کیا آئین سپریم ہے؟ - وقاص احمد

اس بات پر بحث رہتی ہے کہ ریاست کا نظم و نسق چلانے یا کسی ادارے کےبالادست ہونے کے معاملے میں ریاست کے لیے کیا چیز سپریم ہے۔ اکثر تجزیہ نگاروں کی رائے یہی ہے کہ پاکستان، انڈیا اور امریکہ جیسے مما لک میں جہاں تحریری دستور مدون و مرتب ہے، وہاں آئین ہی سپریم ہوتا ہے۔ گوکہ آئین منتخب عوامی نمائندوں پر مشتمل پارلیمنٹ یا دستور ساز اسمبلی ہی بناتی ہے لیکن اس کو بنانے کے بعد پارلیمنٹ یا اسمبلی خود بھی آئین کے کچھ حصو ں کی ایک طرح سے تابع ہوجاتی ہے جیسے آئین ِ پاکستان کے آرٹیکل 8 میں پارلیمنٹ کو ایسے قوانین بنانے سے منع کیا گیا جو بنیادی حقوق کے خلاف ہوں۔ یا جیسے امریکی آئین کے آرٹیکل 3 کے سیکشن 1 کے تحت کانگریس ججز کی تنخواہ کم نہیں کر سکتی۔ لیکن اگر بدقسمتی سے پارلیمنٹ میں ایسے لوگ آجائیں جو آئین میں موجود بنیادی اخلاق، انسانی حقوق، احتساب، چیک اینڈ بیلنس اور اختیارات میں توازن کے ہی درپے ہوجائیں تو عدلیہ کی ذمہ داریوں میں یہ شامل ہوتا ہے کہ وہ آئین کی حفاظت کرے۔ پارلیمنٹ یا کانگریس نے ہی آئین میں یہ منظور کیا ہوا ہوتا ہے کہ کسی تنازع کی صورت میں آئین کی تشریح عدلیہ ہی کرے گی اور نئے بننے والے قوانین کا جائزہ لے گی۔ امریکی آئین کے آرٹیکل 3، سیکشن 2 کی شق 2 سپریم کورٹ کو جوڈیشل ریویو کا حق دیتی ہے۔ پارلیمنٹ سے نیک نیتی اور بد نیتی دونوں صورتوں میں بنیادی اخلاق، حقوق اور توازن کے خلاف قوا نین بن سکتے ہیں جیسے ڈاکٹر مشتاق صاحب نے انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کے فیصلے کے خلاف اپیل کے حق کی مثال سے سمجھایا کہ عدلیہ نے اپیل کا حق نہ دینے کو بنیادی حقوق کے خلاف گردانا اور اس معاملے میں ایک صحیح فیصلہ کیا۔ بدنیتی اور مفاد کے زیر اثر قانون سازی کی مثال حال ہی میں کالعدم قرار پانے والا آرٹیکل باسٹھ کے تحت نا اہل شخص کو پارٹی سربراہ بنانے کا قانون ہے۔

لیکن ایک فکری بات یہ ہے کہ آئین سے اوپر بھی کچھ اصول و قوانین ہوتے ہیں جنکو آئین میں باقاعدہ درج کیا جاتا ہے کہ آنے والے قانون ساز اس سے رو گردانی نہ کر سکیں، پس پشت نہ ڈال سکیں۔ یہ اصول و قوانین یا تو آفاقی اخلاقی قوانین کی صورت میں ہر انسان کے عقل و شعور میں پیوست ہوتے ہیں۔ جس میں مزید اضافہ، ترامیم اور کمی بیشی فلاسفہ، دانشور اپنے نظریات کے ذریعے کر تے ہیں، جو بہرحال انسانی عقل اور نفس کے تابع ہوتے ہیں۔ جیسے انگریز سیاسی فلاسفر جان لاک (John Locke) کے ایک نظریہ کو امریکہ ہجرت کرکے کالونی بنانے والے گوروں نے ریڈ انڈینز کی زمینوں کو ہتھیانے کے لیے استعمال کیا۔ اسی طرح چین کے آئین میں کمیونسٹ افکار اور کمیونسٹ پارٹی کے حوالے سے قوانین نمایاں ہیں۔ یا پھر وہ قومیں جو وحی الہی پر ایمان رکھتی ہیں اور انکو قرار واقعی ا ہمیت دیتی ہیں وہ اپنے ریاستی آئین میں اس کے احکامات اور اخلاقی اصول انتہائی اہمیت کے ساتھ شامل کرتی ہیں، جیسے پاکستان کا ا ٓئین ہے۔

آئین کا مقصد بنیادی طور پر ریاست کا نظام چلانا ہوتا ہے لیکن یہ ریاست کی اجتماعی سوچ اور نظریات کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ یعنی یہ ایک ٹیکنکل دستاویز ہونے کے ساتھ ساتھ نظریاتی دستاویز بھی ہوتا ہے۔ کسی بھی ریاست کے معماروں اور بانیوں کو اگر قدرت وقت دے دے تو وہ یا تو ریاست کے تاسیسی نظریات اور تحریک کے مطابق آئین مرتب و مدون کر دیتے ہیں یا پھر کم از کم ایک سمت ضرور متعین کردیتے ہیں۔ ’’سپریم‘‘ کا مطلب چونکہ طاقت، اتھارٹی اور درجہ میں عظیم ترین ہوتا ہے اسلیے آئین کو سپریم ماننا یا نہ ماننا ا یک مسلمان کے لیے ایک اعتقادی اور ایمانی مسئلہ بھی بن جاتا ہے۔ جسطرح بعض محترم لکھاریوں نے لکھا کہ چونکہ برطانیہ کا کوئی تحریری آئین نہیں ہے اسلیے وہاں پارلیمنٹ کو سپریم مانا جاتا ہے۔ واضح رہے یہ وہ برطانیہ ہے جو کلیسائی اور بادشاہی دور کو گزار کر اب روشن خیالی، لبرل سیکولر ازم کا یورپ میں جھنڈا بردار ہے۔ اس لحاظ سے تو ظاہر ہے انسانی عقل و دانش کا منبع اور مرکز تو پارلیمنٹ کو ہی ہونا ہے۔

امریکہ کے معاملے میں ان کا ۱۷۸۷ ء میں بننے والا مشہورِ زمانہ آئین چونکہ تحریری ہے اسلیے امریکی فیڈریشن، ریاستوں اور عوام کے درمیان اس عمرانی معاہدے کو مقدس ترین دستاویز کی حیثیت حاصل ہے۔ جسطرح پہلے بیان کیا گیا کہ آئین ریاست کی سوچ اور فلسفے کا آئینہ دار بھی ہوتا ہے اسلیے امریکہ بنانے والوں نے خدا ( God) کا لفظ پورے آئین میں استعمال نہیں کیا۔تمام آرٹیکل اور شقیں انسانی عقل اور ذہانت کو استعمال کرتے ہوئے بنیادی انسانی اخلاقیات (جو بھی وہ اپنی عقل سے سمجھ سکتے تھے) اور سیکولر فلسفہ کی روشنی میں وضح اور مرتب کی گئیں۔ بنجمن فریکنکلن، جیمز میڈیسن اور تھامس جیفرسن اعلیٰ درجے کے دانشور اور فلاسفہ تھے۔ انکی دانش ہمیں امریکی آئین میں جا بجا ملتی ہے۔ آئین کو سیکولر رکھنا۔ ڈیکلریشن آف انڈیپنڈنس اور آئین میں انسان کو خوشی کے تعاقب و حصول (Pursuit of Happiness) کی آزادی اور لبرٹی دینا، ان تمام باتوں کے پیچھے بڑے گہرے فلسفے شامل ہیں جنکی بنیاد پر آج امریکی معاشرہ استوار ہے۔ لیکن وحی بیزار، انسانی عقل سے جنم لینے والے اس آئین میں اسّی نوّے سال بعد اسوقت انتہائی بنیادی ترمیم کرنا پڑی جب اسمیں غلاموں سے متعلق کئی تضادات سامنے آنا شروع ہوئے۔ سول سوسائٹی اور دانشوروں نے اس کے خلاف کھل کر گفتگو شروع کی یہاں تک کہ انسانی برابری اور مساوات کی بات کرنے والے اس ’’عظیم‘‘ ملک میں ہونے والی خانہ جنگی کی اصل وجہ سیاہ فام غلاموں کے حقوق اور آزادی میں اختلاف تھا۔ خوفناک خانہ جنگی کے بعد ابراہم لنکن کو سیاہ فاموں کو غلامی سے نجات دینے کے لیے تیرہویں آئینی ترمیم لانی پڑی۔ اس حوالے سے اگر کہا جائے کہ کیا تیرہویں ترمیم سے پہلے کا آئین سپریم تھا یہ اس کے بعد کا تو جواب یہی ملے گا کہ آئین انسان کی بنائی ہوئی دستاویز ہوتی ہے جس پر کسی زمانے کے موجود دانشور وں و مفکروں کی اکثریت جنکے پاس قوت نافذہ بھی ہو، متفق ہوں اور اس میں تبدّل و تغیّر آسکتا ہے۔

