اسلام، سیکولرازم اور مذہبی شدت پسندی - اعجاز احمد

اسلام کو نازل کرنے کا مقصد

اسلام ایک مکمل طریقہ زندگی ہے جس کو تمام انسانیت کے خالق کی طرف سے بھیجا گیا ہے۔ اسلام کو بھیجنے کا مقصد انسانوں کو ان کے انفرادی، اجتماعی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی زندگی کے تمام ضروری اصول و ضوابط بتانا ہے تاکہ معاشرے کے تمام انسانوں کے درمیان امن، ہم آہنگی اور طبقاتی اور معاشی انصاف قائم ہوسکے۔

اسلام کے نزدیک امن و انصاف کے حصول کے لیے بتائے گئے الہٰی اصول و ضوابط کے دائرے میں رہتے ہوئے انسان جدید دور کی دریافت، ایجادات اور تجارتی و معاشی طور طریقوں سے فائدہ اٹھانے میں نہ صرف مکمل طور پر آزاد ہے بلکہ ایک مسلمان پر یہ بھی لازم ہے کہ انسانی تمدنی ترقی کے نتیجے میں سامنے آنے والی نئی ایجادات اور ثابت شدہ دریافت کو قبول کرے اور اسے حقیقی انصاف کے قیام کے راستے میں استعمال کرے۔

سیکولرازم کیا ہے ؟

آئیڈیل سیکولرازم معاشرے میں عدل و انصاف قائم کرنے کے اصول طے کرتے ہوئے انسانوں پر یہ پابندی لگاتا ہے کہ وہ ان اصول و ضوابط کو وضع کرتے ہوئے الہٰی تعلیمات سے رجوع نہیں کریں گے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو سیکولرازم ایک جابرانہ، غیرعاقلانہ اور محدود اندازِ فکر ہے۔

یہ سیکولرازم کا بہت بڑا تضاد ہے کہ وہ یہ تو تسلیم کرتا ہے کہ ایک غالب اور بالاتر خالق نے تمام انسانوں کو تخلیق کیا ہے مگر اسی خالق کی طرف سے اپنے ہی مخلوق کے درمیان معاشی، طبقاتی اور سیاسی عدل و انصاف کے قیام کے لیے دیے گئے اصول و ضوابط کو ماننے سے انکار کردیتا ہے۔ سیکولرازم کا یہی وہ تضاد ہے جس کے نتیجے میں اسے الحاد کی پہلی سیڑھی قرار دیا جاتا ہے۔

مذہبی شدت پسندی کیا ہے؟

اپنے مخصوص عقائد، عبادات اور مذہبی رسوم و رواج کو دوسرے انسانوں پر زبردستی تھوپنا اور اس کے نہ ماننے والوں سے نفرت کرنا اور ان کے خلاف تشدد کا استعمال کرنا مذہبی شدت پسندی کہلاتا ہے۔

مذہبی شدت پسندی کی سوچ معاشرے کے امن، سکون اور ہم آہنگی کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ اسلام مذہبی شدت پسندی سمیت انسانی زندگی میں موجود ہر طرح کی شدت پسندی کے سخت خلاف ہے کیونکہ مذہبی شدت پسندی سے اسلام کا حقیقی مقصود یعنی عدل و انصاف کا قیام ممکن نہیں رہتا ہے۔

دوسری طرف مذہبی شدت پسندی کی سوچ عام لوگوں کو اپنی آزاد مرضی سے سچائی اور حق و انصاف کے راستے کو اختیار کرنے سے بھی روکتی ہے اور انہیں مذہب سے برگشتہ کرکے سیکولرازم اور الحاد کی طرف دھکیلتی ہے۔ مذہبی شدت پسندی اور سیکولر سوچ دونوں ہی حقیقی عدل و انصاف کے قیام میں رکاوٹ ہیں اور اس لحاظ سے باوجود ایک دوسرے کے مخالف سمت میں کھڑے ہونے کے دونوں ایک دوسرے کے فکری اتحادی ہیں۔

امید کی کرن

اوپر کے بیان سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جسطرح مذہب کے ماننے والوں میں ایک طبقہ حقیقی اسلام کا داعی ہے اور ہر طرح کی تفریق سے بالاتر ہوکر تمام انسانیت کے درمیان مکمل اور پائیدار عدل و انصاف کے قیام کا خواہاں ہے جبکہ دوسرا طبقہ مذہبی جبر کا قائل ہے اور اپنے عقائد اور عبادات کے طور طریقے مخالف مذہبی سوچ رکھنے والوں پر زبردستی تھوپنا چاہتا ہے اور انکی سوچ کو قبول نہ کرنے والوں سے نفرت کرتا ہے اسی طرح سیکولر سوچ رکھنے والے بھی دو بڑے گروہوں میں تقسیم ہیں۔ ایک طبقہ خلوصِ دل کے ساتھ معاشرے میں عدل اور معاشی و طبقاتی انصاف کا خواہاں ہے جبکہ سیکولر حضرات کا دوسرا طبقہ نظریاتی طور پر اسلام کی مخالفت کرتا ہے اور اس معاملے میں شدت پسند سوچ نظریات رکھتا ہے۔

ایسی صورتحال میں امید کی کرن عدل و انصاف کے داعی حقیقی اسلامسٹ اور عدل و انصاف کے خواہاں پُرخلوص سیکولرسٹ ہیں۔ ان دونوں کو ایک دوسرے سے مکالمہ کرنا چاہیے اور اپنی اپنی فکر کے بارے میں ایک دوسرے کو آگاہی دینا چاہیے اور ان دونوں کے درمیان جو مشترکہ میدان ہے یعنی معاشرے میں عدل و انصاف کا قیام، اسکے حصول پر متفق ہوکر شانہ بشانہ جدوجہد کرنا چاہیے کیونکہ قرآن کہتا ہے :

تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُم (3:64)

آؤ اس بات کی طرف جو ہم میں اور تم میں مشترک ہے۔

Comments

اعجاز احمد

اعجاز احمد

اعجاز احمد نے کراچی کی این ای ڈی یونیورسٹی سے مکینیکل انجینیئرنگ کرنے کے بعد جاپان سے ٹیکسٹائل کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ وہ پچھلے 26 برس سے ٹیکسٹائل کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ آجکل اسی شعبے میں اپنا ذاتی کاروبار کر رہے ہیں۔ آپ قرآن کا وسیع مطالعہ رکھتے ہیں اور جدید معاشی نظاموں اور نظریات سے بھی اچھی طرح واقف ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.