طریقت کیا ہے؟ - مقصود حسین

طریقت کیا ہے؟ شریعتِ اسلام سے اس کا کیا ربط ہے؟اور کیا اسلام اپنے پیروکاروں سے اتباعِ شریعت کے علاوہ کسی ایسی چیز کا بھی تقاضا کرتا ہے، جو احکامِ شریعت کی بجاآوری یا پھر فرد کی اخروی فلاح کے لیے لازمی ہوــــــــ؟ کچھ یہ اور تقریباً اسی نوعیت کے کچھ مزید سوالات، بعض تو اسلام کے طلبہ جبکہ بعض دیگر علمائے شرع کی جانب سے اکثر اوقات سننے کو مل جاتے ہیں۔ گو کہ مسئلہ اتنا زیادہ دقیق یا پیچیدہ تو نہیں مگر بہر حال وضاحت طلب ضرور ہے۔

اسی وضاحت سے قبل یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اس قسم کے اشکالات اسلام کے علمی مطالعہ سے طبعی طور پر پیدا شدہ مسائل ہر گز نہیں ہوتے بلکہ اس کے برعکس اس طرح کے مسائل کی نوعیت علمی سے زیادہ جذباتی، یا معروضی سے زیادہ موضوعی ہوتی ہے۔ مثلاً معترضین کا " آرگومنٹ"، تفصیلی طور پر، کچھ اس طرح تشکیل پاتا ہے کہ ”آخر اس امر کا کیا جواز ہے کہ "اليؤم اكملت لكم دينكم" کے واضح تر قرآنی اعلان کے بعد بھی تصوف یا طریقت کے نام سے علم و عمل کی ایک اضافی epistemology (بیعت، ارادت، سلوک، کشف، ولایت وغیرہا) وجود میں لائی جائے؟ اور پھر اس اختراعی علمیات کے ثبوت کے لیے شرعِ اسلامی ہی کو بطورِ حوالہ پیش کیا جائے؟ جبکہ شرعِ اسلامی قرآن و حدیث (تقریباً پانچ سو آیاتِ احکام اور لگ بگ تین ہزار احادیث) کی بنیاد پر "اوامر و نواھی" کی صورت میں شارع علیہ السلام کی حیاتِ مبارکہ میں ہی اپنی تکمیل کو پہنچ چکی ہے!

اسی ضمن میں آرگومنٹ کا دوسرا رخ یہ ہوتا ہے کہ "اوامر" کی شرعی ترتیب میں فرض، واجب اور استحباب جبکہ "نواہی" میں حرام، مکروہ اور اباحت کا نظم ملحوظِ خاطر ہے، لہٰذا نظمِ احکام کے اس دائرہ سے خارج علم و عمل کی ہر تخلیق و ترتیب اپنی اصل و فرع ہر دو اعتبار سے شریعتِ اسلام سے بھی خارج تصور کی جائے گی۔ “

مذکورہ بالا دونوں آرگومنٹس کے کچھ مضمرات اور کچھ تباہ کن نوعیت کے اطلاقات ہیں۔ جنہیں بلا واسطہ یا بالواسطہ دونوں طریقوں سے زیرِ بحث لا کر آشکارا کیا جا سکتا ہے لیکن یہاں پر مسئلہ کو ہم "دین" کے وسیع تر تناظر میں دیکھنے کی کوشش کریں گے، یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ اگر مسائل کو دین کے تناظر میں حل کرنے کی کوشش جائے تو یقینی طور پر کئی ایک اشکالات از خود رفع ہو جاتے ہیں یا پھر اصلاً بے معنی ہو کر رہ جاتے ہیں مگر بد قسمتی سے عصرِ حاضر کی مذہبی فکر کا سب سے بڑا المیہ ہی یہ ہے کہ مسائل کو دینی اپروچ کے ذریعے ایڈریس ہی نہیں کیا جاتا اور یہ بات کافی حد تک درست ہے کہ آج کی مذہبی فکر میں اسی دینی اپروچ ہی کا فقدان ہے جس کی وجہ سے ذہنوں میں كئی ایک بے معنی قسم کے اشکالات جنم لیتے ہیں لیکن اگر انہی اشکالات کو دینی تناظر میں رکھ کر دیکھنے کی کوشش کی جائے تو تمام تر ابہامات ازخود ہی دور ہو جاتے ہیں۔

بہرحال، اس پس منظر کو ذہن میں رکھتے ھوئے، ہم موضوع سے متعلقہ انہی چار اصطلاحات کو لیں گے، جنہیں مستند ائمہ ہائے تصوف نے اپنی کتب میں طریقت کی تعبیر اور تشریح کے لیے استعمال کیا ہے۔ تاہم یہ یاد رہے کہ یہ اصطلاحات قرآن وسنت سے ہی مستفاد ہیں اور قرآن و سنت کی روح سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ یہ چاروں اصطلاحات الگ تھلگ چار فلسفے یا طریقِ زندگی کا نام قطعاً نہیں ہیں بلکہ در حقیقت یہ اصطلاحات فرد کے طریقِ مستقیم پر مسلسل سفر میں ترقی کے مخلتف درجات سے عبارت ہیں، جنہیں بعض صوفیاء منازلِ سلوک کا نام دیتے ہیں۔ اب فرداً فرداً ان اصطلاحات کو ذکر کر کے ان کی مختصر وضاحت پیش کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ڈاکٹر مصطفیٰ حلمی کی کتاب تاریخ تصوف ایک نظر میں - قاسم محمود

