کیا اسلام لبرل نہیں (2)؟ - وقاص احمد

پچھلی قسط

پچھلے مضمون میں بیان کیا گیا تھا کہ کیسے اسلام نے لوگوں کو ظالمانہ، جابرانہ اور استحصالی بوجھ سے نہ صرف فکری سطح پر بری کیا بلکہ باقاعدہ قانونی طور پر بھی انسانیت کوگھٹن، پریشانی اور مجبوریوں سے آزاد کیا۔ اسلام نے انسانی تاریخ میں ظلم اور استحصال کرنے والے تین سب سے بڑے طبقات یعنی حکمران طبقہ، مذہبی طبقہ اور زمیندار و سرمائے دار طبقہ کو نظم و ضبط اور عدل کے مطابق ذمہ داریاں ادا کرنے کا حکم دیا اور قوانین کا پابند کیا۔ خلفائے راشدین ؓ نے اس بات کو یقینی بنایا کہ تمام فیصلے قرآن و سنت کی روشنی میں ہوں اور وہ خود بھی اس کے پابند ی کریں۔ اس حوالے سے عام سے عام شخص کو بھی یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ حکومت کی غلطیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی کرے۔ اکابر صحابہ کی شوریٰ جو ایک طرح سے پارلیمنٹ اور کابینہ کا کام کرتی تھی، امیر المؤمنین کو مشورے فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ پوری طرح ان کو قوانین کا پابند رکھتی۔ بعد کے زمانوں میں اس میں اگر خرابی آئی تو احکامات اور نظریات پر عمل نہ کرنے سےآئی جو ایک الگ بحث ہے۔ واضح رہے مضمون کا مقصد مغربی لبرل نظریات کا اسلام کے نظام ِ عدل و قسط اور فلسفہِ حریت سے تقابل و موازنہ ہے۔

جن قدروں کو مغربی لبرلزم فرد کی آزادی قرار دیتی ہے وہ اصلاً کئی دوسرے زاویوں، تجزیوں سے کئی دوسرے افراد اور مجموعی معاشرے پر ظلم کا باعث بنتی ہے۔ مغربی لبرلزم معاشرے کو ظلم، ایک حسین و دلکش انداز میں سہنے کا نہ صرف عادی بنا تی ہے بلکہ بعض اہم معاملات میں بے حسی کو ترغیب بھی دیتی ہے۔پھر حالات پر وقتی افسوس کرنا اور عملاً کچھ نہ کرنا عادت و مزاج کا حصہ اور معاشرے کا مجموعی رواج بن جاتا ہے۔ جیسے مادر پدر آزاد فری مارکیٹ اکانومی، آف شور بینکنگ اور سرمایہ دارانہ نظام نے دنیا میں غربت اور اس حوالے سے ہماری بے حسی کو کہاں تک پہنچا دیا ہے وہ معاشرے اور حکومتوں کی مجموعی سوچ کا آئینہ دار ہے۔ Oxfam کے مطابق گزشتہ ایک سال میں دنیا میں جو دولت پیدا ہوئی اس کا 82 فیصد اوپر کے 1 فیصد کے پاس ہی چلا گیا یعنی انکی پہلے سے لبا لب تجوریوں میں مزید دولت ٹھونس گئی۔ باقی ماندہ 18 فیصد دولت نچلے 49 فیصد نے جمع کر لی جبکہ انتہائی نچلے 50 فیصد لوگوں کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اب دیکھیں مغربی لبرل فکر سے جنم لینے والی معیشت کا یہ حسین نظارہ کیسا ہے؟

قرآن میں ارشاد ہوا:

اور جو شخص سیدھا رستہ معلوم ہونے کے بعد پیغمبر کی مخالف کرے اور مومنوں کے رستے کے سوا اور رستے پر چلے تو جدھر وہ چلتا ہے ہم اسے ادھر ہی چلنے دیں گے اور (قیامت کے دن) جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے ﴿ 115﴾ سورۃ النساء

