میرے مقدّر کا ستارہ - صدف زبیری

میری ایک سہیلی کی والدہ ستارہ شناس تھیں۔ زائچے بناتیں، ہاتھ کی لکیریں پڑھتیں اور کچھ عجیب و غریب عملیات اور وظیفے بھی بتایا کرتیں۔ ہمارے گھر کا ماحول ان سب چیزوں پر یقین کی قطعاً اجازت نہ دیتا، سو عقیدے کے مطابق یہ بات دماغ میں راسخ تھی کہ یہ بےبنیاد اور گناہ کی جانب لے جانے والی چیزیں ہیں۔ ایک بار آنٹی نے میرا ہاتھ دیکھا اور چند ایک باتیں بتائیں، جنہیں اس وقت ذرا اہمیت نہیں دی لیکن وہ وقت کے ساتھ درست ثابت ہوئیں۔ اس وقت 'ٹین ایج' میں تھی تو ہر مسئلہ ویسے ہی کئی گنا بڑا نظر آتا تھا۔ کچھ زندگی ویسے بھی بہت سے مسائل کا شکار تھی۔ پھر پے در پے کچھ ایسے حادثات رونما ہوئے کہ زندگی مشکل ترین ہوتی چلی گئی۔ ایک دن دل بھرا ہوا تھا، آنٹی نے ذرا شفقت سے بات کی اور میں زاروقطار رونا شروع۔ وہ کچھ دیر خاموشی سے سنتی رہیں۔ پھر زائچہ بنانے لگیں اور کافی حساب کتاب کے بعد بولیں "تم ستاروں کی گردش میں بری طرح پھنسی ہو اور بظاہر اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔"

میں مزید پریشان ہو گئی تو مسکرائیں "لیکن ایک راستہ ہے ایک چھوٹا سا عمل ہے اگر وہ کر لو تو سب ٹھیک ہو سکتا ہے۔ صرف اتنا کرنا ہے کہ چا ند کی آخری راتوں میں جب ہر طرف مکمل تاریکی ہو، ایک سلور کی کٹوری میں کچھ ستارے لو، اور نصف شب کے بعد کسی بھی چوراہے پر رکھ کر آسمان کی طرف منہ کر کے بولو، "اپنا ستارہ لو میرا ستارہ دو۔" اور واپس ہو لو۔ پلٹ کر ہرگز مت دیکھنا، خواہ کیسی بھی آوازیں آئیں، یاد رکھو اگر مڑ کر دیکھا تو وہ تمھارا ستارہ لے جائیں گے، پھر زندگی بھر تم تاریکی میں بھٹکتی رہوگی۔

یہ عمل میرے لیے مشکل تو تھا لیکن حالات اس سے بھی زیادہ مشکل تھے۔ سمجھ نہیں آتا تھا کیا کروں؟ عجیب مخمصے میں پھنسی تھی۔ دن گزر کر نہ دیتے تھے۔ ایک رات بے انتہا پریشانی کے عالم میں نصف شب کو اٹھی نماز پڑھی اور گڑگڑا کر یہ عمل کرنے کی توفیق مانگی۔ پتا نہیں کب تک "مجھے ہمت دے!" کا ورد کرتے اور روتے روتے سوگئی۔ صبح اٹھی تو سب بھول چکی تھی۔ تین چار دن بعد اچانک عمل کا خیال آیا تو حیرت ہوئی کہ بھول کیسے گئی؟ مگر اب ایسے کسی عمل کی لگن دل میں نہ رہی تھی، وہاں ٹھہراؤ تھا۔ بعد میں حالات مسلسل اوپر نیچے ہوتے رہے، اور ہمیشہ اس عمل کا خیال دل میں آیا، مگر اسے کرنے کی خواہش کبھی پیدا نہیں ہوئی۔ آج یونہی اچانک یہ بات یاد آگئی تو گویا گتھی سلجھ گئی۔ اُس رات ہمت مانگی تھی، ہمت دے دی گئی۔ آج مجھے کسی کٹوری کو چوراہے پر رکھ کر ستارے بدلنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ مجھے اپناستارہ روشن رکھنا آگیا ہے۔