سالگرہ - انعام حسن مقدم

کل ایک علمی مُکالمے کی نشست کے دوران ایک صاحب کے جنم دن کا انکشاف ہوا تو میں نے اُن سے جنم دن کی خوشی میں دعوت دینے کا کہا اور اُن کے دوستانہ انکار پر دوستانہ جرح و تعدیل کا استعمال کرتے ہوئے زبردستی دعوت لینے میں کامیابی حاصل کی۔ اب آتے ہیں تفصیل کی طرف، موصوف نے معاشرے میں پھیلی عام "بے سر و پا" دلیل کا سہارا لیتے ہوئے ایک مشہور جملہ کہا کہ، "سالگرہ کا مطلب ہوتا ہے، "سال گِرا" یعنی پہلے ہی ایک سال گِر گیا اور آپ اِس کی مبارکباد بھی دے رہے ہیں اور دعوت کا بھی اصرار کررہے ہیں!" جو جواب اُنہیں دیا وہ آپ سب کی خدمت میں بھی عرض ہے:

"سالگرہ" کا مطلب ہرگز بھی "سال گِرا" نہیں ہوتا۔ سالگرہ کے آخر میں جو لفظ، "گِرہ" آتا ہے "ر" کے بعد "ہ" (ہا) کے ساتھ، یعنی ہائے ہَوَّز جس کو عوام ہاتھی والی "ہ" بھی کہتی ہے، اِس "گرہ" کا معنٰی انگریزی زبان میں knot ہے اور اردو میں کئی معانی ہیں مثلاً بال بچے، بندھا ہوا، قطب ستارہ، ایک طرح کا چمچا جس سے بڑے برتن سے کوئی مائع چیز نکالیں، چوتھا ستارہ یا چوتھا نکشترہ، قدیم غیر سائنسی عقیدہ کے مطابق وہ طاقت جو سورج یا چاند کو گرہن لگاتی ہے، وہ مکان جس میں پودے رکھے جائیں وغیرہا جبکہ "گِرا" کے آخر میں "ا" (الف) آتا ہے اور اِس "گرا" کا انگریزی زبان میں مطلب dropped ہے۔ "سالگرہ" مرکب لفظ ہے، اردو زبان میں اِس لفظ کو پیدائش کے دن سے یا پیدائش کے دن منائی جانے والی خوشی سے موسوم کیا جاتا ہے۔ ہندی میں اِس کا متبادل لفظ "جنم دن" ہے جو کہ اب اردو میں بھی معروف و مستعمل ہے۔ بعض لغت کی چھان بین سے یہ بات بھی آشکار ہوتی ہے کہ اس لفظ کی وجہ تسمیہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ قدیم زمانوں میں ہندوستان میں عمر کا حساب رکھنے کے لیے "کلاوہ" (ایک مخصوص قسم کا دھاگہ) میں "گرہ" لگا دی جاتی تھی۔ اس لیے اِس دن کو "سالگرہ" کہا جانے لگا۔ اِس علمی محاذ پر دوستانہ میچ میں کامیابی ہوئی تو موصوف نے اگلا اعتراض داغ دیا کہ:

یہ بھی پڑھیں:   سوچوں پر قابو پانے کے 7 سنہری اصول - میاں جمشید

"بھئی معنٰی کُچھ بھی ہوں زندگی کا ایک سال تو کم ہو گیا نا! تو پھر خوشی کس بات کی؟"

اُن کا یہ جواب، اصل میں صرف اُن کا جواب نہیں ہے، بلکہ ہمارے معاشرے کی اجتماعی منفی نفسیات کا آئینہ دار ہے کہ ہم ہر چیز میں منفی پہلو ہی تلاش کرتے ہیں اور مثبت پہلو کی طرف دیکھنے اور سوچنے کی اجتماعی صلاحیت مفقود ہوتی جا رہی ہے۔ اِس منفی سوچ کا جواب یہ ہے کہ سالگرہ یا جنم دن یا برتھ ڈے (birthday) پر عمر میں سے ایک سال کم نہیں ہوتا بلکہ بقیہ عمر گزارنے کے لیے ہم مزید ایک سال کا تجربہ اور مشاہدہ حاصل کرلیتے ہیں اور اِس تجربہ و مشاہدہ کی قیمت پچھلا گزرا ہوا ایک سال ہوتا ہے۔ یہ بات بالکل اسی طرح ہے جیسے جدید ہیومن ریسورس مینیجمنٹ (Human Resource Management) یعنی انسانی وسائل کی انتظام کاری میں انسانی تعلیم و تربیت پر خرچ ہونے والی رقم کو خرچہ (expense) نہیں بلکہ سرمایہ کاری (investment) کہا جاتا ہے۔

ہم ایک خواب لیے ماه و سال سے گزرے

ہزاروں رنج ہزاروں ملال سے گزرے

ضرورت اِس امر کی ہے کہ ہر چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی چیز میں بھی ہمیں مثبت طرزِ فکر اختیار کر کے معاشرے کی بہتری اور ترقی کے لیے کام کرنا پڑے گا۔

Comments

انعام حسن مقدم

انعام حسن مقدم

کراچی سے تعلق رکھنے والے انعام حسن مقدم مختلف مذاہب، اقوام اور سماجی طبقات کے باہمی تعلقات، رواداری اور عزت نفس کے احترام کا قائل ہیں۔ عرصہ 25 سال سے مختلف مقامی و کثیر القومی انشورنس کمپنیز اور بینکس سیلز، مینجمنٹ، آپریشنز، مارکیٹنگ اور دیگر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں