بھارت سے ایک خبر اور عجیب و غریب حقائق - آفاق احمد

ایک 15 سالہ بھارتی لڑکے نے 42 سالہ ماں اور 12 سالہ بہن قتل کردی۔ شہر ہے گور (Gaur) (نوئیڈا) جو نئی دہلی کے قریب ہے۔ اس واقعے نے پورے انڈیا میں تہلکہ مچا دیا۔ تفصیلات یہ تھیں کہ باپ کاروباری سلسلے میں گھر سے باہر تھا اور بیٹے نے رات کو سوئی ہوئی ماں اور بہن پر کرکٹ بیٹ کے پے در پے حملوں سے قتل کردیا۔ ساتھ دو قینچیوں اور پیزا کٹر کے وار سے یقین دہانی کی کہ وہ واقعی دم توڑ چکی ہیں۔ پھر کیش کا بیگ اور ماں کا موبائل لے کر ٹیکسی کیب میں نئی دہلی ریلوے سٹیشن پہنچا، وہاں سے چندی گڑھ کی ٹرین لی اور گھر سے دور ہوتا گیا۔

جب بنارس شہر پہنچا تو بیگ اور موبائل چوری ہوگیا۔ یہ وہ مقام تھا جہاں اس کی ہمت جواب دے گئی اور ایک مسافر سے موبائل لے کر باپ کو فون کیا اور یوں پولیس کی حراست میں آگیا۔

پندرہ سالہ ٹین ایجر قاتل کیا بتاتا ہے؟ غور سے دیکھیے کہ یہ لڑکا پڑھائی میں کمزور تھا اور مسلسل ماں کی طرف سے دباؤ میں رہتا تھا، ایک دن صوفے پر بیٹھا پڑھ رہا تھا کہ ماں نے ٹیبل کُرسی پر بیٹھ کر طریقے سے پڑھنے کا کہا جو بیٹے نے ماننے سے انکار کردیا۔ ماں نے نہ صرف سخت ڈانٹ ڈپٹ کی بلکہ اسے مار پیٹ کا نشانہ بھی بنایا۔ بقول اس لڑکے کے یہ وہ موقع تھا کہ اس نے دل ہی دل میں منصوبے بنانے شروع کردیے۔ پڑھائی میں کمزوری اور اس پر تنقید کی وجہ سے وہ پہلے ہی ڈپریشن کا شکار تھا اور دکھی رہتا تھا۔ پہلے خود کشی کا سوچا لیکن یہ منصوبہ ترک کردیا اور ماں کے قتل کا منصوبہ بنایا۔ قتل کے دن ماں اور بہن کے ساتھ مارکیٹ بھی گیا، رات کا کھانا بھی کھایا اور دس بجےسب سونے چلے گئے لیکن اسے نیند نہ آئی اور پھر آخرکار وہ کرگزرا جس کے منصوبے اس کے دماغ میں پنپتے رہتے تھے۔ بہن کو اس ڈر سے قتل کردیا کہ وہ گواہی دے دے گی کہ بھائی نے قتل کیا۔

دوسری وجہ سنیے، یہ لڑکا پڑھائی میں کمزور تھا اور ہر وقت تنقید اور تادیب کی زد میں رہتا تھا لیکن اس کی بہن توجہ کا مرکز تھی، گھر میں بھی اس کی تعریفیں کی جاتیں اورمثالیں دی جاتیں۔ اس مسلسل رویّے نے بھی اسے سخت دلبرداشتہ کیا اور وہ ذہنی تناؤ کی دلدل میں دھنستا گیا۔

اب ایک نکتہ پولیس کی تفتیش کے نتیجے میں سنیے کہ یہ لڑکا ایک آن لائن گیم کھیلنے کا عادی تھا، اس گیم میں سکول سے بھاگنے کا ٹاسک ہوتا ہے اور اس دوران نہ صرف کیمروں سے بچنا ہوتا ہے بلکہ اپنے اساتذہ، کلاس فیلوز اور گرل فرینڈز کو بھی مارنا ہوتا ہے۔ ساتھ ساتھ سکول کے سیکورٹی گارڈز کو بھی قتل کرنا ہوتا ہے،پھر پولیس سے بھی خونی مقابلہ کیا جاتا ہے اور اس طرح یہ گیم چلتی جاتی ہے۔

اس طرح کی گیمز کے اثرات ہم مغرب میں بہت دیکھ چکے جب ہر کچھ عرصہ بعد ایک ٹین ایجر گن اٹھاتا ہے اور اپنے کلاس فیلوز حقیقت میں قتل کرڈالتا ہے۔

باپ کا کہنا ہے کہ اس بچے کی کوئی ایسی ہسٹری دیکھنے میں نہیں آئی، باقی ڈانٹ ڈپٹ تو ہر گھر میں ہی ہوتی ہے ۔ اب وہ تذبذب میں ہے کہ کیا کرے؟ اس کی فیملی کا واحد زندہ ممبر بھی یہی بیٹا ہے۔

اب کچھ نفسیاتی پہلو ہم بھی دیکھتے ہیں اور آپ بھی ضرور رائے دیجیے۔ ذہن نشین رہے کہ اس اقدام کی ہرگز حمایت نہیں، صرف نفسیاتی عوامل کا جائزہ ہے۔

ایک بات جو والدین کے سمجھنے کی ہے کہ تمام بچے ایک صلاحیت کے حامل نہیں ہوتے، اگر کوئی بچہ تعلیم میں کمزور ہے تو اس سے وہ نتائج نہ مانگیے جو وہ نہیں دے سکتا۔ بچے کا ذہنی معیار جانچیے اور اُس کے مطابق دباؤ رکھیے۔ بچہ لائق ہے، ایوریج یا ایوریج سے بھی نیچے ہے، یہ تعین انتہائی ضروری ہے۔ آجکل والدین کا عجیب المیہ ہے کہ وہ چاہتے ہیں، ہر بچہ پوزیشن لے۔ یہ کیسے ممکن ہے؟

دوسرا صلاحیت کو گُھن لگانے والے عوامل پر بھی غور کیجیے۔ بے محابا میڈیا اور سوشل میڈیا کا استعمال، آن لائن گیمز اور برے دوستوں کی صحبت بچوں کی دماغی صلاحیت کو چُوس لیتی ہیں اور پھر وہ صلاحیت ہوتے ہوئے بھی نتائج نہیں دے پاتے۔

تیسری بات یہ سمجھنے کی ہے ہر عمر کے بچے ایک طریقے سے ہینڈل نہیں کیے جاسکتے خاص طور پر ٹین ایج جو جذباتی ہیجان کی عمر ہے، میں معاملہ بہت احتیاط سے برتنا چاہیے۔

اگر خود نہیں سمجھ پارہے تو کسی سمجھ دار شخص سے جو بچوں کی نفسیات سمجھتا ہو، مشاورت ضرور کرنی چاہیے، یہ شخص بچے کے اساتذہ میں بھی ہوسکتا ہے،آپ کے حلقہ احباب میں بھی اور عزیز رشتہ داروں میں بھی، ڈھونڈنا آپ کا کام ہے۔

بچوں میں تقابل انتہائی مہلک طریقہ ہے جو ایک بچے کو احساسِ برتری اور ایک بچے کو احساسِ کمتری میں مبتلا کردیتا ہے۔ یہ احساسِ کمتری عمر کے ساتھ بغاوت، نفرت اور اکتاہٹ کا پیش خیمہ بنتا جاتا ہے جس کے نتیجے میں بچے کے دل و دماغ میں جارحیت بسیرا کرنا شروع ہوجاتی ہے۔ اوپر کے معاملے میں یہی ہوا کہ باپ بھی بچے کی صاف ہسٹری کی گواہی دے رہا ہےکیونکہ یہ سفر خاموشی کا حامل ہوتا ہے اور تب ہی نظر آتا ہے جب آتش فشاں پھٹ جاتا ہے۔ کہیں معاملے چھپے رہتے ہیں، کہیں واضح ہوجاتے ہیں اور کہیں المیوں کی صورت میں نتائج جنم لیتے ہیں۔

بچوں کو کبھی ایک دوسرے کے ایسے متواتر طعنے نہ دیں کہ ایک بچہ دوسرے سے حسد، بغض اور کینے میں مبتلا ہوجائے اور تقابل بھی کم سے کم کریں۔ آپ کے بچے پھولوں کا گلدستہ ہیں، ہر بچے کی صلاحیت، ہر بچے کی افادیت کا رنگ اور خوشبو جدا جدا ہے، پہچاننا آپ کا کام ہے۔

پولیس کی تفتیش کے نیتجے میں سامنے آیا ہے کہ یہ مارپیٹ اور قتل و غارت والی گیمز کے نقصانات اب ڈھکے چھپے نہیں، یہ پوری دنیا میں حادثات کی صورت میں نتائج دے چکے ہیں اور بدستور دے رہے ہیں۔ نفسیاتی ماہرین کے مطابق یہ بچے کو جارح مزاج اور غصیلا بناتی ہیں، معاشرے سے نفرت کرنے والا اور ہر ایک کو اپنا دشمن سمجھنے والا، لوگوں سے دور رہنے والا۔ اندر سے رحم اور ایثار کے جذبات کُھرچ ڈالتے ہیں اور پھر یہ ملبہ لاشعوری طور پر اس حد تک اکٹھا ہوجاتا ہے کہ ایک دن حقیقت میں جرائم کی صورت میں منظرِ عام آجاتا ہے۔

یہ ہم سب کا کام ہے کہ کیسے میڈیا اور سوشل میڈیا کے اثرات قابو میں لائیں کہ یہ ہمارے گھر اور معاشرے کو مزید خاکستر نہ کریں۔ آپ بھی ضرور رائے دیجیے کیونکہ یہ انفرادی نہیں، اجتماعی مسائل ہیں جن سے معاشرے انتشار اور خلفشار کا شکار ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */