چید کے عاند - محمد فیصل شہزاد

ابھی چند ہی روز ہوئے، ایک دیرینہ دوست سے سرِ راہ سامنا ہو گیا۔
’’ارے بھئی کہاں ہو… تم تو بالکل چید کے عاند ہو گئے ہو گویا…‘‘
انہوں نے ہمیں دیکھتے ہوئے نعرہ بلند کیا اور ہم چکرا کر رہ گئے کہ ہم نہ جانے کیا ہو گئے ہیں جس کا علم انہیں تو ہو گیا مگر خود ہمیں پتا نہ چل سکا، ابھی ہم اس بابت کچھ پوچھنا ہی چاہتے تھے کہ ہم نے انہیں گڑبڑاتے دیکھا… ایک چپت اپنی ’پیچھے گدی تک کھلی پیشانی کے فرنٹ پر رسید فرمائی اور بولے:
’’لاحول ولا…یعنی ہمارا مطلب چید کے عاند…افوہ…لاحول والاقوۃ…‘‘
ہم ان کی زبان کی پھسلن سے بخوبی واقف تھے اور بات سمجھ بھی گئے تھے، اس لیے ان کی مشکل آسان کر دی:
’’بس بس…ہم سمجھ گئے، تم عید کا چاند کہنا چاہ رہے ہو…!‘‘
’’ہاں ہاں…میرا مطلب… یہ زبان بھی ناں…‘‘
انہوں نے دریاے شرمندگی میں باقاعدہ غوطہ زنی کرتے ہوئے وضاحت پیش کرنے کی کوشش کی تھی۔

زبان کی پھسلن کے ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں… اکثر لوگوں سے کبھی کبھار… تو کچھ لوگ اس کے عادی بھی ہوتے ہیں اور ان کی زبان بار بار پھسل کر نت نئے شگوفے کھلاتی رہتی ہے…

ہمارے مذکورہ دوست بھی جو ہمارے ہم جماعت، رفیق کار اور نجانے کیا کیا رہے ہیں، آخر الذکر حضرات میں شمار ہوتے ہیں… ان سے ملاقات کے بعد ہمیں اپنی ایک خالہ بھی یاد آ گئیں… بلکہ ’اپنی‘ کیوں… وہ تو ’’جگت‘‘خالہ تھیں!

یہ جگت خالہ صاحبہ ہمارے محلے میں، ہماری گلی سے دو تین گلیاں چھوڑ کر رہتی تھیں… لاولد تھیں، گھر میں بس یہ ہوتیں اور ان کے شوہر نامدار یعنی ’’جگت خالو‘‘… سرکاری ملازم تھے لیکن آنکھیں خراب ہو جانے کی وجہ سے قبل از وقت ریٹائر ہو گئے تھے اور زیادہ تر گھر ہی میں رہتے تھے…پنشن ملتی تھی، ممکن ہے کچھ اور بھی ذریعہ آمدن ہو کیوں کہ دونوں میاں بیوی بڑے غریب پرور اور دیالو تھے۔

جگت خالہ باتیں کرنے ہی کی نہیں، سننے کی بھی بہت شوقین تھیں… دونوں میاں بیوی بچوں سے بہت محبت کرتے تھے اور محلے کے اکثر بچے، جن میں ہم بھی شامل تھے، ان کے گھر اکثر بھرے رہتے۔

