خود کو اپ ڈیٹ کیجیے - روبینہ شاہین

"رمشا !ذرا میرا موبائل تو دیکھو سکائپ نہیں چل رہا۔ بھا ئی سے کل کی بات بھی نہ ہو سکی۔" رمشا کی ماں نے اپنی پریشانی بتاتے ہوئے کہا۔

"جی، ابھی چیک کرتی ہوں"اس نے جواب دیا۔

تھوڑی دیر بعد سکائپ آن ہو چکا تھا جبکہ رمشا سوچ رہی تھی کہ پروگرام اگر اپ ڈیٹ نہ کیے جائیں تو کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں جو کہ بے جان ہیں مگر ہیں تو فطرت کے اصول سے بندھے۔ انسان اگر خودکو بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ اپ ڈیٹ نہیں کرتا تو اُس کی بھی زندگی ایک جگہ پر ساکت و جامد ہو کر رہ جاتی ہے۔اس کی زندگی بہتے ہوئے پانی میں اس تنکے کی طرح ہوتی ہے جسے لہریں جدھر چاہیں پھینک دیں۔ بالکل نوشی باجی کی طرح، جنہوں نے اپنی شادی نہ ہونے کے غم کو اتنا سر پر سوار کر لیا کہ بالکل نکمی ہو کر رہ گئیں۔ نہ پہننا، نہ اوڑھنا، پڑھائی تک ادھوری چھوڑدی۔ ایسے میں بھلا کون انہیں بیاہنے آئے گا؟ رمشا سوچتے سوچتے بہت دور نکل گئی۔ پھر اس کے دماغ میں جھماکا ہوا لیپ ٹاپ اٹھایا اور گوگل پر لکھا "How to update yourself?"

گوگل نے بے شمار رزلٹس دکھا دیے۔ رمشا کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ جسے جیسے پڑھتی گئی، حیران ہوتی چلی گئی کہ ہم دنیا سے اتناپیچھے کیوں ہیں؟اسی لیے نا کہ ہم نے خود کو اپ ڈیٹ نہیں کیا، نہ دنیا کے لیے اور نہ آ خرت کے لیے۔ ہماری دنیا بھی داؤ پر اور آخرت اس کا تو پوچھیں ہی مت۔ اللہ کا فرمان ہے کہ "پڑھ اپنے رب کے نام سے جو بڑا کریم ہے"مطلب جو بھی پڑھو، اللہ کی حدوں میں رہ کر پڑھو، اللہ کے نام سے اور اس کی تعلیمات سے بے نیاز نہ ہونا۔ ہم نے پڑھنے کا سب رٹ لیا مگر اللہ کو دیس نکالا دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   کرکٹ کی ایک جدّت، جو بِن کھلے مرجھا گئی - فہد کیہر

ہمارے کالج اور جامعات تعلیم کے ساتھ ساتھ الحاد، بے یقینی اور عشق و عاشقی کو فروغ دینے میں مصروف ہیں۔آج جتنے جاہل گنوار مسلمان قوم میں ہیں، شاید ہی کہیں موجود ہوں۔ وجہ یہ کہ ہم نے علم سے منہ موڑ لیا۔ پاکستان کی شرح خواندگي خوفناک حد تک کم ہے۔جدید علوم ہو یا دینی، ہم دونوں میں پیچھے ہیں۔