مغرب میں بچے آج بھی والدین ہی پالتے ہیں لیکن ان کو اس بات پر راضی و مطمئن کردیا گیا ہے کہ بچے بلوغت کے بعد اپنے فیصلوں میں آزاد ہیں۔ وہ اپنی شادی، جنسی ترجیحات اور دیگر لائحہ عمل میں اگر آپ سے کوئی مشورہ نہ لیں تو آپ برا نہ مانیں۔ اوباما کی ایک تقریر یاد آرہی ہے جس میں وہ امریکی نوجوانوں سے کہہ رہا تھا کہ ہائی اسکول تک تعلیم کافی نہیں ہے ، کالج یونیورسٹی جاؤ۔ امریکہ کو اعلیٰ تعلیم یافتہ امریکی نوجوانوں کی ضرورت ہے۔ اس نصیحت کی آخر وجہ کیا بنی ؟ امریکی والدین اب بچوں کی تعلیم میں زیادہ انویسٹمنٹ نہیں کر رہے، قر بانیاں نہیں دے رہے، نوجوان جلد گھر چھوڑ رہے ہیں، زندگی میں آزاد ہورہے ہیں۔ زندگی کی چکاچاند روشنی کا لطف لینے کے لیے فوری نوکری پکڑ رہے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ رشتے ناطے سب چھوٹ جاتے ہیں۔ کیا آپ کو پتا ہے برطانیہ نے باقاعدہ ’’وزیر تنہائی‘‘ مقرر کردیا ہے جس کا کام برطانیہ میں رہنے والے لاکھوں تنہائی کا شکار لوگوں کا خیال، ان کے مسائل پر نظر رکھنا ہے؟ مذہب بیزار مغربی فکر کو مزید چار چاند انتہائی مضبوط ملٹی نیشنل کارپوریشنز نے لگا دیے ہیں۔ مادّہ پرستی فکری طور پر کیا ہے؟ عملی طور پر ملٹی نیشنلز نے ہمیں سمجھا دیا ہے۔ ’’خریدار بڑھنے چاہئیں بس‘‘۔ اخلاقی قدریں کہیں بھی جائیں لیکن یہ سمجھا دیا گیا ہے کہ کامیابی خود غرض انفرادیت میں ہے۔ مغرب کی ٹیکنالوجیکل ترقی میں بہت بڑا ہاتھ اصل میں ان انتہائی ذہین تارکین ِ وطن امریکی شہریوں کا ہے جن کے اندر بہرحال کچھ اخلاقی قدیں موجود ہیں۔ جو دنیا بھر سے یورپ، امریکہ پہنچ کر شہریت اختیار کر رہے ہیں اور اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

اسی طرح نوّے فیصد اشتہارات میں مصنوعات، عورت کا حسن آویزاں کر کے بیچی جاتی ہے۔ ڈراموں اور فلموں میں فحش مناظر عام ہیں۔ مخصوص فلمیں الگ۔ اس کا اثر پورے معاشرے پر مختلف انداز و شدت سے پڑتا ہے۔ ہر شخص کا شعور، جذبات، جیننر اور اس کی نفسیاتی صورتحال مختلف ہوتی ہے۔ وہ اسی کی بنیاد پر اپنے ردعمل کے جوہر دکھاتا ہے۔ ان اعمال سے معاشرے میں پڑنے والے بعض اثرات جلد اور واضح نظر آتے ہیں جبکہ بعض مسائل کچھ تاخیر سے مگر زیادہ شدت سےعیاں ہوتے ہیں۔ اثرات و نتائج جب تک کسی خطرناک خبر کی صورت میں سامنے نہ آئے ہم اس پر بات بھی نہیں کرتے۔

تو اس ماحول میں عورتیں اپنی کامیابی، حسن کے اظہار میں ہی سمجھنے لگتی ہیں۔ تقریبات اور پارٹیز تو الگ، آفس میں بھی لباس دلربا اور دلکش ہونے لگتے ہیں اگر مختصرنہ بھی ہوں۔ پھر انہی عورتوں کا متعدد طریقوں اور انداز سے استعمال اور استحصال ہوتا ہے اور عورتیں سمجھ کر بھی نہیں سمجھ رہی ہوتیں۔ اس نا دیدہ، غیر واضح، فکری ظلم سے لیکر کلبوں اور ہوٹلوں میں ہونے والے قانوناً جائز استحصال اور ظلم، سنگل ماؤں کی تعداد میں ہوشربا اضافے، کروڑوں زنا با لرضا اور زنا بالجبر سے پروان چڑھنے والے ذہنی، جسمانی، خاندانی مسائل، دشمنیاں صرف چند مسلّمہ نتائج ہیں۔ امریکہ میں نفسیاتی معالج سب سے زیادہ کمانے والے لوگوں میں سے ہیں۔ جن کی تعداد اور آمدنی میں دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی ہورہی ہے۔ لا تعدا د سروے مسائل واضح کرتے ہیں لیکن اصلاحی اقدامات لینے سے حکومتیں قاصر و مجبور ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی فرد اور معاشرے کے درمیان توازن بری طرح متاثر ہورہا ہے۔ جرائم، نفسیاتی بیماریاں، تنہائی اور خود غرضی خطرناک حدوں کو چھو ر ہی ہیں۔

