روہنگیا مظلومین کی مدد: اسلامی شریعت کے چند اہم مباحث - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

(روہنگیا مظلومین کی مدد کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بحث چھڑی ہوئی ہے۔ کئی دوست پوچھ رہے ہیں کہ اسلامی قانون اور بین الاقوامی قانون کی رو سے اس ضمن میں ہماری کیا ذمہ داریاں ہیں اور ہمیں کیا مواقع میسر ہیں؟ مناسب معلوم ہوا کہ یہاں میں اپنی کتاب "جہاد، مزاحمت اور بغاوت اسلامی شریعت اور بین الاقوامی قانون کی روشنی میں" کے بابِ ہفتم کے مباحث پیش کردوں جن میں متعلقہ تمام اہم سوالات کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔)

باب ِ ہفتم: فریضۂ دفاع کی وسعت اور اعانت کی حدود
باب ششم میں ہم واضح کرچکے ہیں کہ جہاد کے حوالے سے ”دفاعی“ اور ”اقدامی“ کی بحث غیر متعلق اور غیر ضروری ہے۔ اس باب میں ہم پہلے اسلامی قانون کے تصور ”دفاع“ کا تجزیہ کریں گے اور اس مقصد کے لیے مختلف مسلمان اہل علم کی آرا پر بحث کریں گے۔ اس کے بعد ہم دفاع کے اس تصور کا موازنہ معاصر بین الاقوامی قانون میں موجود دفاع کے تصور کے ساتھ کریں گے اور اس بات کا جائزہ لیں گے کہ معاصر بین الاقوامی نظام میں اسلامی قانون کے تصور دفاع پر کیسے عمل کیا جاسکتا ہے؟

فصل اول: دفاع - ایک شرعی فریضہ اور ایک فطری حق
جیسا کہ عام طور پر معلوم ہے، رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے ابتدائی دور میں مسلمانوں کو ظلم کے جواب میں طاقت کے استعمال کی اجازت نہیں تھی اور وہ برابر کا بدلہ بھی نہیں لے سکتے تھے۔ انہیں عفو، صفح جمیل اور اعراض کا حکم تھا۔ انہیں بتایا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ دنیا کے خیر و شر سے لاتعلق نہیں ہے، وہ لازماً حق و باطل کی کشمکش میں حق کو غلبہ عطا کرے گا، اس نے دنیا کھیل اور مذاق کے لیے نہیں بنائی، پس اس پر اعتماد کرتے ہوئے اور اس کی مدد کا انتظار کرتے ہوئے ظلم و ستم کو سہہ لیں:
وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ وَمَا بَیْْنَہُمَا إِلاَّ بِالْحَقِّ وَإِنَّ السَّاعَۃَ لآتِیَۃٌ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْلَ (سورۃ الحجر، آیت ۵۸)
( اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ایک مقصد کے ساتھ ہی تخلیق کیا ہے، اور یقینا فیصلے کی گھڑی آنے والی ہے۔ پس ان سے اچھے طریقے سے درگزر کرو۔ )
فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیْنَ۔ إِنَّا کَفَیْْنَاکَ الْمُسْتَہْزِءِیْنَ (سورۃ الحجر، آیات ۴۹۔۵۹)
(تو جو حکم تمہیں ملا ہے اسے آشکارا طور پر سنا دو اور مشرکین سے اعراض کرو۔ ہم ان مذاق اڑانے والوں سے تمہاری طرف سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں۔ )
نیز ان کو حکم تھا کہ ہاتھ باندھے رکھیں: کُفُّواْ أَیْْدِیَکُمْ (سورۃ النساء، آیت ۷۷)[/arabic]

پھر ایک مرحلہ ایسا آیا جب انہیں انفرادی طور پر ظلم کے مقابلے میں ہاتھ اٹھانے کی اجازت دے دی گئی لیکن ساتھ ہی کہا گیا کہ معاف کرنا اور برداشت کرنا زیادہ بہتر ہے:
وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُم بِہِ وَلَءِن صَبَرْتُمْ لَہُوَ خَیْْرٌ لِّلصَّابِریْنَ(سورۃ النحل، آیت ۶۲۱)
( اور اگر تمہیں بدلہ ہی لینا ہے تو اتنا ہی بدلہ لو جتنی تم پر زیادتی کی گئی ہے۔ اور اگر تم نے صبر کی روش اختیار کی تو یہی صبر کرنے والوں کے لیے بہتر ہے۔ )
ہجرت سے کچھ قبل انہیں یہ حکم دیا گیا کہ وہ اپنے تمام معاملات منظم طریقے سے باہمی مشورے کے ذریعے چلائیں اور ظلم کے خلاف ایک دوسرے کا ساتھ دیں:
وَالَّذِیْنَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّہِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاۃَ وَأَمْرُہُمْ شُورَی بَیْْنَہُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاہُمْ یُنفِقُونَ۔ وَالَّذِیْنَ إِذَا أَصَابَہُمُ الْبَغْیُ ہُمْ یَنتَصِرُون (سورۃ الشوریٰ، آیت ۸۳، ۹۳)
(وہ جنہوں نے اپنے رب کی بات مانی اور نماز قائم کی اور جن کے معاملات مشورے پر چلتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں، اور جب ان پر زیادتی ہو تو وہ بدلہ لیتے ہیں۔ )
اگرچہ اس موقع پر بھی انہیں بتایا گیا کہ معاف کرنا زیادہ بہتر ہے:
فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُہُ عَلَی اللّٰہِ (سورۃ الشوری ٰ، آیت ۰۴)
( پس جس نے معاف کیا اور اصلاح کی تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔)

