اقبال اور مولوی - شہباز بیابانی

اقبال نے خود مولوی سے عربی اور فارسی پڑھی اور ان علوم میں اتنا کمال حاصل کیا کہ پھر وہ فارسی میں شاعری کرنے لگے۔ اس کے بعد انہوں نے اعلی تعلیم حاصل کی اور جب ان کو سر کا خطاب دیا جانے لگا تو انہوں نے کہا کہ جب میرے استاد، جو کہ مولوی تھے، کو شمس العلماء کا خطاب نہیں دیا جائے تو میں سر کا خطاب نہیں لوں گا۔ چنانچہ انگریزوں نے اس مولوی کو شمس العلماء کا خطاب دیا۔

اقبال مولویوں کی بڑی قدر کرتے تھے۔ بعض مولوی ان کے دوست بھی تھے اور ان سے خط و کتابت کرتے تھے ان سے قرآنی آیات اور آحادیث نبویہ کا مطلب پوچھ لیا کرتے تھے۔ مثلا سید سلیمان ندوی اور شاہ انور شاہ کشمیری سے ان کی بڑی دوستی تھی۔ اقبال صوفیوں کے بھی بڑے دلدادہ تھے۔ چنانچہ آپ نے مولوی اور صوفی جلال الدین رومی کو اپنا مرشد قرار دیا تھا اور اپنی شاعری میں رومی کی پیروی کرنے کی تلقین کی ہے۔ وہ خود بھی سلسلہ قادریہ میں بیعت تھے۔

اقبال مولویوں کو غیرت دین کے علمبردار تصور کرتے تھے۔ چنانچہ آپ کی نظم " ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام" میں ابلیس اپنے سیاسی فرزندوں سے کہتا ہے کہ:

افغانیوں کی غیرت دیں کا ہے یہ علاج

ملاّ کو اس کے کوہ و دمن سے نکال دو

اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب کسی معاشرے سے مولویوں کو نکالا جائے تو اس معاشرے سے غیرت دین بھی نکل جائے گی۔

اقبال کے نزدیک "اسلام نام ہے علمائے باعمل کی صحبت کا" (مکتوب بنام شبیر بخاری، صحیفہ اکتوبر 1973ء، ص 240 )

ایک بار سیّد نذیر نیازی نے کہا کہ علمائے اسلام ما بعد الطبیعی مسئلے حیات بعد الموت یا زمان و مکان سے بیگانہ نظر آتے ہیں، تو اقبال نے فرمایا "یہ کہنا کہ علمائے اسلام ان حقائق سے بے خبر تھے صحیح نہیں۔ وہ اس سلسلے میں بہت کچھ لکھ چکے ہیں۔ ان کی نظر ہر بات پر تھی۔ وہ تہذیب و تمدّن اور اجتماع و عمران کے مسائل سے غافل تھے نہ علم و حکمت اور ما بعد الطبیعی افکار سے، جس میں قرآن نے ان کی رہنمائی کی۔ یہ انہی کا تو کہنا تھا کہ قرآن خلاصۂ کائنات ہے"۔ (اقبال کے حضور ص 173 )

ایک موقع پر فرمایا "ارباب دیوبند ہوں یا علماء کی کوئی اور جماعت، میرے دل میں ان کی جذبۂ آزادی، ان کی انگریز دشمنی اوردین کے لیے غیرت وحمیّت کی بڑی قدر ہے"۔ (اقبال کے حضور ص 291 )

اب ہم ان علماء کرام پر ایک نظر ڈالتے ہیں جن سے اقبال کے مراسم تھے اور اقبال ان کی تعظیم و توقیر کرتے تھے:

