فطرت و عقل ِ سلیم، شکر اور محاسبہِ انسانی - وقاص احمد

کچھ دن پہلے ’’ دلیل ‘‘ پر چند کالم اور جوابی کا لم اس موضوع پر لکھے گئے کہ کیا مرنے کے بعد کا فروں، مشرکوں، اور عیسائیو ں کی نجات و مغفرت کی کوئی صورت ہو سکتی ہے؟ اس حوالے سے امت کا اجماع، متفق علیہ یا جمہور مؤقف کیا ہے؟ مضامین میں اس پہلو پر بھی بات ہوئی کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ کوئی شخص نیک نیتی سے، پوری کوشش کے باوجود بھی اللہ اور اس کی توحید تک نہ پہنچ سکے تو اللہ کا اس کے متعلق کیا فیصلہ ہوگا۔ ظاہر ہے رب تعالیٰ کس بندے سے کیا بات پوچھے گا اور کیا سنے گا یہ صرف اور صرف اللہ کی مرضی ہے۔ وہ مالک ِ یوم الدین ہے۔ البتہ مسلمانوں کو خاص طور پر علمائے کرام کو اس معاملے میں کیا مؤقف رکھنا چاہیے اور لوگوں کو کیا دعوت دینی چاہیے؟ وہ یقیناً مسلمان محققین اور علماء کا موضوع ہونا چاہیے اور ایسا ممکن نہیں کہ قرآن و سنت اس معاملے میں ہماری رہنمائی نہ کریں۔

اس حوالے سے ایک دو پہلوؤں پر بات کرنا چاہوں گا۔ ایک چیز جو قرآن اور احادیث میں زیر بحث آتی ہے وہ ہے انسان کی فطرتِ سلیمہ اور اس کی دستک سے بیدار ہونے والی عقلِ سلیم۔ قرآن حکیم نے اسے بہت اہمیت دے کر واضح کیا اور اس کو باقاعدہ محاسبہ ِانسانی سبب بتایا۔ سورہ آل عمران کا آخری رکوع اس حوالے سے نہایت عظیم ہے کہ کیسے ایک انسان، اگر اس کی فطرت سلیم ہے تو وہ اس بات کو نظر انداز نہیں کرسکتا، قطعاً اس امر کو ہلکا یا معمولی نہیں لے سکتا کہ وہ کون ہے؟اس دنیا میں کیوں وارد ہوا؟ یا یہ کہ دنیا کا نظام کیسے چل رہا ہے؟ یہ کائنات کی نیرنگیاں کیا ہیں؟ یہ انسان کیا مر کر فنا ہوجاتا ہے یا کسی نئی زندگی کا آغاز کرتا ہے؟ کیا اسے کہیں کسی مقام پر اس کی جوابدہی ہوگی یا نہیں؟ وہ نفسانی خواہشات کو کچل کر نیک عمل کیوں کرے؟ کیا اس کا موجودہ اعتقادی اور ایمانی نظام اس کے عقل و فکر کے مطابق ہے؟ کیا وہ اپنے موجودہ اعتقادی اور ایمانی نظام سے مکمل طور پر مطمئن ہے؟

آل عمران میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کے بدل بدل کے آنے جانے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں ﴿۱۹۰﴾ جو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حال میں) خدا کو یاد کرتے اور آسمان اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے (اور کہتے ہیں) کہ اے پروردگار! تو نے اس (مخلوق) کو بے فائدہ نہیں پیدا کیا تو پاک ہے تو (قیامت کے دن) ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچائیو ﴿۱۹۱﴾ اے پروردگار جس کو تو نے دوزخ میں ڈالا اسے رسوا کیا اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ﴿۱۹۲﴾ اے پروردگارہم نے ایک ندا کرنے والے کو سنا کہ ایمان کے لیے پکار رہا تھا (یعنی) اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لے آئے اے پروردگار ہمارے گناہ معاف فرما اور ہماری برائیوں کو ہم سے محو کر اور ہم کو دنیا سے نیک بندوں کے ساتھ اٹھا ﴿۱۹۳)

ان آیات میں انتہائی غور طلب بات یہ ہے آیت نمبر 193 میں فرمایا گیا کہ ’’ ہم نے ایک ندا کرنے والے کو سنا‘‘ یہ انبیاء علیہ السلام کی ندا و پکار ہے جو ہر زمانے میں، ہر علاقے میں نبی آخرزماں محمد رسول ﷺ تک بنی نوع انسان کو توحید کی دعوت دیتے رہے۔ یعنی سلیم الفطرت شخص اپنے ہی غور و فکر اور ضمیر کی پکار پر زندگی کی مقصدیت اور توحید تک پہنچ سکتا ہے۔ اور جب اسے کسی داعی کی پکار سنائی دیتی ہے تو وہ لپک کر اس دعوت کو قبول کرتا ہے اور ایمان لاتا ہے۔ان آیات میں غور و فکر کے بعد نتائج تک پہنچنے کی بات پہلے اور داعی کی پکار پر ایمان لانے کی بات بعد میں ہے۔ ابو بکر صدیق ؓ کی مثال اس معاملے میں چو ٹی کی ہے کہ گویا بس وہ اپنے دوست، اپنے رفیق ﷺ کی دعوت کا انتظار کر رہے تھے۔ اسی آیت کو اگر عام طریقے سے سمجھا جائے تو خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد اس امت کی جو جو نیک روحیں، قرآ ن اور اسلام کی پکار لگا رہیں وہ بھی دنیا بھر میں موجود سلیم الفطرت رو حوں کے لیے اسی نِدا و پکار کا ذریعہ بنتی ہیں۔ ذاکر نائیک صاحب کے عوامی پروگرامز میں اسلام قبول کرنے والے لوگوں کے احوال سن کر اس بات کا مزید تیقّن ہوتا ہے۔

سورۃ حٰم السجدہ کی مشہور آیات بھی اسی طرف اشارہ کرتی ہے:

’’ہم عنقریب ان کو اطراف (عالم) میں بھی اور خود ان کی ذات میں بھی اپنی نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ (قرآن) حق ہے۔ کیا تم کو یہ کافی نہیں کہ تمہارا پروردگار ہر چیز سے خبردار ہے ﴿۵۳﴾ دیکھو یہ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر ہونے سے شک میں ہیں۔ سن رکھو کہ وہ ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے ﴿۵۴﴾‘‘

مجھے ذاتی طور پر سورۃ البقرہ کی دوسری آیت ایک زمانے میں بہت مشکل لگتی تھی کہ ’’ یہ کتاب ہدایت ہے متقین کے لیے‘‘۔ تقویٰ کے متعلق عام مسلمان یہی سمجھتا ہے یہ ایمان اور عمل ِ صالح ہے۔ اللہ کی رضا والے کام کرنا اور ناراضگی سے بچنا ہے۔ جبکہ قاری دیکھتا ہے کہ قرآن تو شروع میں ہی شرط لگا رہا ہے کہ اس کتاب سے ہدا یت وہی لوگ حاصل کر پائیں گے جو متقی ہیں۔ اللہ درجات بلند کرے مفسّرین کے جنہوں نے سمجھایا کہ یہاں تاویل عام میں متّقین سے مراد ہر و ہ انسان ہے جسکا قلب تکبّر اور بغض سے پاک ہے۔ جو واقعتاً ہدایت کا طالب ہے۔ جس شخص نے اپنے فطرت وعقلِ سلیم کی وجہ سے حقائق کی جانب پیشقدمی شروع کردی ہے۔ جس نے تعصبات سے مکمل یا جزوی طور پر علیحدگی اختیارکر کے، اپنے موجودہ مابعدالطبیعاتی نظامِ فکر میں شک و مسائل تسلیم کرکے، ہدایت کی طلب و آرزو لیے اپنے فکری سفر کا آغاز کردیا ہے۔ ان جیسے لوگوں کے لیے قرآن کہتا ہے کہ وہ الھدیٰ ہے، کتاب ہدایت ہے۔

عہدِ الست پر الحمدللہ کافی نکات سامنے آئے۔ اس عہد کو ہر اس آیت و حدیث کی اساس کہا جاسکتا ہے جس میں اللہ نے انسان کی فطرت کو بھی مکلف ٹھہرایا ہے جیسے سورۃ دہر کی آیات

