اسلامی تاریخ کے چند المناک ورق (3) - مفتی ابولبابہ شاہ منصور

پچھلی قسط

1901ء میں صہیونی تحریک کے سربراہ تھیوڈور ہرٹزل نے خلافت عثمانیہ کے 25 ویں خلیفہ اور عثمانی سلطنت کے 34 ویں سلطان سلطان عبدالحمید ثانی کو پیشکش کی کہ آپ سرزمین فلسطین میں یہودی آبادکاری کی اجازت دے دیں تو ہم آپ کو سونے کے 150 ملین برطانوی پونڈز دیں گے۔ سلطان نے جواب دیا: اگر تم مجھے 150 ملین برطانوی پونڈز کے بجائے وہ سارا سونا بھی دے دو جو ساری دنیا میں پایا جاتا ہے تو بھی مجھے تمہاری پیشکش قبول نہیں، کیونکہ میں پچھلے 30 سال سے اسلامی دنیا اور امت محمدیہ کے مفادات کا نگہبان ہوں۔ میں کوئی ایسا قدم نہیں اٹھاؤں گا جس سے مسلمانوں، میرے آبا و اجداد اور خلفا و سلاطین پر دھبہ لگے۔ میں یہودیوں کو سرزمین فلسطین کا ایک انچ بھی نہیں دینے والا، کیونکہ یہ میری ملکیت نہیں ہے۔ یہ مسلمانوں کی ملکیت ہے۔ جنہوں نے اس کے دفاع کے لیے خون کی ندیاں بہائی ہیں۔

یہ جواب سن کر صہیونی زعماء پھنکارتے سانپ کی طرح غصے سے بے تاب ہوگئے۔ انہوں نے اپنی توپوں کا رخ سلطان کی طرف پھیر دیا۔ زبانیں زہر اگلنے لگیں، قلم ناگ کی طرح پھنکارنے لگے، تمام وسائل جھونک دیے گئے، مہرے متحرک کر دیے گئے، سلطان کو معزولی اور پھر جلاوطنی کا سامنہ کرنا پڑا، لیکن فلسطین بیچنے کا داغ ماتھے پر لینے سے بچ گیا۔ یہ کلنک کا ٹیکہ برطانیہ کی قسمت میں لکھا تھا، جو اس نے اعلان بالفور کی شکل میں اپنے ماتھے پر سجایا۔ سلطان عبدالحمید دوم کی معزولی کے بعد برادری کے رستے میں رکاوٹ نہ رہی۔ اگلی نسل اس کی تیار کردہ تھی۔ کھیل آخری لمحات کی طرف بڑھ رہا تھا۔ نقش دل کا نقش اولین اب نقش ثانی و ثالث کی شکل میں ڈھل رہا تھا۔ سلطان عبدالحمید کے بعد کوئی بھی سلطان، کسی طاقت و اختیار کا مالک نہیں تھا۔ سب سلطان "نوجوان ترک" قیادت کے اسیر تھے۔ ان کے ذریعے اتحادیوں اور اتحادیوں کے ذریعے اتاترک کے قیدی تھے۔ اتاترک عوام کو دھوکہ دیتے ہوئے مسلسل یہ کہہ رہا تھا کہ سلطان اتحادیوں کا قیدی ہے۔ اس کی بحالی صرف اس وقت ہوگی جب قومی وقار اور اقتدار اعلی بحال ہوگا، لیکن یہی سلطان اس وقت آزاد ہوتا تھا جب اس کا نام استعمال کرنے اور غلط طور پر استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی تھی۔ اگلے ساڑھے تین برس فری میسن جوڑ توڑ سے بھڑکنے والی جنگوں کی ایک بھرپور مثال تھے۔ اتاترک کو قوم کا ہیرو بنایا جانا تھا تاکہ قوم سلطان کو بھول جائے۔ مسلمانوں کے سامنے ایک متبادل قیادت پیش کرنے کی ضرورت تھی۔ فری مینسز نے یہ فراہم کر دی۔ وہ ہمیشہ یہی کرتی ہے، لیکن ہم اسے کسی اور کی کارستانی سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔ مثلا: ہم نہیں جانتے دنیا میں نیویارک وہ پہلا شہر ہے جس میں گورنر ہاؤس اور فری میسن کا لاج آمنے سامنے ہیں۔ اب دوسرا شہر جس میں گورنر ہاؤس کے بالکل سامنے چار گھروں کی شکل میں فری میسن لاج موجود ہیں، ہمارے ملک میں ہے۔ بلیک واٹر کا مرکز بھی اسی شہر میں تھا۔ وہ یہیں سے کنٹرول ہوتے تھے۔

سلطان عبدالحمید دوم کے بعد ترکی کے تخت پر تین اور سلطان بیٹھے: محمد پنجم، محمد وحید الدین ششم اور عبدالمجید دوم، لیکن ان میں سے کوئی بھی خالص عثمانی خون اور عثمانی مزاج پر تھا، نہ وہ حقیقی صاحب اختیار تھا۔ نقش دل کا جادوئی نقش چل چکا تھا۔ وہ غیرتمند عثمانی خون میں دوغلے خون کی آمیزش کر کے 29 سال کے عرصے میں اپنا کام پورا کرچکی تھی۔ آخری 2 میں پہلے سے تو محض سلطنت عثمانیہ کے سقوط اور دوسرے سے خلافت عثمانیہ کے سقوط کا کام لیا گیا۔ تمام نیک دل مسلمان حسرت سے عثمانی سلطنت کی ڈوبتی ہوئی نبضیں دیکھ رہے تھے۔ سرکاری طور پر تمام اقتدار GNA (گرینڈ نیشنل اسمبلی) کے پاس تھا اور اس کے ذریعے فری میسنز کے پاس۔ اخیر الذکر دونوں حکمرانوں میں سے پہلے یعنی سلطان محمد وحید الدین ششم کو سلطنت سے معزول کیا گیا۔ دوسرے کو خلافت سے بھی معزول کر دیا گیا، لیکن وہ مرغ بسمل کی طرح تڑپ بھی نہ سکے۔ کھیل کے آخری لمحات کی داستان انتہائی المناک اور دل کا خون کرنے والی ہے۔ آئیے! اس دلخراش داستان سے دل کے پھپھولے پھوڑتے ہیں۔ شاید یہ حسرت وندامت ہمیں مستقبل میں دشمن کے بدلتے پینتروں کو سمجھنے اور اس کے وار سے بچنے میں مدد دے سکے۔

سلطنت عثمانیہ جس کے آخری دو حکمرانوں کی رگوں میں اگرچہ عظیم سلاطین آل عثمان کا خون تھا، لیکن اس میں یہودی و عیسائی حسیناؤں کے خون کی آمیزش ہوچکی تھی۔ 36 ویں سلطان (یعنی آخری سے پہلا حکمران جس کا پورا نام سلطان وحیدالدین محمد سادس تھا) محلّاتی سازشوں کی یلغار میں وہ جیسے تیسے زندگی کے دن پورے کر رہا تھا۔ اصل اقتدار جمہوری تماشے کے ذریعے ترکی کی گرینڈ اسمبلی کے ہاتھ میں منتقل ہوچکا تھا۔ جس نے یکم نومبر 1922ء کو اجلاس بلا کر سلطنت عثمانیہ ختم کرنے کی منظوری دے دی۔ ساتھ ہی بغیر جرم بتائے سلطان کو ملک بدر کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔ انگلینڈ، اسپین، تھائی لینڈ حتی کہ نیپال جیسے ملکوں میں جمہوری تماشے کے ساتھ بادشاہت پائی جاتی ہے، لیکن واحد ملک جس میں فرضی بادشاہ کے وجود کو بھی برداشت نہیں کیا گیا، ترکی تھا۔ جمہوریت دراصل وجود میں اس لیے لائی گئی ہے کہ امارت یا خلافت کا شرعی نظام باقی نہ رہے جو اسلام کی نظر میں حکمرانی کا واحد مثالی نظام ہے۔

سلطان محمد سادس نے کوئی چارہ کار نہ دیکھتے ہوئے جلاوطنی کے احکامات، فرد جرم سنے بغیر بلا چوں و چرا قبول کر لیے۔ ان کو ملک سے لے جانے کے لیے فوری طور پر جو جہاز منگوایا گیا، وہ برطانیہ کی ملکیت تھا۔ جی ہاں! وہی برطانیہ جو اپنے ہاں بادشاہت کو آج تک یادگار کے طور پر باقی رکھے ہوئے ہیں۔ اسے مسلمانوں کا بادشاہی نظام ختم کرنے میں اتنی جلدی تھی کہ تاریخ کے طلبہ کے ہاتھوں لعن طعن سے نہ گھبرایا اور ملایہ نامی جہاز قسطنطنیہ کی بندرگاہ بھیج دیا۔ یہ جہاز 1913ء میں بنایا گیا تھا۔ جنگ عظیم دوم کے بعد 1948ء میں اسے توڑ دیا گیا۔ سلطان اپنے چند رفقاء جن میں شیخ الاسلام نوری آفندی اور وزیراعظم احمد توفیق پاشا کے ہمراہ اس بحری جہاز میں سوار ہو کر اپنے گھر سے بے گھر اور وطن سے بے وطن ہوگئے۔ جہاز انہیں لے کر برادری کی طرف سے طے شدہ منزل یعنی پہلے مالٹا کی بندرگاہ اور پھر اٹلی کی ساحلی پٹی (Riviera) پہنچا۔ جی ہاں! وہی مالٹا جہاں حضرت شیخ الہند اور ان کے رفقاء نے خلافت کی حفاظت کی پاداش میں قید کی صعوبتیں اٹھائیں۔ اسی مالٹا سے ہو کر آخر سلطان اٹلی لے جائے گئے، جہاں انہیں اپنی زندگی کے بقیہ دن گزارنے تھے۔ وہاں وہ 4 سال تک زندہ رہے۔ پھر 16 مئی 1926ء کو آپ کی وفات سان ریمو (San Remo) نامی شہر میں ہوئی۔