اقبال کے والد صاحب شیخ نور محمدؒ

اقبال کی تعلیم و تربیّت میں ان کے والد گرامی شیخ نور محمد کا بڑا د خل ہے۔ خلیفہ عبدالحکیم فکر اقبال میں لکھتے ہیں "راقم الحروف کو ان کے والد ماجد شیخ نور محمد صاحب سے ملنے کا بھی اتفاق ہوا، جس زمانے میں علامہ اقبال انار کلی میں رہتے تھے۔ وہ در حقیقت اسم با مسمّی تھے، نورمحمدی ان کے چہرے پر متجلی تھا۔ ایک محمدی کیفیت ان میں یہ بھی تھی کہ وہ نبی امی کی طرح نوشت و خواند کے معاملے میں امی تھے، وہ خدا رسیدہ صوفی تھے۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ علامہ اقبال نے ایک روز مجھ سے فرمایا کہ والد مرحوم کو غیر معمولی روحانی مشاہدات بھی ہوتے تھے۔ فرمایا کہ والدہ مرحومہ کا بیان ہے کہ اندھیری رات تھی، کمرے میں بھی چراغ روشن نہیں تھا، آنکھ کھلی تو دیکھا کہ کمرہ تمام روشن ہے حالانکہ نہ باہر چاندنی تھی اور نہ چراغ تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اقبال کے دماغ کی پرورش تو طویل سلسلۂ تعلیم میں ہوتی رہی لیکن غذائے روح ان کو شروع ہی سے جسمانی رزق کے ساتھ باپ سے ملتی رہی۔ (فکر اقبال ص 30 )

مولانا سیّد میر حسن سیالکوٹیؒ

یہ سیّد میر حسن صاحب کی تربیت کا ہی اثر تھا کہ اقبال، اقبال سے آگاہ ہوئے اور اوج ثریّا پر پہنچ گئے۔ اقبال نے مولانا سے عربی، فارسی، فلسفہ اور دیگر علوم پڑھے اور ان کی صحبت اختیار کی۔ وہ اپنے استاد کی بہت تکریم کرتے تھےاور ادب کی وجہ سے ان کے سامنے اپنا کلام بھی نہیں سنا سکتے تھے۔ اقبال شعر گوئی کے سلسلے میں بھی مولانا سے مشورے لیتے تھے۔ چنانچہ مثنوی رموز بے خودی کے دیباچے میں زبان اور طرز بیان سے متعلق مشورے پران کا شکریہ ادا کیا ہے۔ اقبال نے میر حسن کی فیض کا ذکر اس شعر میں کیا ہے
مجھے اقبال اس سیّد کے گھر سے فیض پہنچا ہے

پلے جو اس کے دامن میں وہی کچھ بن کے نکلے ہیں

مولانا جلال الدین رومیؒ

اقبال مولانا رومی کو اپنا مرشد مانتے تھے۔ ان کی شاعری اس پر گواہ ہے کہ رومی کی شاعری اور عشقیہ مسلک سے اقبال بہت زیادہ متاثر تھے۔ فرماتے ہیں

پیر رومی مرشد روشن ضمیر

کاروان عشق و مستی را امیر اور

پیر رومی را رفیق و را ساز

تا خدا بخشد ترا سوز گداز

وہ مسلمانوں کو بھی نغمۂ رومی سے روشناس کرنے کی تلقین کرتے رہے ہیں، فرماتے ہیں

گسستہ تار ہے تیری خودی کا ساز اب تک

کہ تو ہے نغمۂ رومی سے بے نیاز اب تک

شیخ احمد سر ہندیؒ (مجدد الف ثانی)

اقبال کو مجدد الف ثانی سے بہت عقیدت تھی وہ ان کے مزار پر حاضر ہوتے تھے جیسا کہ ان کی نظم " پنجاب کے پیر زادوں سے" سے ظاہر ہے۔ اس میں وہ لکھتے ہیں

حاضر ہوا میں شیخ مجدد کی لحد پر

وہ خاک کہ ہے زیر فلک مطلع انوار

اس خاک کے ذروں سے ہیں شرمندہ ستارے

اس خاک میں پوشیدہ ہے وہ صاحب اسرار

گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے

جس کے نفس گرم سے ہے گرمی احرار

وہ ہند میں سرمایہ ملت کا نگہباں

اللہ نے بر وقت کیا جس کو خبردار

کی عرض یہ میں نے کہ عطا فقر ہو مجھ کو

آنکھیں مری بینا ہیں، و لیکن نہیں بیدار

آئی یہ صدا سلسلہ فقر ہوا بند

ہیں اہل نظر کشور پنجاب سے بیزار

عارف کا ٹھکانا نہیں وہ خطہ کہ جس میں

پیدا کلہ فقر سے ہو طرۂ دستار

باقی کلہ فقر سے تھا ولولہ حق

طروں نے چڑھایا نشہ خدمت سرکار

سید سلیمان ندویؒ

اقبال سید سلیمان ندوی کے ساتھ خط و کتابت کرتے تھے اور ان سے مختلف امور پر استفادہ کرتے تھے۔ اقبال، سیّد سلیمان ندوی اور سر راس مسعود نے 1932 میں افغانستان کے بادشاہ نادرشاہ کی دعوت پر وہاں نظام تعلیم بنانے کے لیے افغانستان کا سفر بھی کیا تھا۔ سفر افغانستان میں ایک دفعہ اقبال، سید سلیمان ندوی اور سر راس مسعود تینوں جمع تھے۔ سیّد صاحب نے اقبال سے فرمایا جب تک آپ کی شاعری ہندوستان میں باقی رہے گی اسلام بھی باقی رہے گا۔ یہ سن کر اقبال نے فرمایا نہیں، جب تک دارالمصنفین کا لٹریچر ہدوستان میں رہے گا اس وقت تک ہندوستان میں اسلام بھی باقی رہے گا۔ سر راس مسعود نے کہا، بس یوں کہیے جب تک ہندوستان میں ڈاکٹر اقبال کی شاعری اور دارالمصنفین کا لٹریچر باقی رہے گا ہندوستان میں اسلام باقی رہے گا۔

اقبال ندوی کو "علوم اسلام کے جوئے شیر کا فرہاد" کہتے تھے۔ وہ ان سے مختلف علمی، فقہی اور شعری موضوعات پر خط و کتابت کرتے تھے۔ کئی کئی صفحات پر مشتمل خطوط ایک دوسرے کو لکھتے تھے۔ ایک خط میں اقبال نے چند دیگر علماء اور ان کی کتب کا ذکر اس طرح کی ہے

"مولانا حکیم برکات احمد صاحب بہاری ثم ٹونکی کا رسالہ تحقیق زماں مطبوعہ ہے یا قلمی؟ اگر قلمی ہے تو کہاں سے عاریتاً ملے گا۔ علی ھذا شاہ اسماعیل کی عبقات، قاضی محب اللہ کی جوہرالفر اور امان اللہ بنارسی کی تمام تصنیفات کہاں سے دستیاب ہوں گی۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ جن کتابوں کا آپ نے اپنے والا نامہ میں ذکر کیا ہے فرما یا ہے، کیا آپ کے کتب خانہ دارالمصنفین میں موجود ہیں؟ اگر ہوں تو میں چند روز کے لیے وہیں حاضر ہو جاؤں اور آپ کی مدد سے ان میں سے بعض کو دیکھ سکوں۔۔۔۔ حضرت ابن عربی کی بحث زماں کا ملخص اگر عطا ہو چائے تو بہت عنایت ہوگی "۔۔۔۔۔ ۔ ( 22 اگست 1922 )

یہ بھی پڑھیں:   اقبال کی شخصیّت میں تنوّع یا تضاد؟ - شہباز بیابانی

اقبال نے سیّد صاحب سے منطق اسقرائی، میراث، اجماع امت، مختلف تحریکات، زمان و مکان، صوفیانہ روایات، امام اور جماعت (کہ ہر اسلامی ملک کا اپنا امام ہو یا تمام ممالک کا ایک امام ہو)، اجتہاد، وحی متلو اور غیر متلو، نبوّت و امامت، امام ابو حنیفہ کا طلاق و وراثت پر موقف، زمان سے متعلق امام رازی کے خیالات، شاہ ولی اللہ کی کتاب حجۃ اللہ البالغہ، دہر و مکان، لفظ نبی با ہمزہ اوربے ہمزہ، یاجوج ماجوج، فقہ اسلامی کی تاریخ کے لکھنے، مسلمانان ہند کا مسائل پر غور و فکر کی تاریخ لکھنے، خدا کی رویت، سیّاروں میں انسان یا انسان سے اعلی تر مخلوق، تناسخ، مختلف شعراء کے اشعار کی تشریح وغیرہ موضوعات پر خطوط میں استفسار کیے ہیں اور سیّد صاحب نے ان کے جوابات دیے ہیں۔

