دینی مدارس کے فضلاء اور عصری علوم کے فتنے، ایک جائزہ - نور ولی شاہ

مستقبل میں مدرسے کے پڑھے ہوئے عالم دین کے لیے انگریزی، جدید طبعی اور سماجی علوم کوئی اجنبی چیز نہیں ہوں گے البتہ شاید اس فرق کے ساتھ کہ طلب آخرت، اخلاص للہ، ذوق عبادت وغیرہ امور ، جو ماضی کے بزرگوں کا امتیاز تھا ، میں اس کا حال عام جدید درس گاہوں کے ڈگری ہولڈر سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہو گا، الّا ما شاء اللہ

اس کے کئی پہلو ہیں، بڑی وجہ یہ ہے کہ دینی مدارس کے جو فضلاء یونیورسٹیوں اور کالجوں کا رخ کرتے ہیں، ان میں سے اکثر صرف اخلاص نیت یا معاشرے کو تبدیل کرنے کے کسی انقلابی سوچ کے تحت نہیں جاتے بلکہ فکر معاش انہیں وہاں کا راستہ دکھا دیتی ہے۔ دینی مدارس میں عموماً ان علماء کو پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا جو کسی حکومتی ادارے یا دینی مدارس کے علاوہ کسی اور تعلیمی ادارے میں چلے جائیں اور عام طور پر ایسوں سے قطع تعلق نہ صحیح، دوری ضرور اختیار کی جاتی ہے،جس کی وجہ سے وہ فاضل احساس کمتری کا شکار ہوجاتا ہے اور اپنے ماضی سے کٹ کراس نئے نویلے ماحول میں اپنے آپ کو ایڈجسٹ کرنے لگتا ہے۔ ان عصری تعلیمی اداروں میں دین دار اور باشرع افراد عموماً کم ہوتے ہیں اور دوسرے زیادہ۔ ایسے ماحول میں اپنے آپ کو قابو میں رکھنا ناممکن اگرچہ نہیں مگر مشکل ضرور ہوتاہے، نتیجتاً کچھ عرصہ وہاں گزارنے کے بعد دینی مدارس کے فضلاء پر بھی وہاں کا رنگ چڑھنے لگتا ہے۔

یہ نہایت حساس معاملہ ہے اور اس جانب توجہ دینے کی سخت ضرورت ہے کیونکہ ایک طرف دینی مدارس میں رہتے ہوئے اگرچہ ہم اپنے تقویٰ اور ایمان وعقیدے کی حفاظت توکرجاتے ہیں، لیکن عالم دین کا بنیادی فرض یہ تو نہیں کہ اپنے آپ کو بچائے بلکہ وہ آپﷺ کا نائب ہی، اسی معنیٰ میں ہے کہ وہ دوسروں کے ایمان اور عقیدے کی فکر کرے۔ ہم جانتے ہیں کہ صرف اپنے ملک پاکستان کی کل آبادی کا جائزہ لیں تو شاید ایک فیصد سے بھی کم لوگ دینی مدارس کا رخ کرتے ہیں۔ ایسے میں صرف مدرسے کے اندر درس و تدریس پر اکتفاء کرنے سے اگرچہ آپ فتنوں سے محفوظ رہیں گے اور آپ کے تدریس کی وہ دیرینہ خواہش بھی پوری ہوگی جو عموماً ایک فاضل کی ہوتی ہے لیکن اس طرح کرنے سے کیا آپ ان لاکھوں کروڑوں افراد کے ایمان و عقیدے اور دین و تقوے کے بارے میں جواب دہی سے بچ سکیں گے جو صرف سکولوں اور کالجوں کا رخ کرتے ہیں؟ بالخصوص ایسے دور میں جب ان اداروں میں فتنہ الحاد اپنی جوبن پر ہو اور ایک دو کی نہیں بلکہ ہزاروں لوگوں کو ایمان کی دولت سے محرو م کرچکا ہو؟

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان کی قومی زبان اُردو:ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی کی خدمات - میر افسر امان

عصری علوم کی اہمیت و افادیت سے عالم اور غیر عالم کسی کو بھی انکار نہیں اور یہ بھی جانتے اور مانتے ہیں کہ ملک و قوم کی ترقی کے لیے عصری علوم کا حصول ناگزیر ہوتا ہے، ان کےبغیر اقامت دین اور تنفیذ دین تک کے بارے میں نہیں سوچا جاسکتا۔ ایسے میں دو ہی صورتیں بچتی ہیں (1)فتنے کےخوف سے عصری علوم کا دروازہ سرے سے بند کردیا جائے، تاکہ ہمارا ایمان و تقویٰ سلامت رہے (2)فتنے کی پرواہ کیے بغیر ان اداروں کا رخ کیا جائے اور مادّی ترقی کے حصول کے لیے اگر ہمیں اپنے تقویٰ کی قربانی دینی پڑے تو کوئی بڑی بات نہیں۔ ظاہر ہے کہ ان دونوں پر عمل پیرا ہونا اپنی دنیا اور آخرت کی تباہی کو دعوت دینا ہے۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہےکہ کیا کوئی ایسی صورت ممکن ہےکہ دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم بھی حاصل کریں اور ہمارے ایمان و تقوی میں کمی کے بجائے اضافہ ہو؟ اس بارے میں درجہ ذیل کچھ امور قابل غور ہیں:

علماء کے لیے عصری علوم حاصل کرنا اس وقت نقصان دہ ہوسکتا ہے جب وہ صرف دنیوی مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے انہیں حاصل کریں۔اگر وہ اس مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے ان علوم اور اداروں کی جانب توجہ دیں کہ وہاں جاکردین کا داعی بن کر دوسروں پراثر انداز ہوں اور ان کی اصلاح کا ساماں بنوں تو یہ نہ صرف جائز اور موجب ثواب ہے، بلکہ وقت کی اہم ترین ضرورت بھی ہے۔

دینی مدارس کے اندر خود ایسی فضاء تشکیل دی جائے کہ فضلاء ان علوم کی جانب راغب ہوں اور پھر کالجوں اور یونیورسٹیوں اور دیگر سرکاری اداروں میں مدرسے کی طرف سے ان کی باقاعدہ تشکیلات ہوں۔ اس کے بعد ان فضلاء کو حوادثات زمانہ کے مقابلے کے لیے تنہا نہ چھوڑا جائے بلکہ ان کے اخلاق،کردار اور اعمال کی باقاعدہ نگرانی کی جائے اوران کی دعوتی اور دینی تحریکات کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جائے۔ ایسے میں وہ اپنے دینی مرکز اور اساتذہ سے ہمیشہ جڑے رہیں گے اور وہ کسی اور سے متاثر ہونے کے بجائے اپنااثر پھیلانے کی کوشش کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان کی قومی زبان اُردو:ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی کی خدمات - میر افسر امان

ماحول کی وجہ سے کسی شخص میں تبدیلی دو وجوہات سے آتی ہے۔جب وہ کسی ایسے ماحول میں جائے جو اس کے لیے بالکل نامانوس ہو، تو وہ اس سے متاثر ہو کر اسے اختیار کرنے لگتاہے۔اگر ہمارےفضلاء اس ماحول اور تعلیم سے یکسر ایک طرف نہ رہے بلکہ اس ماحول، تعلیم اور ان کے افکار و نظریات کی خوبیوں اور خامیوں کا تنقیدی جائزہ لیتے رہیں تو وہ فراغت کے بعد وہاں سے زیادہ متاثر نہیں ہوں گے اور کوشش کریں گے کہ وہاں کے باسیوں کی اصلاح کی دینی اصلاح کریں۔

اگر کوئی انفرادی طور پر کسی نئے ماحول میں چلا جاتا ہے تو ماحول اس پر غالب آجاتا ہے۔اس کے برخلاف اگر یہ کام گروپوں کی صورت میں ہو تو اس نقصان سے بچا جاسکتاہے۔راقم جب ایم-فل کی کلاسوں کے سلسلے میں یونیورسٹی جایا کرتا تھا تو وہاں ہماری تقریباً کلاس علماء اور اہل مدارس پر مشتمل تھی۔ایک ساتھی مدینہ یونیورسٹی سے آئے تھے۔پہلے پہل کئی دنوں تک ٹوپی پہنے بغیر کلاس آتے رہے تاہم بعد میں جب دیکھا کہ ساری کلاس مدارس کے فضلاء پر مشتمل ہے تو وہ بھی ٹوپی پہن کرآنے لگے۔

اس لیے ضروری ہے کہ جو فضلاء عصری اداروں میں چلے جاتے ہیں وہ آپس میں جڑے رہیں اور کوشش کریں کہ اسی ادارے ہی میں اپنے ہم خیال اور ہم فکر ساتھیوں کو تلاش کریں اور ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا شروع کریں،تب وہ مؤثر بنیں گے، متاثر نہیں۔ ان تمام نقصانات پر مکمل قابو تب پایا جاسکتا ہے، جب عصری تعلیمی اداروں کو مکمل اسلامی ماحول میں رنگا جائے اور کوشش کی جائے کہ مکمل دینی ماحول میں اعلیٰ عصری تعلیم کے حصول کے مواقع فراہم کی جائیں، تب ان عصری علوم کے حصول سے ہم کسی بھی قسم کے فتنے کا شکار نہیں ہوسکیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ فرمائیں۔