’’بےشک انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے کہ وہ کوئی چیز قابل ذکر نہ تھی ﴿۱﴾ ہم نے انسان کو نطفہٴ مخلوط سے پیدا کیا تاکہ اسے آزمائیں تو ہم نے اس کو سنتا دیکھتا بنایا ﴿۲﴾ (اور) اسے رستہ بھی دکھا دیا۔ (اب) وہ خواہ شکرگزار ہو خواہ ناشکرا ﴿۳﴾ ‘‘

یا سورۃ الشمس کی آیات

’’اور انسان کی اور اس کی جس نے اسےسنوارا ﴿۷﴾ پھر اس کو گناہ (سے بچنے) اور پرہیزگاری اختیار کرنے کی سمجھ دی ﴿۸﴾ کہ جس نے (اپنے) نفس (یعنی روح) کو پاک رکھا وہ مراد کو پہنچا ﴿۹﴾ اور جس نے اسے خاک میں ملایا وہ خسارے میں رہا ﴿۱۰﴾‘‘

لیکن سورۃالروم میں تو باقاعدہ فطرت کا لفظ استعمال کیا گیا جس سے اوپر بیان کی گئی آیات کی مزید وضاحت ہوتی ہے۔

فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا ۚ فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۚ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ﴿۳۰﴾

’’تو تم ایک طرف کے ہوکر دین (خدا کے رستے) پر سیدھا منہ کئے چلے جاؤ (اور) خدا کی فطرت کو جس پر اُس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے (اختیار کئے رہو) خدا کی بنائی ہوئی (فطرت) میں تغیر وتبدل نہیں ہو سکتا۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ﴿۳۰﴾‘‘

مولانا تقی عثمانی اس آیت پر لکھتے ہیں کہ ’’ اللہ نے ہر انسان میں یہ صلاحیت رکھ دی ہے کہ وہ اپنے خالق و مالک کو پہچانے، اس کی توحید کا قائل ہو، اور اس کے پیغمبروں کے لائے ہوئے دین کی پیروی کرے۔ اسی کو آیت میں فطرت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ فطری صلاحیت جو اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو عطا فرمائی ہے، اس صلاحیت کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ماحول کے اثر سے انسان غلط راستے پر جاسکتا ہے، لیکن اس کی یہ صلاحیت ختم نہیں ہو سکتی، چنانچہ جب کبھی وہ ضداور عناد (نفس و لذات کی پیروی ) چھوڑ کر حق پرستی کے جذبے سے غور کرے گا تو اس کی یہ صلاحیت کام دکھائے گی اور وہ حق تک پہنچ جائے گا۔ البتہ یہ الگ بات ہے کہ مسلسل ضد اور عناد کی روش اختیار کئے رکھے اور حق بات سننے کو تیار ہی نہ ہو تو اللہ اس کے دل پر مہر لگا دے جیسا کہ کئی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے خود بیان فرمایا ہے۔ ‘‘

رسول اللہ ﷺ کی حدیث اسی بات کی طرف راہنمائی کرتی ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ہر بچہ فطرت پر ہی پیدا ہوتا ہے پھر اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی، یا مجوسی بنا لیتے ہیں(بخاری و مسلم)

اللہ تعالیٰ سورہ لقمان میں حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو کی جانے والی نصیحتیں نقل فرماتے ہیں۔ حضرت لقمان کے بارے میں یہ رائے تو قوی و راجح ہے کہ وہ نبی نہیں تھے لیکن ایک نہایت سلیم الفطرت، حکیم اور دانا شخص تھے۔ چونکہ ان کی نصیحتوں میں کسی رسول یا نبی کی اطاعت یا کسی آسمانی کتاب کی پیروی کا تذکرہ نہیں ہے اس لیے بعض علماء کی اس رائے کو تقویت ملتی ہے کہ وہ اپنے غور و فکر کے ذریعے اُن نتائج پر پہنچے جن کا ذکران آیات میں ہوا۔

ارشاد ہوا ’’اور ہم نے لقمان کو دانائی بخشی کہ خدا کا شکر کرو اور جو شخص شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو خدا بھی بےپروا اور سزاوار حمد (وثنا) ہے ﴿۱۲﴾ اور (اُس وقت کو یاد کرو) جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ بیٹا خدا کے ساتھ شرک نہ کرنا۔ شرک تو بڑا (بھاری) ظلم ہے ﴿۱۳﴾‘‘

پھر آگے حضرت لقمان فرماتے ہیں کہ ’’بیٹا اگر کوئی عمل (بالفرض) رائی کے دانے کے برابر بھی (چھوٹا) ہو اور ہو بھی کسی پتھر کے اندر یا آسمانوں میں (مخفی ہو) یا زمین میں۔ خدا اُس کو قیامت کے دن لاموجود کرے گا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا باریک بین (اور) خبردار ہے ﴿۱۶﴾ ‘‘

دیکھیں پہلی بات جو حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو کہی وہ یہی کہ شکر کی روش اختیار کرو۔ اگلی بات شرک کے ظلم کے بارے میں کہی۔ اس کے بعد والدین، خاص طور پر والدہ کی اس تکلیف کا تذکرہ ہے کہ جو وہ حمل کے دوران جھیلتی ہے۔ یہاں اللہ خود فرماتے ہیں کہ میرے شکر کے ساتھ اپنے والدین کا بھی شکرادا کرو۔ قرآن میں کم از کم چار مقامات میں اللہ کی توحید اور عبادت کے فوری بعد والدین کے حق اور ان سے نیک سلوک کا تذکرہ ہوتا ہے۔ پھر حضرت لقمان اس بات کو بیان کرتے ہیں کہ اس دنیا میں کیا جانے والا کوئی بھی عمل ضائع نہیں ہوگا اور آخرت میں اپنا رنگ دکھائے گا۔ اور بڑے بڑے نیک اور برے عمل ہی نہیں بلکہ رائی کے برابر بھی کیا جانے والا نیک یا بد عمل بھی میزان عمل میں رکھا جائے گا۔

انسان تھوڑا سا بھی عقل و شعور کی منزل پر آتا ہے تو اسے فوراً یہ اندازہ ہوتا ہے کہ والدین کی صورت میں اسے پتا نہیں کہاں سے وہ ہستیاں میسر آگئی ہیں جو دل و جان سے اس کی ضروریات پوری کر رہی ہیں ورنہ وہ کب کا ختم ہو چکا ہوتا۔ تبھی وہ قدرتی طور پر سب سے پہلے اپنے والدین کا شکر گزار بن جاتا ہے۔ بعد میں نظام زندگی اور کائنات کے رازوں سے جب پردے ہٹتے ہیں تو وہ اس نتیجے پر پہنچنا شروع ہوجاتا ہے کہ اس کے والدین سمیت ہر شخص کسی نہ کسی کا محتاج ہے۔ اس دنیا میں لوگوں کی طرف سے کئے جانے والے ظلم، عدل و انصاف میں ادھورا پن، دولت کی تقسیم میں اونچ نیچ، موت و حیات کا چکر اسے مقام ِشکر اور مقام صبر تک لے آتا ہے۔ کسی کا شکر گزار ہونا انسان کا فطری تقاضہ ہے۔ قرآن میں شکر کی ضد کفر سے تعبیر ہوئی ہے۔ یہیں سے جب سلیم الفطرت انسان اپنے باطل اعتقادی نظام پر غور کرتا ہے تو وہ اسے اپنی فطرت سے جڑی توحید سے متصادم نظر آتا ہے، لامحالہ اسے اپنی مذہبی کتا بو ں، اپنے بڑوں اور عالموں سے رجوع کرنا پڑتا ہے کہ وہ اس کے مسائل حل کریں اور یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ اسے قرآن حکیم کے متعلق تھوڑی سی بھی جان کاری نہ ہو یا قرآن اور قرآن والے اس کی دسترس میں نہ ہو۔ دنیا میں سینکڑوں سیاستدانوں، سائنسدانوں، فلم اور کھیل کے ستاروں، موسیقاروں بلکہ خود یہودی، عیسائی، ہندمت کے علماء، رہبان کے اسلام لانے کے واقعات اس نے سنے یا پڑھے نہ ہوں۔