اقبال نے جب ندوی صاحب کی ایک ارسال کردہ غزل پڑھی تو فرمایا کہ اس غزل کا ایک شعر مجھے بہت پسند آیا، شعر یہ ہے

ہزار بار مجھے لے گیا ہے مقتل میں

وہ ایک قطرۂ خوں جو رگ گلو میں ہے

محمد انور شاہ کشمیریؒ

اقبال اور شاہ صاحب کے تعلقات کا آغاز اکتوبر 1921ء سے ہوا۔ ڈاکٹرعبداللہ چغتائی کہتے ہیں

جب 1921ء میں لاہور میں ابوالکلام آزاد کی صدارت میں علمائے ہند کا جلسہ ہوا تو اسی جلسہ میں اول مرتبہ میں نے اقبال اور شاہ صاحب کا تعارف کرایا تھا۔ (ڈاکٹر عبداللہ چغتائی۔ بادشاہی مسجد لاہور صفحہ 37 )

اقبال کی شدید خواہش تھی کہ لاہور میں کسی مستند عالم کو مستقل قیام کی دعوت دی جائے تاکہ اہل لاہور اس سے استفادہ کر سکے کیونکہ اقبال کے نزدیک ایک متنفس بھی ضروریات اسلامی سے آگاہ نہیں تھا اور پنجاب علمی طور پر بانجھ تھا، اکبر الہ ابادی کو لکھتے ہیں

"یہاں لاہور میں ضروریات اسلامی سے ایک متنفس بھی آگاہ نہیں۔ یہاں انجمن اور کالج اور فکر مناسب کے سوا کچھ نہیں پنجاب میں علماء کا پیدا ہونا بند ہوگیا ہے۔ صوفیا کی دکانیں ہیں مگر وہاں سیرت اسلامی کی متاع نہیں بکتی" (شیخ عطاء اللہ، اقبال نامہ حصّہ دوم، ص 48 )

ایسے میں اقبال کی نظر بر عظیم کی دو شخصیات پر ٹھہری، ایک سید سلیمان ندوی صاحب اور دوسرے شاہ انور شاہ کشمیری صاحب لیکن بدقسمتی سے یہ دونوں لاہور نہ آسکے۔

اقبال اور انور شاہ کا ایک دوسرے سے ملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں۔ اور جب 1922ء میں علمائے دیوبند کا جلسہ احمد علی لاہوری کی صدارت میں ہوا تھا، جس میں انور شاہ صاحب، حبیب الرحمان عثمانی صاحب، شبیر احمد عثمانی صاحب اور مفتی عزیز الرحمان صاحب خاص طور پر قابل ذکر ہیں، تو اقبال نے ان سب علماء کو دعوت پر مدعو کیا اور شاہ صاحب سے بہت اہم مباحث مختلفہ پر تبادلہ خیالات کیا۔ اقبال شاہ صاحب کے جوابات سے بہت محظوظ ہوئے۔ (ڈاکٹر عبداللہ چغتائی۔ بادشاہی مسجد لاہور صفحہ 48)

اقبال نے شاہ صاحب سے زمان و مکان پر گفتگو کی تو شاہ صاحب نے ان کی توجہ عراقی کی فارسی تصنیف "غایۃ البیان فی تحقیق الزمان و المکان" کی طرف مبذول کرائی۔ اقبال فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کہ اس موضوع پر نیوٹن پہلا مغربی محقق ہے جس نے بحث کی ہے۔ مولانا نے جواب دیا کہ میں نے نیوٹن کے بیس کے قریب تصانیف دیکھی ہیں اس نے زمان و مکان پر جو کچھ لکھا ہے عراقی سے لیا ہے لیکن حوالہ نہیں دیا۔ اقبال کو بہت تعجّب ہوا اور مولانا نے بعد میں وہ رسالہ ان کو ارسال بھی کیا تھا۔ (سید محمد ازہر شاہ قیصر)

جب شاہ صاحب کا چار سو اشعار پر مشتمل منظوم رسالہ " ضرب الخاتم علی حدوث العالم" چپھا تو اس کا ایک نسخہ اقبال کو بھی ارسال کیا جس پر اقبال نے فرمایا

"میں تو مولانا انور شاہ کا رسا لہ پڑھ کر حیران رہ گیا ہوں کہ رات دن قال اللہ قال رسول سے واسطہ رکھنے کے باوجود فلسفہ میں بھی ان کو اس درجہ درک و بصیرت اور اس کے مسائل پر اس قدر گہری نگاہ ہے کہ حدوث عالم پر اس رسالہ میں انہوں نے جوکچھ لکھ دیا ہے، حق یہ ہے کہ آج یورپ کا بڑے سے بڑا فلسفی بھی اس مسئلہ پر اس سے زیادہ نہیں کہ سکتا۔ (سعید احمد اکبر ابادی، اے تو مجموعہ خوبی بچہ نامت خوانم، باب 6، درجہ انور، مرتبہ سید محمد ازہر شاہ قیصر، 1955 ص 163، 164)

اقبال اور مولانا کی آخری ملاقات اگست 1932 ء میں ہوئی۔ مولانا مقدمہ بہاولپور کے سلسلہ میں 19 اگست 1932 کو لاہور پہنچے۔ 25 اگست کو ان کا بیان شروع ہوا جو متواتر پانچ روز تک جاری رہا۔ اسی سفر کے سلسلے میں لاہور میں دو روز قیام کیا۔ جامع مسجد آسٹریلیا میں صبح کی نماز میں وعظ کرتے جس میں جس دیگر لوگوں کے علاوہ اقبال بالخصوص حاضر ہوتے۔ (بشیر احمد ڈار- انوار اقبال (کراچی: اقبال اکیڈمی 1967 ) ص 255

مولانا شاہ انور شاہ صاحب کی وفات پر اقبال بہت مغموم ہوئے اور لاہور میں اپنے اہتمام سے تعزیتی جلسے کا اہتمام کیا جس سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے فرمایا

"اسلام کی ادھر کی پانچ سو سالہ تاریخ شاہ صاحب کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے"

(ارشد، عبد الرشید، بیس بڑے مسلمان، لاہور، مکتبہ رشیدیہ، 1971ء)

مولوی حسین احمد مدنیؒ

اقبال اور مولوی حسین احمد کے درمیان ایک اختلاف پیدا ہوا تھا جو کہ غلط فہمی پر مبنی تھا ہوا یوں کہ مولوی حسین احمد نے ایک جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس زمانے میں قومیں اوطان سے بنتی ہیں۔ یہ ایک جملہ خبریہ تھا ان کا مقصد عوام کو خبردار کرنا تھا۔ ان کا مقصد یہ نہ تھا کہ ہندوستان کے مسلمان بھی وطن کی قومیت کو بنیاد بنا لیں۔ لیکن بعض اخبارات نے اس خبر کو غلط انداز میں چھاپا جس کو اقبال نے پڑھ کر مولوی حسین احمد کے خلاف " حسین احمد" کے عنوان سے اشعار کہے۔ لیکن بعد میں دونوں بزرگوں نے ایک دوسرے کو خطوط لکھ کر اور ایک دوسرے کے موقف کو سمجھ کر ایک دوسرے کو معاف کر دیا۔ اقبال نے ان اشعار کو حذ ف کردیا لیکن "ارمغان حجاز" کی پرنٹنگ سے پہلے پہلے اقبال کا انتقال ہوا۔ اور وہ اشعار ابھی تک ارمغان حجاز میں موجود ہیں۔ لیکن زندہ رود میں لکھا ہے کہ اقبال کی وفات کے بعد بھی مولوی حسین احمد قومیت کے مسئلے پر ڈ ٹے رہے اس لیے ان اشعار کو "ارمغان حجاز" میں شامل کر دیا گیا۔

مولانا مودودیؒ

سید نذیر نیازی لکھتے ہیں کہ 1938 میں چودھری نیاز علی صاحب اور علامہ اسد اقبال کے ہاں جاوید منزل تشریف لائے۔ چودھری صاحب نے کہا کہ انہوں نے " دارالاسلام" کے نام سے ایک وقف قائم کیا ہے تاکہ وہاں مسلمانوں کی اصلاح و تربیت اور دینی تعلیم کا انتظام کیا جائے۔ وہ حضرت علامہ سے اس بارے میں مشورہ لینا چاہتے تھے۔ حضرت علامہ نے فرمایا کہ میرے نزدیک اس وقت مسلمانوں کی سب سے بڑی ضرورت فقہ اسلامی کی تشکیل جدید ہے۔ چودھری صاحب نے کہا کہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اکابر علماء کا تو " دارالاسلام" آنا محال نظر آتا ہے۔ وہ اپنے اپنے مراکز میں بیٹھے دینی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اس پر علامہ نے فرمایا کہ یہ تو ٹھیک ہے لیکن اس کے باوجود ملک میں ایسے پڑھے لکھے نوجوانوں کی کمی نہیں جن کے دل میں اسلام کا درد ہے اور جو مسائل حاضرہ سے بخوبی واقف ہیں۔ پھر علامہ نے فرمایا کہ سر دست ایک نام میرے ذہن میں آتا ہے حیدر آباد سے "ترجمان القرآن" کے نام سے ایک رسالہ نکل رہا ہے۔ مودودی صاحب اس کے ایڈیٹر ہیں۔ میں نے ان کے مضامیں پڑھے ہیں، دین کے ساتھ ساتھ وہ مسائل حاضرہ پر بھی نظر رکھتے ہیں۔ ان کی کتاب الجہاد فی الاسلام بھی مجھے پسند آئی ہے، آپ ان کو دارالاسلام بلا لیں، وہ دعوت کو قبول کرلیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   مریدِ ہندی سے مرشدِ رومی تک - مفتی ابولبابہ شاہ منصور

پھر سید نذیر نیازی نے مودودی کو خط لکھا اور انہوں نے دارلاسلام آنے کی دعوت کو قبول بھی کیا مگر ان کے لاہور آنے سے پہلے علامہ کا انتقال ہوگیا تھا اور اسی طرح دونوں کی ملاقات نہیں ہوئی (اقبالیات نذیر نیازی ص 103 تا 105 )

اقبال نے مولوی کو اپنی تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے کیونکہ جس طرح زندگی کے ہر شعبہ میں اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں اسی طرح مولویوں اور صوفیا میں بھی ہیں جو دین پر دنیا کماتے ہیں، بے عملی کا درس دیتے ہیں، ملت کی فکر نہیں کرتے، جو علوم کے تکبر میں مبتلا ہوتے ہیں، جن کا خدا تک رسائی نہیں ہوتی وغیرہ ان مولویوں کے بارے اقبال کے یہ اشعار قابل غور ہیں:

کلیات اقبال (اردو) میں

ایک مولوی صاحب کی سناتا ہوں کہانی

تیزی نہیں منظور طبیعت کی دکھانی

(بانگ درا) کلیات اقبال صفحہ 59


شیر مردوں سے ہوا بیشۂ تحقیق تہی

رہ گئے صوفی و ملّا کے غلام اے ساقی

(بال جبریل) 304


مجھ کو تو سکھا دی ہے، افرنگ نے زندیقی

اس دور کے ملّا ہیں کیوں ننگ مسلمانی

(بال جبریل) 311


اے مسلماں! اپنے دل سے پوچھ، ملّا سے نہ پوچھ

ہوگیا اللہ کے بندوں سے کیوں خالی حرم؟

(بال جبریل) 325


مرے لیے تو ہے اقرار بااللساں بھی بہت

ہزار شکر، کہ ملّا ہیں صاحب تصدیق

(بال جبریل) 327


عقل عیّار ہے سو بھیس بنا لیتی ہے

عشق بے چارہ نہ ملّا ہے، نہ زاہد، نہ حکیم

(بال جبریل) 352


کرے گی داور محشر کو شرمسار اک روز

کتاب صوفی و ملّا کی سادہ اوراقی!

(بال جبریل) 357


نہ فلسفی سے نہ ملّا سے ہے غرض مجھ کو

یہ دل کی موت! وہ اندیشہ و نظر کا فساد!

(بال جبریل) 362


میں جانتا ہوں انجام اس کا

جس معرکے میں ملّا ہوں غازی

(بال جبریل) 363


یا وسعت افلاک میں تکبیر مسلسل

یا خاک کے آغوش میں تسبیح و مناجات

وہ مذہب مردان خود آگاہ و خدا مست

یہ مذہب ملّا وہ جمادات و نباتات

(بال جبریل) 371


۔ ملّا اور بہشت (چاراشعار والی پوری نظم)۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ (بانگ درا) 409


الفاظ و معانی میں تفاوت نہیں لیکن

ملّا کی اذاں اور، مجاہد کی اذاں اور!

(حال و مقام۔۔۔۔ ضرب کلیم) 448


۔ ملّائے حرم۔۔۔۔ (پوری نظم، چار اشعار والی) ضرب کلیم 486


ملّا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت

ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

(ضرب کلیم) 489


صوفی کی طریقت میں فقط مستئ احوال

ملّا کی شریعت میں فقط مستئ گفتار

(ضرب کلیم) 501


ہے مریدوں کو تو حق بات گوارا لیکن

شیخ و ملّا کو بری لگتی ہے درویش کی بات

(پوری نظم "حکومت") (ضرب کلیم) 539


زجاج گر کی دکاں شاعری و ملّائی

ستم ہے خوار پھرے دشت و در میں دیوانہ

(ضرب کلیم) 563


ابلیس کی زبان سے کہلوا رہے ہیں:

یہ ہماری سعئ پیہم کی کرامت ہے کہ آج

صوفی و ملّا ملوکیت کے بندے ہیں تمام

(ارمغان حجاز) 648


باقی نہ رہی تیری وہ آئینہ ضمیری

اے کشتۂ سلطانی و ملّائی و پیری!

(ارمغان حجاز) 670


ملّا کی نظر نور فراست سے ہے خالی

بے سوز ہے میخانۂ صوفی کی مئے ناب!

(ارمغان حجاز) 676


کھلا جب چمن میں کتبخانۂ گل

نہ کام آیا ملّا کو علم کتابی

(ارمغان حجاز)681


یہ خاص کر ان علماء کے بارے میں کہے گئے اشعار ہیں جنھوں نے اقبال پر کفر کے فتوے لگائے تھے۔ انہوں نے انگریزوں کی حمایت میں کتابیں لکھی تھیں۔ مثلاً

مولوی محمد طیّب قادری برکاتی کی کتاب "لیڈروں کی سیاہ کاریاں" مولوی اولاد رسول محمد میاں قادری برکاتی ماہری کی کتاب " مسلم لیگ کی زرین بخیہ دری" مولوی حشمت علی خان کی کتاب " احکام نوریہ بشریہ بر مسلم لیگ" اسی طرح مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے زعماء پر مولوی احمد رضا خان کے کفر کا فتوی جو بعد میں مسلم لیگ پر بھی چسپاں کر دیا گیا۔ اس فتوے کی تائید پر مولوی نعیم الدین مراد آبادی، مولوی دیدار علی، مولوی عبدالحلیم صدیقی میرٹھی(والد مولانا شاہ احمد نورانی) سمیت اسّی علماء کی دستخط ہیں۔

عبدالمجید سالک "ذکر اقبال" میں لکھتے ہیں

"مولانا ابو محمد دیدار علی خطیب مسجد وزیر خان نے نہ صرف اقبال کی تکفیر کی بلکہ تمام مسلمانوں کو انتباہ کیا کہ وہ ان سے ملنا جلنا ترک کر دے ورنہ سخت گنہکار ہوں گے"

یہی مولوی دیدار علی الور کے رہنے والے تھے اسی مناسبت سے علامہ اقبال نے الور پر یہ اشعار لکھیں ہیں، جو روزگار فقیر میں شامل ہیں:


گر فلک در الور اندازد ترا!