سلطنت مغلیہ کے آخری تاجدار بہادر شاہ ظفر کی طرح سلطنت عثمانیہ کے آخری تاجدار سلطان وحیدالدین سادس کو بھی دفن کے واسطے کوئے یار میں دو گز زمین نہ ملی۔ بات وہی ہے اسلام کی ہر چیز کی طرح، بلکہ ہر چیز سے زیادہ برادری کو یا اس کے مرغ دست آموز مغرب کو مسلمانوں کے نظام حکومت "سلطنت" یا اسلام کے نظام ریاست "خلافت" سے نہایت چڑ ہے۔ انہیں بس جمہوریت کا نظام دنیا بھر میں رائج کرنا ہے جو خالصتا فری میسن ایجاد ہے۔ یہ وہی نظام ہے جس کے تحت ہمارے ہاں جمہوریت کی تلاش میں ہونے والے 19 انتخابات کے ذریعے 5 جمہوری جماعتیں مکمل شخصی وراثت بن گئی ہیں۔ سلطان کے جسد خاکی کو ترکی منتقل کرنے کی اجازت بھی نہ ملی۔ آخر کار انہیں شام کے دارالحکومت دمشق منتقل کیا گیا جہاں کی مشہور عثمانی مسجد "تکیہ" (Takkiya) سے ملحقہ تاریخی قبرستان میں انہیں سپردخاک کر دیا گیا۔ یہ وہی مسجد تھی جسے ان کے جد امجد 10 ویں عثمانی عظیم الشان سلطان سلیم قانونی نے عالم اسلام کے مشہور، ماہر تعمیرات سنان نامی معمار سے بنوایا تھا۔

سلطان وحید الدین سادس کی جلاوطنی کے ساتھ ہی، بلکہ اس سے پہلے عثمانی سلطنت کے خاتمے کا اعلان کر دیا گیا۔ ان کی جلاوطنی (17 نومبر 1922ء) کے دو دن بعد یعنی 19 نومبر 1922ء کو سلطان عبدالمجید آفندی کو خلیفہ بنایا گیا۔ سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد اب خلافت عثمانیہ کا منصب رہ گیا تھا، جسے پورا عالم مغرب اور برادری کے شیطان چیلے ختم کرنے کے درپے تھے۔ وہ دونوں دینی وروحانی مناصب کو بیک وقت ختم کر کے کوئی مصیبت مول لینا نہیں چاہتے تھے۔ شیطان کا کام جلدی کا ہے، لیکن وہ اس شیطانی منصوبے کو دھیرے دھیرے پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتے تھے۔ عثمانی سلطنت آخری عثمانی سلطان کے ساتھ ختم ہوگئی تھی۔ اب عثمانی خلافت رہ گئی تھی، جسے بچانے کے لیے پوری دنیا کے مسلمان خصوصا ہندوستان کے علمائے دیوبند، تحریک خلافت، 1918ء تا1924ء جیسی مہموں کے ذریعے پورا زور لگا رہے تھے۔ یہ چیز آج تک ترکوں کو یاد ہے، لہذا وہ پاکستانی مسلمانوں کے لیے بےلوث محبت اور شکر گزاری کا جذبہ رکھتے ہیں۔ تحریک خلافت کا نقطہ عروج کراچی کے خالق دینا حال میں علی برادران پر غداری کا مقدمہ تھا۔ ان کی گرفتاری کے بعد ان کی بی اماں جن کا اصل نام (آبادی بانو بیگم) تھا اور بے شمار خواتین میدان میں آگئیں۔ اس دوران نظم:

بولیں اماں محمد علی کی

جان بیٹا خلافت پہ دے دو

کو تاریخی شہرت حاصل ہوئی۔ بچے بچے کی زبان پر یہ شعر تھا۔ تمام ہندوستانی مسلمان خلافت کے نظام کو بچانے کے لیے ہر طرح کی قربانیاں دے رہے تھے۔

ادھر جمہوریت کے نام پر قائم کی گئی ترک اسمبلی نے یکم نومبر سے 19 نومبر کے درمیانی عرصے میں جب کوئی عثمانی حکمران موجود نہ تھا، تمام نام نہاد قانون سازی کرتے ہوئے سلطان کے تمام اختیارات سلب کر لیے۔ اب عثمانی خلیفہ اور عثمانی خلافت دونوں بے اختیار اور برائے نام ہوچکے تھے، لیکن غیرت مند نوجوانوں کی کوشش تھی اس ادارے میں روح پھونکی جائے، جبکہ برادری اسے ہر حال میں جان کنی کی حالت میں مبتلا کر کے معدوم کر دینا چاہتی تھی۔ تقریبا 2 سال تک یہ کشمکش چلتی رہی۔ آخر کار مصطفی پاشا نامی شقی القلب نے جسے اس مقصد کے لیے برسراقتدار لایا گیا تھا، 3 مارچ 1924ء کو جدید جمہوریت اسمبلی کے ذریعے قرارداد منظور کروا کر "اسلامی خلافت" کے خاتمے کی نامبارک حرکت کر ڈالی۔ 1924ء سے لے کر 19 ویں صدی کی آخری دہائی تک کا عرصہ زمین پر خلافت کے وجود سے خالی تھا۔ تاآنکہ ملا عمر رحمة اللہ نے امارت اسلامیہ افغانستان کی بنیاد رکھ دی۔ دنیا کو اس شعر کا مصداق نظر آیا:

جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں

ادھر ڈوبے، ادھر نکلے، ادھر ڈوبے ادھر نکلے

اس حیرت انگیز کامیابی پر مغربی دنیا اور فری میسن کی صفوں میں تہلکہ برپا ہوگیا۔ تمام قوتیں اس خاتمے کے لیے متفق ہو کر میدان میں کود پڑیں۔ دوسری طرف دنیا بھر کے بچے کھچے، بے سروسامان، نہتے مجاہدین تھے۔ ان قلندروں نے مقابلے کو دوبارہ صفر سے شروع کر کے 100 کے قریب پہنچا دیا اور عالم اسلام کو پھر ایک موقع فراہم کیا کہ برادری کے ہتھکنڈوں سے نکل کر اپنی شناخت دوبارہ سے قائم کرے۔

ہم داستان بیان کرتے کرتے حالات حاضرہ کی طرف آگئے، جبکہ ابھی آخری حصہ باقی ہے۔ آئیے! اسے مکمل کر کے دیکھتے ہیں کہ ہم اس سے کیا عبرت و نصیحت حاصل کرسکتے ہیں؟ آخری سلطان تو ترکی سے جاچکے تھے۔ اب آخری خلیفہ کی روانگی کا تذکرہ دل پر پتھر رکھ کر سنیے۔ پتھر رکھنے کا مطلب یہ کہ ماضی کے دکھوں پر یا غلطیوں پر بے صبری سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، البتہ اگر ان سے پیدا ہونے والے غم کا رخ موڑ کر اسے اپنی اصلاح، دشمن سے انتقام اور ہدف کے تعاقب پر لگا دیا جائے تو تلافی مافات کی راہ نکل سکتی ہے۔ اس دل فگار واقعے کی منظر نگاری سے غرض صرف اتنی ہے کہ ہم سمجھ جائیں کہ گیا وقت پھر ہاتھ نہیں آتا۔ ہم آج کا کام آج کر لیں اور خوش فہمی یا مایوسی دونوں سے بچ کر چلتے رہیں تو بڑے سے بڑے دکھ کا مداوا ہوسکتا ہے۔ ہم نے خلافت سے ہاتھ دھونے کے بعد اسے سرے سے بھلا دیا ہے۔ یہ تو ہمارا آبائی ورثہ اور اجتماعی امانت ہے۔ اس سے غافل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہم مقصد زندگی حاصل کرنے کے لیے نہیں معیار زندگی بڑھانے کے لیے جی رہے ہیں۔ یہ تو حیوان بھی کر لیتا ہے۔ ہمارا مرتبہ تو بہت بلند اور اس کے تقاضے ہماری پہنچ سے بہت زیادہ دور نہیں۔ بعض خدا پرست دیوانے اس منصب کو پھر سے زندہ کر سکتے ہیں۔ ہم اپنے غم تازہ کر کے ان کے مداوے کے لیے ان بوریا نشینوں کا ساتھ دیں تو اس قعر مذلت سے نکل سکتے ہیں۔ تو آئیے! یہ اندوہناک منظر کو دہراتے ہیں شاید کوئی قبولیت کا آنسو ٹپک پڑے۔

یہ 3 یا 4 مارچ 1924ء کی درمیانی شب اور تہجد کا وقت تھا۔ استنبول میں خلفائے اسلام کی سرکاری رہائش گاہ "دولمبا باشی" محل کی لائبریری اس وقت بھی روشن تھی، کیونکہ عثمانی خلیفہ عبدالمجید قرآن پاک کی تلاوت میں مشغول تھے۔ کاش! وہ قیام کے اس وقت میں سجدے میں نہ گرتے، اور قرآن پاک کی تلاوت کے بجائے قرآن پاک کے احکامات کی تلاوت و تنفیذ کرتے، تاہم محل کے باہر پراسرار خاموشی تھی۔ جیسے کچھ ہونے والا ہے۔ ایسی خاموشی جس کے پیچھے طوفان چھپا ہوتا ہے۔ پھر ہوا یہ کہ ترکی کی نیشنل آرمی کے دستوں نے محل کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ ایک نمائندہ خصوصی پیغام کے ہمراہ محل میں بھجوایا۔

آؤ! خلیفہ نے دستک سنتے ہی کہا۔ خلیفہ کے جانثار ملازم نے اطلاع دی محل کو ہر طرف سے گھیرا جاچکا ہے اور استنبول (قسطنطنیہ) کے گورنر آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ فری میسن سیکولر گورنر ڈاکٹر عدنان نے خلیفہ سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں اسمبلی کے فیصلے سے آگاہ کیا اور مطالبہ کیا کہ وہ اپنا سامان باندھ لیں۔ انہیں فورا ہی محل خالی کرنا ہوگا۔ برادری انہیں برداشت کرنے پر تیار نہ تھی۔ خلیفہ کے خاص ملازم نے آگاہ کیا کہ انکار کی صورت میں موت کے گھاٹ اتارنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ یعنی بغیر کسی جرم کے جلاوطنی کی سزا کو قبول نہ کرنے پر سزائے موت۔ خلیفہ نے کچھ سوچنے کے بعد احکامات پر عمل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ انہیں ذہنی طور پر اتنا ہراسان کر دیا گیا تھا کسی قسم کی مزاحمت کی ہمت وہ خود میں نہ پاتے تھے۔

ایک گھنٹے بعد معزول عثمانی خلیفہ، اس کی اہلیہ، بیٹی اس حال میں محل سے نکلے کے ان کے پاس چند جوڑے کپڑوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ یہ وقت تہجد تھا جو بس رخصت ہی ہونے والا تھا اور فجر کی اذان ہونے والی تھی۔ خلیفہ کو خاندان سمیت ترک نیشنل آرمی نے گھیرے میں لے لیا۔ انہیں استنبول ریلوے اسٹیشن لے جایا جارہا تھا، جہاں "اورینٹ ایکسپریس" کے ذریعے انہیں سوئٹزرلینڈ جلاوطن کیا جانا تھا۔ یہ طویل فاصلے کے لیے چلنے والی ٹرین تھی جو ترکی سے یورپین ممالک تک جاتی تھی۔ اس کا آغاز 4 اکتوبر 1883ء کو ہوا تھا۔ اسٹیشن پہنچتے ہی خلیفہ کو ایک لفافہ پکڑایا گیا جس میں دوہزار برطانوی پاؤنڈ تھے۔ یہ تھا تین براعظموں پر مشتمل حکومت سے دستبرداری کے عوض خطیر نذرانہ! ٹرین کی سیٹی بجی تو خلیفہ اہل خانہ سمیت سوار ہوئے اور ٹرین سوئٹزرلینڈ کے لیے روانہ ہوگئی۔ سوئٹزرلینڈ میں کاغذات کی جانچ پڑتال کے بعد حکومت نے ان کو اور ان کے اہل خانہ کو داخلے کی اجازت دے دی، بشرطیکہ وہ کوئی ایسا عمل نہیں کریں گے جو سوئس حکومت کے لیے پریشانی کا باعث ہو۔ آخر تو تین براعظموں پر حکمران خاندان کے فرد پر یہ شرط تو لگائی جانی تھی، تاکہ وہ ارض حرمین یا ہندوستان نہ جاسکیں۔ (جاری ہے)

قصر خلافت سے محمد سادس کی رخصتی کا منظر