اسلام کے ماخذ سے اگر الگ ہوکر بھی فلسفیوں کی جدو جہد کو دیکھا جائے تو ہمیں افلاطون اور کانٹ اور ان کی طرح کئی ایسے فلاسفہ مل جاتے ہیں جو اس بات کی دلیلیں دیتے ہیں کہ انسان کے اندر کچھ علم اور اصول پہلے سے موجود ہوتے ہیں جو صرف عقل اور سوچ بچار سے ہی سے اس پر واضح ہوجاتے ہیں اور اس کے لیے کسی حسّی اور بیرونی تجربے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ dictionary.com پر ’’a priori ‘‘ کا مفہوم چیک کریں کہ ’’علم اور خرد کا وہ حصہ جو کسی بھی تجربہ سے آزاد و مبرا ہو اور کر دار کا جزو ہو‘‘۔A Priori Knowledge کے بارے میں برٹانیکا لکھتا ہے وہ علم جو تمام تجربات سے آزاد ہو۔ اس کی ضد A Posteriori Knowledge ہے جو مشاہدات اور تجربات سے حاصل ہوتی ہے۔ کانٹ کے مطابق انسان کی اخلاقی حس اور ضمیر کی صورت میں اس کی آواز ایک دلیل ہے۔ قرآن اس کو نفس لوامّہ کہتا ہے۔

علمی مباحث سے آگے چلتے ہوئے کچھ عملی مظاہر اور شخصیات کو دیکھتے ہیں۔ حضرت خدیجہ ؓ، حضرت ابو بکر صدیق ؓ، حضرت علی ؓ، حضرت زید ؓ کے ایمان لانے کے معاملے میں ان کی انتہائی اعلیٰ اور ارفع شخصی غور و فکراور فطرت سلیم ہونے کے علاوہ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ان کے سامنے رسول اللہ ﷺکی ذات گرامی اور بقول اللہ تعالیٰ’’ خُلُقٍ عظیم‘‘ والی زندگی سامنے تھی۔ لیکن حضرت سلمان فارسی ؓ اور حضرت یاسر ؓ تو بالترتیب ایران اور یمن کے باشندے تھے۔ حضرت سلمان فارسی تو آتش پرست مذہبی رہنما کے گھر پیدا ہوئے تھے۔ وہ کس طرح تلاشِ حق میں سرگرداں رہے۔ کیسے غور و فکر اور طلب ہدایت کے کٹھن اور صبر آزما سفر سے گذر کر رسول اللہﷺ کی قدموں میں آئے۔ ہمیں مطالعہ کرنا چاہیے۔ ذاکر نائیک، یوسف ایسٹس، عبدلرحیم گرین صاحب کے سامنے کلمہ پڑھنے والوں کی کار گزاری سنیں، کرب اور اشتیاق سے لبریز مراحل سے گزر کر منزل کی جانب ان کے کامیاب سفر کا احوال محسوس کرنے کی کوشش کریں، ان کی گفتگو کا ایک ایک لفظ اور جذبات سے بھرا ایک ایک آنسو ہم مورثی مسلمانوں (الحمدللہ ) کو عہدِ الست اور سورۃ الروم کی آیات کی کی حقانیت سے ہمکنار کرے گا۔

خود داعی اسلام یوسف ایسٹس، عبدلرحیم گرین (سابق عیسائی)، مترجم قرآن اور کئی دینی کتابوں کے مصنف علامہ اسد (سابق یہودی)، مترجم قرآن جناب پکتھال (سابق عیسائی)، یووان ر رڈلے (جرنلسٹ، رپورٹر)، کتھرین بیکر (ایم ٹی وی اینکر)، مراد ہوف مین (جرمن، ینٹو کے ڈائریکٹر انفارمیشن)، موسیقار اے آر رحمٰن، سنگر یوسف اسلام (کیٹ سٹیونز) وغیرہ کے ارد گرد کے ماحول اور دلوں پر پڑی کثافتوں کی کہانیاں پڑھیں اور پھر دینِ حق اور رسول اللہ ﷺ کے قدموں تک پہیچنے کا سفر نامہ پڑھیں۔ واقعہ یہ ہے مسلمانو ں نے غیر مسلموں پر دعوت و تبلیغ اور شہادت علی الناس کا حق ادا کرنے کی کوشش کی ہو یا نہ ہو اِن عظیم روحوں نے تو کردی ہے اور اپنے جیسے دوسرے غیر مسلموں، ملحدوں، کافروں پر بڑی حجت (واللہ اعلم) قائم کردی ہے۔

دوسری جانب قرآن و حدیث میں روز حشر، دوزخ اور جنت میں بندے اور اللہ کے کئی مکالمے نقل ہوئے ہیں۔ میرے محدودمطالعہ میں کوئی ایک بھی ایسا مکالمہ مجھے یاد نہیں آتا جس میں کوئی بندہ اللہ کو اس معاملے میں قائل کردے کہ وہ نیک نیتی سے، جدوجہد کرنے کے باوجود بھی حق تک نہ پہنچ سکا۔ میرا گمان غالب ہے کہ اگر اس موضوع پر کوئی آیت اور حدیث دستیاب ہوتی تو وہ دوسری جانب سے ضرور پیش کی جاتی۔ کئی ایسی احادیث ہیں جس میں بندہ رب سے مکالمہ کر رہا ہے جیسے لوگوں کو قرض د ے کر معاف کردینے والے شخص کی حدیث۔ اسی طرح اپنے آپ کو اللہ کے خوف سے مرنے کے بعد جلا ڈالنے کی وصیت کرنے والے شخص کا اللہ سے مکالمہ، جھوٹے سخی، عالم اور شہید کا اللہ سے مکالمہ وغیرہ۔ قرآن میں بھی دوزخ اور جنت کے حقداروں کے بہت سارے مکالمے ملتے ہیں جس میں کافروں اور مشرکوں کو اللہ کی جانب سے ملنے والے جوابات سن کر تو خوف سے متقین کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ جگہ جگہ اللہ نے نفس پرستی، تکبر، ہنسی اڑانے، کمتر جان کر دھیان نہ دینے،ہٹ دھرمی، بغض، حسد، اندھی پیروی، غلط لوگوں کی صحبت اور دنیا کی زندگی میں غرق رہنے کو ہی ایمان نہ لانے کی وجہ ٹھہرایا ہے۔

اس لیے مسلمان علماء، مفکرین و اساتذہ کو اپنی دعوت اور تبلیغ میں کوئی ایسا موقع یا زاویہ نہیں دینا چاہیے جو پوچھنے والے کو کسی اور سمت نکلنے کی نازک دلیل بھی فراہم کرے۔ ہوسکتا ہے داعی پہلے مرحلے میں اپنے مدعو کو حق کی راہ میں حائل روحانی بیماریوں، سماجی گندگیوں اور حد درجہ دنیا پرستی یا بے تحاشہ حب جاہ و مال سے دور رہنے کا مشورہ دے۔ باقی سوچنے سمجھنے، غور و فکر کا وقت اللہ نے اپنے کسی بندے کے لیے کتنا رکھا ہے، اس کے اندر کتنی وسعت رکھی ہے، اس کے جینز میں کیا صلاحیتیں ہیں، اسے خواب، تصورات اور تجربات کے ذریعے کیا پیغام دینا ہے، یہ اللہ ہی جانتا ہے۔ ہدایت پر لے ہی آنا داعی کے ذمے نہیں ہے۔ لیکن داعی کو اپنا کام انہماک، بغیر کسی شک اور ابہام کے کرنا چاہیے۔

Comments

وقاص احمد

وقاص احمد

کراچی یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز اور سنہ2000 سے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں خدمات سرانجام دینے والے وقاص احمد ایک دنیا دیکھ چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ ، مشرقِ بعید اورآسٹریلیا کے سفر کر چکے ہیں ۔مطالعہ کا شوق تو بچپن سے تھا لیکن گزشتہ کئی برسوں سے باقاعدہ فلسفۂ دین،احیائے دین کی تحاریک، فلسفہِ اخلاق ، سیاست، احتساب اور تاریخ کے موضوعات ان کی تحقیقات اور فکر کا حصہ ہیں۔ اس حوالے سے علمائے کرام اور دینی اسکالرز کے بے شمار دروس اور لیکچرز میں شرکت کر چکے ہیں۔ ان سے ٹوئٹر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں