اللہ تعالی کی تمثیل اور تشبیہ کامعاملہ - فضل ہادی حسن

اللہ تعالی کا فرمان ہے
' لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ(الشورى11)
کائنات کی کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں، وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے.

اللہ کی صفات کے حوالہ سے اسلام کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ:
اللہ کی ان صفات پر ایمان رکھنا لازم ہے جو اللہ نے اپنے لیے ذکر کی ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں۔
اللہ کی ذات اور صفات کی کیفیت معلوم کرنے، ان پر بحث کرنے، اور انھیں مخلوق کی ذات اور صفات سے تشبیہ و تمثیل کی ممانعت ہے۔

مذکورہ بالا آیت کے بارے مفسرین کہتے ہیں کہ "کاف" زائدہ تاکید کے لیے ہے۔ '(معاني القرآن، أبو جعفر النَّحّاس ت. 338 ھ، ص297) مراد یہ ہے کہ اگر بفرض محال اللہ کا کوئی مثل ہوتا تو اس جیسا بھی کوئی نہ ہوتا، کجا کہ خود اللہ جیسا کوئی ہو۔' (تفہیم القرآن ، شوری حاشیہ 17)

لہذا 'ليس كمثله شيء' سے ہر تشبیہ اور تمثیل (ممثلہ )کی نفی معلوم ہوئی اور ’ھو السمیع البصیر‘ سے معطلہ اور مؤولہ ( نظریات ہیں) کی نفی ہوگئی، یہی اہل السنہ و الجماعہ کا عقیدہ ہے۔ اسی طرح دیگر آیات سے بھی یہی ثابت ہو رہا ہے کہ اللہ کی ذات اور صفات کے ساتھ کوئی تمثیل اور تشبیہ نہیں دی جا سکتی۔ مثلا:
'رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهِ هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا (مريم : 65)
وہ رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور اُن ساری چیزوں کا جو آسمان و زمین کے درمیان ہیں۔ پس تم اُس کی بندگی کرو اور اُسی کی بندگی پر ثابت قدم رہو۔ کیا ہے کوئی ہستی تمہارے علم میں اُس کی ہم پایہ؟

'سميًّا: کا لغوی معنی تو 'ہم نام' ہے لیکن یہاں اس کا مطلب ہے 'مثلا 'أو شبيها' نہ مثال ہے اور نہ شبیہ۔ 'وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، (الإخلاص : 4) اس کا کوئی ہم سر یعنی برابر نہیں اور وہ یکتا ہے۔

تشبیہ کیا ہے؟
لغت میں تشبیہ کا مطلب، الشِّبْهُ والشَّبَهُ والشَّبِيهُ: المِثْلُ یعنی تمثیل دینا، عربی میں کہتے ہیں 'وأَشْبَه الشيءُ الشيءَ: مَاثَله' ایک چیز کا دوسری چیز سے مماثلت کرنا۔ اسی سے تشبیہ نکلا ہے جس کا معنی و مطلب عربی اور اردو میں 'تمثیل' بنتا ہے۔ نیز وشَبَّه سے عربی میں مراد یہی لیا جاتا ہے ایک چیز کو دوسری چیز کا 'مساوی' اور 'برابر' قرار دینا۔ (لسان العرب لابن منظور افریقی ، مادة: شبه۔ الصحاح تاج اللغة وصحاح العربية للجوهري ج6 ص2236 ۔ تهذيب اللغة للأزهري ج6 ص92)

امام ابن تیمیہؒ اس بارے کہتے ہیں
’’سلف کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو بغیر تحریف و تعطیل کے اور بلا تکییف و تمثیل کے ان ہی صفات سے متصف کرتے ہیں جو صفت اللہ نے اپنی ذات کے لیے بیان کیں یا اس کے رسول ﷺ نے اس کےلیے بیان کی ہیں، لہذا جن صفات کو اللہ نے اپنے لیے ثابت کیا ہے، اس کی نفی نہیں کرتے اور نہ ہی اس کی صفات کی مثال مخلوق کی صفات کے مثل قرار دیتے ہیں۔ اس لیے کہ نفی کرنے والا معطل (جو سرے سے ذات کا انکار کر دے) ہو جاتا ہے، اور معطل، عدم کی عبادت کرتا ہے، تشبیہ دینے والا ایک مثال بنا دیتا ہے اور مثل بنانے والا بت کی عبادت کرتا ہے۔ اور سلف کا منہج یہ ہے کہ صفات ثابت کرتے ہیں بغیر تمثیل کے اور بلاتعطیل، اللہ کی صفات کو پاکی کے ساتھ بیان کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "لیس کمثلہ شئی'' اس کے مثل کوئی چیز نہیں یہ ممثلہ پر رد ہے اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ''وھو السمیع البصیر'' یہ معطلہ پر رد ہے۔ (مجموع الفتاویٰ لا بن تیمیہ :ج8، ص 432)‘‘