ہجرت کے بعد جب کفار نے مسلمانوں کو مدینہ منورہ میں بھی امن سے نہ رہنے دیا تو مسلمانوں کو باقاعدہ منظم طریقے سے جنگ لڑنے کی اجازت دے دی گئی:
أُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللّٰہَ عَلَی نَصْرِہِمْ لَقَدِیْرٌ۔ الَّذِیْنَ أُخْرِجُوا مِن دِیَارِہِمْ بِغَیْْرِ حَقٍّ إِلَّا أَن یَقُولُوا رَبُّنَا اللّٰہُ (سورۃ الحج، آیت ۹۳)
( جنگ کی اجازت دی گئی ان لوگوں کو جن پر جنگ مسلط کی گئی ہے کیونکہ ان پر ظلم ہوا ہے، اور یقینا اللہ ان کی مدد پر قدرت رکھنے والا ہے۔ ان کو جن کو ان کے گھروں اور ان کے اموال سے بے دخل کیا گیا صرف اس بنا پر کہ انہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے)
اس کے بعد اس اجازت کو باقاعدہ شرعی فریضہ بنادیا گیا:
وَقَاتِلُوا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُونَکُمْ وَلاَ تَعْتَدُوا إِنَّ اللّٰہَ لاَ یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ۔ وَاقْتُلُوہُمْ حَیْْثُ ثَقِفْتُمُوہُمْ وَأَخْرِجُوہُم مِّنْ حَیْْثُ أَخْرَجُوکُمْ وَالْفِتْنَۃُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ (سورۃ البقرۃ، آیات ۰۹۱۔ ۱۹۱)
(اور تم اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں مگر زیادتی نہ کرو، کیونکہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اور ان کو قتل کرو جہاں کہیں ان کو پاؤ اور ان کو نکالو جہاں سے انہوں نے تم نکالا،اور فتنہ قتل سے زیادہ سنگین جرم ہے۔ )

پھر کفار کے زیر تسلط علاقوں میں ظلم کے شکار مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ مدینہ منورہ کے دار الاسلام کو ہجرت کریں۔ انہیں بتایا گیا کہ اگر وہ اپنے دین کو بچانے کے لیے گھر بار چھوڑ کر ہجرت کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے لیے دنیا میں بھی رزق فراخ کردے گا اور اگر اس راہ میں انہیں موت آئی یا انہیں قتل کردیا گیا تو آخرت میں بھی ان کو اجر عظیم عطا کرے گا۔ البتہ ساتھ ہی تنبیہ دی گئی کہ اگر انہوں نے ہجرت نہیں کی اور ظلم و ستم سے مجبور ہوکر کفر کی روش اختیار کی تو پھر ان کے عذر قبول نہیں کیے جائیں گے۔ اس موقع پر دار الاسلام کے مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ اگر وہ ہجرت کرکے تمہارے پاس نہیں آتے تو تم پر ان کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ البتہ اگر وہ مجبور ہیں اور وہاں سے نہیں نکل سکتے تو پھر ان کی مدد تم پر لازم ہے:
وَمَا لَکُمْ لاَ تُقَاتِلُونَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ ہَ ذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ أَہْلُہَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنکَ وَلِیّاً وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنکَ نَصِیْراً (سورۃ النساء، آیت ۵۷)
(اور تمہیں ہوا کیا کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان دبائے گئے مردوں، عورتوں اور بچوں کی مدد کے لیے نہیں لڑ رہے جو پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال جس کے لوگ ظالم ہیں، اور ہمیں اپنی جانب سے کوئی دوست اور اپنی جانب سے کوئی مددگار عنایت فرما! )
وَالَّذِیْنَ آمَنُوا وَلَمْ یُہَاجِرُوا مَا لَکُم مِّن وَّلاَیَتِہِم مِّن شَیْْءٍ حَتَّی یُہَاجِرُوا وَإِنِ اسْتَنصَرُوکُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْْکُمُ النَّصْرُ إِلاَّ عَلَی قَوْمٍ بَیْْنَکُمْ وَبَیْْنَہُم مِّیْثَاقٌ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیْرٌ (سورۃ الأنفال، آیت ۲۷)
( اور جو لوگ ایمان لے آئے مگر انہوں نے ہجرت نہیں کی تو تم پر ان کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے جب تک کہ وہ ہجرت نہ کریں۔ اور اگر وہ دین کے معاملے تم سے مدد مانگیں تو تم پر ان کی مدد لازم ہے مگر اس قوم کے خلاف نہیں جس کے ساتھ تمہارا امن کا معاہدہ ہوا ہو۔ اور تم جو کرتے ہو اللہ اسے مسلسل دیکھ رہا ہے۔ )

یوں دفاع کا فریضہ بہت وسیع ہوگیا۔ اب مسلمانوں کو صرف دار الاسلام کے اندر مقیم مسلمانوں کا دفاع ہی نہیں کرنا تھا بلکہ دار الاسلام سے باہر ظلم کے شکار مسلمانوں کا دفاع اور ان کو ظلم سے بچانا بھی دار الاسلام کے مسلمانوں کی ذمہ داری ہوگئی۔

کئی احادیث میں رسول اللہ ﷺ نے انتہائی بلیغ انداز میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ اپنے حقوق کی حفاظت کی کوشش میں اگر کوئی شخص قتل کردیا گیا تو وہ شہید ہوگا:
من أرید مالہ بدون حق، فقاتل، فقتل دون مالہ، فھو شھید۔
(جس کا مال چھینا جارہا ہو اور وہ مزاحمت کرتے ہوئے قتل کیا گیا تو وہ شہید ہے۔ )
من قتل دون مالہ، فھو شھید؛ و من قتل دون دینہ، فھو شھید؛ و من قتل دون دمہ، فھو شھید؛ و من قتل دون أھلہ، فھو شھید۔
(جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہوا وہ شہید ہے،اور جو شخص اپنے دین کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہوا وہ شہید ہے، اور جو شخص اپنی جان کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہوا وہ شہید ہے،اور جو شخص اپنے خاندان کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہوا وہ شہید ہے۔ )
من قتل دون مظلمتہ، فھو شھید۔
(جو شخص اپنے حق کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہوا وہ شہید ہے۔ )
صحیح مسلم کی ایک روایت میں اس موضوع پر ایک صحابی کا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بڑا دلچسپ مکالمہ نقل کیا گیا ہے:
جاء رجل الی رسول اللہ ﷺ فقال: یا رسول اللہ! أرأیت ان جاء رجل یرید أخذ مالی؟ قال: فلا تعطہ مالک۔ قال: أرأیت ان قاتلنی؟ قال: قاتِلہ۔ قال: أرأیت ان قتلنی؟ قال: فأنت شھید۔ قال: أرأیت ان قتلتہ؟ قال: ھو فی النار۔
(ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور پوچھا: یا رسول اللہ! آپ کی کیا رائے ہے اگر کوئی شخص آکر میرا مال چھیننا چاہے ( تو میں کیا کروں؟ ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے اپنا مال مت دو۔ اس نے پوچھا: آپ کی کیا رائے ہے اگر وہ مجھ سے لڑے؟ فرمایا: تم بھی اس سے لڑو۔ اس نے پوچھا: آپ کی کیا رائے ہے اگر اس نے مجھے قتل کردیا؟ فرمایا: ایسی صورت میں تم شہید ہوگے۔ اس نے پوچھا: آپ کی کیا رائے ہے اگر میں نے اسے قتل کردیا؟ فرمایا: وہ آگ میں ہوگا۔ )
اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے دار الاسلام کی سرحدات کی حفاظت کرنے والے لوگوں کے لیے بڑے اجر کی بشارتیں دی ہیں:
رباط یوم فی سبیل اللہ خیر من الدنیا و ما علیھا۔ و موضع سوط أحدکم من الجنۃ خیر من الدنیا و ما علیھا۔ و الروحۃ یروحھا العبد فی سبیل اللہ أو الغدوۃ خیر من الدنیا و ما علیھا
( اللہ کی راہ میں ایک دن کا پہرہ دنیا سے اور جو کچھ اس میں ہے اس سب سے بہتر ہے، اور جنت میں تم میں سے کسی کے کوڑے کے رکھنے کی جگہ دنیا سے اور جو کچھ اس میں ہے اس سب سے بہتر ہے، اور اللہ کی راہ میں شام کا پہرہ یا صبح کا پہرہ دنیا سے اور جو کچھ اس میں ہے اس سب سے بہتر ہے۔ )
رباط یوم و لیلۃ خیر من صیام شھر و قیامہ۔ و ان مات جری علیہ عملہ الذی کان یعملہ، و أجری علیہ رزقہ، وأمن الفتّان
( ایک دن اور رات کا پہرہ پورے مہینے کے روزوں اور شب بیداری سے بہتر ہے۔ اور اگر اس حالت میں اسے موت آگئی تو اس کے لیے اس کا عمل جو وہ کرتا رہا جاری رکھا جائے گا، اسے اس کا رزق ملتا رہے گا اور وہ قبر کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔ )
رباط یوم فی سبیل اللہ خیر من ألف یوم فی ما سواہ من المنازل۔
( اللہ کی راہ میں ایک دن کا پہرہ اس کے ماسوا کسی دوسرے مقام کے ہزار دنوں سے بہتر ہے۔ )
ان نصوص اور اس نوعیت کی دیگر نصوص کی روشنی میں فقہا ئے اسلام نے دفاع کے حکم کی نوعیت اور وسعت کا جس طرح تعین کیا ہے اگلی فصول میں اس کا جائزہ پیش کیا جارہا ہے۔

