہلی اور دوسری بار میں ہم اپنے نقطۂ نظر کا اظہار بدرجۂ اتم کردیتے ہیں، اس کے بعد ہم نہیں بلکہ ہماری انا ہمیں کٹ حجّتی میں پھنسا دیتی ہے، اس لیے دو بار اظہارِ رائے کے بعد اپنی رائے کی تکمیل کردیں یا اسی صورت میں کچھ کہیں جب ہمارے علم میں کوئی بالکل نئی بات آئی ہو۔

7. ذاتی حملوں سے گریز کریں:
حلم، حکمت، اور بردباری کے ساتھ اپنی توجہ زیر بحث موضوع پر قائم رکھیں اور (شاید) شاہ ولی اللہ دہلوی کے اس قول کو اپنا راہنما بنائیں ”میں لوگوں کو جیتنا چاہتا ہوں، انھیں شکست دینا نہیں۔“ بظاہر ان دونوں باتوں کا ایک ہی انجام ہونا چاہیے مگر اوّل صورت میں ہمیں عزت و احترام کرنے والے دوست ملتے ہیں اور دوسری صورت میں ہم اپنے دشمنوں میں اضافہ کر بیٹھتے ہیں۔

8. آخری بات:
مشکل مسائل کبھی بھی سوشل میڈیا پر حل نہیں کیے جا سکتے، اِسی طرح سوشل میڈیا پر دل کی بھڑاس نکالنا ایک منفی جذبہ ہے، بہتر ہے کہ ہم مندرجہ بالا دونوں باتوں سے اجتناب کریں۔ جب دیکھیں کہ ہمارا مخاطب کٹ حجّتی اور فساد پر آمادہ ہے تو خلوصِ دل کے ساتھ سب کے لیے دعا کرکے بات ختم کردیں۔