یہاں تحریف اور تعطیل سمیت دیگر نام سامنے آئے ہیں، اس لیے آج کے موضوع کو سمجھنے کے لیے چند اہم اعتقادی نظریوں کی مختصر وضاحت ضروری ہے، البتہ ان کی تفصیلات اور اختلاف ایک الگ مضمون کا متقاضی ہے۔

تحریف: اللہ کے اسماء و صفات کے لیے بغیر کسی دلیل کے ان معانی کو لینا جو اصل معنی کے خلاف ہو۔
تعطیل (معطلہ): اللہ کی صفات کی مکمل طور سے نفی کرنا۔
تفویض: اللہ کی صفات کو تسلیم کیا جائے لیکن بغیر معنی کے۔
تمثیل: اللہ کی صفات کو بعینہ مخلوق کے صفات کے جیسی کہا جائے۔
تشبیہ: اللہ کی صفات کو مخلوق کی صفات کی طرح مانا جائے۔
تکییف: اللہ کی صفات کی کیفیت بیان کی جائے۔

اللہ کی صفات کی تشبیہ ایک لمبی بحث ہے، لیکن اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ اس بارے یہ ہے کہ اللہ کی صفات مخلوق جیسی نہیں ہیں، یعنی کوئی فرد یہ سمجھے کہ اللہ کا ہاتھ انسانوں جیسا ہے، یا اللہ کا چہرہ انسانوں جیسا ہے (العیاذ باللہ) کیونکہ اللہ کی صفات اس کی 'شان' کے مطابق ہوں گی، ہم کسی آدمی پر اسے قیاس نہیں کرسکتے ہیں، جس کا ہمیں نہ علم دیا گیا ہے اور نہ اس کا کھوج یا اس پر غور و فکر کی ذمہ داری لگائی ہے، نیز اس تمثیل اور تشبیہ سے ممانعت بھی آئی ہے، البتہ اللہ کی ذات اور صفات پر ایمان مطلوب ہے۔ اگر اللہ کو سمیع و بصیر کہنے سے کسی کے دل میں (لاعلمی کی صورت میں) سوال آجائے کہ یہاں بھی تشبیہ اور یکسانیت لازم آئے گی یا صفت کی نفی ہوگی، تواس کے کافی جوابات دیے گئے ہیں، لیکن آسان جواب یہ ہے کہ اللہ تعالی کی صفات معنی و مفہوم کے اعتبار سے معلوم ہیں، لیکن ان کی کیفیت ہمیں معلوم نہیں ہے۔ لہذا اللہ کی صفات، جسےاللہ نے اپنے لیے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کی ہیں اس سے صفات کا ’ہونا‘ تو ثابت ہو سکتا ہے لیکن ’کیفیت‘ معلوم نہیں کی جاسکتی۔ ( جو کچھ شرع نے ثابت کیا ہے اسے ہی بتایا جائے، البتہ تشبیہ سے منع واجب قرار پایا ہے )۔

اللہ کی ذات اور صفات سے پہلے ہمیں مخلوق کی فکر کرنی چاہیے، ہم تو مخلوق کی صفات کی تعین کرنے سے بھی عاجز اور قاصر ہیں۔ فرشتوں اور جنات کی صفات اور کیفیت واضح نہیں کرسکتے حالانکہ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جبرئیل کے 600 پر تھے، کیا ہم (رسول اللہ کی ذات کے علاوہ) کسی مخلوق کے لیے ایک 'پر' کو ثابت یا اس کی کیفیت معلوم کر کے بیان کرسکتے ہیں؟ اگر ہمارا علم، فہم اور تصور مخلوق کے بارے عاجز آسکتا ہے تو 'خالق' کے بارے میں ہم بطریق اولیٰ عاجز ہیں۔ نیز ہمارا علم اور عقل محدود ہے، ہاتھ کو ہاتھ کا نام اللہ نے دیا ہے لیکن ہاتھ ہمارے بھی ہیں اور دوسرے جانوروں کے بھی، لیکن فرق نمایاں ہے۔

كُلَّمَا رُزِقُوا مِنْهَا مِن ثَمَرَةٍ رِّزْقًا ۙ قَالُوا هَٰذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِن قَبْلُ ۖ وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا ۖ (بقرہ: 25)
ان باغوں کے پھل صورت میں دُنیا کے پھلوں سے مِلتے جُلتے ہوں گے۔ جب کوئی پھل انہیں کھانے کو دیا جائےگا، تو وہ کہیں گے کہ ایسے ہی پھل اس سے پہلے دُنیا میں ہم کو دیے جاتے تھے۔
جس طرح جنت کے پھل کو انسان دنیا کے پھل سے دیکھنے کا فیصلہ عقل اور دنیاوی مشاہد ہ کی بنیاد پر کرے گا، اس سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ اللہ کی ذات و صفات کے بارے میں انسان اس کی ’’کیفیت ‘‘ اور ماہیت کا تعین کرنے کو سلف نے کفر قرار دیا ہے۔