فصل دوم: دفاع ریاست، دفاع امت یا دفاع دین؟
پچھلے باب میں ہم نے ان صورتوں کا جائزہ لیا جن کو شریعت نے ”محاربہ“ قرار دے کر ان کے خلاف جہاد کا حکم دیا ہے۔ اگر ان سب کو دفاع قرار دیا جائے تو دفاع کا یہ تصور معاصر بین الاقوامی قانون میں رائج دفاع کے تصور سے تو ویسے بھی وسیع ہوجاتا ہے، یہ قبل از منشور بین الاقوامی قانون کے تصور دفاع سے بھی زیادہ وسیع ہوجاتا ہے۔ اس بات کی وضاحت کے لیے ہم مسلمانوں کے تین بڑے اہل علم کی آرا کا جائزہ پیش کریں گے۔

ڈاکٹر محمد حمید اللہ (م ۲۰۰۲ ء) دور جدید میں اسلامی قانون کے تصور جہاد پر کام کرنے والے اولین لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اپنی شہرۂ آفاق کتاب Muslim Conduct of State میں وہ ”جائز جنگوں“ (Lawful Wars) کی مندرجہ ذیل پانچ قسمیں ذکر کرتے ہیں:
۱۔ کسی پہلے سے جاری جنگ کا تسلسل (Continuation of an Existing War)؛
۲۔ دفاعی جنگیں (Defensive Wars)؛
۳۔ ہمدردانہ جنگیں (Sypathetic Wars)؛
۴۔ سزا کے طور پر لڑی جانے والی جنگیں (Punitive Wars)؛ اور
۵۔ نظریے کے لیے لڑی جانے والی جنگیں (Idealistic Wars)۔

ڈاکٹر حمید اللہ کے مطابق رسول اللہ ﷺ کی اکثر جنگیں پہلی قسم میں آتی ہیں کیونکہ جب ایک دفعہ مسلمانوں اور مشرکین مکہ کے درمیان جنگ شروع ہوئی تو پھر صلح حدیبیہ تک ان کے درمیان کوئی امن کا معاہدہ نہیں ہوا تھا۔ ایسے میں مختلف مواقع پر لڑی جانے والی جنگیں دراصل ”پہلے سے جاری جنگ“ کا تسلسل تھیں۔ جہاں تک دفاعی جنگوں کا تعلق ہے ڈاکٹر حمید اللہ کے مطابق یہ وہ جنگیں ہیں جو اس صورت میں لڑی جاتی ہیں جب یا تو دشمن نے مسلمانوں کے علاقے پر باقاعدہ حملہ کیا ہو یا اس نے ابھی حملہ تو نہ کیا ہو لیکن اس کا رویہ ”ناقابل برداشت“ ہوچکا ہو۔ گویا ڈاکٹر حمید اللہ کے مطابق پیش بندی کا اقدام (Pre-emptive Strike) دفاع میں شامل ہے۔ وہ غزوۂ بنی مصطلق، غزوۂ خیبر اور غزوۂ حنین کو اس کی مثال میں ذکر کرتے ہیں۔ ایک اور مقام پر وہ اس قسم کی جنگ کو ”حفاظتی جنگ“ (Preventive War) قرار دیتے ہیں اور اس کے لیے اعلان جنگ کو وہ ضروری نہیں سمجھتے۔

ہمدردانہ جنگوں سے ان کی مراد وہ جنگیں ہیں جو دار الاسلام سے باہر مقیم مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے لڑی جاتی ہیں، جبکہ سزا کے طور پر لڑی جانے والی جنگوں سے ان کی مراد وہ جنگیں ہیں جو معاہدہ توڑنے والوں، زکاۃ کی ادائیگی سے انکار کرنے والوں، منافقین، مرتدین اور باغیوں کے خلاف لڑی جاتی ہیں۔ ”نظریاتی جنگوں“ سے ان کی مراد وہ جنگیں ہیں جو ”شرک اور کفر کے خاتمے“ کے لیے لڑی جاتی ہیں۔ ان کی رائے یہ ہے کہ:
No one is to be forced to embrace Islamic Faith... yet Islamic rule is to be established by all means.
(کسی کو اسلامی عقیدہ اپنانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔۔۔ تاہم اسلامی حکومت تمام ذرائع سے قائم کی جائے گی۔ )

پچھلے باب میں ہم اس موضوع پر اپنی راے دے چکے ہیں کہ پوری دنیا پر اسلامی حکومت کے قیام کے لیے جہاد کا کوئی جواز نہیں ہے۔ البتہ اسلام کی دعوت کی راہ میں رکاوٹیں دور کرنے کے لیے، اگر ضروری ہوجائے، تو طاقت کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ”نظریاتی جنگ“ یا ”مصلحانہ جہاد“ کا جواز ہمارے نزدیک بس اسی حد تک ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   لباس - عظمیٰ ظفر

