فیس بک - افشاں نوید

یہ فیس بک بھی کیا غضب کی چیز ہے، کبھی آپ اس چہرے کی دنیا میں داخل ہوتے ہیں تو آپ کو اک خوشگوار صبح اور آنے والے دن کی نیک تمناؤں کا اظہار ملتا ہے۔

کبھی آپ کوبتایاجاتا ہے کہ آج فلاں سے دوستی کواک برس ہوگیا، فلاں سے دو اور تین برس۔ پھر کہاجاتا ہے کہ آپ سیلیبریٹ کیجیے اپنے دوست کو بتائیے کہ وہ کتنا قیمتی ہے آپ کی زندگی میں۔

کبھی مہینہ بھر کی پوسٹیں آپ کے سامنے یک دم رکھ دی جاتی ہیں کہ کس دن آپ کیا سوچ رہے تھے۔

ایک بات باربار کہی جاتی ہے کہ ہم آپ کی یادداشتوں کے معاملے میں بہت حساس ہیں۔ ہم انہیں سنبھال کر رکھتے ہیں کیونکہ وہ سب آپ ہیں اور آپ سے ہیں۔

کبھی آپ کو دوست بنانے پر مبارک باد ملتی ہے کہ اس ماہ اور اس سال آپ کے حلقہ احباب میں اتنااور اتنا اضافہ ہوا۔

آپ کے خوبصورت اور یادگار ماضی کے ورق آپ کے سامنے رکھ کر لمحوں کا بوجھل پن کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

یہ سب ہر فیس بک استعمال کرنے والے کے ساتھ ہو رہا ہے کیونکہ ان کے سسٹم کا حصہ ہے۔

یہ احساس بہت قیمتی لگتاھے کہ آپ اس دنیا کاحصہ ہیں جس کو آپ بہت کچھ دے سکتے ہیں۔ آپ کیاکیا دے سکتے ہیں؟ یہ فیس بک نہیں بتاتی۔

کچھ لوگ لایعنی بحثوں میں اپنا اور دوسروں کا لعل و گوہر سے قیمتی وقت ضائع کر رہے ہیں۔ کچھ اپنی البموں کی ہر پرانی تصویر لگانے کی مہم پر ہیں۔ کچھ بچوں کی سالگرہ کو عالمی ایونٹ کے طور پر توکچھ شوہر کے ساتھ سیر سپاٹوں کو ابن بطوطہ بن کر ہرلمحہ کی پوسٹیں یوں لگاتے ہیں جیسے سب منتظر بیٹھے ہیں بس یہی جاننے کے لیے۔ کچھ کی دکھ بیماریاں اور دعاؤں کی درخواستیں بھی اس ٹیکنالوجی کا حاصل ہیں۔

کچھ اپنی عوامی خدمات کی تشہیر میں روزوشب سرگرداں… کیا بتانا ہے؟ کتنا چھپانا ہے؟ یہ فیس بک نہیں بتاتی۔

فیس بک کسی سے نہیں کہتی کہ وقت ضائع کریں، مگر بیشتر لوگ زندگیاں ضائع کر رہے ہیں۔ کئی گروپوں میں جاکر احساس ہوا کہ اتنی بڑی دنیا اور دریا میں رہ کر بھی پانی نہ لگے … ہے بڑا امتحان!

دجالی دور کابڑا فتنہ… آپا آپی … دیکھا داکھی… جب ہم سے زیادہ سمجھدار کر رہے ہیں تو ہم کیوں نہ کریں؟ یاسب غلط ہیں ہم درست، ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟

یہ توزمانے کاچلن ہے، ہم کیسے دقیانوس کہلانا پسند کریں؟

کل ایک تقریب میں وہ سب عورتیں جن کی بچے یونیورسٹی کی عمروں کے ہیں، مسلسل پوری تقریب کی یوں فوٹوگرافی کرتی رہیں جیسے پروفیشنل فوٹو گرافر۔ کسی تقریب میں آپ ہوں اور اپنا سیل فون نکال کر کبھی vertical اور کبھی horizontal گھما گھما کر لوگوں کو capture نہ کریں تو اس وقت اس کے دو ہی مطلب ہیں یا آپ کے پاس اسمارٹ فون نہیں، آپ اتنے مفلوک الحال ہیں یا ہے تو اتنا چیپ کہ آپ لوگوں کے سامنے نکال کر شرمندہ نہیں ہوسکتے۔

میں تو آج ٹھٹک کر رہ گئی جب میری چار سال پرانی یادداشت میرے سامنے کھولی گئی۔ بھول جاتے ہیں ہم کہہ کر، سن کر، عمل کرکے، مگر لمحہ لمحہ ثبت ہو رہا ہے ہر لمحہ۔ مگر آج تک کراماً کاتبین نے نہ مہینہ بھر کی میموری دکھائی، نہ سال بھر کی۔ اک بار ہی کھلے گا سب کیادھرا۔ بے وجہ ہی دل میں حسرت پیدا ہوئی کہ کاش کراماً کاتبین ھر سال کی memories کو شئیر کردیتے تو کچھ تو ندامت ہوتی۔ شاید پلٹنے کی توفیق مل جاتی۔

جب فیس بک اچانک ماضی سامنے رکھ دیتی ہے تو اک آہ تو نکلتی ہے دل سے کہ آہ میرا ماضی....! کیسے چھوٹ پائے گی گردن؟

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

Comments

افشاں نوید

افشاں نوید

روزنامہ جسارت میں کالم لکھتی ہیں۔ نوید فکر کے نام سے کالموں کا مجموعہ شائع ہو چکا ہے، اسی عنوان سے 5 ماہناموں میں تحاریر شائع ہوتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.