پاکستان کا پہلا آئین گو کہ قائدِ اعظم اور قائد ملّت کی زندگی میں نہیں بن سکا لیکن قیام ِ پاکستان کے دو سالوں کے اند اندر یعنی مارچ ۱۹۴۹ء میں دستور ساز اسمبلی نے قائد ملت اور اسوقت کے وزیرِ اعظم لیاقت علی خاں کی قیادت میں قرار داد مقاصد بھاری اکثریت سے منظور کرکے آنے والے زمانوں کے لیے پاکستان کی آئین کی بنیاد رکھ دی۔ یہ وہی قراردادِ مقاصد ہے جو آج ملک میں رائج اور نافذ ۱۹۷۳ء کے آئین کے نہ صرف دیباچے میں شامل ہے بلکہ آئین کا آرٹیکل 2A قراردادِ مقاصد کو ایک عملی آرٹیکل بناتا ہے۔ یہ قراردادِ مقاصد کے ہی ابتدائی جملے ہیں جنکا حوالہ چیف جسٹس سپریم کورٹ پاکستان جناب ثاقب نثار نے اپنے حالیہ فیصلے کے ابتدائیے میں دیا۔

اس پر مسرت اور باعثِ اطمینان بات کے باوجود ہمارے آئین میں کچھ شقیں ایسی ہیں جو براہِ راست آرٹیکل 2A اور آرٹیکل 227 سے ٹکراتی ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل جو ایک آئینی ادارہ ہے اور آرٹیکل 2A اور 227 کو عمل شکل دینے کے لیے بنائی گئی، اس کی سفارشات کو محض سفارش قرار دیکر اس پر بحث کرنا بھی ہمارے قانون سازوں پر آئینی بائنڈنگ نہیں ہے۔ عمل درآمد تو دور کی بات ہے۔ یہ کھلی منافقت نہیں ہے تو کیا ہے۔ ہمارے متعدد تعزیراتی اور عائلی قوانین بھی آئین اور اصلاً شریعت سے متصادم ہیں۔ اسلیئے آئین کو نظریاتی اور فکری طور پر کلیتاً سپریم نہیں کہنا چاہیے۔ ہاں عملاً، زمینی حقائق کے حوالے سے قانوناً کارِ مملکت، اختیارات کے توازن، حقوق وغیرہ کے لیے یہی سب سے اہم دستاویز ہے۔ جس میں مباحات کی حد تک جو اصول و اختیارات و قوانین متعین کئے گئے ہیں اسپر عمل کرنا ہر پاکستانی پر فرض ہے۔ لیکن کسی چیز جسکو ہم بلا جھجک اپنے اخلاق، سیاست، معاشرت اور معیشت کے لیے سپریم یعنی فائنل اتھارٹی کہہ سکتے ہیں تو وہ صرف قرآن و سنت ہے۔

Comments

وقاص احمد

وقاص احمد

کراچی یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز اور سنہ2000 سے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں خدمات سرانجام دینے والے وقاص احمد ایک دنیا دیکھ چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ ، مشرقِ بعید اورآسٹریلیا کے سفر کر چکے ہیں ۔مطالعہ کا شوق تو بچپن سے تھا لیکن گزشتہ کئی برسوں سے باقاعدہ فلسفۂ دین،احیائے دین کی تحاریک، فلسفہِ اخلاق ، سیاست، احتساب اور تاریخ کے موضوعات ان کی تحقیقات اور فکر کا حصہ ہیں۔ اس حوالے سے علمائے کرام اور دینی اسکالرز کے بے شمار دروس اور لیکچرز میں شرکت کر چکے ہیں۔ ان سے ٹوئٹر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.