کربلا کا مختصر تعارف - انعام حسن مقدم

مختصر سا تعارف اُس سرزمین کا جو اُس زمانہ میں گرم ریت کے ٹیلوں، کھنڈرات، لَق و دَق صحرا اور جنگلوں کا نمونہ تھی لیکن حضرت امام حُسین رضی اللهُ تعالٰی عنهُ وَ علیہِ السلام کے خون نے اُسے سجدہ گاہ بنا دیا اور آج دن رات ہزاروں لاکھوں زائرین اُس زمین ِاقدس کو بوسے دے رہے ہیں۔

مشہور نام: کربلا

مقامی نام: نینوا

صوبہ: کربلا / الکربلاء

ملک: عراق

مقامی زُبان: عَرَبی

کربلا کا محل وقوع: شہر کربلا، صوبہ کربلا کا دارالخلافہ ہے۔ یہ صوبہ شمال میں صوبہ الانبار، جنوب میں صوبہ نجف، مشرق میں صوبہ بابل اور مغرب میں بادیہ شام اور سعودی عرب سے ملتا ہے۔ شہرِ کربلا دریائے فرات کے جنوب مغربی حصے میں، شہرِ بغداد کے جنوب مغرب میں 105 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

کربلا کے مختلف نام:

عراق کا جو خِطَّۂِ زمین کربلا کے نام سے مشہور ہے وہ دراصل ان قریوں اور زمینی ٹکڑوں کا مجموعہ ہے جو اس زمانے میں ایک دوسرے سے ملحق تھے۔ عرب میں چھوٹے چھوٹے قطعاتِ اراضی (زمین کے ٹکڑے) تھے جو مختلف ناموں سے موسوم ہوا کرتے تھے چنانچہ جب انہیں خصوصیت یا صفات کے اعتبار سے دیکھا جاتا تو وہ کئی مقام مُتَصَوُّر ہوتے تھے اور جب ان کے باہمی قرب (adjacency) پر نظر کی جاتی تو وہ سب ایک قرار پاتے اور یہی وجہ ہے بعض اوقات ایک مقام کا واقعہ دوسرے مقام سے منسوب کیاجاتا ہے۔ علامہ سید ہبتہ الدین شہر ستانی نے ”نہضہ الحسین“ میں تحریر کیا ہے کہ ”کربلا کے محل وقوع کے تحت جو بہت سے نام مشہور ہیں اُنہیں ایک ہی جگہ کے متعدد نام نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ وہ متعدد جگہیں تھی جو باہمی اتصال (adjacent) کی وجہ سے ایک سمجھی جاسکتی تھیں۔

۱- کربلا: اس لفظ کے معنی کے بارے میں کئی اقوال ہیں:

-الف: کربلا، لفظ "کر بَلَہ" سے ماخوذ ہے جس کے معنی قدموں کے سست پڑنے کے ہیں (کتاب العین، جلد پنجم، ص 431)

-ب: کربلا لفظ "کربل" سے ماخوذ ہے اور کربال کے معنی چھانٹی کرنے اور تمیز کرنے کے ہیں۔ اس شہر کو ریت، پتھر اور درخت وغیرہ سے عاری ہونے کی وجہ سے کربلا کہا جاتا ہے۔ (موسوعۃ العتبات المقدسۃ، جلد ہشتم، قسم کربلا، ص 9)

-پ: کربلا، دو لفظ "کرب" اور "ایلا" سے مرکب ہے جس کے معنی خدا کا حرم اور خدائی بندوں کا گھر کے ہیں۔ (مدینۃ الحسین، ص 1)

-ت: یہ لفظ اصل میں فارسی زبان کا مرکب لفظ تھا جو دو لفظ "کار" اور "بالا" سے ماخوذ ہے جس کے معنی "آسمانی" یا "با ارزش" کام کے ہیں دوسرے لفظوں میں نماز اور راز و نیاز کی جگہ۔ (مدینۃ الحسین، ص 1)

-ٹ: اصل میں یہ لفظ "کوَر بابل" تھا جس کے معنی شہرِ بابل کے گاؤں کے ہیں۔ (نہضۃ الحسین، ص 44)

-ث: حضرت امام حسین رضی اللهُ تعالٰی عنهُ وَ علیہِ السلام اور آپ کے والد گرامی حضرت علی رضی اللهُ تعالٰی عنهُ وَ علیہِ السلام اور آپ کے نانا رسول اکرم صَلَّی اللهُ تعالٰی علیہِ وَ آلِهِ وَ بارِک وسلم نے کربلا کو "کرب و بلا" یعنی درد، بلا، آزمائش اور ابتلاء سے تفسیر کیا ہے۔ (نہضۃ الحسین، ص 44)

