وصیت کے متعلق چند بنیادی مسائل - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اسلامی قانون کے اصولوں کی روشنی میں انسان کی ملکیت اس کے مال پر اس کی زندگی تک رہتی ہے۔ موت کے ساتھ اس کی ملکیت ختم ہوجاتی ہے۔ اسی وجہ سے اس کے ورثا کا حق اس کی موت کے وقت سے ہی پیدا ہوتا ہے ۔ چنانچہ اگر باپ بیٹا ایک ہی حادثے میں فوت ہوجاتے ہیں تو دونوں میں سے کوئی بھی دوسرے کا وارث نہیں مانا جاتا۔ چنانچہ جو مال زید کی ملکیت میں ہے وہ اس کی موت کے بعد بغیر مالک کے رہ جاتا ہے۔ اس مال میں جب اللہ نے بعض دوسرے لوگوں کو ملکیت دے دی تو وہ وارث کہلائے اور قانون کی زبان میں ان کو ملکیت کی منتقلی سابقہ مالک کی مرضی سے نہیں بلکہ قانون کے اثر سے (by operation of law) منتقل ہوئی ہے ۔

انسان اپنی زندگی میں اپنا مال اپنی مرضی سے کسی کو ہبہ (gift) کرسکتا ہے کیونکہ زندگی میں یہ مال اس کی ملکیت میں ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ وہ وصیت کے ذریعے اپنا مال کسی کو اپنی موت کے بعد کیسے منتقل کرسکتا ہےکیونکہ اس کی موت کے بعد تو یہ مال اس کی ملکیت میں ہی نہیں رہتا ؟اس کا جواب یہ ہے کہ شریعت نے صراحتاً وصیت کا حق دیا ہوا ہے اور یہ حق شریعت کے عام قواعد سے ، جو اوپر واضح کیے گئے، استثنا (exception) کی حیثیت رکھتا ہے۔ (یہ مفہوم ہے فقہاے کرام کی اس بات کا کہ وصیت کا جواز "خلافِ قیاس "ہے۔)

اب جب یہ معلوم ہوا کہ وصیت کا جواز بطور استثنا ثابت ہے ، نہ کہ بطور قاعدہ، تو اس کا ایک لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وصیت کے جواز کو صرف اسی حد تک مانا جائے گا جس حد تک نصوص میں تصریح کی گئی ہے کیونکہ استثنا میں اگر قیاس کے ذریعے وسعت پیدا کی جائے تو وہ استثنا نہیں رہتا بلکہ قاعدہ بن جاتا ہے۔ (فقہاے کرام قانون کی زبان میں اسے یوں تعبیر کرتے ہیں : ما جاء علی خلاف القیاس، فغیرہ علیہ لا یقاس۔) پس وصیت صرف اسی حد تک جائز ہوگی جس حد تک نصوص نے اجازت دی ہے ۔ اسی بنا پر فقہاے کرام کا موقف یہ ہے کہ ترکے کے ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت نہیں کی جاسکتی کیونکہ یہ وہ انتہائی حد ہے جس کی اجازت رسول اللہ ﷺ نے دی تھی۔

جہاں تک وارث کے حق میں وصیت کا تعلق ہے تو چونکہ اس وصیت سے ترکے میں ایک وارث کا حصہ بڑھتا اور دوسرے ورثا کا حصہ کم ہوتا ہے، اس لیے ایسی وصیت کا نتیجہ اللہ تعالیٰ کے مقررہ حصوں میں کمی بیشی کے نتیجے میں نکلتا ہے۔ اسی بنیاد پر فقہاے کرام اسے ناجائز مانتے ہیں۔ تاہم اگر دوسرے ورثا ، جن کا حصہ اس وصیت سے متاثر ہو رہا ہے، آزادانہ اختیار سے اس کی اجازت دیں تو پھر فقہاے کرام اسے جائز مانتے ہیں کیونکہ جن کا حق متاثر ہورہا تھا انھی نے اپنے حق سے تنازل (relinquish) کر لیا۔

ایک اور متعلقہ مسئلہ یہ ہے کہ اگر زید نے بکر کے حق میں وصیت کی اور وصیت کے وقت بکر اس کا وارث بننے کا مستحق نہیں تھا لیکن زید کی موت کے وقت وہ اس کا وارث بن چکا تھا، تو یہ وصیت نافذ نہیں کی جاسکے گی جب تک دیگر تمام ورثا اس کی اجازت نہ دیں۔ اسی طرح اگر وصیت کے وقت وہ اس کا وارث تھا لیکن موت کے وقت وہ اس کا وارث نہیں تھا (جیسے زید نے پوتے کے حق میں وصیت کی لیکن موت سے قبل زید کے ہاں بیٹا پیدا ہوا تھا جس کے بعد اس کا پوتا اس کا وارث نہیں رہا)، تو یہ وصیت نافذ کی جائے گی۔ گویا اصل اعتبار موت کے وقت اس کی حیثیت کا ہے کیونکہ وصیت کے ذریعے ملکیت کی منتقلی کا سوال ہی موت کے بعد پیدا ہوتا ہے اور ورثا کا حق بھی موت کے بعد ہی پیدا ہوتا ہے ۔

اگر زید اپنے کسی رشتے دار سے بہت خوش ہے اور اس کی کسی خدمت کے عوض میں اسے اپنے مال میں سے کچھ دینا چاہتا ہے تو اس کا سیدھا راستہ یہ ہے کہ وہ اسے اپنی زندگی میں ہی کچھ مال ، جتنا وہ چاہے، ہبہ کردے اور دیگر شرائط پوری کرکے ملکیت بھی منتقل کردے۔ یہ کیا ، کہ خوش تو میں آپ سے بہت ہوں لیکن میرے مال میں کچھ حصہ آپ کو میری موت کے بعد ہی ملے! موت کے بعد تو آپ کی ملکیت ہی اس مال پر ختم ہوگئی ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ مرض الموت (یعنی جس مرض میں آدمی فوت ہوجائے) میں ہبہ کی حیثیت وصیت ہی کی ہے اور اس پر وصیت کے احکام کا ہی اطلاق ہوتا ہے ۔

چنانچہ کسی کی خدمت کا عوض دینے کا بہترین وقت وہ ہے جب آدمی صحت مند ہو اور اپنے مال پر اس کی ملکیت اور تصرف کے حقوق پوری طرح میسر ہوں۔ ایک حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ یوں کیا گیا ہے:
ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ یا رسول اللہ! کس طرح کے صدقہ میں سب سے زیادہ ثواب ہے؟ آپ نے فرمایا:اس صدقہ میں جسے تم صحت کے ساتھ بخل کے باوجود کرو۔ تمہیں ایک طرف تو فقیری کا ڈر ہو اور دوسری طرف مالدار بننے کی تمنا اور امید ہو اور ڈھیل نہ ہونی چاہیے کہ جب جان حلق تک آجائے تو اس وقت تو کہنے لگے کہ فلاں کے لیے اتنا اور فلاں کے لیے اتنا ، حالانکہ وہ تو اب فلاں کا ہوچکا۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.