١- شریعت

قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے: لکل جعلنا منکم شرعة و منهاجا۔ الخ (5:48) کہ ہم نے تم میں سے ہر ایک (امت) کے لیے ایک راستہ اور طریقہ مقرر کیا ہے۔ آیت کریمہ سے معلوم سے ہوتا ہے کہ جس طرح ہر امت کے لیے ایک شریعت مقرر کی گئی اسی طرح امت محمدیہ علیہ افضل الصلوات لیے بھی ایک شریعت مقرر کی گئی ہے، جس پر چل کر انسان اخلاقی کمال اور روحانی عروج حاصل کر سکتا ہے۔ شریعت دراصل اس سوال کا جواب ہے کہ وہ راستہ یا طریقہ کیا ہے جس پر چلنا شارع کو مطلوب ہے؟ اور اگر یہ راستہ اسلام ہے تو پھر اسلام از خود کیا ہے؟ یا دوسرے الفاظ میں اسلام فرد سے کیا مطالبہ کرتا ہے؟ اس سے معلوم ہوا شریعت کا درجہ فرد کے لیے سرا سر علمی اور شعوری ادراک کا درجہ ہے، جس میں اسے بطور مومن اپنے فرائض یا ذمہ داریوں کا ادراک حاصل ہوتا ہے، شریعت کے درجہ پر اس سوال کا جواب قرآن کریم کی آیاتِ احکام (٥٠٠) اور احادیثِ احکام (٣٠٠٠) میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔

٢- طریقت

قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے و ان لو استقامو على الطريقة لاستقيناهم ماء غدقا (16:72) کہ اگر وہ طریقت پر ثابت قدم رہیں تو ہم ضرور انہیں کثیر پانی سے سیراب کریں گے۔ شریعت کی جانب سے عائد کردہ ذمہ داریوں کے شعوری ادراک کے بعد کا درجہ طریقت کا درجہ ہے۔ طریقت دراصل اس سوال کا جواب ہے کہ بامقصد اور با معنی طور پر نہ کہ رسمی طور پر اسلام پر چلنے کا طریقہ کیا ہے؟ یا آسان الفاظ میں مومن سے مسلم کیسے بنا جاتا ہے؟ یا حقیقی معنوں میں مسلم بننے، بطور مسلم زندگی گزارنے اور بطور مسلم مطلوبہ اخلاقی کمال حاصل کرنے کا "طریقہ" (Method) کیا ہے؟ طریقت کا سوال سرا سر عملی سوال ہے، جس میں عمل کا منہاج مطلوب ہے جبکہ شریعت کا سوال سرا سر علمی ہے جس میں فرائض اور ذمہ داریوں کا ادراک مطلوب ہے۔ یا یوں کہہ لیں کہ شریعت کا درجہ تھیوری کا درجہ ہے جبکہ طریقت کا درجہ پریکٹس کا درجہ ہے اور اس درجہ کے سوال کا جواب قرآن کے ساتھ ساتھ زیادہ تر سنت نبوی علیہ افضل السلام میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے اسی قبیل سے ارشاد فرمایا تھا؛ اخلاقه القران۔

طریقت کا درجہ کئی اعتبارات سے اہم ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص کسی مرض سے شفایابی حاصل کرنے کا نسخہ جانتا ہو۔ مگر وہ اس نسخہ کے طریقہ ہائے استعمال سے آگاہ نہ ہو کہ کب استعمال کرنا ہے؟کتنی مقدار میں استعمال کرنا ہے؟ اور نسخہ کے استعمال کے دوران کن کن چیزوں سے پرہیز لازمی ہے؟ تو ایسے شخص کے لیے محض نسخہ کی معلومات رکھنا اس وقت تک مفید نہیں ہو گا جب تک کہ وہ اس کی ترکیبِ استعمال سے بھی صحیح طور پر واقف نہ ہو۔ ظاہر ہے کہ ترکیبِ استعمال ایک ماہر طبیب ہی بتا سکتا ہے۔ شریعت کی اصطلاح میں وہ ماہر طبیب "صاحبِ کتاب" ہوتا ہے جبکہ نسخہ "کتاب" (شفاء لما فی الصدور)۔