میری ایک دوست ہے، اس کے دادا نوّے سال کے ہیں۔مجھے کہتے ہیں کمپیوٹر سکھا دو، میں دنیا سے اس حال میں نہیں جانا چاہتا کہ کمپیوٹر جو اس دور کا علم ہے اس سے بے بہرہ رہوں۔ کتنے لوگ ہیں جو سیکھنے میں اس حد تک دلچسپی رکھتے ہیں۔نئے نئے علوم نئی نئی مہارتیں سیکھیے۔ چاہے بولنے کا فن ہو یا بات سننے کا، سبھی آنے چاہیے۔ انسان کے اندر پیاس ہونی چاہیے، لگن ہونی چاہیے، چاہے گھر کے کاموں میں مہارت کا مسئلہ ہو یا کوئی اور۔ میری ایک فیس بک فرینڈ ہیں، انہوں نے فیس بک پر ویڈیو شئیر کی کہ ایک ہاتھ سے کم وقت میں جلدی آٹا کیسے گوندھتے ہیں؟ بچے کیسے پالتے ہیں؟بطور ماں اور باپ سیکھنا چاہیے کہ زندگی انجوائے کیسے کرتے ہیں؟خصوصاً چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا لطف اٹھانا بہت بڑا فن ہے۔ نعمتوں کو زوال کیوں آتا ہے؟نا شکری سے۔ شکر کی عادت پیدا کیجیے۔وہ سارے لوگ، وہ سارے مواقع، وہ سارے لمحے، جنہوں نے آپ کا ساتھ دیا، ان کا شکر ادا کرتے رہیں کیونکہ جو لوگوں کا شکر گزار نہیں ہوتا، وہ اللہ کا بھی نہیں ہوتا۔ خود کو اپ ڈیٹ رکھنے کے لیے یہ ٹپس اپنائیے۔

جب بھی اندر سے کوئی منفی جذبہ سر اٹھائے تو اپنی انگلی کنپٹی پر رکھیے اور بولیے "سٹاپ"۔ موٹیویشن حاصل کرتے رہیں۔ایسی جگہیں لوگ اور عادتیں اپنائیں جن سے آپ تحریک پاتے ہیں۔ روزانہ رات سونے سے پہلے اپنا جائزہ لیں اور کسی تین باتوں پر خود کو شاباش دیں۔ اپنی ترجیحات کا تعیّن کریں۔ خود احتسابی کے عمل سے گزریں۔ اپنے آپ کا خیال رکھیں۔ روز کوئی نیا اور اچھوتا کام کریں۔جیسے ہی کوئی اچھوتا خیال آئے اسے لکھ لیں۔ اپنے اندر کے بھیڑیئے کو ماریے، یہ آپ تخلیقی صلاحیتوں کا دشمن ہے۔ زندگی اللہ کی امانت ہے، ایک بار آئے ہیں، کچھ کر کے جایئے تاکہ آپ اچھے لفظوں سے پہچانے اور یاد کیے جائیں۔ روزانہ کی بنیاد پر خود کو حالات حاضرہ سے اپ ڈیٹ کریں۔ اخبارات،میگزین اور کتابیں پڑھیے۔ کوئی نئی ڈش کو تیار کریں۔کوئی نئی آن لائن کلاس شروع کیجیے۔کوئی نئی زبان اور ہنر سیکھیے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہمیشہ یاد رکھیں۔ فرمایا کہ اپنے بچے کو وہ تعلیم مت دو جو تم نے حاصل کی، وہ تیرے دور کے لیے پیدا نہیں ہوا۔ میڈیٹیشن کے لیے وقت نکالیے۔ایک ریسرچ کے مطابق ہر 13 گھنٹے کے بعد 6 منٹ کی میڈیٹیشن آپ کے سکون میں خاطر خواہ اضافہ کر سکتی ہے۔خود کو پریشان مت کریں۔ہمیشہ کسی ناکامی پر خود کو یاد دلائیں کہ زندگی سفر ہے منزل نہیں ہے۔ہمارا کام صرف کوشش ہے، پار لگانا اللہ کاکام۔ شکرگزار رہیے کہ اللہ نے آپ کو بہت نوازا ہے اور آگے بھی نوازے گا۔ اور آخر میں اقبالؒ کی دو باتیں یاد رکھیے:

اور

آئینِ نو سے ڈرنا طرزِ کہن پر اَڑنا

منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

Comments

روبینہ شاہین

روبینہ شاہین

روبینہ شاہین کا تعلق زندہ دلانِ لاہور سے ہے۔ اسلامک اسٹڈیز میں ایم فِل کیا ہے۔ فکشن کم اور نان-فکشن زیادہ لکھتی ہیں۔ پھول، کتابیں، سادہ مزاج اور سادہ لوگوں کو پسند کرتی ہیں اور علامہ اقبالؒ سے بہت متاثر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!