سوچنا منع ہے - اے وسیم خٹک

انسان اور جانور میں سب سے بڑا اور نمایاں فرق سوچ کا ہے. انسان کو اللہ تعالی نے سوچنے کی صلاحیت سے نوازا ہے، وہ مشاہدات اور تجربات سے بھی استفادہ کرتا ہے جبکہ جانور ان سے محروم ہوتے ہیں، فرشتوں کو اللہ نے عقل سے نوازا ہے، انہیں آنے والے طوفان سے باخبری ہوتی ہے.ج ب اللہ تعالی نے زمین پر مخلوق کی تخلیق کرنی چاہی تو فرشتوں نے کہا کہ خداوند! انسان زمین پر فساد پھیلائے گا، یعنی وہ آنے والےحالات سے باخبرتھے، کیونکہ انہیں اللہ نے اس کی طاقت سے نوازا تھا، مگر اللہ نے پھر بھی زمین پر مخلوق کی تخلیق کی، اور یوں دنیا کا نظام شروع ہوا، اور یہ چلتا آ رہا ہے، ایک دن اس کا اختتام ہوگا.

بات ہو رہی تھی انسان کی سوچ کے حوالے سے، تو جب تک انسان ہے تو وہ اردگرد چیزوں کو دیکھ کر سوچے گا، وہ چیزوں کو بنائے گا، اور اسے استعمال میں لائے گا. وہ اس کائنات میں چیزوں کومسخر کرے گا، وہ ہر چیز میں خدا کی قدرت کو تلاش کرے گا. جتنی اس کی صلاحیت ہوگی. کتابوں میں پڑھا ہے کہ فرعون کو اللہ نے بہت بڑی صلاحیتوں سے نوازا تھا، مگر عقل سے نہیں نوازا تھا کہ وہ یہ کہہ دیتا کہ موسی علیہ السلام اللہ کے رسول ہیں، کیونکہ اس کے پاس یہ سوچنے کی صلاحیت نہیں تھی. انسان کو اللہ نے ایک جیسا ذہن اور ایک جتنا دماغ عطا کیا ہے، اب وہ اس کا استعمال کیسے کرتا ہے، یہ اس پر منحصر ہوتا ہے.

ڈیکارٹ نے کہا تھا کہ i am thinking thats why i am یعنی میں سوچتا ہوں اس لیے میں ہوں. اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی سوچتا نہیں تو اس کاوجود ہی نہیں ہے. ہم وجود رکھتے ہیں اس لیے سوچتے ہیں.

کچھ دن پہلے طبیعت کی ناسازی کے باعث ڈاکٹرکے پاس جانا ہوا. جس طرح تمام ڈاکٹرز کرتے ہیں انہوں نے بھی وہی کیا. مجھے ٹیسٹوں میں اُلجھا کے رکھا اور جتنے ٹیسٹ ہوسکتے تھے، کروائے گئے، بتایا گیا کہ ہم بیماری کی جڑ تک جاناچاہتے ہیں، جس کے لیے انہوں نے سوچنا تھا. مجھے بھی اتنے ٹسیٹ پہلی بار کرانے پڑے تھے، تو مشینریوں کو دیکھ کر سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ انسانی سوچ نے کتنی ترقی کر لی ہے. کیا کچھ ایجاد نہیں کیا ہے. وہاں مریضوں کو دیکھ کر بھی سوچ کے گھوڑے دوڑانے پڑے کہ اتنے زیادہ مریض؟ اور پھر اتنے زیادہ ڈاکٹرز، ہر قسم کی عجیب عجیب کڑوی، کسیلی اور میٹھی ادویات اور الگ الگ قسم کی بیماریاں اور ان کا علاج، سوچ ناتمام ہوگئی.

یہ بھی پڑھیں:   وقت کی اہمیت اور اس کا استعمال - مولانا عثمان الدین

ڈاکٹر نے ٹیسٹ دیکھ کر پوچھا. کرتے کیا ہو؟ جواب دیا سوچتا ہوں اور اُسی سوچ کو پھر دوسروں تک پہنچاتا ہوں. پہنچانے کا طریقہ جو مناسب لگے استعمال کرتا ہوں. ڈاکٹر نے عینک سے اوپر دیکھتے ہوئے کہا. اچھا، تو سوچنے کا کام کرتے ہو. جواب دیا. ہرانسان سوچنے کا ہی کام کرتا ہے. میں کوئی اچھوتا کام تو نہیں کرتا. آپ بھی سوچ کی وجہ سے ہی اتنے زیادہ مریضوں کو دیکھتے ہو، ورنہ کون دیکھ سکتا ہے. یہ بات دل میں کی تھی، سامنے نہیں، ورنہ ٹسیٹ میرے منہ پر مارے جاتے اور نیکسٹ کی آواز سنائی دیتی. پھر کہا لگتا ہے بہت زیادہ سوچنے کاکام کرتے ہو. جواب دیا ہاں! پڑھتا کم ہوں پڑھاتا زیادہ ہوں، اور پھر لکھنے کا بھی شغف ہے. ڈاکٹر نے عجیب انداز سے دیکھتے ہوئے کہا، سوچنا بند کر دو، ٹھیک ہوجاؤگے. یہی تمھارا علاج ہے، پروفیسر صاحب! گزارش کی کہ ڈاکٹر صاحب! اگر سوچنا بند کر دوں تو مر جاؤں گا. ڈاکٹر نے جواب دیا کہ سوچنا جاری رہا تو زندہ بچنا مشکل ہے. ایک پریشانی چہرے پر آئی تو ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے، دواؤں سے ٹھیک ہوجاؤگے. پریشان مت ہو، سوچ سکتے ہو، کیونکہ اگر میں منع بھی کردوں، تو بھی کب تم نے سوچ کے دروازے مقفل کرنے ہیں، لہذا تھوڑا بہت سوچ سکتے ہو. میں سوچ میں غلطاں باہر نکل آیا کہ یہ کون سی بیماری ہے جس میں سوچنے سے منع کیا گیا ہے.