دوسری طرف اللہ نے اپنے لامحدود علم و حکمت سے انسانیت کو بیان کئے گئے مسائل سے بچنے کے لیے احکامات دیے۔ عورتوں کو ستر و حجاب کے احکامات دیے، صرف ضرورت کے وقت گھر سے نکلنے، نا گزیر حالات میں باقار اور با پردہ طریقے سے ملازمت کرنے کی اجازت دی گئی۔ محرم مردوں کو عورتوں کی کفالت کا حکم دیا۔ بچوں کی پرورش اور گھر کا خیال عورتوں کی اولین ذمہ داری بنائی۔ یعنی اگر الوہیات، ایمانیات اور تیقّنات کی بحث نہ بھی کی جائے اور مغرب اور اسلام کے نظریات کو دنیاوی فوائد اور نقصانات کے ترازو میں تولا جائے تو اسلام بے انتہا بھاری ثابت ہوتا ہے۔ وہ بھی ہم انسانوں کی اب تک کی محدود، کوتاہ نظر معلومات کے مطابق۔ نجانے اللہ کے دین میں کیا کیا حکمتیں اور فوائد پوشیدہ ہیں۔

… کہہ دو کہ ہدایت تو وہی ہے جو خدا نے بتائی ہے (سورۃ الانعام 71)

اگلی بات یہ کہ انفرادی اور خاندانی معیشت، حصول رزق و ضروریات اور ان سے جڑے ہوئے تمام معاملات میں اسلام نے انسانی مساوات کا درس دیا اور عملی طور پر بھی اس کی مثال 1400 سال پہلے فراہم کردی۔ اسلام نے ہر انسان کو چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم بنیادی حقوق مقرر کردیے۔ معاشی جدوجہد میں، نوکری میں، تعلیم میں، کاروبار کے چناؤ میں مسلم اور غیر مسلم کو ایک جیسی آزادی دی گئی اور ایک جیسی ہی پابندیا ں لگائی گئیں۔

سیاسی حوالوں سے اولاً تو مسلمانوں کے مابین کامل مساوات کو لاگو کیا گیا یعنی رنگ، نسل، زبان، علاقہ، مالی حیثیت، اولاد و قبیلہ ان سب حوالوں کو سائیڈ لائن کر کے
مسلمانوں کو مسا وی اور برابری کے سیاسی او ر معاشی حقوق دیے گئے۔ لیکن جب ہم سیاست اور ریاستی ذمہ داریوں کی بات کرتے ہیں تو چونکہ معاملہ مملکت و ریاست سے وفاداری کا آجاتا ہے اس لیے انسانوں میں مناسب تفریق و میرٹ کا ہونا ضروری ہے۔ ہم اس بات کو منطقی و اصولی جانتے ہیں کہ کسی بھی ادارے کا سربرا ہ بننے کے لیے اس ادارے میں شامل ہونا پہلی شرط ہو تی ہے، اس کے بعد ٹیلنٹ، تجربہ، تعلیم وغیرہ دیکھا جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح امریکہ کا سربراہ غیر امریکی نہیں ہوسکتا بلکہ کوئی وہاں ہجرت کرکے ستّر سال سے رہ رہا ہو تب بھی امریکی قانون کے مطابق صدر نہیں بن سکتا۔ مجھے یقین سے تو نہیں پتا لیکن گمان یہی ہے کہ دوسرے اہم منصبوں کے لیے بھی یہی اصول کار فرما ہوگا۔ کوئی اسے انسانی حقوق کا مسئلہ نہیں بناتا۔ بالکل ویسے ہی اسلامی فکر و فلسفہ میں بھی کچھ اہم منصبوں اور اداروں کو چھوڑ کر غیر مسلموں کو اسلامی ریاست میں سارے سیاسی حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ اسلامی حکومت بعض پوزیشنز کے لیے ایک مختصر کوٹہ بھی رکھ سکتی ہے کہ کہیں مقابلےاور اوپن میرٹ میں ناکام ہوجانے کی وجہ سے اقلیت کسی نمائندگی سے ہی محروم نہ ہوجائے۔ اسلامی ریاست کے سیکولر نہ ہونے کی وجہ سے غیر مسلموں کے نمائندے پارلیمنٹ میں ہونا ضروری ہیں اور اسلام اس کی مکمل اجازت دیتا ہے۔

اگلا نکتہ یہ کہ معاشرتی حوالوں سے بھی اولاً اسلام مسلمانوں کے درمیان کامل مساوات کا درس دیتا ہے۔ اس کے خلاف کوئی قانون نہیں بن سکتا۔

لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرو اور خدا کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔ (سورۃ الحجرات 13)

خاص طور پر شادی، طبقاتی نظام کا مطالعہ کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہوتی ہے جس کے تجزیہ سے معاشرے میں اونچ نیچ کا پتہ چلتا ہے۔ زمینی حقائق اور لوگوں کا عملی رجحان اس معاملے میں کچھ بھی ہو، اسلام کے نظریے اور فکر کو کوئی دوش نہیں دے سکتا۔ اس معاملے میں اسلام انتہائی ’’لبرل‘‘ ہے۔ شادی بیاہ میں رشتوں کے چناؤ میں کوئی ذات پات، قبیلہ، نسل اور امیری غریبی کی کوئی پابندی نہیں۔ اسلام میں اچھے رشتے کی بنیاد تقویٰ ہے۔ اسلام کے آنے کے بعد کئی دہائیوں تک صحابہ اور سلف صالحین میں اس کا رواج رہا اور بے شمار مثالیں مل جاتی ہیں۔ باقی شریعت میں رہتے ہوئے کچھ تدبیری اور حکیمانہ معاملات ہو سکتے ہیں۔

البتہ غیر مسلموں کے معاملے میں شادی کے حوالے سے احکامات ہیں اور اس کی بنیادی وجہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کے تقاضے ہیں۔ مستقبل کی نسل ہے۔ خاندانی مسائل ہیں۔ فقہی مباحث میں داخل ہوئے بغیر اگر مسلمان مرد یا عورت یا اس کا خاندان اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبتوں، حکمتوں اور پابندی کی وجوہات کو ترازو میں تولیں گے تو قوی امید ہے کہ وہ شادی کے لیے مسلمان جوڑے کا ہی انتخاب کریں۔ غیر مسلم بھی اس معاملے میں اکثر وہی رویہ رکھتے ہیں جو مسلمان رکھتے ہیں۔ جیسے پہلے بتایا گیا کہ اسلام کے انسانی حریت کی اساس، اللہ کی بندگی اور محسنِ انسانیت رسول اللہﷺ کی اطاعت و محبت ہے۔ اسلام ہمیں ہماری ہی دنیاوی اور آخرت کی بھلائی اور مشکلات سے بچانے کے لیے ایک چھوٹی سی پابندی لگا رہا ہے کہ غیر مسلموں کو چھوڑ کر جہاں مرضی آئے زوج پسند کرو۔ چاہے کسی کو مسلمان ہوئے چند گھنٹے ہی کیوں نہ ہوئے ہوں۔

