نظریہ اور انسانی زندگی (2) - محمد دین جوہر

سوال یہ ہے کہ انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نظریے کی کیا ضرورت ہے؟
نظریے کی گفتگو میں یہ ایک ضروری اور اہم سوال ہے۔ انسانی زندگی ضرورتوں میں گھری رہتی ہے اور انسان انفرادی اور اجتماعی سطح پر ان ضرورتوں کو پورا کرنے کی کوشش میں مصروف رہتا ہے۔ انسانی ضرورتیں زیادہ تر مادی اور معاشی ہوتی ہیں یا معاش سے وابستہ ہوتی ہیں۔ ضرورتوں کی حیثیت عموماً جبری ہوتی ہے، اور ضرورت کا جبر انسانی عمل کا محرک بنتا ہے۔ انسان کی بعض ضرورتیں ایسی ہوتی ہیں کہ اگر ان کو پورا کرنے میں کوتاہی برتی جائے تو زندگی ہی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ ضرورت کا معاملہ دنیا کے ہر انسان کے ساتھ ہے، لیکن دنیا کا ہر انسان اور ہر معاشرہ ان ضرورتوں کو ایک ہی طرح پورا نہیں کرتا۔ مثلاً بھوک ایک جبری ضرورت ہے، اور دنیا کا ہر انسان اسے غذا سے پورا کرتا ہے۔ لیکن کھانے کے عمل کے ساتھ اقدار، آداب اور رسومیات لازمی شامل ہوتے ہیں اور وہ ہر معاشرے میں مختلف ہو سکتے ہیں اور ہوتے بھی ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ روزمرہ کی ایک سادہ ضرورت کو پورا کرنے کے اسلوب میں بھی بے انتہا فرق پائے جاتے ہیں۔ غذا لینے کا عمل تو حیاتیاتی اور سائنسی ہو سکتا ہے، لیکن کھانے سے جڑے ہوئے دیگر پہلو ہرگز سائنسی نہیں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ اقدار اور ثقافتی پہلو کہاں سے آتے ہیں، اور کیسے طے ہوتے ہیں؟ صاف ظاہر ہے کہ ان کا تعلق انسانی انتخاب، اختیار اور ارادے سے ہے۔

یہ تو روزمرہ انسانی ضرورت اور اس سے جڑے ہوئے عمل کا حال ہے۔ اب ایک اور سوال ہے جس کا جواب ہر انسان کو مطلوب ہے، اور وہ اس کا جواب دیتا بھی ہے، اور اس کا جواب ہی اس کی زندگی کی انفرادی اور اجتماعی شناخت اور عمل بن جاتا ہے۔ وہ سوال یہ ہے کہ انسانی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ ضرورت کا تعلق جسم اور جبر سے ہے، اور اس سے مفر نہیں۔ لیکن مقصد کا سوال اور اس کے جواب کا تعلق جسم کی ضرورت اور جبر سے نہیں ہے، اختیار سے ہے۔ اس سوال کا جواب شعور نے دینا ہے اور ارادے نے اختیار کرنا ہے، اس لیے یہ جبر نہیں ہے۔ کسی بھی معاشرے میں انفرادی اور اجتماعی زندگی کا جو بھی مقصد ہے یا ہو گا، وہ کسی نہ کسی بیان کی صورت میں موجود ہوتا ہے۔ یہ بیان نظریہ، دیومالا یا مذہب کی صورت میں موجود ہوتا ہے۔ ضرورت کا تعلق جبر سے ہے اور نظریے اور اقدار کا تعلق ارادے سے ہے۔ نظریہ اس سوال کا جواب دیتا ہے کہ انفرادی اور اجتماعی زندگی کا کیا مقصد ہے۔

جدیدیت کا سادہ مطلب یہ ہے کہ ضرورت ہی مقصد ہے، اور یہ ضرورت دنیا ہے۔ یعنی فرد اور معاشرے کی جسمانی اور طبعی ضرورت ہی انسانی زندگی کا مقصد ہے۔ جدید نظریات اور سیاسی عمل اسی ضرورت کا پھیلاؤ ہے۔ جب ضرورت ہی مقصد ہو تو وہ تفصیل حاصل کر لیتی ہے۔ ایسی صورت میں ضرورت کا پورا ہونا غیراہم ہوتا ہے، اور ضرورت کو نظریہ بنانا، ضرورت کو علم بنانا، ضرورت کو قدر بنانا، ضرورت کو کلچر بنانا اور ضرورت کو سیاسی اور معاشی عمل بنانا اہم ہوتا ہے۔ ضرورت کا پھیلاؤ جتنا بھی ہو، اس کی سطح مادی ہی رہتی ہے، اور ساری دنیا کھپ کر بھی اس ضرورت کی پورائی نہیں ہو سکتی۔ آج کی دنیا میں ضرورت ہی مقصد ہے اور ہر انفرادی اور اجتماعی عمل اسی کے گرد گھومتا ہے۔

دو قومی نظریہ اس عالمگیر صورت حال میں ایک ”اختلافی نوٹ“ ہے اور ہماری حیثیت کا اظہار ہے، بھلے وہ معمولی ہی کیوں نہ ہو۔ جس زمانے میں برصغیر کے مسلمان یہ ”اختلافی نوٹ“ سامنے لائے، اس سے پہلے ہی ترک قوم اسلام کو اپنے ملک کی سیاست سے بے دخل کر چکی تھی۔ عرب بھی بعثی نظریات کو اختیار کر کے اسلام کو سیاسی عمل سے خارج کر چکے تھے، یعنی دونوں ہی اجتماعی سطح پر اسلام سے عملاً دستبردار ہو چکے تھے۔ ساری دنیا میں مذہب کا نام لینا عار بن گیا تھا، اور مذہب صرف ایک نجی معاملہ خیال کیا جاتا تھا۔ ان عالمی حالات میں برصغیر کے مسلمانوں نے اعلان کیا کہ ان کی مذہبی شناخت، ان کی سیاسی شناخت بھی ہے، اور ان کے سیاسی عمل کی رہنما بھی۔ یہ نہایت غیرمعمولی بات ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ من حیث القوم ہم ان مقاصد کو جزوی طور پر حاصل کر پائے ہیں۔ تاریخ میں ایسا وقت بھی آتا ہے جب کسی چیز کو نام میں باقی رکھنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے بیسویں صدی کا زمانہ ایسا ہی تھا، جس میں برصغیر کے مسلمانوں نے دو قومی نظریے کی اوٹ میں اسلام سے اپنی وابستگی کو باقی رکھا۔

گزارش ہے کہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر بطور مسلمان اگر ہماری زندگی کا وہی مقصد ہے جو اس وقت عالمگیر سطح پر قبولِ عام ہو کر عمل میں آ چکا ہے، تو پھر ہمیں کسی نظریے کی ضرورت ہے نہ اسلام کی۔ اور اگر ہم یقین رکھتے ہیں کہ ہماری ضرورت اور یہ دنیا ہی ہمارا سب کچھ نہیں ہے تو اس کا اظہار کہیں نہ کہیں تو ہو گا۔ برصغیر کی تاریخ کے بدترین اور کمزور ترین لمحے میں بھی یہاں کے مسلمانوں نے اپنی دینی شناخت سے دستبردار ہونا قبول نہ کیا، اور اپنی سیاسی شناخت کو دینی شناخت پر منحصر رکھا۔ اس میں کوئی کلام نہیں کہ دو قومی نظریے سے وابستہ وہ سارے سیاسی اور معاشی مقاصد ہم ابھی تک حاصل نہیں کر پائے، جن کا ہم نے دعویٰ کیا تھا۔ لیکن جو مقاصد حاصل ہوئے، کوئی دوسرا نطریہ ان کا محض خواب ہی دیکھ سکتا ہے۔

تحریک پاکستان کے وقت دو قومی نظریے کا سامنا تاریخ سے تھا۔ قیام پاکستان کے بعد دو قومی نظریے کا واسطہ ریاست سے ہے۔ دو قومی نظریے کا جواز مسلم معاشرے کی ایک خاص مذہب سے وابستگی ہے، اور پاکستانی ریاست کا جواز دو قومی نظریہ ہے۔ اب اس تثلیث سے باہر آنے کی ضرورت ہے اور دو قومی نظریے اور پاکستانی ریاست کے باہمی تعلق کو ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ہم آہنگی ریاست اور معاشرے میں توازن قائم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اس توازن کے بغیر ایک منصفانہ معاشرے کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ اجتماعی ترقی اور استحکام کے لیے معاشی عدل ضروری ہے۔ معاشرے اور ریاست میں یہ توازن دو قومی نظریے کو مفصل بنا کر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ دو قومی نظریے کو نعرے تک محدود رکھنے سے ہمارے مستقبل کے مخدوش ہونے کا اندیشہ ہے۔

دو قومی نظریے کا سادہ مطلب یہ ہے کہ دنیا میں ہماری اجتماعی زندگی ایک سیاسی شناخت رکھتی ہے اور ہمارے سیاسی عمل کا ایک مقصد ہے۔ یہ سیاسی شناخت ایک خاص مذہب سے تعلق کے نتیجے میں حاصل ہوئی ہے، لسانی، نسلی یا علاقائی نہیں ہے۔ جب دو قومی نظریہ یا نظریہ پاکستان سامنے آیا تو اس وقت تاریخی طور پر مسلمانوں کی سیاسی شناخت کا مسئلہ فوری اور شدید اہمیت رکھتا تھا۔ نظریۂ پاکستان نے اسے حل کر دیا۔ اس کامیابی کی وجہ سے شناخت کے امور ہمارے سیاسی نظام میں مرکزی اہمیت اختیار کر گئے، اور سیاسی عمل کے مقاصد نگاہوں سے اوجھل ہو گئے۔ اگر سیاسی شناخت اور سیاسی عمل کے مابین توازن قائم نہ رہے تو عدل اور ترقی کے اجتماعی مقاصد قابل حصول نہیں رہتے، اور نظریہ معاشرے اور تاریخ سے غیرمتعلق ہو جاتا ہے۔ اس وقت نظریہ پاکستان پر دباؤ اور اس کے بحران کی وجہ سیاسی شناخت اور سیاسی عمل کا عدم توازن ہے۔ ہم نے جس طرح نظریہ پاکستان کی فکری تشکیلات میں کوتاہی برتی ہے، اسی طرح ہمیں اس کی عملی تشکیلات میں بھی کوئی زیادہ کامیابی نہیں ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ سیکولر قوتیں نظریہ پاکستان کو تاریخ سے نہ صرف غیرمتعلق قرار دیتی ہیں، بلکہ ہم عصر دنیا میں اس کی ضرورت اور افادیت کی منکر ہیں۔ ہو سکتا ہے اس کی کوئی منطق موجود ہو، لیکن ہمارے خیال میں یہ اپروچ سطحی ہے۔ دوسری طرف بعض مذہبی تعبیرات نے دو قومی نظریے کو فقہی اور قانونی نوعیت کا جبر بنا دیا ہے۔ اس اپروچ سے دو قومی نظریے کی سیاسی اور معاشی تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں اور قومی سیاسی عمل بھی متاثر ہوا۔