طیراً ابابیل کی نشانی - نزہت وسیم

بیت الله کے تعلق سے عبد المطلب کے ساتھ دو اہم واقعات پیش آئے۔ ایک زمزم کے گمشدہ کنویں کا دریافت ہونا، اس کی کھدائی اور نئے سرے سے اس کی تعمیر کا واقعہ اور دوسرا اصحاب فیل کا واقعہ طیراً ابابیل کی نشانی۔ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی ولادت عام الفیل میں ہوئی۔ یہ وہ سال تھا جب ابرہہ الاشرم نے ہاتھیوں کی قطار کے ساتھ خانہ کعبہ پر حملہ کرنا چاہا۔

واقعہ یہ ہے کہ ابرہہ، جو یمن کا حاکم تھا، نے دیکھا عرب کے لوگ بیت الله کا حج کرتے ہیں اور سارا سال پوری دنیا سے لوگ بیت الله کی طرف عمرہ و زیارت کے لیے سفر کرتے ہیں۔ اس نے صنعاء میں ایک بہت بڑااور عالیشان کلیساء تعمیر کروایا اور چاہا کہ لوگ خانہ کعبہ کی بجائے اس کلیسا کا طواف اور حج کریں لیکن کلیساء کی طرف کسی کی رغبت نہ ہوئی۔ غصہ میں آکر ابرہہ ساٹھ ہزار کا لشکر لے کر کعبہ کو ڈھانے نکلا۔ اس نے اپنی سواری کے لیے ایک زبردست ہاتھی کو منتخب کیا۔ لشکر میں کُل نو یا تیرہ ہاتھی تھے۔ جب مزدلفہ اور منٰی کے درمیان وادی محسَّر میں پہنچا تو الله تعالی نے چھوٹی چڑیوں کا ایک جھنڈ بھیجا، جس نے لشکر پر ٹھیکری جیسے پتھر گرائے اور الله تعالیٰ نے انہیں کھائے ہوئے بھس کی مانند کر دیا۔

ابرہہ کے اس حملے کے موقع پر مکہ کے باشندے عبد المطلب کی رائے سے جان بچانے کے لیے گھاٹیوں میں بکھر گئے۔ اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر جا چھپے۔ جب لشکر پر عذاب نازل ہوچکا تو اطمینان سے اپنے گھروں کو واپس آگئے۔ یہ ایک عظیم الشان نشان تھا جس کا ظہور مسلمان اور عیسائی دونوں تسلیم کرتے ہیں بلکہ یہ خود آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے ظہور کا نشان تھا۔ جن کی ذات حقیقی طور پر بیت الله کی حفاظت کی کفیل تھی۔

اس معجزے کا ذکر الله تعالی نے قرآن مجید میں خاص طور پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو خطاب کرکے کیا ہے أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ أَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِي تَضْلِيلٍ۔ وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ تَرْمِيهِم بِحِجَارَةٍ مِّن سِجِّيلٍ فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّأْكُولٍ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟ کیا اس نے ان کی تدبیر کو اکارت نہیں کر دیا اور ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیے۔ جو ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر پھینک رہے تھے۔ پھر ان کا یہ حال کر دیا جیسے جانوروں کا کھایا ہوا بھوسہ۔ (سورة الفیل)

سورة الفیل اس واقعہ کے تقریبا 45 سال بعد نازل ہوئی۔ غالباً اس وقت متعدد لوگ زندہ موجود ہوں گے جو اس واقعہ کے چشم دید گواہ ہوں گے اور ایسے تو ہزاروں ہوں گے جنہوں نے یہ واقعہ خود دیکھنے والوں سے سنا ہو گا۔ کفار جو ہمیشہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کو جھٹلانے کی کوشش میں رہتے تھے اگر یہ واقعہ غلط ہوتا تو ضرور اس کی تکذیب کرتے اور علانیہ اس کی تردید کرتے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس لیے اس واقعہ کی سچائی میں کوئی شبہ نہیں۔ کعبہ پر حملہ کرنے والا ابرہہ عیسائی تھا چنانچہ واقعہ کی خبر اس وقت کی متمدن دنیا کے بیشتر علاقوں تک فوراً پہنچ گئی۔ اور دنیا کی نگاہیں کعبہ کی طرف متوجہ ہوگئیں۔ انہیں بیت الله کی عظمت اور بڑائی سے آگاہی ہوئی اور یہ بات ثابت ہوگئی کہ اس گھر کی عظمت میں کوئی شبہ نہیں۔ یہ الله جل جلالہ کا منتخب مقام ہے لہٰذا یہاں سے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا دعوٰی نبوت کے ساتھ اٹھنا بیت الله کے تقدس کے عین مطابق ہو گا۔