جہاں تک جنگ کی دیگر قسموں کا تعلق ہے تو چونکہ رسول اللہ ﷺ کی جنگوں میں اکثر پہلے سے جاری جنگ کے تسلسل کے طور پر ہوئی تھیں اور اکثر مسلمان اہل علم کے نزدیک رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں پر جنگ مشرکین کی طرف سے مسلط کی گئی تھی، اس لیے وہ رسول اللہ ﷺ کی اکثر جنگوں کو دفاعی قرار دیتے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر، ڈاکٹر حمید اللہ کی ذکر کردہ پہلی دو قسمیں اکثر اہل علم کے نزدیک ایک ہی قسم یعنی ”دفاع“ ہے۔ پھر بہت سے اہل علم نے ان جنگوں کو بھی دفاع میں شامل سمجھا ہے جن کو ڈاکٹر حمید اللہ ”ہمدردانہ جنگیں“ قرار دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ڈاکٹر حمید اللہ نے ان جنگوں کو دفاع میں کیوں شامل نہیں کیا اور دوسرے اہل علم اسے دفاع میں کیسے شامل کرتے ہیں؟ اس کا سیدھا سادھا جواب یہ ہے کہ ڈاکٹر حمید اللہ جب دفاع کے تصور پر بحث کرتے ہیں تو ان کے ذہن میں ”ریاست کے دفاع“ کا تصور ہے اور جو اہل علم ان جنگوں کو دفاع سمجھتے ہیں ان کے ذہن میں ”امت کے دفاع“ کا تصور ہوتا ہے۔ یہیں سے مسلمان اہل علم کی اصل الجھن کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ اس بات پر مزید بحث آگے آرہی ہے۔

معاصر اہل علم میں شام کے جناب ڈاکٹر وھبۃ الزحیلی کا نام نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اپنی مشہور کتاب ” آثار الحرب فی الفقہ الاسلامی“ میں وہ پہلے تو یہ قرار دیتے ہیں کہ جہاد کے لیے دفاعی اور اقدامی کی بحث غیر ضروری اور غیر متعلق ہے۔ اس کی وضاحت میں وہ تین دلائل ذکر کرتے ہیں:
۱۔ ”اقدامی جہاد“کی ترکیب سے مترشح ہوتا ہے کہ یہ کسی قسم کی زیادتی اور اعتداء کی کاروائی ہے؛
۲۔ دفاعی اور اقدامی کی تقسیم کے لیے کوئی معروضی معیار نہیں ہے۔ ایک ہی جنگ کو ایک فریق دفاعی اور دوسرا اقدامی قرار دیتا ہے؛
۳۔ دفاعی اور اقدامی کی تقسیم کی بنیاد جغرافیائی حدود پر مبنی ہے اور اسلام ان حدود کو نہیں مانتا کیونکہ وہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے ایک امت ہونے کا تصور دیتا ہے۔
اس کے بعد وہ معاصر دنیا میں دفاع کے نام پر لڑی جانے والی بعض جنگوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:
و اذا کانت الدول الحدیثۃ الیوم قد اعتبرت الحرب العدوانیۃ علی مصر عام ۶۵۹۱ دفاعاً عن قضایاھا، و اعتبرت اسرائیل ھجومھا علی العرب دفاعاً عن وجودھا و مصالحھا، و اعتبرت أمریکا حصارھا لکوبا و تدخلھا فی شؤون الدومینیکان، واعتدائھا علی شعب فیتنام دفاعاً عن مصالحھا و أغراضھا، فالأجدر بنا أن نعتبر أن تشریع الاسلام فی الحرب قاصر علی محض الدفاع۔
( اگر عصر حاضر میں بعض ریاستوں نے مصر کے خلاف 1965ء کی ظالمانہ جنگ کو اپنے مفادات کا دفاع قرار دیا؛ اسرائیل نے عرب کے خلاف جارحیت کو اپنے وجود اور مفادات کا تحفظ قرار دیا؛ امریکا نے کیوبا کے محاصرے، ڈومینیکن ری پبلک کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور ویتنامی قوم کے خلاف اپنی جارحیت کو اپنے مفادات اور مقاصد کے دفاع کا نام دیا؛ تو ہمارے لیے بھی مناسب راہ یہی ہے کہ ہم قرار دیں کہ اسلامی شریعت کی رو سے جنگ صرف دفاع تک ہی محدود ہے۔ )

اس بحث کے بعد جب وہ دفاع کے تصور پر بحث کرتے ہیں تو مندرجہ ذیل صورتوں کو دفاع میں شامل کرتے ہیں:
۱۔ مسلمانوں کے علاقے پر باقاعدہ حملے کی صورت میں لڑی جانے والی جنگ؛
۲۔ غیر ممالک میں مقیم مظلوم مسلمانوں کی حمایت کے لیے لڑی جانے والی جنگ؛ اور
۳۔ اسلام کی دعوت کی راہ میں غیر مسلم ریاست کی جانب سے ڈالی جانے والی رکاوٹوں کے خلاف، یا اسلام کے داعیوں پر یا اسلام قبول کرنے والوں پر ڈھائے جانے والے ظلم کے خلاف جنگ۔

اس سے معلوم ہوا کہ ڈاکٹر وھبہ کا تصور دفاع صرف ریاست کے دفاع تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں امت کا دفاع اور اس سے آگے بڑھ کر دین کا دفاع بھی شامل ہے۔ اس کے برعکس ڈاکٹر حمید اللہ کے نزدیک دفاع سے مراد ریاست کا دفاع ہے۔ اس لیے ڈاکٹر وھبہ کی ذکر کردہ آخری دو صورتوں میں جنگ کو جائز سمجھنے کے باوجود ڈاکٹر حمید اللہ انہیں دفاع میں شامل نہیں کرتے۔ یہ بھی واضح رہے کہ ڈاکٹر حمید اللہ کی طرح ڈاکٹر وھبہ بھی پیش بندی کے اقدام کو دفاع میں شامل سمجھتے ہیں۔

