اونٹ کٹارا جگر کے لیے آب حیات - ثناء اللہ خان احسن

ہند و پاک میں یہ بوٹی منوں اور ٹنوں کے حساب سے ہوتی ہے۔ یہ کانٹوں دار جھاڑی ہے جس کا پھل اونٹ بہت رغبت سے کھاتا ہے، اس لیے اس کو اونٹ کٹارا (Milk Thistle) کہا جاتا ہے۔

اونٹ کٹارا تقریباً 2000 سال سے جگر اور پتہ کی مختلف بیماریوں میں استعمال ہو رہا ہے۔اونٹ کٹارا کا مؤثر جز سیلی میرین (Silymarin) اس کے بیجوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ اونٹ کٹارا کی دوائیں یورپ اور امریکہ میں جگر کی مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے بہت پاپولر ہیں۔ ملک تھسل کے خلاصے کے کیپسول امریکہ اور یورپ سے بڑی مقدار میں درآمد ہوتے ہیں جو اچھے بڑے ڈرگ اسٹورز اور ڈپارٹمنٹل اسٹورز پر دستیاب ہیں۔

جگر ہمارے جسم کا ایک انتہائی اہم غدہ ہے۔ جدید تحقیق کی رو سے جگر کے امراض وائرس کی وجہ سے ہوتے ہیں اور ان کو ہیپاٹائٹس کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے اور ان کی اقسام میں ہیپاٹائٹس G,E,D,C,B,A شامل ہیں۔ زیادہ تر ہیپاٹائٹس C، B,A پائے جاتے ہیں۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہیپاٹائٹس A ترقی یافتہ ممالک کا مرض ہے۔ہیپاٹائٹس B جنسی تعلقات سے پھیلتا ہے اور یہ مرض تیزی سے پھیل رہاہے۔ اس کے علاوہ ہیپاٹائٹس C کا مشاہدہ کیا گیا ہے اور یہ بھی جگر کو ناقابل، تلافی نقصان پہنچاتا ہے۔

ہیپاٹائٹس وائرس کس طرح جگر کو تباہ کرتے ہیں؟ جب جگر میں وائرس پہنچ جاتاہے اور ان کی تعداد بڑھ جاتی ہے تو یہ زہریلے مرکبات خارج کرنا شروع کردیتے ہیں۔ یہ خارج شدہ زہریلے مرکبات انسانی جسم کو مختلف امراضِ جگر میں مبتلا کردیتے ہیں۔ جگر میں ورم پیدا ہو جاتاہے اور اس میں یہ زہریلے مادے سدوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اگر یہ سدے خارج نہ ہوں تو مرض پیچیدہ سے ہیچیدہ ہوتا جاتا ہے۔وائرس A کی وجہ سے مرض مختصر عرصہ کے لیے رہتا ہے اور یہ جلد ختم ہو جاتا ہے جبکہ وائرسB اور C تمام زندگی انسانی جسم میں رہ سکتےہیں، جس سے جگر کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچتا ہے۔ عام طور پر وائرس C کو ناقابلِ علاج مرض قرار دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ہر سال لاکھوں پاکستانی کیوں مرتے ہیں؟ عثمان عابد

امراضِ جگر میں عام طور پر مندرجہ ذیل علامات پا ئی جاتی ہیں:

1۔ تھکاوٹ کا زیادہ احساس
2۔ یرقان
3۔ سستی (Lethargy)
4۔ جگر کے مقام پر سختی کا احساس
5۔ جگر کی رنگت کا بدلنا، آنکھوں کی رنگت کا بدل جانا
6۔ بھوک کم ہو جانا، متلی اور قے کا رحجان
7۔ مقامِ جگر پر درد کا احساس
8۔ جوڑوں کادرد اور معدہ کا ورم وغیرہ

جگر کے افعال
1۔ ہضم کی قوت کو بڑھاتاہے
2۔ خون صالح پیدا کرنا
3۔ گردوں کی طرف مائیت کو دافع کرنا
4۔ پتہ کی طرف صفرا کو دافع کرنا
5۔ تلی کی طرف سودا کے دا فع کرنا

جگر سےخون صالح کی تولید جگر کی صحت کی علامت مانی جاتی ہے۔ اگر خون صالح پیدا نہیں ہورہا ہوتا تو یہ جلد اور آنکھوں کی رنگت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ مثلاً آنکھوں میں سفیدی کا آجانا، سرخ ڈوروں کا غائب ہو جانا، زردی کا آجانا، یہ تمام غلیظ خون کی علامات ہیں اور ان کا تعلق جگر سے ہے۔

جگر کے مریض میں اوپر بیان کردہ علامات آہستہ آہستہ ظاہر ہونی شروع ہوتی ہیں۔ ان کے ظاہر ہونے میں 10سال، 20سال، یا 30سال کا عرصہ بھی لگ سکتا ہے۔

جگر کے مرض میں مبتلا تقریباً20 فیصد مریض سی روسس (Cirrhosis) کا شکار ہو جاتے ہیں جس سے جگر اپنا کام سر انجام نہیں دے سکتااور بعض حالات میں جگر کا کینسر ہوجاتاہے جو جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔

پاکستان میں آلودہ پانی، غذائی اشیا میں ملاوٹ اور انتہائی گندے ماحول میں تیار کردہ کھانے پینے کی اشیا، اس کے علاوہ برائلر مرغی کے گوشت میں موجود سنکھیا کی مقدار، زیر زمین پانی میں موجود سنکھیا اور دوسرے زہریلے مرکبات ابسانی جگر کے لیے انتہائی مضر ہیں۔ پاکستان کا شاید ہی کوئی فرد ایسا ہوگا کہ جس کے جگر میں یہ زہریلے مرکبات جمع نہ ہوں۔ اس کے لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ بیماری ہونے سے پہلے اس کا تدارک کر لیا جائے۔ کوئی ایسی غذا یا دوا جو روزانہ کی بنیاد پر جگر کو ان زہریلے مرکبات سے پاک کرتی رہے اور جگر کو فلش کرتی رہے۔ اس کےلیے اونٹ کٹارا ایک انتہائی مفید بوٹی ہے۔ انسانوں پر کیے گئے تجربات سے ثابت ہواہے کہ اونٹ کٹارا کامؤثر جز سیلی میرین (Silymarin) جگر کے مختلف امراض کے لیے انتہائی مؤثر دوا ہے، جس میں لیور سورائی سس، کرانک ہیپا ٹائٹس، الکحل اور کیمیائی استعمال سے متاثرہ جگر، حمل کے دوران بائل ڈکٹ کی سوزش اور بائل نہ بننے کے امراض میں یہ بے حد مفید ہے۔ پاکستان میں ایبٹ لیبارٹریز کی سیلی میرین سلیور کے نام سے دستیاب ہے، جس کے استعمال سے آپ اپنے جگر کو نہ صرف صحتمند رکھ سکتے ہیں بلکہ جگر کی مہلک بیماریوں سے بھی حفاظت ہوتی ہے۔ یہ دوا جگر کے زہریلے مادے جسم سے باہر نکال پھینکتی ہے اور بیمار جگر کے خلیات کی مرمت کرتی ہے۔ جگر کے کینسر میں یہ نئے خلیات پیدا کرتی ہے۔ عادی شرابی اور دیگر منشیات کا استعمال کرنے والوں کا جگر تباہ ہو جاتا ہے جس کے لے یہ دوا بہت مفید ہے۔ذیابیطس وائرس کا حملہ اور زہریلے مادوں کی موجودگی میں یہ انتہائی مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔ قدیم طبی نظریات کے مطابق اونٹ کٹارا کی دیگر خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:

یہ بھی پڑھیں:   ہر سال لاکھوں پاکستانی کیوں مرتے ہیں؟ عثمان عابد

1۔ جوڑوں کے درد میں مفید ہے
2۔ طحال اور جگر کے لیے عظیم نفع بخش ہے
3۔ بلغم اور باد کو ختم کرتا ہے
4۔ ہاضم ہے۔ صفراپیدا کرتاہے
5۔ بدن کوقوت دیتا ہے
6- ذیابیطس میں بھی مفید ہے

مقدار خوراک: اونٹ کٹارا کا ایکسٹریکٹ جس میں70 سیلی میرین ہو، اس کی 100 سے200 ملی گرام مقدار صبح دوپہر شام استعمال کروانی چاہیے۔ بازار میں اس کی انگریزی کمپنیوں کی تیار کردہ دوائیں دستیاب ہیں۔ایبٹ لیبارٹریز کی سلی ور (Silliver) ڈاکٹر کے مشورے سے یا تخم اونٹ کٹارا۔ دوگرام صبح، دوپہر و شام۔

Comments

ثناء اللہ خان احسن

ثناء اللہ خان احسن

ثناء اللہ خان احسن فنانس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ کراچی سے تعلق ہے۔ ریسرچ ورک اور تاریخ کے ایسے چھپے گوشوں سے دلچسپی ہے جو عام عوام سے پوشیدہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.