چل مر جا، تُو گستاخ ہے! - کامران امین

ممتاز قادری کے ضمن میں سارے عاشقان رسول سے یہ اختلاف کرنے کی گستاخی کی تھی کہ حضرات! چاہے مجرم کا جذبہ لاکھ درجے قابل ستائش ہی کیوں نہ ہو مگر اس نے جو طرزِ عمل اختیار کیا یہ انتہائی خطرناک ہے اور اگر اس کی ایک دفعہ اجازت دے دی گئی تو فساد فی الارض کا دروازہ کھل جائے گا۔ گلی محلے میں فتوے کی فیکٹریاں پہلے ہی لگی بیٹھی ہیں۔ لوگ ان فیکٹریوں میں جانے کی ضرورت بھی کبھی محسوس نہیں کریں گے بس جہاں جس کا دل آیا جس کی سمجھ میں آیا گستاخ قرار دے کر قتل کر دیا اور اگر کسی کو گستاخ، کافر یا کچھ اور قرار دے کر قتل کرنے کا سلسلہ چل نکلا تو ہر شخص بیک وقت سلمان تاثیر بھی ہو گا اور ممتاز قادری بھی۔ زندگی کا انحصار بس اس بات پر ہو گا کہ وار کرنے میں پہل کس نے کی؟

یہ آگ ابھی بجھی ہی نہیں تھی کہ جنید جمیشد اس کی زد میں آگئے اور مخالف فرقے نے ان کی بے احتیاطی کو جواز بنا کر گستاخ کے فتوے جاری کر دیے۔ یہ الگ بات کہ وہ ایسے کسی سر پھر ے کی پہنچ سے دُور رہے، وگرنہ جہاز کا حادثہ لوگوں کے ذہنوں سے دوسرے دن ہی محو ہو چکا ہوتا۔ اس واقعے کو زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ چنیوٹ میں ایک اور غازی صاحب خود ہی قاضی و منصف بنے اور تبلیغی جماعت کے دو ساتھیوں کو شہید کر دیا۔ زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ خیبر پختونخواہ سے ایک اور دردناک خبر نے پورے ملک کو ہلا کر کھ دیا۔ مشال خان کو جس دردناک انداز سے گستاخی کے فتوے لگا کر پڑھے لکھے لوگوں نے قتل کر دیا اس سے یہ بات ضرور عیاں ہوئی کہ خرد کا بھلا جنگلوں میں کیا کام؟

ہم جو انسانوں کی تہذیب لیے پھرتے ہیں

ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں

اس سارے واقعے کی تحقیقات ابھی بھی جاری ہیں لیکن بعد میں آنے والی خبروں سے یہ معلوم ہوا کہ مشال خان کا قتل خالصتاً سیاسی بنیادوں پر ہوا اور مذہب کا صرف سہارا لیا گیا۔ یہ حالات اس خطر ناک رحجان کی کی طرف اشارہ کرنے کےلیے کافی تھے جس کے چلن سے زندگیاں محض ایک نعرے کی دوری پر موقوف ہو جاتیں اور اس موقع پر اس بات کی اشد ضرورت تھی کہ علما کرام اس مسئلے کی نزاکت کو محسوس کرتے اور اپنے حامیوں کو اس معاملے میں کسی قاعدے قانون کی پیروی کرنے کا حکم دیتے۔ لیکن جب قیادت گھمن اور ٹوکوں کے حوالے ہو تو خیر کی کیا امید اور علما تو کیا کرتے خیر سے ہماری حکومت بھی پھلجڑیاں چھوڑنے سے باز نہیں آتی اور عین ایسے مواقع پر جب چنگاریاں پہلے ہی سلگ رہیں تھیں، احمدیوں کے متعلق قوانین کو چھیڑ دیا گیا۔ اس واقعے نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی اور کہیں گوشہ گمنامی سے نکل کر کچھ نام ابھرے اور ایک دفعہ پھر گستاخ گستاخ کے نعرے اور فتوے! اب جب نشانہ حکومتی افراد بنے تو حکومت کو ہوش آیا اور فتویٰ دینے پر پابندی لگا دی مگر ایسے عا لم میں حکومت کی کون سنتا؟

چانچہ اب کل سے پھر یہ خبریں گرم ہیں کہ طالب علم نے استاد پر توہین رسالت کا الزام لگا کر قتل کر دیا۔ خبروں کے مطابق طالب علم حد درجے کا نالائق تھا اور اکثر اس استاد سے ڈانٹ کھاتا رہتا تھا۔ اب سینے پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کون سا استاد اپنے شاگرد کی غلطی پر اسے متنبہ کرنے کی کوشش کرے گا؟ بارود کی ایک فیکٹری ہے جس پر میں اور آپ بیٹھے ہیں۔ ہر مسلک نے ایک دوسرے کے خلاف کفر و شرک اور گستاخی کے بے پناہ فتوے دیے ہیں اور بھی دیے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اب غازی بننے کا رحجان بھی جنون کی حد تک جڑ پکڑ چکا۔ آگ ہمارے گھروں میں داخل ہو چکی، اسے بجھائیے، اس سے پہلے کہ سارا گھر راکھ کا ڈھیر بن جائے۔

اس سلسلے میں ایک ایک دوسرا پہلو بھی قابل توجہ ہے۔ درج بالا ہر واقعے میں ایک عام فرد نے قانون ہاتھ میں لیا خود ہی منصف بن بیٹھا اور جلّاد بھی۔ یہ ایک اور خطرناک رحجان کی طرف اشارہ ہے کہ لوگوں کا نظام عدل پر اعتبار باقی نہیں رہا۔ ایسا کیوں ہوا؟ اول روز سے ہی کتنے ایسے گستاخی کے واقعات ہوئے جہاں مجرمان پکڑے گئے اور عدالتوں میں ان کاجرم ثابت بھی ہو گیا لیکن آج تک کسی ایک کو بھی سزا نہ دی جا سکی۔ اُلٹا وقت کے حکمران سزا یافتہ مجرموں کے حق میں بیانات جاری کر کے جزبات اور بھی بڑھکاتے رہے۔ جب لوگوں کا منصف وقت اور حاکم وقت پر اعتبار ختم ہو چکا ہو تو انہیں جہاں موقع ملے گا اپنا بدلہ وہ خود لیں گے۔ ممتاز قادری کے کیس میں بھی سب سے بڑی دلیل یہی تھی کہ اگر وہ عدالتو ں میں چلا بھی جاتا تو سب کو پتہ فیصلہ کیا ہونا تھا۔ یہ ایک اور المیہ ہے بس پھر جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ اس سلسلے میں ہمارے حکومتوں کو اور اس سارے عمل سے متعلقہ تمام اداروں کو مل بیٹھ کر کسی پائدار حل کی طرف جستجو کرنی چاہیے محض مفتی کا گلہ دبانے سے مرض سے نجات نہیں ملے گی۔

Comments

کامران امین

کامران امین

مصنف کا شمار باغ، آزاد کشمیر کے قابل نوجوانوں میں ہوتا ہے اور آج کل وہ ’’یونیورسٹی آف چائنیز اکیڈمی آف سائنسز‘‘ سے نینو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کررہے ہیں۔ تعلیم اور سماجی موضوعات پر لکھتے ہیں۔ باالخصوص چین میں تعلیم کے خواہش مند طلبا رہنمائی کے لیے ان سے فیس بک پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.