ایک روز ایسی ہی محفل میں، محلے میں نئے نئے آ بسنے والے ایک گھرانے کا ذکر نکل آیا… اس گھرانے میں ایک بزرگ بھی تھے جن کی داڑھی خوب سرخ تھی… صاف ظاہر تھا کہ وہ داڑھی میں مہندی لگاتے ہیں… خالہ سمجھ نہیں پا رہی تھیں کہ جو بات ہو رہی ہے وہ کس بزرگ کے بارے میں ہو رہی ہے؟
انہیں بتایا جا رہا تھا:
’’ارے خالہ! وہ جو بیری والی نانی ہیں ناں… ان کی گلی میں آخری کونے سے پہلے والا مکان ہے، جو بہت دن سے خالی پڑا تھا، اس میں جو لوگ آئے ہیں… اور وہ مولانا صاحب جو اَب اکثر مسجد میں اذان بھی دیتے ہیں۔‘‘
اس تفصیلی نشان دہی پر خالہ سمجھ گئیں، بڑے جوش سے بولیں: ’’اچھا اچھا…لو میں سمجھ گئی… ارے وہی ناں جو اپنی مہندی میں داڑھی لگاتے ہیں…!‘‘ 😀

ایک روز کسی خاتون کا تذکرہ نکلا۔ خالہ کو وہ بھی یاد نہیں آ رہی تھیں… ان کے بارے میں بھی سمجھایا جا رہا تھا کہ خالہ بول پڑیں:
’’اچھا… ارے وہ… وہی ناں جن کے ہونٹے ہونٹے موٹ ہیں…!‘‘(جن کے ہونٹ موٹے موٹے ہیں)

ہمیں یاد ہے کہ خالہ کے گھر سلائی مشین تھی مگر وہ سینا پرونا زیادہ تر ہاتھ ہی سے کیا کرتی تھیں…ایک روز سوئی دھاگے سے کچھ سی رہی تھیں… اچانک تکلیف سے چیخ اٹھیں۔ جگت خالو قریب ہی بیٹھے تھے، گھبرا کر بولے:
’’ارے کیا ہوا نیک بخت؟‘‘
خالہ کراہنے کے انداز میں بولیں: ’’اے ہوتا کیا… سوئی میں انگلی چبھ گئی ہے…‘‘
خالو نے ترنت کہا: ’’پھر تو چیخنا سوئی کو چاہیے تھا… تم کیوں چیخیں…؟!‘‘ 😂

ایک دفعہ ایک بچی اپنے چھوٹے بھائی کو بھی گود میں اٹھائے لے آئی۔ بھائی نے صرف قمیص پہن رکھی تھی۔ خالہ نے ناگواری سے اسے دیکھا اور کہا:
’’اری نگوڑی… چڈے کو ننگا ہی لے آئی، منا تو پہنا لیا ہوتا…‘‘ 🤣

ایک دن کوئی ضرورت مند خاتون خالہ کے پاس آئیں… خالہ نے انہیں دینے کے لیے خالو سے پیسے مانگے۔ خالو کسی کام میں مصروف تھے… کہا: ’’میرے بٹوے سے لے لو۔‘‘
خالہ نے پیسے نکال کر خاتون کو دیے… وہ چلی گئیں تو پکار کر خالو سے کہا:
’’سنیے!… میں نے (اتنے) پیسے لیے ہیں اور کوٹ آپ کے بٹوے میں رکھ دیا ہے۔‘‘

مزے کی بات یہ تھی کہ خالہ اپنی ایسی ’’پھسلنوں ‘‘ پر سب سے زیادہ خود ہنستی تھیں… اور بعد میں مزے لے لے کر دوسروں کو سناتی تھیں اور اس دوران میں بھی کتنی ہی بار مزید پھسل جاتی تھیں اور …پھر اس پر بھی قہقہے پر قہقہے…
یقینا آپ نے بھی ایسے لوگ دیکھے ہوں گے…
اور
ع آپ نے دیکھے، نہ دیکھے ہوں مگر ہوتے تو ہیں

ٹیگز

Comments

محمد فیصل شہزاد

محمد فیصل شہزاد

محمد فیصل شہزاد کو شوق 10 سال قبل کوچہ صحافت میں لے گیا۔ روزنامہ اسلام اور روزنامہ ایکسپریس میں کالم لکھتے رہے، طبی میگزین جہان صحت، ہفت روزہ خواتین کا اسلام، ہفت روزہ بچوں کا اسلام اور پیام حق کے مدیر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں