مرد کے خلاف جنسی تشدد - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

پاکستان میں زنا بالجبر کے موضوع پر کی جانے والی بحث میں بالعموم اس مسئلے کے اس پہلو کو نظر انداز کیا گیا ہے کہ جنسی تشدد جیسے کسی عورت کے خلاف ہوسکتا ہے ایسے ہی اس جرم کا شکار کوئی مرد بھی ہوسکتا ہے۔ چنانچہ زیادہ تر بحث ”مستغیثہ“ اور ”مدعا علیہ“ کے بارے میں ہوتی رہی ہے اور اس امکان کو بالعموم نظر انداز کردیا گیا ہے کہ اس جرم کا مقدمہ کبھی ”مستغیث“ اور ”مدعا علیہا“ کے درمیان بھی ہوسکتا ہے۔

فقہاء نے تفصیل سے اس مسئلے پر بحث کی ہے کہ کیا کسی مرد کو فعل زنا کے ارتکاب پر مجبور کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ زنا کا لازمی عنصر جنسی مباشرت ہے۔ فقہاء کی اصطلاح میں بات کریں تو جنسی مباشرت اصل میں مرد کرتا ہے اور عورت کی جانب سے صرف ”تمکین“ ہوتی ہے۔ اب یہ بھی حقیقت ہے کہ جنسی مباشرت کے لیے انتشار آلہ ضروری ہے۔ ابتدا میں امام ابوحنیفہ کی رائے یہ تھی کہ انتشار آلہ اس بات کی دلیل ہے کہ مرد اس فعل پر راضی تھا کیونکہ انتشار آلہ خواہش کے بغیر ممکن نہیں۔ بعد میں امام ابو حنیفہ کی رائے تبدیل ہوئی کیونکہ محض خواہش کی سبب سے ہی انتشار نہیں ہوتا بلکہ اس کے دوسرے اسباب بھی ممکن ہیں۔ نیز دل میں خواہش کا ہونا لازماً اس بات کی دلیل نہیں کہ انسان اس کام کے کرنے پر رضامند بھی ہے۔ سرخسی کہتے ہیں:

رجل أکرہ حتی زنی بامرأۃ کان أبو حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی یقول أولاً: یلزمہ الحد لأن الرجل لا یزنی ما لم تنتشر آلتہ، و ذلک دلیل الطواعیۃ، بخلاف المرأۃ فان التمکین یتحقق منھا مع الاکراہ، فلا یکون تمکینھا دلیل الطواعیۃ۔ ثم رجع فقال: اذا کان المکرِہ سلطاناً فلا حد علیہ لأن الحد مشروع للزجر، و ھو منزجر عن الزنا، و انما کان قصدہ من الاقدام دفع الھلاک عن نفسہ، فلا یلزمہ الحد کالمرأۃ۔ و ھذا لأن انتشار الآلۃ قد یکون طبعاً و قد یکون طوعاً۔ ألا تری أن النائم قد تنتشر آلتہ من غیر قصد و فعل منہ۔ و انما انتشار الآلۃ دلیل الفحولیۃ۔

(کسی مرد کو کسی عورت سے زنا پر مجبور کیا گیا تو امام ابوحنیفہ کی رائے پہلے یہ تھی کہ اس پر حد لازم ہے کیونکہ مرد اس وقت تک زنا نہیں کرسکتا جب تک انتشار آلہ نہ ہو، اور انتشار آلہ رضامندی کی دلیل ہے۔ یہ معاملہ عورت کے معاملے سے مختلف ہے کیونکہ عورت کی جانب سے تمکین کا وجود اکراہ کے ساتھ بھی ممکن ہے۔ اس لیے اس کی جانب سے تمکین اس کی رضامندی کی دلیل نہیں ہے۔ پھر انہوں نے اس قول سے رجوع کیا اور کہا کہ اگر مجبور کرنے والا کوئی حکمران ہو تو اس شخص کو حد کی سزا نہیں دی جائے گی کیونکہ حد کی مشروعیت کی وجہ یہ ہے کہ لوگ اس جرم سے باز رہیں اور وہ تو پہلے ہی اس سے باز رہا تھا اور اس نے اس جرم کا ارتکاب صرف اپنی جان بچانے کے لیے کیا۔ پس عورت کی طرح اسے بھی حد کی سزا نہیں دی جائے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انتشار آلہ کبھی طبعی وجوہات کی بنا پر ہوتا ہے اور کبھی خواہش کی وجہ سے۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ کبھی کبھار سوئے ہوئے شخص کے ارادے اور فعل کے بغیر بھی انتشار آلہ ہوجاتا ہے؟ پس انتشار آلہ تو دراصل مردانگی کی دلیل ہے۔)

باقی رہی یہ بات کہ کیا حد کے اسقاط کے لیے ضروری ہے کہ اکراہ سلطان کی جانب سے ہو؟ تو امام ابو حنیفہ کی رائے یہی نقل کی گئی ہے کہ غیر سلطان کی جانب سے اکراہ کی بنا پر وہ حد کے ساقط ہونے کے قائل نہیں تھے کیونکہ اس کا وقوع نادر تھا۔

فالمبتلی بہ یستغیث بالسلطان لیدفع شرہ عنہ۔ فاذا عجز عن ذلک فھو نادر

(پس جو اس آزمائش میں پڑے وہ حکمران کو پکار کر اس شر سے اپنے آپ کو بچا سکتا ہے۔ اور اس سے وہ شاذ و نادر ہی عاجز ہوتا ہے۔)

جبکہ صاحبین کی رائے یہ تھی کہ کسی شخص سے حد کے ساقط ہونے کا اصل سبب یہ نہیں کہ اسے دھمکی دی گئی، بلکہ اصل سبب یہ ہے کہ اس کی رائے میں دھمکی دینے والا اس کو عملی جامہ پہنانے پر قادر بھی تھا اور اس کا ارادہ بھی رکھتا تھا۔ اصطلاحی الفاظ میں کہا جاتا ہے کہ حد کے سقوط کا سبب اکراہ نہیں بلکہ الجاء ہے۔

ألا تری أن السلطان لو ھددہ، و ھو یعلم أنہ لا یفعل ذلک بہ، لا یکون مکرَھاً۔ و خوف التلف یتحقق عند قدرۃ المکرِہ علی ایقاع ما ھددہ بہ۔ بل خوف التلف باکراہ غیر السلطان أظھر منہ باکراہ السلطان۔ فالسلطان ذو أناۃ فی الأمور لعلمہ أنہ لا تفوتہ، و غیر السلطان ذو عجلۃ فی ذلک لعلمہ أنہ یفوتہ ذلک بقوۃ السلطان ساعۃ فساعۃ۔

(کیا تم دیکھتے نہیں کہ اگر حکمران نے اسے دھمکی دی مگر اسے معلوم ہو کہ وہ اس دھمکی کو عملی جامہ نہیں پہنائے گا تو اسے مجبور نہیں سمجھا جائے گا؟ اور کسی عضو کے تلف ہونے کا خوف ہر اس صورت میں موجود ہوتا ہے جب دھمکی دینے والا اپنی دھمکی کو عملی جامہ پہنانے پر قدرت رکھتا ہو۔ بلکہ حکمران کے بجائے غیر حکمران کی جانب سے تلف کا خدشہ زیادہ قوی ہوتا ہے کیونکہ حکمران ایسے معاملات میں برداشت سے کام لیتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ معاملہ اس کے ہاتھ سے نہیں نکل سکتا، جبکہ غیر حکمران جلد بازی سے کام لیتا ہے کیونکہ اسے حکمران کی قوت کی وجہ سے خدشہ ہوتا ہے کہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ معاملہ اس کے ہاتھ نکلتا جارہا ہے۔)

ایک رائے یہ ہے کہ امام اور صاحبین کا یہ اختلاف کوئی اصولی اختلاف نہیں ہے بلکہ حالات کے تغیر کے ساتھ حکم کے تبدیل ہونے کی مثال ہے۔

قیل: ھذا اختلاف عصر، فقد کان السلطان مطاعاً فی عھد أبی حنیفۃ و لم یکن لغیر السلطان من القوۃ ما یقدر علی الاکراہ، فأجاب علی ما شاھد فی زمانہ۔ ثم تغیر حال الناس فی عھدھما و ظھر کل متغلب فی موضع، فأجابا بناءً علی ما عاینا۔

(کہا جاتا ہے کہ یہ اختلاف زمانے کے اختلاف کے سبب سے ہے کیونکہ ابو حنیفہ کے دور میں حکمران کی اطاعت کی جاتی تھی اور غیر حکمران کے پاس اتنی طاقت نہیں ہوتی تھی کہ وہ کسی کو مجبور کرسکے تو انہوں نے جو کچھ اپنے زمانے میں دیکھا اس کے مطابق جواب دیا۔ پھر جب صاحبین کے دور میں لوگوں کی حالت تبدیل ہوئی اور جگہ جگہ متغلب ظاہر ہوگئے تو انہوں نے جو کچھ اپنے دور میں دیکھا اس کے مطابق جواب دیا۔)

بعض فقہاء اس اختلاف کو حقیقی مانتے ہیں۔ تاہم ہماری ناقص رائے میں پاکستان کے مخصوص حالات کے تناظر میں، جبکہ حکمران اپنے دار الحکومت میں بھی اپنی writ قائم نہیں کرپارہے، صاحبین کی رائے پر عمل زیادہ مناسب لگتا ہے۔

پس اگر مرد کو جبراً زنا کے ارتکاب پر مجبور کیا جاسکتا ہے اور اس جبر کا ارتکاب حکمران کے علاوہ کوئی اور شخص بھی کرسکتا ہے تو اس شخص کا ”مرد“ ہونا بھی پھر ضروری نہیں ٹھہرتا۔ پھر اگر مرد ”مکرَہ“ اور عورت ”مکرِھۃ“ ہوسکتی ہے تو یہ بھی ممکن ہے کہ مکرِھۃ اسے اپنے ساتھ ہی اس قبیح فعل کے ارتکاب پر مجبور کرے۔ امام سرخسی نے ان امکانات پر بحث نہیں کی جس کی وجہ شاید تغیر زمان ہی ہے کہ اس وقت یہ بات غیر ممکن محسوس ہوتی تھی جبکہ آج اسے غیر ممکن نہیں سمجھا جاتا، اگرچہ شاید کئی لوگوں کی رائے میں نادر الوقوع آج بھی ہے۔ امام سرخسی نے البتہ اس بات پر بحث کی ہے کہ اگر مرد کو کسی عورت کے ساتھ زنا پر مجبور کیا جائے اور وہ عورت اس فعل پر راضی نہ ہو تو کیا حکم ہوگا؟ الکافی کے متن میں ہے:

و فی کل موضع سقط الحد وجب المھر۔

(جہاں بھی زنا کی حد ساقط ہوجاتی ہے مہر واجب ہوجاتا ہے۔)

اس حکم کی تشریح میں سرخسی کہتے ہیں:

لأن الواطیء فی غیر الملک لا ینفک عن حد أو مھر۔ فاذا سقط الحد وجب المھر، لاظھار خطر المحل، فانہ مصون عن الابتذال، محترم کاحترام النفوس۔

(کیونکہ ملک غیر میں وطی کرنے والے پر یا حد عائد ہوتی ہے اور یا مہر۔ پس جب حد ساقط ہوجاتی ہے تو مہر واجب ہوجاتا ہے (اور اس حکم کا مقصد یہ ہے) کہ قانونی جواز کے بغیر محل وطی تک رسائی کی سنگینی ظاہر ہو کیونکہ قانون نے اسے پامالی سے محفوظ کیا ہے اور اسے وہی حرمت دی ہے جو اس نے نفس کو دی ہے۔)

آگے الکافی میں دوسرا حکم ہے:

و یستوی ان کانت أذنت لہ فی ذلک أو استکرھھا۔

(اور یہ حکم ہر دو صورتوں میں ہوگا چاہے اسے اس عورت نے اس فعل کی اجازت دی ہو یا مرد نے اسے مجبور کیا ہو۔)

سرخسی نے اس کی وضاحت میں جو کچھ کہا ہے اس سے اسلامی قانون کے چند نہایت اہم قواعد سامنے آتے ہیں:

أما اذا استکرھھا فغیر مشکل، لأن المھر یجب عوضاً عما أتلف علیھا، و لم یوجد الرضا منھا بسقوط حقھا۔ و أما اذا أذنت لہ فی ذلک فلأنہ لا یحل لھا شرعاً أن تأذن فی ذلک، فیکون اذنھا لغواً لکونھا محجورۃً عن ذلک شرعاً، بمنزلۃ اذن الصبی و المجنون فی اتلاف مالہ۔ أو ھی متھمۃ فی ھذا الاذن، لما لھا فی ھذا الاذن من الحظ، فجعل الشرع اذنھا غیر معتبر للتھمۃ۔ و وجوب الضمان لصیانۃ المحل عن الابتذال، و الحاجۃ الی الصیانۃ لا تنعدم بالاذن۔ ألا تری أنھا لو زوجت نفسھا بغیر مھر وجب المھر، و لو مکنت نفسھا بعقد فاسد حتی وطئھا الزوج و لم یکن سمی لھا مالاً وجب المال، فھذا مثلہ۔ و ھو واجب فی الوجھین۔ أما اذا استکرھھا فانہ ظالم، و حرمۃ الظلم حرمۃ باتۃ۔ و کذلک اذا أذنت لہ فی ذلک لأن اذنھا لغو غیر معتبر۔ ثم حرمۃ الزنا حرمۃ باتۃ، لا استثناء فیھا، و لم یحل فی شیء من الأدیان، بخلاف حرمۃ المیتۃ و لحم الخنزیر۔ فتلک الحرمۃ مقیدۃ بحالۃ الاختیار لوجود التنصیص علی استثناء حالۃ الضرورۃ فی قولہ تعالی: الا ما اضطررتم الیہ۔

(اگر اس مرد نے اس عورت کو مجبور کیا ہو تو اس صورت میں تو اس حکم کے متعلق کوئی اشکال نہیں پایا جاتا کیونکہ مہر اس نقصان کے عوض میں واجب ہوگا جو اس نے اس عورت کو پہنچایا اور وہ عورت اپنے حق کو ساقط کرنے پر راضی نہیں تھی۔ تاہم اگر اس عورت نے اسے اجازت دی ہو تب بھی حکم یہی ہے کیونکہ شرعاً اس کے لیے جائز ہی نہیں تھا کہ وہ اس کام کی اجازت دے پس یہ اجازت لغو ہوگی کیونکہ شریعت نے اسے اس کام کی اجازت دینے سے روک دیا تھا۔ یہ بالکل ایسا ہی معاملہ ہوگا جیسے کوئی بچہ یا مجنون کسی کو اپنے مال کے اتلاف کی اجازت دے۔ یا یہ کہا جائے گا کہ یہ اجازت اس وجہ سے لغو ہے کہ اجازت دینے والی اس سلسلے میں متہم ہے کیونکہ اس اجازت دینے کے نتیجے میں وہ بھی مزا لے رہی تھی اس لیے شریعت نے اس تہمت کے سبب سے اس کی اجازت غیر معتبر ٹھہرادی۔ اور ضمان کے واجب ہونے کا سبب یہ ہے کہ محل وطی کو پامالی سے محفوظ کیا جانا ضروری ہے اور یہ ضرورت عورت کی اجازت سے ختم نہیں ہوتی۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ اگر اس عورت نے اپنی شادی بغیر مہر کے کی تب بھی اس کا مہر واجب ہوجاتا ہے، اور اگر اس نے عقد فاسد کے ذریعے کسی کو وطی کا موقع دیا اور شوہر نے اس کا مہر مقرر کیے بغیر اس کے ساتھ وطی کی تب بھی اس کا مہر واجب ہوجاتا ہے؟ پس یہ بھی اسی طرح کا معاملہ ہے۔ اور یہ مہر دونوں صورتوں میں واجب ہے۔ جب مرد نے عورت کو مجبور کیا تو وہ ظالم تھا اور ظلم کی حرمت بڑی شدید حرمت ہے۔ اسی طرح جب عورت نے مرد کو اس کام کی اجازت دی تو اس کی اجازت لغو اور غیر معتبر ہے کیونکہ زنا کی حرمت بھی بڑی شدید حرمت ہے جس میں کوئی استثنا نہیں ہے اور کسی دین میں اس کی اجازت نہیں ہے۔ یہ حرمت مردار اور خنزیر کے گوشت کی حرمت کی طرح نہیں ہے جو حالت اختیار کے ساتھ مقید ہے کیونکہ وہاں تو حالت ضرورت میں استثنا کی نص اس ارشاد باری تعالیٰ میں موجود ہے: الا ما اضطررتم الیہ۔ (الّا یہ کہ تم مجبور ہوجاؤ)

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں