محبت لامحال، لیکن..... - شاہ فیصل ناصر

انسان کا لفظ ”اُنس” سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں ”محبت والفت” ہر انسان کے دل میں پیار و محبت اور شفقت کا جذبہ ضرور ہوتا ہے۔ کسی بھی انسان کا دل جذبہ محبت سے خالی نہیں ہوتا۔ جیساکہ ایک عربی شعر ہے۔

وَمَاسُمِّىَ الْإِنسَانُ إِلّا لِأُنْسِه یعنی انسان کو انسان اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ اُنس ومحبت کرنے والا ہوتا ہے۔

محبت کا یہ جذبہ صرف انسانوں تک محدود نہیں بلکہ تمام مخلوق کے لیے عام ہے۔ چرند وپرند، شجر وحجر، حشرات وحیوانات غرض کسی بھی شے کے ساتھ انسان کی محبت پیدا ہوسکتی ہے۔ کیونکہ محبت کسی پسندیدہ اور لذت والی چیز کی طرف طبیعت کے میلان کو کہتے ہیں۔ اس لیے شریعت مطہرہ نے انسان کے اس طبعی جذبے یعنی محبت کی درجہ ذیل اقسام میں حد بندی کی ہے۔ لازم، جائز، ناجائز، ممدوح اور مذموم وغیرہ محبتیں۔

پس جو لازم اور فرض محبت ہے وہ بندے کی اپنے رب الله سبحانہ وتعالی سے ہے۔ اپنے نبی محمد الرسول اللهﷺ بشمول تمام انبیاء کرام علیھم السلام، صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین اور تمام اولیاء اللہ، نیک وصالح لوگوں سے محبت کرنا ہے۔ یہ محبت کرنا ایمان کا تقاضا ہے جس کے بغیر ایمان کی تکمیل ہو نہیں سکتی۔

اللہ تعالی کے ساتھ محبت کا مفہوم یہ ہے کہ ہرحال میں اس کی اطاعت و فرمانبرداری کی جائے اور اس کی معصیت سے بچا جائے۔ جب انسان کے دل میں سچی محبت پیدا ہوجائے تو اس کے آثار اس کے اعضاء میں ظاہر ہوتے ہیں۔ پھر وہ اللہ تعالی کے فیصلوں پر راضی، اس کی ملاقات کا گرویدہ اور اس کی رضا وخوشی کا متلاشی رہتا ہے۔ قرآن کریم نے اسی طرف اشارہ کرکے فرمایاہے، ”ایمان والے لوگ سب سے بڑھ کر اللہ سےمحبت کرتے ہیں۔ (البقرہ۔ ١٥٦) نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے۔ ”ایمان کی حقیقی لذت وحلاوت اس شخص کو نصیب ہوگی جس کو الله و رسولﷺ کے ساتھ ہر چیز سے زیادہ محبت ہو۔ (بخاری۔ عن انس ابن مالک)۔

مومن انسان کے لیے دوسرے نمبر پر فرض و لازم محبت اپنے نبی محمد الرسول اللهﷺ کے ساتھ محبت کرنا ہے۔ کیونکہ وہ تمام انسانوں میں سب سے بہتر، افضل وکامل اور تمام اچھے صفات کى حامل شخصیت ہیں۔ آپﷺ کے ساتھ محبت کے بغیر کسی انسان کا ایمان مکمل نہیں ہوسکتا۔

فرمان الہی ہے۔ ”النَّبِیُّ اَولی بِاالْمُؤْمِنینَ مِنْ اَنفُسِھِم” نبى كريمﷺ مومنوں پرخودان كى جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں۔ (الاحزاب۔ 6)۔ جب تک آپﷺ کی محبت تمام محبتوں پر غالب نہیں ہوگی آدمی مومن نہیں بن سکتا۔ امام بخاری نے انس رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا، ”آپ میں سے کوئی بھی اس وقت تک مومن(کامل) نہیں بن سکتا جب تک وہ میرے ساتھ اپنے والدین، بیوی بچوں اور تمام انسانوں سے زیادہ محبت نہ کریں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے عملی طورپر اس محبت کے ثبوت پیش کیے ہیں جس کی وجہ سے ان کو اعلی وارفع درجات ملے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کلچر یا اسلام ‎- ایمن طارق