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی (م 1979ء) بھی ڈاکٹر وھبہ کی طرح اس بات کے قائل ہیں کہ اسلامی جہاد کے لیے دفاعی اور اقدامی کی تقسیم مناسب نہیں ہے۔ اس لیے ”اقدامی جہاد“ کے بجائے وہ ”مصلحانہ جہاد“ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ ڈاکٹر وھبہ سے اس بات میں بھی متفق دکھائی دیتے ہیں کہ اسلام کی دعوت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے لڑی جانے والی جنگ دفاعی جنگ ہے۔ ڈاکٹر حمید اللہ اس کا صراحتاً ذکر نہیں کرتے، لیکن معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسے ”نظریاتی جنگوں“ میں شامل کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جن جنگوں کو ڈاکٹر حمید اللہ ”سزا کے طور پر لڑی جانے والی جنگیں“ قرار دیتے ہیں، ان کو بھی سید مودودی دفاع میں شامل کرتے ہیں۔ یوں سید مودودی کا تصور دفاع بہت زیادہ وسیع ہوجاتا ہے۔ ان کے نزدیک ”مدافعانہ جہاد“ میں مندرجہ ذیل صورتیں شامل ہیں:
۱۔ ظلم و تعدی کا جواب
۲۔ راہ حق کی حفاظت
۳۔ دغابازی اور عہد شکنی کی سزا
۴۔ اندرونی دشمنوں کا استیصال
۵۔ حفاظت امن
۶۔ مظلوم مسلمانوں کی حمایت۔
اس سے معلوم ہوا کہ سید مودودی کا تصور دفاع بھی ریاست کے دفاع تک محدود نہیں ہے بلکہ امت کا دفاع اور اس سے آگے بڑھ کر دین کا دفاع بھی اس میں شامل ہے۔
”مصلحانہ جہاد“ سے سید مودودی وہ جنگیں مراد لیتے ہیں جو ”فتنۃ“ یا ”فساد“ کے خلاف لڑی جاتی ہیں۔ پھر کئی صورتیں ایسی ہیں جن کو وہ فتنہ کے تحت لاتے ہیں اور کئی صورتوں کو وہ فساد کے تحت شامل کرتے ہیں۔ ان کو دفاع کے وسیع ترین تصور کے تحت بھی نہیں لایا جاسکتا۔ مصلحانہ جہاد کی غایت ان کے نزدیک یہی ہے کہ کفر کی شوکت ختم کی جائے، کافرانہ حکومتوں کا خاتمہ کیا جائے، کافرانہ نظام کی بالادستی ختم کی جائے تاکہ لوگوں کے لیے حق کی قبولیت میں کوئی رکاوٹ نہ رہے۔ اس کے بعد وہ چاہیں تو کفر پر ہی قائم رہیں لیکن پھر ان کے پاس کوئی عذر باقی نہیں رہے گا۔

باب پنجم میں ہم ذکر کرچکے ہیں کہ رواجی بین الاقوامی قانون میں مندرجہ ذیل صورتیں دفاع کے تصور میں شامل سمجھی جاتی تھیں:
۱۔ حقیقی اور جاری فوجی جارحیت کے خلاف؛
۲۔ کسی فوری اور سنگین خطرے کے خلاف پیش بندی کے اقدام کے طور پر تاکہ حملے سے پہلے ہی اس کے امکان کو ختم یا کم کیا جاسکے؛
۳۔ ریاست کے حقوق اور مفادات یا اس کے شہریوں یا اموال کے لیے پیدا ہونے والے خطرے کے خلاف خواہ یہ خطرہ ریاست سے باہر پیدا ہوا ہو؛
۴۔ اقتصادی ناکہ بندی یا نقصان دہ پراوپیگنڈے کے خلاف بشرطیکہ وہ اس نوعیت کا ہو کہ اس کے خلاف مسلح اقدام ضروری ہوجائے۔
اوپر مذکور بحث سے اسلامی قانون کا جو تصور دفاع معلوم ہوتا ہے وہ اس رواجی بین الاقوامی قانون کے تصور دفاع سے بھی زیادہ وسیع ہے کیونکہ رواجی قانون میں ساری بحث ریاست کے حق دفاع سے متعلق ہے جبکہ اسلامی قانون میں بحث دار الاسلام کے دفاع سے آگے بڑھ کر امت کے دفاع اور دین کے دفاع تک چلی جاتی ہے۔ اس بات کی وضاحت کے لیے ایک انتہائی اہم مسئلے میں ان تصورات کا موازنہ ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔

فصل سوم: دار الاسلام سے باہر مقیم مظلوم مسلمانوں کی مدد۔ دفاع یا اقدام؟
اسلامی قانون کے تصور دفاع کی بحث میں سب سے اہم بحث غالباً یہی ہے کہ کسی غیر مسلم ریاست میں مقیم مسلمانوں پر ظلم کی صورت میں ان کی مدد کے لیے لڑی جانے والی جنگ دفاع میں شامل ہے یا نہیں؟ اسی بحث سے مسلمان اہل علم کی اصل الجھن سامنے آتی ہے۔

مسلمان اہل علم بالعموم اس کے قائل ہیں کہ دفاع کی صورت میں ”اعلان جنگ“ضروری نہیں ہوتا جبکہ اقدام سے پہلے اعلان جنگ کو وہ ضروری سمجھتے ہیں۔ اگر کسی غیر مسلم ملک میں مسلمانوں پر ظلم ہورہاہو تو قرآن کی نص صریح کے بموجب دار الاسلام کے مسلمانوں پر ان کی مدد واجب ہوجاتی ہے۔ اس لیے اس پر دو رئیں نہیں پائی جاتیں کہ ایسی صورت میں لڑی جانے والی جنگ شریعت کی رو سے جائز ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ ان کی مدد ”دفاعی جہاد“ میں شمار ہوگی یا اسے ”اقدامی جہاد“ سمجھا جائے گا؟ جو لوگ جہاد کو صرف ”دفاع“ تک ہی محدود سمجھتے ہیں وہ اس مدد کو بھی دفاع کے تصور کے تحت سمونے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں دفاع کا یہ تصور بہت زیادہ وسیع ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا، سید مودودی اس قسم کی کاروائی کو ”مدافعانہ جہاد“ میں شمار کرتے ہیں لیکن جب وہ اعلان جنگ کے مسئلے پر آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اس قسم کی کاروائی سے پہلے اعلان جنگ ضروری ہوگا۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ جب وہ مدافعانہ جہاد پر بحث کرتے ہیں تو ان کے ذہن میں ”دفاع امت“ یا ”دفاع دین“ کا تصور ہوتا ہے، لیکن جب وہ دارالاسلام کی طرف سے عملی اقدام کی بحث پر آتے ہیں تووہ دیکھتے ہیں کہ دارالاسلام کے لوگوں کو اس صورت میں اپنی علاقائی حدود سے باہر جاکر اقدام کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے وہ اعلان جنگ کو ضروری قرار دے دیتے ہیں۔ گویا اس وقت ان کے ذہن میں ”دفاع ریاست“کا تصور ہوتا ہے۔

اس قسم کی کاروائی کو کیسے دفاع کہا جاسکتا ہے؟ اس کے دو امکانی جوابات ہیں:
۱۔ دفاع سے مراد دفاع امت ہو نہ کہ دفاع ریاست؛
۲۔ مظلوم مسلمانوں کو دار الاسلام کے ”شہری“ فرض کیا جائے۔
ان دونوں صورتوں میں مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ دونوں معاصر بین الاقوامی نظام کے بنیادی تصورات سے متصادم ہیں۔ معاصر بین الاقوامی نظام، جیسا کہ حصۂ اول میں واضح کیا جاچکا ہے، کی بنیاد ”قومی ریاست“ (Nation-state) کے تصور پر ہے۔ اس تصور کے مطابق ”قوم“کو ”ریاست“ کا مترادف سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے کسی قوم کے افراد وہی ہوتے ہیں جو اس ریاست کے ”شہری“ ہوتے ہیں۔ چنانچہ مثال کے طور پر میانمر کے مسلمان باشندوں کو پاکستانی قوم کے افراد نہیں کہا جاسکتا کیونکہ وہ پاکستان کے شہری نہیں ہیں۔ اس لیے ان پر مظالم کی صورت میں پاکستان یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کے شہریوں یا اس کی قوم کے افراد پر ظلم ہورہا ہے اس لیے اسے دفاع کا حق حاصل ہے۔ قومیت اور شہریت کا یہ تصور امت کے تصور سے واضح طور پر متصادم اور متعارض ہے۔

تاہم مسئلہ صرف معاصر بین الاقوامی قانون کے ساتھ نہیں ہے بلکہ دار الاسلام سے باہر مقیم مسلمانوں کو دار الاسلام کے شہری فرض کرنے سے کچھ مسائل اسلامی قانون کی رو سے بھی پیدا ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ ہم باب دوم میں ذکر کرچکے ہیں کہ دار الاسلام کے تصور کی بنیاد امت یا ملت کے تصور پر نہیں تھی اور دار الاسلام سے باہر مقیم مسلمانوں کی قانونی پوزیشن دار الاسلام میں مقیم مسلمانوں کی قانونی پوزیشن سے مختلف تھی، بلکہ بعض اوقات اسلامی قانون کی رو سے دار الاسلام میں مقیم غیر مسلم (ذمی یا مستامن) کی قانونی پوزیشن دار الاسلام سے باہر مقیم مسلمان کی پوزیشن سے بہتر ہوتی تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دار الاسلام کے اندر مقیم تمام لوگوں کو، خواہ وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم ِ کسی نہ کسی درجے میں قانونی تحفظ عصمت حاصل ہوتی تھی جو کہ دار الاسلام سے باہر مقیم لوگوں کو حاصل نہیں ہوتی تھی خواہ وہ مسلمان ہوں۔