٣-معرفت

ارشاد ربانی ہے: والذين جاهدوا فينا لنهدينهم سبلنا۔ الخ (٢٩:٧٩) کہ جو لوگ ہماری راہ مجاہدہ کرتے ہیں ہم ضرور دکھائیں گے اپنے راستے۔ فرد کے اس روحانی سفر میں تیسرا درجہ معرفت کا ہے۔ جسے علامہ محمد اقبالؒ نے Discovery یعنی دریافت کا نام دیا ہے۔ شریعت اور طریقت در اصل فرائض کے شعوری ادراک اور ان کے عملی ظہور کا نام ہے جبکہ معرفت کا درجہ ماقبل مدارج کا صلہ یا نتیجہ ہے۔ جیسا کہ مذکورہ بالا آیت کریمہ سے ظاہر ہے کہ طریقت پر استقامت کے بدلے ان لوگوں سے مآء غدقا یعنی معرفت کے کثیر پانی سے سیریابی کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح حدیث کی رو سے معرفت کے درجہ میں مراقبہ اور مشاھدہ استعداد بھی پیدا ہوتی ہے، جسے "احسان" سے تعبیر کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ڈاکٹر مصطفیٰ حلمی کی کتاب تاریخ تصوف ایک نظر میں - قاسم محمود

اس درجہ کا سوال اخلاقی قانون یا روحانی کمال کے ضابطوں کا سوال نہیں ہوتا بلکہ اخلاقی کمال کے منبع و ماخذِ اعلیٰ کی معرفت سوال ہوتا ہے۔ کہ فرد اب قانون کی نہیں بلکہ اس سے آگے بڑھ کر قانون کے سرچشمہ کو جاننا چاھتا ہے۔ اس درجہ پر فرد ربانی معرفت کے ذریعہ سے اشیاء کے حقائق کو جاننے کا طالب ہوتا ہے۔

٤-حقیقت

معرفت کا اعلیٰ ترین درجہ حقیقت کہلاتا ہے۔ معرفت کے درجہ میں Ultimate Reality یعنی حقیقت اعلیٰ کا عرفان، اپنی ذات اور ماحول کی حقیقی پہچان کا سوال ہوتا ہے۔ جبکہ حقیقت کادرجہ دراصلActualization کا درجہ ہے۔ جس میں فرد خلیفۃ اللہ فی الارض کے مقام کو بالقوۃ سے بالفعل میں لاتا ہے اور اس مقام پر تخلقوا باخلاق اللہ کا کامل مظہر بن جاتا ہے۔ اسی مقام پر اشیاء کی مکمل حقیقت فرد پر ظاہر کر دی جاتی ہے، جس کا وہ معرفت کے درجہ میں طالب ہوا تھا اور اسی کی طرف ایک حدیث میں بھی اشارہ ملتا ہے۔ فرمایا کہ اتقوا فراسة المومن فانه ينظر بنور الله۔ او كما قال علیہ السلام کہ مومن کی فراست سے بچو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ یعنی اس کی نگاہ میں ظاہر و باطن کا فرق باقی نہیں رھتا بلکہ اس کی نظر بلا واسطہ اشیاء کے حقائق پر پڑھتی ہے۔ جیسا کہ قرآن میں بھی وارد ہوا ہے کہ جو شخص تقویٰ اختیار کرتا ہے تو اسے بطور صلہ فرقان نصیب ہوتا ہے، جس کا معنی یہ ہے کہ حق و باطل کا فرق اس کی آنکھوں پر عیاں ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ حق اس کے قلب و زباں پر جاری ہو جاتا ہے جبکہ دوسری طرف باطل اسے دھوکا نہیں دے سکتا ہے۔ بلا شبہ یہ سب حقائق ہیں۔ اس لیے کہ قرآن میں ہدایت کےتصور کو "صراط مستقیم" (Shortest possible distance between two points) کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر راستہ ایک خاص منزل کی طرف لے جاتا ہے، جس کے یقینی حصول کے لیے اس راستہ پر چلنا مقصود ہوتا ہے، لہٰذا منزل کے تعین کے بعد اسلام فرد کو گول "دائرہ" میں چکر لگانے پر مجبور نہیں کرتا بلکہ Straight line پر مسلسل گامزن رہنے کی تلقین کرتا ہے اور معلوم ہونا چاہیے کہ صراطِ مستقیم پر یہ سفر ہمہ وقت نتیجہ خیز ہوتا ہے۔

آخر میں یاد رہے کہ دینی اپروچ کا خاصہ چیزوں کو کلّیت اور وحدت کے تناظر میں دیکھنا ہے۔ دینی اس کی ایک مثال امام ربانی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ ارشاد بھی ہے، جس میں آپ رحمۃ اللہ علیہ "طریقت کیا ہے"؟ کا جواب نہایت ہی خوبصورت انداز میں دیتے ہیں۔ فرمایا کہ؛ شریعت و حقیقت ایک دوسرے کا بالکل عین ہیں۔ اور حقیقت میں ایک دوسرے سے الگ اور جدا نہیں۔ فرق صرف اجمال و تفصیل، کشف و استدلال، غیب و شہادت اور عدم و تکلف کا ہے۔ مکتوبات امام ربانی (2:55)