انبیاء کرام علیھم السلام کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ اور اولیاء اللہ کے ساتھ محبت کرنا لازم ہے۔ کیونکہ وہ بہترین انسان تھے جن کو اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ کی صحبت اور دین اسلام کی اشاعت کے لیے چنا۔ وہ ہمارے لیے مشعل راہ اور معیار ایمان ہیں۔ آپ ﷺ نے صحابہؓ کے ساتھ محبت کو اپنے ساتھ محبت قرار دیا ہے، ”جو ان سے محبت کرتا ہے تو میرے ساتھ محبت کی وجہ سے اور ان کے ساتھ بغض کرنا میرے ساتھ بغض رکھنے کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔

شریعت مطہرہ نے بعض محبتوں کو نہ صرف جائز کہا ہے بلکہ قابل اجر اور ممدوح قرار دیا ہے۔ جیسے بندے کا اپنے والدین، بیوی بچوں، عزیز واقارب اور عام مسلمانوں کے ساتھ محبت کرنا، جب تک یہ محبت اللہ و رسولﷺ کی اطاعت کی خلاف نہ ہو۔ معاشرے میں رہتے ہوئے ان افراد کے انسان پر حقوق ہیں جن میں ایک ان سے جائز محبت کرنا ہے۔

محبت کی ایک اور قسم کو شریعت نے ناجائز، حرام اور مذموم قرار دیا ہے۔ ایسی محبت جو اللہ و رسول ﷺ کی نافرمانی، نفسانی خواہشات کو پوری کرنے اور شہوت ولذت کے حصول کے لیے ہو اسے حرام، ناجائز اور مذموم قرار دیا گیا ہے۔ یہ محبت اتباع نفس اورخواہش کی بندگی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اور نفس ہمیشہ برائی پر ابھارنے والا ہی ہے۔ ابوبردہ اسلمی رضی اللہ عنہ، رسول الله ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ، ”سب سے بڑے خطرے کی چیز جس کے بارے میں، میں تمہارے لیے ڈر رہا ہوں، تمھارے پیٹ اور شرمگاہ کی گمراہ خواہشات اور اتباع نفس کی گمراہیاں ہیں۔ (مسنداحمد)۔

حرام محبت میں سب سے زیادہ خطرناک، نقصان دہ اور فتنہ انگیز محبت، نامحرم مرد وعورت (اجنبی لڑکوں، لڑکیوں) کا آپس میں ناجائز تعلق و محبت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے، ”میرے بعد مردوں کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ فتنہ عورتوں سے زیادہ کوئی اور نہیں (بخاری ومسلم۔ عن اسامہ)۔ دوسری روایت میں ہے کہ، “بنی اسرائیل میں سب سے پہلا فتنہ عورتوں سے اٹھا تھا۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اجنبی مرد وعورت کا اختلاط، آگ اور ایندھن کے ملنے کی طرح ہے، یعنی دونوں کا نتیجہ جلنا، جلانا اور فتنہ وفساد ہے۔ ایسی مخلوط مجالس ابلیس کی بہترین شکار گاہ ہوتی ہیں۔ جابر ابن عبداللہ نے رسول اکرم ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے، ”جوشخص اللہ اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہے وہ کسی اجنبی عورت کے ساتھ تنہا نہ ہو، کیونکہ ان دو کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے۔ (مسنداحمد) اس لیے شریعت مطہرہ نے نامحرم مرد وعورت(اجنبی لڑکے، لڑکی) کی آپس میں تعلق ومحبت کو نہ صرف حرام قرار دیا ہے بلکہ اس کے اسباب اور اس طرف جانے والے راستوں پر بھی پابندی لگائی ہے۔ مثلا اجنبی مرد وخواتین کا آپس میں دیکھنا، غیر ضروری گفتگو کرنا اور ہاتھ ملانا وغیرہ سب ناجائز و گناہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   دستک دینا ہر مرد کی فطرت ہے - ملک محمد