اے کہ می داری تمیز خوب و زشت

گویمت در مصرعۂ برجستۂ

آنکہ بر قرطاس دل باید نوشت

آدمیت در زمین او مجو

آسماں ایں دانہ در الور نہ گشت

کشت اگر ز آب و ہوا خر رستہ است

زانکہ خاکش را خرے آمد سرشت

(صفحہ 232، 233 )


اسی طرح ابو طاہر محمد صدیقی قادری برکاتی قاسمی و اناپوری اپنی کتاب " تجانب اہل السنّہ عن اہل الفتنہ" میں لکھتے ہیں:

" یہ ترجمانی حقیقت ہے یا ترجمانی ابلیسیّت صفحہ 336 "

" ڈاکٹر صاحب کی زبان پر ابلیس بول رہا ہے صفحہ 340 "

" مسلمانان اہل سنّت حود انصاف کرلیں کہ ڈاکٹر صاحب کے مذہب کے سچّے دین اسلام سے کیا تعلق ہے صفحہ 341 "

اسی طرح ایک اور صاحب ہیں بدرالدین احمد قادری رضوی، وہ مولوی احمد رضا خان کی سوانح میں ایک عنوان " نام نہاد مفکّر اسلام" قائم کرکے لکھتے ہیں::

" "ڈاکٹر سر اقبال نے بھی اپنی شاعری کے بل بوتے پر اسلام کو کچھ کم دھکا نہیں پہنچایا ہے۔ انہیں باتوں سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ خودساختہ مفکر اسلام نے اپنے فارسی اور اردو کلام میں الحاد، دہریّت، بے دینی اور نیچریت کا بیج کس قدر بویا ہوگا۔ والعیاذ بااللہ۔۔۔۔ نیچریوں کا شور ہے کہ سر محمد اقبال ترجمان حقیقت اور مفکر اسلام ہے۔ ایشیاء کے شعراء ان کے سامنے سر نیاز خم تسلیم کرتے ہیں۔ یورپ کے فلاسفر ان کا لوہا تسلیم کرچکے ہیں۔ لیکن میری طرف سے گزارش ہے کہ:

وہ سبھی کچھ ہے، بتاؤ کہ مسلمان بھی ہیں" صفحہ 38 تا 42

علامہ نے ان مولویوں کے بارے میں لکھا کہ

یہ اتفاق مبارک ہو مؤمنوں کے لیے

کہ یک زباں ہیں فقیہان شہر میرے خلاف

اور

دین حق از کافری رسوا تر است

زانکہ ملا مؤمن کافر گر است

شبنم ما در نگاہ ما یم است

از نگاہ او یم ما شبنم است

از شگرفیہای آن قرآن فروش

دیدہ ام روح الامین را در خروش

زانسوی گردون دلش بیگانہ ئے

نزد او ام الکتاب افسانہ ئی

بی نصیب از حکمت دین نبی

آسمانش تیرہ از بی کوکبی

کم نگاہ و کور ذوق و ھرزہ گرد

ملت از قال و اقولش فرد فرد

مکتب و ملا و اسرار کتاب

کور مادر زاد و نور آفتاب

دین کافر فکر و تدبیر جھاد

دین ملا فی سبیل اللہ فساد

(جاوید نامہ )

آج کل بعض حلقے اقبال کو صرف مولویوں کے مخالف کے طور پر پیش کرتے ہیں اور ان اشعار کو اپنے کتابوں کی زینت بناتے ہیں جن میں نام نہاد مولویوں پر تنقید کی گئی ہے۔ جس سے عام مسلمان رفتہ رفتہ دین سے برگشتہ ہوتا جا رہے ہیں۔ وہ صرف اقبال کی طرح شکل و صورت بنانے کو اقبالیات کے سمجھنے کے لیے کافی قرار دیتے ہیں اور اقبال کے کلام اور فلسفے کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ اس صورت حالات میں الحاد اور بے دینی کا دروازہ مزید وا ہوتا جا رہا ہے۔

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!