یہاں اگر کوئی اعتراض یا سوال کرے کہ قرآن میں اللہ نے لفظ "ید" اور "وجہہ" استعمال کیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ کی یہ صفات اس کی شان کے مطابق ہوں گی، ہم اس کی کیفیت کا تعین یا بحث نہیں کر سکتے، کہ اس کا ہاتھ ہمارے ہاتھ جیسا اور چہرہ ہمارے چہرے جیسا ہے (العیاذ باللہ)۔ یہاں اہل سنت والجماعت کا ایک مؤقف یہ بھی ہے کہ اگر کوئی ایسا عقیدہ (انسانوں جیسے ہاتھ وغیرہ) رکھنا 'کفر' ہے۔ (المختار في أصول السنة لابن البنا الحنبلي ت. 471 هـ، ص 81)

اب اگر کوئی شخص اللہ کو انسانی شکل سے تشبیہ دے کر اس کے بارے میں خیالی افسانہ یا قصہ تخلیق کرتا ہے تو آیا اس نے اللہ کی تشبیہ آدمی کی شکل سے نہیں دی؟ جس سے بدنی کیفیت یعنی اعضاء، حرکت اور کلام اللہ ثابت ہو رہا ہے یا نہیں؟

درج بالا بحث سے یہ بات بخوبی واضح ہوچکی ہے، اس لیے اس پر مزید بحث کی ضرورت نہیں ہے۔ نیز یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ آیا کسی کی تحریر سے اس کا عقیدہ (تمثیل اور تشبیہ) کا ثبوت ہو رہا ہے یا نہیں؟ اس حوالے سے ایک طرف صاحب تحریر کی رائے جاننا ضروری ہے تو اہل علم ہی اس کا تعین کرسکیں گے۔

تشبیہ کرنے والے کے بارے حکم
ہر دور میں ایسی بحثیں ہوتی رہتی ہیں، ایک دور ایسا بھی گزرا ہے جب معتزلہ، جھمیہ ، قدریہ اور جبریہ سمیت مختلف قسم کے افکار و نظریات سامنے آئے تھے۔ اس کے جواب میں امت نے ایک عقیدہ کے طور پر ان افکار اور فرقوں کا مقابلہ کیا تھا۔ اسی دورمیں ہی ان فرقوں کے مقابل ’اہل سنت و الجماعت‘ کا تصور اور اصطلاح سامنے آئی (جہاں جہاں میں نے اہل سنت والجماعۃ کا نام ذکر کیا ہے تو اسے اہل تشیع کے مقابل نہیں سمجھنا چاہیے)۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوا کہ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالی کا تشبیہ دینا کفر ہے اور اس بارے نصوص بھی موجود ہیں۔ درجہ بالا آیات کے علاوہ دیگر اقوال کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

مشہور محدث نعیم بن حماد (م: 228ھ) کہتے ہیں کہ جس نے اللہ کو اس چیز سے تشبیہ دی جو اس نے پیدا (مخلوق) کی ہے تواس نے کفر کیا ہے، جس کسی نے ان صفات سے ہی انکار کردیا جو اللہ نے اپنے لیے ذکر کی ہیں تو اس نے بھی کفر کیا۔
امام اسحاق بن راھویہ (مشہور محدث م: 238) کہتے ہیں جس نے اللہ کے بارے میں اللہ کی کسی صفت (مثلا ہاتھ) کی تشبیہ اس کی مخلوق کی صفت (ہاتھ) سے دی تو اس نے اللہ پر کفر کر دیا۔ (شرح أصول اعتقاد أهل السنة للالكائي ج3 ص532)

اس مختصر تحریر میں کوشش تھی کہ بنیادی باتوں (نہ کہ کوئی فتویٰ سمجھا جائے) کو بیان کر دیا جائے حالانکہ اسلام میں جتنا ’عقیدہ‘ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، اسی وجہ سے سلف نے عقیدہ کی باریکیوں کو کھل کر بیان کیا ہے۔ یاد رہے مشہور امام، امام احمد بن حنبلؒ کا جنازہ جیل سے اٹھنے کا سبب بھی ’’فتنہ اعتزال‘‘ تھا، جہاں امام صاحب ثابت قدمی کے ساتھ اہل سنت کی رائے اور عقیدہ کا دفاع کر رہے تھے۔ آج امام احمدؒ کا نام اور اہل سنت کا وجود تو موجود ہے لیکن ’معتزلہ‘ قصہ پارینہ بن چکا ہے۔

Comments

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن اسلامک سنٹر ناروے سے وابستہ ہیں۔ جامعہ اشرفیہ لاہور اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہیں۔ ائی آر میں ماسٹر اور اسلامک اسٹڈیز میں ایم فل کیا ہے۔ مذہب، سیاست اور سماجی موضوعات پر لکھتے ہیں۔