سپریم کورٹ کا فیصلہ: چند قانونی سوالات کا تجزیہ - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

حسب معمول اور حسب توقع سپریم کورٹ پر گولہ باری کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ یہ سلسلہ اس شدت کے ساتھ جاری ہے کہ کئی سنجیدہ اور فہمیدہ لوگ بھی پروپیگنڈے کا شکار، یا کم از کم اس سے متاثر، نظر آتے ہیں۔ آئیے چند بنیادی سوالات پر دو ٹوک بات کرتے ہیں:

پہلا سوال:
کیا سپریم کورٹ کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ پارلیمان کے منظور کردہ کسی قانون کو کالعدم قرار دے؟
یہ سب سے بنیادی سوال ہے اور قانون ، بالخصوص وفاقی نظام میں دستور، کا مبتدی طالب علم بھی یہ بات جانتا ہے کہ سپریم کورٹ ہی نہیں بلکہ ہائی کورٹ کے پاس بھی یہ اختیار ہے۔ جو لوگ پارلیمان کی بالادستی کی دہائی دے رہے ہیں وہ قانون کی ابجد سے بھی ناواقفیت کا ثبوت دے رہے ہیں۔ وفاقی نظام میں دستور کو بالادستی حاصل ہوتی ہے اور پارلیمان سمیت تمام ادارے دستور کی حدود کے اندر رہ کر کام کرتے ہیں۔ دستور کا مفہوم کیا ہے اور کب کسی نے دستور کی مقررکردہ حدود سے تجاوز کیا؟ ان سوالات کا فیصلہ دستوری عدالت ہی کرتی ہے اور پاکستان میں یہ حیثیت ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کو حاصل ہے ۔ اسے اصطلاح میں عدالتی نظر ثانی (judicial review) کا اختیار کہا جاتا ہے۔

برطانیہ میں مفروضے کے طور پر مانا جاتا ہے کہ پارلیمان سپریم ہے۔ اس لیے وہاں کی عدالتیں پارلیمان کے منظور کردہ قانون کو کالعدم قرار نہیں دے سکتیں۔ چنانچہ وہاں عدالتی نظر ثانی صرف انتظامی امور کی ہوتی ہے، مقننہ کے فیصلوں کی نہیں۔ البتہ یورپی معاہدہ براے حقوقِ انسانی پر دستخط اور توثیق کے بعد وہاں بھی عدالتوں کےلیے یہ اختیار مانا گیا ہے کہ اگر وہ پارلیمان کے منظور کردہ کسی قانون کو اس معاہدے سے متصادم پائیں تو وہ پارلیمان کو کہہ سکتی ہیں کہ وہ اس قانون کو تبدیل کرکے اسے اس معاہدے سے ہم آہنگ کردے۔

برطانیہ کے برعکس امریکا، جو وفاقی ریاست ہے، آج سے سوا دو سو سال قبل ہی مان چکا ہے کہ سپریم کورٹ کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ نہ صرف انتظامی امور پر نظرثانی کرے بلکہ وہ مقننہ (جسے وہاں کانگرس کہا جاتا ہے ) کے فیصلوں پر بھی نظر ثانی کرے اور اگر وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ قانون سازی کرتے وقت مقننہ نے دستور کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کیا ہے تو وہ اس قانون کو تصادم اور تجاوز کی حد تک کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ 1803ء میں پہلی دفعہ امریکی سپریم کورٹ نے یہ اختیار مشہور مقدمے "ماربری بنام میڈیسن" میں استعمال کیا ۔ اس کے بعد سے یہ ایک مسلمہ اختیار کے طور پر مانا گیا ہے۔

ہندوستان میں خود برطانوی حکمرانوں نے 1935ء کے قانونِ حکومتِ ہند کے ذریعے یہاں وفاقی نظام رائج کرکے وفاقی عدالت بھی قائم کی اور اس کے لیے عدالتی نظرثانی کا اختیار بھی مان لیا ۔ یہی وفاقی عدالت پاکستان میں 1956ء کے دستور کے بعد سپریم کورٹ کہلانے لگی ۔ پاکستان کے تینوں دساتیر (1956ء، 1962ء اور 1973ء) میں نہ صرف سپریم کورٹ بلکہ ہائی کورٹس کے لیے بھی یہ اختیار مانا گیا ہے۔ بلکہ ہم نے 1980ء کی دہائی میں جب وفاقی شرعی عدالت کی تشکیل کی تو اسے عدالتی نظرثانی کے اختیار کی ایک اور صورت دے دی۔ چنانچہ دستور میں ترمیم کرکے یہ شق شامل کی گئی کہ اگر کوئی قانون شرعی عدالت کی نظر میں قرآن وسنت سے متصادم ہو تو وہ اسے اس بنیاد پر کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ پس اب سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس دستور کے ساتھ تصادم کی بنیاد پر ، اور سپریم کورٹ کی شریعت اپیلیٹ بنچ اور وفاقی شرعی عدالت قرآن وسنت سے تصادم کی بنیاد پر ، کسی قانون کو کالعدم قرار دے سکتی ہیں۔

دوسرا سوال: کیا یہ مناسب نہیں تھا کہ قانون کی اس شق کو کالعدم قرار دینے کے بجاے پارلیمان سے کہا جاتا کہ وہ اس میں ترمیم کردے؟
یہ سوال بھی اسی غلط مفروضے پر مبنی ہے کہ قانون کو کالعدم قرار دے کر پارلیمان کی بالادستی کی نفی کی گئی ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ وفاقی ریاست میں سپریم کورٹ کےلیے ، اور ہمارے ہاں ہائی کورٹس اور شرعی عدالت کےلیے بھی، یہ اختیار مانا گیا ہے کہ وہ مقننہ کے منظور کردہ قانون کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ کالعدم قرار دینے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مقننہ کو یہ قانون بنانے کا اختیار ہی نہیں تھا ۔ اس لیے اس قانون کو قانون نہ سمجھا جائے۔ اس مسلمہ اصول کے بعد اس کی ضرورت ہی نہیں رہتی کہ مقننہ سے اسے تبدیل کرنے کا کہا جائےکیونکہ جب وہ قانون ہی نہیں تو اسے تبدیل کرنے کا کیا مطلب؟ اس کا وجود اور عدم برابر ہوتا ہے۔

ہاں، برطانیہ میں چونکہ عدالت کے پاس یہ اختیار نہیں تو وہ پارلیمان سے کہہ دیتی ہے کہ یہ قانون یورپی معاہدہ براے حقوقِ انسانی سے متصادم ہے تو اسے تبدیل کیجیے۔ پھر یاد کیجیے کہ وہاں کا بنیادی مفروضہ ہی ہم سے مختلف ہے۔ وہاں تو اس تصادم کے باوجود یہ قانون بطور قانون وجود رکھتا ہے۔ ہمارے ہاں مسلمہ اصول یہ ہے کہ اگر دستوری حدود سے مقننہ نے تجاوز کیا ہے تو اس کے منظور کردہ قانون کو قانون کی حیثیت ہی حاصل نہیں۔

عام قانون کیا، بھارتی سپریم کورٹ نے تو دستور میں کی گئی ترمیم کو بھی اس بنیاد پر کالعدم قرار دیا ہے کہ یہ دستور کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم ہے اور یہ نئی دستور سازی کے مترادف ہے جس کا اختیار موجودہ پارلیمان کو نہیں۔ خود ہماری سپریم کورٹ نے 1996ء میں الجہاد ٹرسٹ کیس میں (جسے عام طور پر 'ججز کیس' کہا جاتا ہے ) آٹھویں دستوری ترمیم کی ایک شق کو اسی بنیاد پر غیرمؤثر قرار دیا تھا ۔ نیز جب 2010ء میں اٹھارویں ترمیم میں ججز کی تعیناتی کا نیا طریقِ کار وضع کیا گیا تو اسے سپریم کورٹ میں اس بنیاد پر چیلنج کیا گیا کہ یہ طریقِ کار دستور کے بنیادی ڈھانچے سے تصادم کی بنیادپر کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتا۔ سپریم کورٹ نے اس اختیار کو استعمال نہیں کیا لیکن قرار دیا کہ یہ طریقِ کار غلط ہے اور پارلیمان اسے تبدیل کردے۔ چنانچہ اس طریق کار کو تبدیل کرنے کےلیے دستور میں بیسویں ترمیم کی گئی۔ یہ ترمیم بذاتِ خود اس بات کا اقرار تھی کہ پارلیمان کی منظور کردہ دستوری ترمیم کو بھی کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے۔

جہاں تک عام قانون کو دستور سے تصادم کی بنیاد پر کالعدم قرار دینے کا تعلق ہے، تو اس کی تو پاکستان میں کئی مشہور مثالیں موجود ہیں۔ ایک مثال تو انسدادِ دہشت گردی کا قانون ہے جسے میاں محمد نواز شریف صاحب نے 1997ء میں پارلیمان سے منظور کروایا تھا ۔ اس قانون کی رو سے جو خصوصی عدالتیں قائم کی گئیں ان کے فیصلوں کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کا حق نہیں دیا گیا تھا۔ محرم علی کیس میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ متعلقہ شق دستور سے تصادم کی بنیاد پر کالعدم ہے کیونکہ دستور میں قرار دیا گیا ہے کہ تمام عدالتیں ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کے ماتحت ہوں گی۔
واضح رہے کہ خود میاں نواز شریف صاحب پر ان کے بنائے گئے اس انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت طیارہ ہائی جیکنگ کا مقدمہ چلایا گیا تھا اور اگر سپریم کورٹ نے ان کو اپیل کا حق نہ دیا ہوتا تو انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے بعد ان کا شہادت کے مرتبے پر فائز ہونے کا امکان تھا۔ تاہم انھوں نے محرم علی کیس کے نتیجے میں ملنے والے حق سے فائدہ اٹھا کر سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی اور پھر ڈکٹیٹر کے ساتھ معاہدہ کرکے سوے حرم چل پڑے۔
ایک اور مثال قتل کے جرم کی سزا سے متعلق قانون ہے جسے پہلے پشاور ہائی کورٹ کی شریعت بنچ نے، پھر وفاقی شرعی عدالت نے اور آخر میں سپریم کورٹ کی شریعت اپیلیٹ بنچ نے قرآن وسنت سے متصادم قرار دے کر کالعدم قرار دیا اور پھر حکومت کو مجبوراً پہلے قصاص ودیت کا آرڈی نینس صدر کے ذریعے نافذ کرنا پڑا اور پھر ایکٹ پارلیمان سے منظورکروایا۔
پس نہ یہ کام پہلی دفعہ ہوا ہے ، نہ ہی یہ کوئی انوکھا کام ہوا ہے۔

تیسرا سوال: موجودہ قانون دستور کی کس شق سے متصادم ہے؟
اس سوال کا تفصیلی جواب تو عدالت اپنے تفصیلی فیصلے میں دے گی لیکن مختصر آرڈر میں بھی اس نے بنیادی استدلال واضح کیا ہے۔

عدالت نے شروع ہی دستور کے دیباچے، یعنی قراردادِ مقاصد، کے اس پہلے جملے سے کی ہے کہ اقتدارِ اعلی اللہ کے پاس ہے اور ہمارے اختیارات محدود ہیں کیونکہ ہم اس کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہنے کے پابند ہیں۔ یہ بہت اہم نکتہ ہے اور دستور کی اسلامیت کے قائلین کے لیے بالخصوص بہت خوش آئند ہے کیونکہ بہت عرصے کے بعد عدالت نے اتنی صراحت اور قوت سے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا اقرار کرکے اس سے استدلال کا آغاز کیا ہے۔

اس کے بعد عدالت نے واضح کیا ہے کہ قوانین کا دستور کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہنا ان کے جواز کےلیے ضروری ہے۔ یہاں میں خصوصاً دفعہ 8 کا حوالہ دینا چاہوں گا جس میں یہ تصریح کی گئی ہے کہ کوئی بھی قانون جو دستور میں مذکور بنیادی حقوق سے متصادم ہو تو وہ تصادم کی حد تک کالعدم ہے:
Any law, or any custom or usage having the force of law, in so far as it is inconsistent with the rights conferred by this Chapter, shall, to the extent of such inconsistency, be void.

عدالت نے آگے دستور کی دفعہ 17 کا حوالہ دیا ہے جس میں لوگوں کا یہ حق تسلیم کیا گیا ہے کہ وہ سیاسی تنظیم بناسکتے ہیں۔ تاہم عدالت نے واضح کیا ہے کہ یہ حق مطلق نہیں ، بلکہ اس پر کئی قیود ہیں جو قانون نے مقرر کی ہیں۔

یہیں سے بات قانون میں مقررہ قیود کی طرف مڑ گئی ہے اور عدالت نے اس ضمن میں خصوصاً دستور کی دفعات 62، 63 او63 الف کا حوالہ دیا ہے جن میں اہلیت اور نااہلی کے متعلق اصول اور ضوابط دیے گئے ہیں۔

پھر عدالت نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ اگر کوئی شخص پارلیمان کی رکنیت کا اہل نہ ہو (دفعہ 62 پر پورا نہ اترتا ہو) ، یا بعد میں اسے عدالت نے نااہل قرار دیا (دفعہ 63 یا 63 الف کی بنیاد پر) تو کیا ایسا شخص سیاسی پارٹی کا سربراہ ہوسکتا ہے؟ عدالت نے یہ سوال اس لیے اٹھایا ہے کہ دستور کی دفعہ 63 الف میں سیاسی پارٹی کے سربراہ کو ایسا اختیار دیا گیا ہے جس کی وجہ سے اسے پارٹی کے منتخب ارکان ِپارلیمان پر مکمل کنٹرول رہتا ہے ۔ وہ اختیار یہ ہے کہ اگر کسی رکنِ پارلیمان نے اپنی پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کے خلاف پارلیمان میں ووٹ دیا تو اس کی پارٹی کا سربراہ اس کے خلاف الیکشن کمیشن کو تحریر طور پر آگاہ کرسکتا ہے اور اس کے نتیجے میں متعلقہ رکنِ پارلیمان کو نااہل قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس لیے یہ سوال اٹھانا ضروری تھا کہ اگر پارٹی کا سربراہ خود رکنِ پارلیمان بننے کےلیے نااہل ہو تو وہ کیسے ارکانِ پارلیمان پر کنٹرول رکھ سکتا ہے اور کیسے انھیں نااہل قرار دلواسکتا ہے؟ پس اگر پارٹی کے سربراہ کی حیثیت محض نمائشی ہوتی اور اس کے پاس اس حد تک کنٹرول نہ ہوتا تو ایسی صورت میں اس کی سربراہی کو دستور سے متصادم نہ قرار دیا جاتا لیکن ایسی صورت میں جبکہ ارکانِ پارلیمان مکمل طور پر اس کے کنٹرول میں ہوں اور وہ خود نااہل ہو، تو اس کی سربراہی یقیناً دستور سے متصادم ہے۔
واضح رہے کہ دستور میں دفعہ 63 الف کا اضافہ میاں نواز شریف صاحب نے ہی چودھویں ترمیم کے ذریعے 1998ء میں کیا تھا۔ گویا وہ اپنا ہی بویا ہوا کاٹ رہے ہیں۔

چوتھا سوال: بطور پارٹی سربراہ میاں صاحب کے فیصلے کیوں کالعدم قرار دیے گئے؟
اس کا جواب تو بڑا سیدھا سادہ ہے۔ جب عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ دستور اور قانون کی رو سے میاں صاحب کا پارٹی سربراہ بننا ہی ناجائز تھا تو ان کا اس عہدے پر براجمان ہوچکنے کے بعد کیا گیا ہر فیصلہ ازخود ناجائز ہوا۔ اسے قانون کی زبان میں void ab initio کہا جاتا ہے ۔یہ تو پہلے اصول کا لازمی اور منطقی نتیجہ (necessary and logical corollary) ہے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ان فیصلوں میں کوئی ایسا فیصلہ بھی ہو جس کا ریورس کرنا اب ممکن نہ ہو، تو ان فیصلوں کا کیا جائے گا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایسے فیصلوں کو ، جن کو ریورس کرنا ممکن نہ ہو، قانون کی زبان میں past and closed transaction کہا جاتا ہے، یعنی ایسا معاملہ جو نمٹ چکا ہے۔ اسے از سر نو نہیں کھولا جاسکتا۔
مثال کے طور پر جب میاں صاحب کے دوسرے دورِ حکومت میں سپریم کورٹ کے بعض ججز نے اس وقت کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے خلاف بغاوت کی اور پھر لمبی کشمکش کے بعد یہ طے پایا کہ 1996ء کے ججز کیس کے فیصلے کی رو سے اور اس کے بعد سے جسٹس سجاد علی شاہ کا چیف جسٹس کے عہدے پر برقرار رہنا ناجائز تھا تو ملک محمد اسد کیس میں پھر سپریم کورٹ کو یہ بھی بتانا پڑا کہ اس فیصلے کے بعد سے 1998ء میں ان کی برطرفی تک انھوں نے جو فیصلے کیے ان میں وہ جن کو ریورس کرنا ممکن نہیں تھا انھیں ازسرنو نہیں کھولا جائے گا۔

اس طرح کی مثال پارلیمان کی بھی ہے ۔ (یہ مثال اس لیے دے رہا ہوں کہ کہیں ارکان پارلیمان اپنی پاکیِ داماں کی حکایت بڑھانا شروع نہ کردیں!)جنرل مشرف نے ایل ایف او کے ذریعے پارلیمان میں نشستوں کی تعداد بڑھا دی اور مخلوط طرز انتخاب بھی رائج کیا۔ اس کے بعد 2002ء کے انتخابات ہوئے اور پارلیمان نے سترھویں ترمیم کے ذریعے اس سب کچھ دستوری جواز دے دیا۔ 2008ء کے انتخابات بھی اسی طریقے پر اور اسی قانون کے تحت ہوئے۔ اس کے بعد پارلیمان نے سترھویں ترمیم کو undo کرنے کی کوشش کی اور بہت کچھ تبدیل کرلیا لیکن اضافہ شدہ نشستوں کو ختم نہ کرسکی کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں تھا۔ پارلیمان نے ان امور کو past and closed transaction ہی مان کر ہضم کرلیا۔
پس اصول یہ ہے کہ میاں صاحب نے سربراہی کے منصب پر براجمان ہونے کے بعد جو فیصلے کیے وہ قانوناً غیرمؤثر ہیں لیکن ان میں بعض فیصلوں کو past and closed مان کر نافذ قرار دیا جاسکتا ہے بشرطیکہ وہ واقعی past بھی ہوں اور closed بھی۔ یہ بھی واضح ہے کہ past and closedماننا بہرحال استثنائی بات ہےجو ہر ہر فیصلے کا الگ الگ جائزہ لے کر ہی طے کی جاسکتی ہے۔ اصول وہی ہے جو عدالت نے مختصر آرڈر میں بتا دیا ہے۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com