انسان فطری طور پر صنف مخالف کی طرف میلان کا جذبہ رکھتا ہے۔ اس جذبے کی تسکین کے لیے دین اسلام نے نکاح کی ترغیب دی ہے۔ چنانچہ عبداللہ ابن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ”اے نوجوانوں! تم میں سے جو نکاح کی طاقت رکھتا ہے وہ شادی کرلے کیونکہ یہ نظر کو(محرمات کے دیکھنے سے) جھکاتا ہے اور شرمگاہ کی حفاظت کرتا ہے۔ (متفق علیہ )

ناجائز تعلق اور حرام محبت کی طرف جانے والی سیڑھی کا پہلا قدم بد نظری ہے۔ نگاہ دل کو خبر دینے والی جاسوس ہے۔ اس کی آزادی دل میں فتنوں کوجنم دیتی ہے۔ اس لیے قرآن و حدیث نے نظر کی حفاظت اور بدنظری کی مذمت تفصیل سے بیان کی ہے۔ سورت النور كى آيات ٣٠-٣١ میں مومن مردوں اور عورتوں کو نگاہیں جھکانے کی تاکید کی گئی ہے۔ ابوہریرة رضى الله عنه سے مروی ہے، کہ نبى اكرمﷺنے فرمایا، ”آنکھیں بھی زنا کرتی ہیں اور ان کا زنا کرنا (نامحرم عورتوں اور بے ریش لڑکوں کو) دیکھنا ہے۔ (مسنداحمد)۔ دوسری روایت میں ہے کہ کسی مرد کا اجنبی عورت کے محاسن کو دیکھنا ابلیس کے تیروں میں سے ایک زہر آلود تیر ہے۔ جو دل میں شہوت کو بھڑکاتا ہے۔

دین اسلام نے فتنے اور گناہ کا سبب بننے والے کاموں سے نگاہ کی حفاظت کا حکم دیا ہے۔ تاکہ انسان دین ودنيا کی مشکلات سے محفوظ رہ سکیں۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ایک حسین وجمیل عورت دو مردوں کے سامنے سے گزری، جب نگاہ نے اس کو دیکھنا چاہا تو ایک نے نفس سے مجاہدہ کرتے ہوئے نظر جھکالی، وہ لمحہ گزر گیا اور وہ بھول گیا۔ دوسرے شخص نے اس پر نظر ٹکا دی، اپنا دل اس سے لگالیا۔ اور اس کی یہ ایک نظر اس کے لیے فتنہ اور بے دین ہونے کا سبب بن گئی۔ پس معلوم ہوا کہ شریعت کی حدود کا لحاظ کرتے ہوئے گناہوں کی طرف توجہ کی بجائے، گناہوں سے بچنا زیادہ آسان ہے۔

جب محبت سے بچنا محال ہے تو لازم، جائز اور ممدوح محبت کرنا چاہیے اور حرام، ناجائز، مذموم محبت سے اپنے آپ کو بچانا چاہیے۔ اور نبی کریم ﷺ کی بتائی ہوئی یہ دعا مانگنی چاہیے،

”أَلّلهُمّ إِنّى أَسئَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُّحِبُّكَ وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُنِى إِلى حُبِّك” (ترمذی) ترجمہ:-اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری محبت کا، اور ان کی محبت کا جو تجھ سے محبت کرتے ہیں اور اس عمل کی محبت چاہتاہوں جو تیری محبت کو مجھے قریب کرے۔ ۔ ۔ آمین

ٹیگز