مرضی کی شادیوں پر مزید غور کریں تو مغرب اور اسلام میں یہ فرق بھی سامنے آتا ہے کہ وہاں بیشتر شادیوں یا اس جیسے تعلقات میں نہ بچوں کو والدین کا احساس ہے اور نہ والدین کو بچوں کا۔ گرل فرینڈ بوائے فرینڈ رکھ لینا ہی شادی کا نعم البدل بنتا جارہا ہے۔ اسلام نے زنا حرام کیا۔ اسے آزادی نہیں بلکہ ایک ظلم، گندگی اور جرم سے تعبیرکیا۔ وجہ اس کی بے شمار ہیں کچھ اوپر بیان کردی گئیں ہیں۔ اسلام نے نکاح آسان کیا۔ سارے اخراجات مرد کو پورے کرنے کا حکم دیا۔ نکاح کو دو خاندانوں میں الفت و محبت کا ذریعہ کہا۔ لیکن اگر مسلمان لڑکا لڑکی اگر خاندان کی رضامندی کے بغیر کورٹ میں یا کہیں اور اسلامی شرائط کے مطابق شادی کرلیتے ہیں تو قانوناً نکاح منعقد ہوجاتا ہے۔ اسلام اس کو ناجائز و حرام نہیں کہتا۔ ہم اسے اسلام کی وسعت سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس طرح کے عمل سے دونوں خاندان اور نو بیاہتا جوڑا خود ذہنی پریشانی کا شکار ہوجاتا ہے۔ اسلام ہر کسی کو عفو و درگزر کا حکم دیتا ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ شادی کے بعد زندگی، جوڑے اور خاندانوں دونوں کے لیے نہایت اطمینان بخش، پر سکون، دیر پا اور پاکیزہ ہو۔ پسند کی شادی کے معاملے میں اسلام نے فرد اور خاندان کے درمیان مشاورت اور رائے کے احترام کا ایک حسین امتزاج رکھا ہے اگر اس پر عمل کیا جائے تو۔ لڑکی اور لڑکے کی رضامند ی اور خوشی بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی دونوں خاندانوں کی۔ اس حوالے سے قانون کو دیکھا جائے تو لڑکی اور لڑکا نکاح کے منعقد ہونے کے لیے فائنل اتھارٹی ہیں اس لیے ان کی پسند کو اہمیت دینا بھی قانونی بن جاتا ہے۔ اس حوالے سے خوامخواہ کی انا پرستی، ضد اور ہٹ دھرمی سے سب کو پرہیز کرنا چاہیے۔ اسلام اور مغرب کے نظریات کا پس منظر بہت مختلف ہے۔ اسلام فیملی کو مضبوط کرتا ہے۔ رحمی رشتوں کو بے انتہا اہمیت دیتا ہے۔ پوری اسلامی سوسائٹی اسی پر استوار ہے۔ اب اس کے بعد کیا کہا جائے کہ کو نسا نظریہ جامع، وسیع الجہت اور وسیع النظر ہے۔ کس نظریہ سے فرد اور اجتماعیت کے درمیان زیادہ توازن پیدا ہوا۔

مختصراً یہ کہ اسلام پر انفرادی آزادیوں کے حوالے سے طنز اور تنقید کرنے والے اگر معاملے کو صرف اور صرف انفرادی حقوق کے بجائے فرد کی اجتماعی ذمہ داریوں اور اس کے بعض انفرادی فیصلوں کے ماحول پر اثرات کے تناظر میں تولیں اور ناپیں گے تو وہ یقیناً اسلامی نظریات و فکریات کے ہی پاس پہنچیں گے۔ اسلام کا تصور امانت فلسفیانہ نقطہ نظر سے سمجھنا نہایت اہم ہے۔ یعنی انسان کے پاس جو مال و اسباب، جو صلاحیت و ہنر، جو صحت و وسائل اور اختیارات اور امارات موجود ہے وہ صرف اس کے رب کا فضل ہے۔ اس کے پاس امانت ہے۔ ایک انسان کیا کرسکتا اگر اللہ اسے کند ذہن بنا دیتا، کسی برے ماحول میں پیدا کردیتا، بیماری دے دیتا، معذور کردیتا۔ ہر طرف نشانیاں بکھری پڑی ہیں۔ سو یہی فلسفہ انسان کو اپنے مال، اپنے وقت، اپنی صلاحیتوں کا انفاق و ایثار کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ اللہ سے محبت، اس کی اطاعت اور اس کے شکر پر مائل کرتا ہے۔

اسلامی احکامات و شریعت، فکریات و نظریات اصل میں فرد و ریاست، فرد و خاندان، مرد و عورت، سرمایہ اور محنت، مزدور و مالک، تاجر و گاہک کے حقوق و فرائض کے درمیان ایک حسین توازن اور امتزاج کا نام ہے۔ بے شک اللہ العدل ہے، المقسط ہے۔

Comments

وقاص احمد

وقاص احمد

کراچی یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز اور سنہ2000 سے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں خدمات سرانجام دینے والے وقاص احمد ایک دنیا دیکھ چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ ، مشرقِ بعید اورآسٹریلیا کے سفر کر چکے ہیں ۔مطالعہ کا شوق تو بچپن سے تھا لیکن گزشتہ کئی برسوں سے باقاعدہ فلسفۂ دین،احیائے دین کی تحاریک، فلسفہِ اخلاق ، سیاست، احتساب اور تاریخ کے موضوعات ان کی تحقیقات اور فکر کا حصہ ہیں۔ اس حوالے سے علمائے کرام اور دینی اسکالرز کے بے شمار دروس اور لیکچرز میں شرکت کر چکے ہیں۔ ان سے ٹوئٹر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.