ربا اور سود میں فرق؟ ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ہمارے ایک نہایت ہی محترم بزرگ نے تفصیل سے واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ بینک کا سود ربا کی تعریف میں داخل نہیں۔ یہ راے بیسویں صدی کے نصفِ اول میں کئی لوگوں نے پیش کی اور اس کے مختلف پہلوؤں پر اتنی تفصیل سے بحث ہوچکی ہے کہ اس کے بعد دوبارہ یہ بحث شروع کرنے کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔ کئی دوستوں، اور خود صاحبِ کتاب نے، کئی بار اس پر تبصرے کےلیے کہا لیکن کتاب میں ایسی کوئی نئی بات نہیں تھی جو مجھے اس پر تبصرے پر مجبور کرتی۔ بہت اصرار کے بعد میں نے اس پر مختصر تبصرہ یہ کیا تھا:
"بنیادی مسئلہ اپروچ اور منہج کا ہے۔ قرآن اور حدیث کو ایک دوسرے سے الگ نہ کیا جائے، احادیث ربا کو آیت ربا کی تفسیر مانا جائے اورچودہ صدیوں کی قانونی روایت کی تغلیط نہ کی جائے، تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ بینک انٹرسٹ کو ربا سے خارج سمجھا جائے۔"

خیال تھا کہ صاحبِ کتاب چونکہ صاحبِ علم بھی ہیں، تو یہ مختصر تبصرہ ان کےلیے کافی شافی ہوگا، لیکن انھوں نے مضامین کا جو نیا سلسلہ لکھا، اس سے معلوم ہوا کہ انھوں نے یہ تبصرہ درخور اعتنا سمجھا ہی نہیں۔ اس کے بعد بات کیا آگے بڑھائی جائے؟ تاہم صرف اس مقصد سے کہ شاید میری بات لائقِ اعتنا نہ سمجھنے کی وجہ یہ ہو کہ میری بات ان کےلیے واضح نہ ہوئی، یہ چند سطور لکھ رہا ہوں۔

ہمارے بزرگ نے ربا کی تعریف متعین کرنے کےلیے جو طریقہ اختیار کیا ہے، ہمارے نزدیک وہ طریقہ ہی اصولاً غلط ہے اور اس کے بعد آگے جو عمارت انھوں نے کھڑی کی ہے، اس کی حیثیت بناء الفاسد علی الفاسد کی ہے۔ اصولِ فقہ میں جو طریقہ بتایا گیا ہے اور جس پر عمل کرتے ہوئے فقہاے کرام نے نہ صرف ربا بلکہ ہر قانونی اصطلاح کی تعریف متعین کی ہے، یہ ہے کہ قرآن میں وارد ہونے والی اصطلاحات کو مجَمل (unelaborated) مانا جائے اور حدیث کو اس اجمال کی شرح اور تفسیر مانا جائے۔ چنانچہ، مثال کے طور پر، فقہاے کرام "الصلوٰۃ" یا "الزکوٰۃ" کی تعریف اسی طرح متعین کرتے ہیں، اور یہ نہیں دیکھتے کہ عرب جاہلیت میں کس چیز کو صلوٰۃ یا زکوٰۃ کہتے تھے، نہ ہی انھوں نے صلوٰۃ القرآن اور صلوٰۃ السنۃ یا زکوٰۃ القرآن اور زکوٰۃ السنۃ میں کوئی فرق کیا۔ بعینہ اسی طرح انھوں نے "الربا" کو مجَمل مانا اور قرار دیا کہ مجمَل کی توضیح لغت یا تاریخ سے نہیں بلکہ مجمِل، یعنی شارع، سے ہی پوچھی جائے گی۔ چنانچہ فقہاے کرام کےلیے یہ سوال ہی لایعنی ہے کہ اصل ربا قرآن کا ہے اور حدیث میں مذکور ربا تو صرف اس کی راہ روکنے کے لیے ہے۔

فقہاے کرام کے نزدیک ربا ایک ہے جسے قرآن و سنت دونوں نے حرام کیا ہوا ہے، اور ان کے نزدیک ربا النسیئہ اور ربا الفضل دونوں کی حرمت ایک ہی درجے اور نوعیت کی ہے۔

احادیثِ ربا کو آیاتِ ربا کے اجمال کی شرح اور تفسیر مانا جائے تو ربا کی تعریف بالکل واضح اور قطعی طور پر سامنے آجاتی ہے اور اس میں کوئی ابہام باقی ہی نہیں رہتا۔ چنانچہ فقہاے کرام کے آفتاب (شمس الائمہ) امام سرخسی نے ربا کی تعریف ان الفاظ میں ذکر کی ہے:
الربا ھو الفضل الخالی عن العوض المشروط فی البیع
(ربا وہ اضافہ ہے جس کے مقابل میں عوض نہ ہو اور جسے مال کے تبادلے میں مشروط کیا گیا ہو۔)
اس سے زیادہ مختصر لیکن جامع تعریف شاید ہی ممکن ہو۔

ہاں، اگر بیع کو sale مانا جائے اور sale کو انگریزی قانون کا sale مانا جائے تو پھر یہ تعریف ناقص معلوم ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اگر بیع کی وہی تعریف مانی جائے جو فقہاے کرام کے نزدیک ہے (یعنی مبادلۃ المال بالمال ) تو پھر اس تعریف سے بہتر تعریف ممکن ہی نہیں۔

امام سرخسی سے تقریباً سو سال بعد امام مرغینانی (صاحبِ ہدایہ) نے ربا کی یہ تعریف ان الفاظ میں ذکر کی ہے :
"الربا هو الفضل المستحق لأحد المتعاقدين في المعاوضة الخالي عن عوض شرط فيه"
(ربا وہ اضافہ ہے جس کا استحقاق عقدِ معاوضہ میں ایک فریق کےلیے مشروط کیا جائے اور اس کے مقابل میں عوض نہ ہو۔"

دیکھیے کہ کیا صاحبِ ہدایہ کی یہ تعریف امام سرخسی کی تعریف سے متناقض ہے یا اسی کی توضیح ہے؟
صاحبِ ہدایہ سے کوئی چارسو سال بعد امام تمرتاشی نے، جنھوں نے تنویر الابصار کا متن لکھا اور پھر اس پر کوئی سو سال بعد حصکفی نے الدرالمختار کے عنوان سے شرح لکھی اور پھر اس شرح پر مزید کوئی ڈیڑھ سو سال بعد علامہ شامی نے رد المحتار کے عنوان سے حاشیہ لکھا، ربا کی تعریف یہ لکھی:
فضل خال عن عوض بمعیار شرعی مشروط لاحد المتعاقدین فی المعاوضۃ
(ایسا اضافہ جس کے مقابل میں شرعی معیار پر کوئی عوض نہ ہو اور یہ اضافہ عقدِ معاوضہ میں ایک فریق کے لیے مشروط ہو۔)

اب پہلے تو صدیوں پر محیط اس قانونی روایت میں دیکھیے کہ کیا ربا کی تعریف میں کوئی تبدیلی، کوئی فرق، کوئی تناقض پایا جاتا ہے؟ اس کے بعد اس تعریف کو بینک انٹرسٹ پر منطبق کرکے دیکھیے کہ کیا وہ اس تعریف میں داخل ہے یا نہیں؟ اگر آپ بینک انٹرسٹ کو ربا کی تعریف سے خارج کرنا چاہتے ہیں تو سرمایہ دارانہ نظام کے گھسے پٹے دلائل دہرانے کے بجاے اسلامی قانون کے اصولوں کی روشنی میں درج ذیل میں سے کوئی ایک دعوی ثابت کیجیے کہ:
1۔ بینک انٹرسٹ جس معاملے میں لگایا جاتا ہے، وہ معاملہ اسلامی قانون کی رو سے "بیع" یا "عقد معاوضہ" ، یعنی مال کا مال کے ساتھ تبادلہ، نہیں ہے؛
2۔ وہ معاملہ اسلامی قانون کی رو سے بیع تو ہے لیکن بینک انٹرسٹ کوئی "اضافہ" نہیں ہے؛
3۔ وہ معاملہ بیع ہے اور بینک انٹرسٹ اضافہ بھی ہے لیکن یہ اضافہ اس معاملے میں "مشروط "نہیں ہے؛
4۔ وہ معاملہ بیع بھی ہے ، بینک انٹرسٹ اضافہ بھی ہے، یہ اضافہ مشروط بھی ہے لیکن اس کے مقابلے میں ایسا عوض ہے جو شرعاً صحیح ہے۔

ایک بار پھر یاد دلاؤں کہ ان میں کسی دعوے کے ثبوت کےلیے سرمایہ دارانہ نظام سے دلائل اکٹھے کرنے کے بجاے اسلامی قانون کے اصول سامنے لائیے۔

بات یہاں تک آگئی ہے تو یہ بھی نوٹ کرلیں کہ مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ بینک انٹرسٹ کا غریب کو کتنا فائدہ ہے یا امیر کو کتنا نقصان کیونکہ اس طرح کے سوالات کا تعلق قانونی حکم سے نہیں بلکہ قانونی حکم کی حکمت اور فوائد سے ہوتا ہے اور قانوناً میں حکم ماننے کا پابند ہوں خواہ مجھے اس میں کوئی فائدہ نظر نہ آئے، بلکہ خواہ مجھے اس میں نقصان ہی نظر آئے؛ نہ صرف یہ بلکہ اس کے بعد بھی میں عقیدہ یہی رکھوں گا کہ حکمت اسی حکم میں ہے کیونکہ شارع حکیم ہے اور اس کا کوئی حکم بغیر حکمت کے نہیں ہوتا خواہ وہ حکمت میری سمجھ میں آئے یا نہ آئے کیونکہ میرا فہم ناقص اور میری عقل نارسا ہے۔

آخری بات یہ ہے کہ فقہاے کرام کی تعریف کی رو سے، جو اس اصول پر مبنی ہے کہ احادیثِ ربا نے آیاتِ ربا میں مجمَلاً مذکور الربا کی شرح اور تفسیر متعین کر دی ہے، ربا اور سود میں فرق یقیناً ہے؛ لیکن وہ فرق یہ نہیں کہ سود ربا میں داخل اور شامل ہی نہیں، بلکہ یہ ہے کہ سود ربا کی ایک – بڑی گھناؤنی – قسم ہے لیکن ربا کی کئی اور صورتیں بھی ہیں جنھیں خواہ آج کی اصطلاح میں "انٹرسٹ" یا "سود" نہیں کہا جاسکے گا لیکن وہ ربا ہی ہیں۔ بہ الفاظِ دیگر ربا سود /انٹرسٹ تک محدود نہیں ، بلکہ ربا عام ہے اور سود /انٹرسٹ اس کی ایک خاص صورت ہے۔
ھذا ما عندی ، والعلم عند اللہ ۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں