خبر دینے والوں کی خبر - رمضان رفیق

کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ہمارے ہاں خبر بے توقیر کیوں ہے؟ خبر کی صورت اخبار کے کاغذ تک پہنچتے پہنچتے بگڑ جاتی ہے، حقائق کے مسخ شدہ لاشے کون دفناتا ہے اس سے خبر دینے والے بے خبر؟ پاکستان میں مقامی سطح پر خبر بٹنے کا نظام اتنی بڑی خرابی کا شکار ہے کہ اس نظام سے درست خبر کی آمد ہی ایک کار فضول ہے۔ چلیے میرے شہر کو چھوڑیے کہ مجھے وہاں جانا پڑتا ہے، آپ کے اپنے شہر کی مثال لیتے ہیں۔ اس شہر میں کتنے اخبارات، ٹی وی، کے نمائندے موجود ہیں؟ آپ کے شہر میں کوئی پریس کلب بھی ہوگا، جہاں کل وقتی یا جز وقتی کچھ لوگ پریس کے معاملات کو بھی دیکھ رہے ہوں گے۔

کبھی آپ کی ایسے نمائندوں سے ملاقات ہوئی ہو، یہ گلیوں، محلوں میں خبر کے پیچھے جاتے ہیں، اپنی جیب سے خرچ کر کے خبر تلاش کرتے ہیں، ان کو اس کاوش کے بدلے کیا ملتا ہے؟ شاید آپ حیران ہوں کہ چھوٹے شہروں میں ننانوے فیصد لوگ اپنے خرچ پر خبر تلاش کرتے ہیں، یہ جس اخبار کے نمائندے ہیں، اخبار ان کی اس خدمت کے عوض ان کو کوئی معاوضہ نہیں دیتا، بلکہ کئی کیسز میں اخبار ان سے اپنا نمائندہ بننے کی فیس تک طلب کرتا ہے، یعنی آپ اپنی جیب سے روپے خرچ کرکے ان کے نمائندے بنتے ہیں۔

کچھ سال پہلے ملک ڈنمارک میں ہمارے ایک دوست نے مجھے مشورہ دیا کہ آپ کسی اخبار کی نمائندگی کیوں نہیں کرتے؟ میں نے کہا جی ہمیں اپنا نمائندہ کوئی کیونکر رکھے گا؟ انہوں نے کچھ تقویت دی تو میں نے ادھر ادھر رابطہ کیا۔ ملک کے صف اول کے چند اخبارات میں سے ایک کے علاقائی نمائندے سے بات ہوئی۔ اس نے کہا ہم ایسا کرتے ہیں کہ آپ کے ملک سے ایک نیا ایڈیشن ہی شائع کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ مجھے بہت خوشی ہوئی کہ کہاں بے چارہ ایک نمائندہ سا اور کہاں کسی ملک میں ایڈیشن کا اجرا کرنے والا؟ میں نے ان سے پوچھا اس کے لیے کیا کرنا ہوگا؟ انہوں نے بتایا کہ بس آپ کو چند کاروباری ڈھونڈنا ہوں گے جو آپ کو ہر مہینے اشتہار دے سکیں۔ اشتہارات کی مد میں جو اوسط انہوں نے بتائی مجھے لگا کہ یہ مجھ سے اکٹھی نہ ہو سکے گی۔ اس لیے دیسی سٹائل میں جی ضرور رابطہ کروں گا وغیرہ کہہ کر اجازت چاہی۔

بالکل ایسے ہی پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی نمائندے اشتہارات اکٹھے کرتے ہیں۔ ان میں کچھ حصہ نمائندوں کا ہوتا ہے اور بڑا حصہ ادارے کی جیب میں جاتا ہے۔ اب ایسے نمائندے اشتہار کیسے اکٹھے کرتے ہیں؟ اس کے لیے ایک الگ باب درکار ہے، لیکن جو بات سمجھنے والی ہے کہ کوئی ادارہ بھی ان نمائندوں کو ان کی خبری کاوشوں کے عوض اعزازیہ ادا نہیں کرتا۔

جب لوگوں کو اپنی محنت کا کچھ معاوضہ ملتا ہی نہ ہو تو اس وقت کی قیمت کس طرح پوری کرتے ہوں گے؟ شاید کچھ لوگ خود غرض ہو جاتے ہیں، کچھ لوگوں کے لیے ظاہری مرتبہ، ٹھاٹھ باٹھ ہی ان کا معاوضہ ہوتا ہے۔ اس لیے اردگرد نظر دوڑائیے آپ کو درجنوں کاروباری لوگ اخبارات کی نمائندوں اور ایجنسیوں کے مالک کی صورت نظر آتے ہیں، یعنی ایسے لوگ جن کا صحافت سے یا لکھنے سے دور تک کا بھی واسطہ نہیں وہ مقامی صحافی تنظیموں کے روح رواں بن جاتے ہیں۔ میں نے ایسے ہی ایک کاروباری صحافی دوست سے پوچھا کہ یار کچھ لکھتے ہو یا یہ شوق ہے جو تم پریس کلب میں سرگرم ہوئے ہو؟ کہنے لگا یہ چھوڑو کہ میں لکھتا ہوں یا نہیں، یہ بتاؤ کہ لکھوانا کیا ہے؟

ہمارے ملک میں میڈیا کی کریڈیبلٹی پر سوال اٹھتے رہتے ہیں، جو پڑھے لکھے صحافی ہیں اگر ان کے روبرو ایسی گستاخی کر دیں کہ پاکستان میں لوگ قلم فروشی کرتے ہیں تو وہ برا منا جاتے ہیں اور اپنی عظمت و عفت کی ایسی داستانیں سناتے ہیں کہ آپ کو شرمندگی کا احساس ہونے لگتا ہے کہ آپ نے ناحق کوئی تہمت لگا چھوڑی ہے۔

ہمارا مسئلہ یہ ہے ہم ہر جنس کو اپنی کسوٹی پر ہی پرکھنا چاہتے ہیں۔ مجھے ایسا لگتا ہے پاکستان کا اکثریتی میڈیا ایک استحصالی نظام کا حصہ ہے، بے شک اس میں اچھے لوگ بھی موجود ہیں جنہیں معاشرے کا درد تڑپاتا ہے، لیکن زیادہ تر لوگ اپنے ذاتی مفادات کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں۔

ایک عام رپورٹر یا نمائندہ جو کسی بڑے شہر سے سو کلومیٹر پرے ہے، اس کی دیہاڑی کسی کو شہرت بیچ کر اس سے جیب سے کچھ پیسے نکلوانا ہے یا پھر اپنی ذات اور منصب کو اس مقام تک لانا ہے کہ لوگ کی ذات کو سراہیں اور وہ شہر کی ایک ممتاز ہستی ٹھہرے۔ اصل صحافی جن کو ادارے کچھ پیسے دیتے ہیں ان کی اکثریت صرف بڑے شہروں تک ہی محدود ہے۔

اب بڑے شہر کے بڑے صحافیوں میں کتنوں کی زندگی آسودہ ہے یہ ایک الگ سے سوال ہے۔ پچھلے سال ایک بڑے ٹی وی سٹیشن، اور اخبار کے دفتر جانے کا اتفاق ہوا۔ میرے میزبان مجھے اس کی کنٹین پر لے گئے، جس کی حالت قابل رحم حد تک بری تھی۔ اس کنٹین کی حالت سے اس اخبار کے سیٹھ کے اخلاقی دیوالیہ پن کا اندازہ کیا جا سکتا تھا۔ جسے یہ احساس نہ ہو کہ میرے دفتر میں کام کرنے والے لوگ کیسی جگہ پر بیٹھ کر کھانا کھانے پر مجبور ہیں وہ عام آدمی کے درد کو کیونکر روئے گا؟

ہمارے ہاں میڈیا ہاوسز بڑے بڑے کاروباریوں نے ایک بائی پراڈکٹ کی طرح بنانے کا آغاز کر رکھا ہے۔ دو چار لوگوں کو زیادہ پیسے دو، باقیوں کو کچھ خواب بیچو اور اپنا کام نکالو اور پھر اس انڈسٹری سے وابستہ لوگ آہستہ آہستہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے بکنے کا آغاز کرتے ہیں۔ جس نمائندے کی تنخواہ ہی کچھ نہیں، وہ ہر خبر سے پہلے اس کی قیمت کیونکر نہ وصولے گا؟ اسی وجہ سے یہ کاروبار استحصالی کاروبار بنتا جا رہا ہے۔

ایسے ادارے جو اپنے نمائندے کا استحصال کر رہے ہوں، اور ان کا نمائندہ لوگوں کا استحصال کر رہا ہو، ان کی اخلاقی تربیت چہ معنی دارد۔

اور ہاں مجھے یاد آیا کہ میری معلومات پرانی بھی ہو سکتی ہیں، پاکستان سے نکلے مجھے چھ سات سال بیت گئے۔ اب تو میڈیا کا سہانا دور چل رہا ہے ہو سکتا ہے کہ چھوٹے شہروں کے نمائندے کچھ وظیفہ پانے لگے ہوں؟ ہو سکتا ہے لکھنے والوں کے بھی کچھ دن پھرے ہوں؟

اگر ایسا ہو چکا ہے تو مجھے بھی بتائیے، وگرنہ میں یقین سے کہتا ہوں، خبریں بنتی ہی نہیں، بنوائی بھی جاتی ہیں۔

Comments

رمضان رفیق

رمضان رفیق

رمضان رفیق دنیا گھومنے کے خواہشمند ہیں اور اسی آرزو کی تکمیل کے لیے آج کل کوپن ہیگن میں پائے جاتے ہیں۔ وہ پاکستان میں شجر کاری اور مفت تعلیم کے ایک منصوبے سے منسلک ہیں۔ انہیں فیس بک پر یہاں فالو کریں۔ ان کا یوٹیوب چینل یہاں سبسکرائب کریں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.