-ج: کربل، کربلا اور کربلة؛ فصل یا غَلَّہ خاص کر فصلِ گندم کاٹ کر پچھوڑنے یعنی بھُوسا اڑا کر صاف کرنے کو کربل کہتے ہیں۔ کیچڑ میں بدِقَّت اور آہستہ چل کر آنے کے لیے بھی "مکربلا" کہا جاتا ہے۔ جیسے "جاء یمشی مکربلاً" (ص 720 المنجد طبع بیروت) یعنی "وہ مٹی ملے ہوئے پانی (کیچڑ) میں بدقت چل کر آیا۔" عربی زبان کے لفظ "کربل" اور "كربلة" تلفظ کے اعتبار سے یکساں ہیں، کربلاء (اردو میں "کربلا") اسی سے بنا ہے۔ عَرَبی کی مشہور و معروف لغت "المنجد" میں دو لفظ، "غربل" اور "غربلة" اسی معنی میں استعمال ہوئے ہیں (المنجد، صفحہ 820، طبع بیروت)، جیسے "غربل الحنطلة"۔ "الحنطلة" عربی میں گیہوں صاف کرنے کو کہتے ہیں (المنجد، اردو ترجمہ، مطبوعہ خزینہ علم و ادب، لاہور۔صفحہ 734) اور الکربال، گیہوں صاف کرنے کی چھلنی کو۔

نوٹ: قدیم ‌ترین شعر جس میں کربلا کا نام آیا ہے، "حضرت معن بن اوس" کا ہے جو عہدِ جاہلیت کے مشہور شاعر تھے لیکن بعد میں اسلام قبول کر لیا تھا۔ (الاغانی، جلد دواز دہم، ص 309)

۲- حائر: معنٰی اور وجۂِ تسمیہ کے بارے میں مختلف اقوال:

-الف: حائر لغت میں مادہ "حار - یحیر" سے اسم فاعل کا صیغہ ہے اور اس جگہ کو کہا جاتا ہے جس میں پانی جمع ہوتا ہو اور باہر جانے کا کوئی راستہ نہ ہو۔

-ب: شیعہ ڈیپارٹمنٹل اسٹورز کی حدیثی (کامل الزیارات، ص 271؛ الباب التاسع و الثمانون فضل الحائر و حرمتہ) اور فقہی (الاستبصار فیما اختلف من الأخبار، جلد دوم، ص 334) کتابوں میں "کربلا" کو اکثر اسی نام سے یاد کیا گیا ہے۔

-پ: سب سے پہلے حضرت امام جعفر صادق رضی اللهُ تعالٰی عنهُ وَ علیہِ السلام نے قبرِ حضرت امام حُسین رضی اللهُ تعالٰی عنهُ وَ علیہِ السلام اور اس کے ارد گرد کے محصور علاقے کو حائر کا نام دیا۔ (ابنِ طاؤس، كامل الزیارات ص 132)

-ت: حائر کے لغوی معنٰی "حیران" و "سرگردان" کے ہیں۔

۳-نواویس (Nawaweess): معنٰی اور وجۂِ تسمیہ کے بارے میں مختلف اقوال:

-الف: یہ نام مسیحی اور سریانی نقطہ نگاہ سے بولا جاتا ہے چونکہ کربلا کے شمال مغرب میں مسیحیوں کا قدیمی اور تاریخی قبرستان ہے۔ آجکل یہ قبرستان دریائے سلیمانیہ کے کنارے پر واقع "براز علی" نامی گاؤں میں واقع ہے۔ (آل طعمہ، تاریخ مرقد الحسین و العباس، ص 25)

-ب: حضرت امام حسین رضی اللهُ تعالٰی عنهُ وَ علیہِ السلام نے بھی اِسی نام کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ (ابن طاؤس، اللہوف علی القتلی الطفوف، ص 53)

۴-طفّ: معنٰی اور وجۂِ تسمیہ کے بارے میں مختلف اقوال:

-الف: "طف" دریا کے "لَب" (ساحل) کے معنی میں ہے اور چونکہ حضرت امام حسین رضی اللهُ تعالٰی عنهُ وَ علیہِ السلام کی شہادت لَبِ فرات پر واقع ہوئی اس لیے اسے طف کہا جاتا ہے۔ (لسان العرب، جلد نہم، ص 221)

-ب: عمدہ الطالب فی انساب آلِ ابی طالب نامی کتاب کے صفحہ نمبر 20 پر بھی شہادتِ عون و محمد و امام حسین رضوان اللهُ تعالٰی علیہم اجمعین وَ علیہم السلام اجمعین کو "طف کی لڑائی" کہہ کر ذکر کیا گیا ہے۔

۵- غاضریہ: معنٰی اور وجۂِ تسمیہ کے بارے میں مختلف اقوال:

-الف: کربلا کو "غاضریہ" بھی کہا جاتا ہے وہ اسلیے کہ کربلا کے نزدیک "بنی اسد" کا ایک قبیلہ بنام "بنی غاضر" رہتے تھے۔ (معجم البلدان، جلد چہارم، ص 183)

-ب: حقیقت میں یہ مقام کوفہ کے پاس اور کربلا کے نزدیک تھا۔ حضرت امام حسین رضی اللهُ تعالٰی عنهُ وَ علیہِ السلام جب موجودہ کربلا کے پاس پہنچے تو اُنہوں نے اِس جگہ پڑاؤ ڈالنے کا ارادہ کیا لیکن حُر بن یزید ریاحی رضی اللهُ تعالٰی عنهُ وَ علیہِ السلام (پہلے یزیدی فوجی، بعد میں 10 مُحرم کو تائب ہو کر امام حُسین کے قافلے میں شامل ہو گئے تھے اور شہید ہوئے) نے منع کیا کیونکہ ﺍُس وقت حُر بن یزید ریاحی، عبید اللہ بن زیاد لعنت الله علیہ (والئِ کوفہ) کی طرف سے حضرت امام حسین رضی اللهُ تعالٰی عنهُ وَ علیہِ السلام کو بے آب و گیاہ (ویران) جگہ پر روکنے پر مامور تھا۔

۔پ: یہ علاقہ کربلا سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس زمین کو اراضی حسینیہ بھی کہتے ہیں۔ طول تاریخ میں دوسرے ناموں کی طرح کربلا کی زمین کے لیے بھی یہ نام استعمال ہوتا رہا ہے۔ (دینوری، اخبارالطوال، جلد اوّل، ص 252)

۔ت: بعض تاریخی اقوال کے مطابق جہاں اسوقت حضرت امام حُسین رضی اللهُ تعالٰی عنهُ وَ علیہِ السلام کی قبر ہے یہ جگہ حضرت امام حُسین رضی اللهُ تعالٰی عنهُ وَ علیہِ السلام نے اہل نینوا سے خریدی تھی اور یہ زمین اِس شرط پر اُنہیں (واپس) صدقہ کر دی تھی کہ وہ لوگوں کو حضرت امام حُسین رضی اللهُ تعالٰی عنهُ وَ علیہِ السلام کی قبر کی طرف راہنمائی کریں گے اور تین دن تک زائرین کی مہمان نوازی کریں گے۔ (طریحی، مجمع‌البحرین، جلد پنجم، ص 462؛ نوری، مستدرک‌الوسائل، جلد دہم، ص321)

۔ٹ: امام باقر رضی اللهُ تعالٰی عنهُ وَ علیہِ السلام سے منقول روایات میں آیا ہےکہ، "غاضریہ میں وہی بُقعہ ہے جہاں الله عَزَّوجل نے حضرت موسی علیہِ الصَّلٰوۃُ والسلام کے ساتھ بات کی اور حضرت نوح علیہِ الصَّلٰوۃُ والسلام کے ساتھ مناجات کی تھی۔ زمین کا یہ ٹکڑا خدا کے نزدیک نہایت قابل احترام ہے۔ (مجلسی، بحارالانوار، جلد 98، ص109، جلد 101، ص108)

۶-نینوا: معنٰی اور وجۂِ تسمیہ کے بارے میں مختلف اقوال:

-الف: یہ ایک گاؤں کا نام تھا، یہ گاؤں "غاضریہ" کے پہلو میں" تھا۔

۷-عقر: معنٰی اور وجۂِ تسمیہ کے بارے میں مختلف اقوال:

-الف: "عقر" لُغت میں "شگاف" اور دو جگہوں کے درمیانی فاصلے کو کہا جاتا ہے۔ (کتاب العین، جلد اوّل، ص 151)

-ب: جب امام حسین اس جگہ پر پہنچے تو اس جگہ کا نام پوچھا تو کسی نے کہا کہ اس کا نام "عقر" ہے تو امام نے فرمایا "عقر" سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں۔ (معجم البلدان، جلد چہارم، ص 136)

ٹیگز

Comments

انعام حسن مقدم

انعام حسن مقدم

کراچی سے تعلق رکھنے والے انعام حسن مقدم مختلف مذاہب، اقوام اور سماجی طبقات کے باہمی تعلقات، رواداری اور عزت نفس کے احترام کا قائل ہیں۔ عرصہ 25 سال سے مختلف مقامی و کثیر القومی انشورنس کمپنیز اور بینکس سیلز، مینجمنٹ، آپریشنز، مارکیٹنگ اور دیگر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.