یہ صحیح ہے کہ اگر غیر مسلم دار الاسلام میں داخلہ یا اقامت چاہتا تو ضروری تھا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ عقد ذمہ یا عقد امان کرے اور یہ شرط مسلمان کے لیے نہیں تھی۔ کوئی بھی مسلمان کسی بھی وقت دار الاسلام میں داخل ہوسکتا تھا اور وہ چاہتا تو وہاں مستقل اقامت اختیار کرسکتا تھا۔ اسی طرح غیر مسلم اگر عارضی قیام کے لیے آتا اور صرف عقد امان کرتا تو اسے قانونی عصمت تو حاصل ہوجاتی لیکن وہ مسلمان یا ذمی کے برابر نہیں ہوتی تھی۔ چنانچہ اگر مسلمان ذمی کا قتل کرتا تو اس سے قصاص لیا جاتا لیکن مستامن کے قتل پر اسے قصاص کی سزا نہیں دی جاسکتی تھی اگر چہ دیت کی ادائیگی اس پر لازم ہوتی تھی۔ دوسری طرف قانونی فرائض کا بھی یہی مسئلہ تھا۔ ذمی پر اسلامی قانون کا وہ پورا حصہ لاگو ہوتا تھا جسے اب ”پبلک لا“ کہا جاتا ہے، جبکہ مستامن پر بعض خصوصی قوانین لاگو نہیں ہوتے تھے۔ مثال کے طور پر اسے حد کی سزا نہیں دی جاسکتی تھی۔ اس کے برعکس مسلمان جیسے ہی دار الاسلام میں داخل ہوتا اسے پوری قانونی عصمت حاصل ہوجاتی اور اس پر پورے اسلامی قانون کا اطلاق ہوتا تھا۔ گویا اس کی قانونی پوزیشن بالکل وہی ہوجاتی تھی جو دار الاسلام کے مستقل اقامت پذیر مسلمان کی ہوتی تھی۔

تاہم، جیسا کہ باب دوم میں تفصیل سے ذکر کیا گیا، دار الاسلام سے باہر ان کی قانونی پوزیشن مختلف ہوتی تھی اور ان کے حقوق اور فرائض میں فرق ہوتا تھا۔ چنانچہ دار الاسلام سے باہر کسی مسلمانوں پر ہونے والی زیادتی کی تلافی کے لیے دار الاسلام کی عدالتوں کی طرف رجوع نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس کے باوجود اگر وہ دار الاسلام کے مسلمانوں کی مدد مانگتے تو ان پر ان کی مدد لازم ہوجاتی تھی۔ اس حکم کی بنیاد کیا تھی؟ جیسا کہ ثابت کیا گیا، ان کو دار الاسلام کے ”شہری“ تو نہیں قرار دیا جاسکتا تھا۔ پس صرف ایک ہی امکان باقی رہا اور وہ یہ کہ ان کی مدد کی بنیاد یہ تھی کہ ان پر حملے کو پوری مسلم امت پر حملہ فرض کیا جاتا تھا۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ امت کایہ تصور معاصر بین الاقوامی نظام کی بنیاد وں سے ہی متصادم ہے۔ چنانچہ اگر عراق پر حملہ ہو تو اسے پاکستان پر حملہ نہیں قرار دیا جاسکتا اور اسی لیے پاکستان کے مسلمان حق دفاع کا دعوی نہیں کرسکتے۔ امت اب پچاس سے زائد ریاستوں میں بٹ گئی ہے۔ موجودہ حالات میں فریضۂ دفاع کی ادائیگی کیسے ہوگی؟

یہ بھی پڑھیں:   اسرائیل کا گریٹر پلان کیا ہے؟ نعمان بخاری

ایک حل اس مسئلے کا یہ ہے کہ مسلمان ریاستیں آپس میں دفاعی معاہدات کرلیں اور یوں ان میں کسی ایک پر حملہ سب پر حملہ متصور ہو۔ جیسا کہ باب پنجم میں واضح کیا گیا، اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ ۱۵ کے تحت اس انتظام کی گنجائش ہے اور”معاہدۂ شمالی اوقیانوس کی تنظیم“ (NATO) اس انتظام کی کامیابی کی سب سے واضح دلیل ہے۔ فقہاء نے صراحت کی ہے کہ حملے کی زد میں آئے ہوئے علاقے کے لوگ اگر حملے کے خلاف دفاع نہ کرسکتے ہوں تو ان کے مجاور علاقوں پر یہ فریضہ عائد ہوگا۔ پھر اگر وہ بھی دفاع کی اہلیت نہ رکھتے ہوں یا وہ فریضے کی ادائیگی میں کوتاہی کریں تو ان کے بعد کے علاقوں پر فریضہ عائد ہوگا،یہاں تک کہ یہ فریضہ دنیا کے تمام مسلمانوں پر عائد ہوجائے گا۔تاہم ”اجتماعی حق دفاع“ (Collective Self-defense) کے طریق کار کا فائدہ صرف ”ریاستیں“ ہی اٹھاسکتی ہیں، جبکہ امت مسلمہ صرف مسلم ریاستوں تک ہی محدود نہیں، بلکہ کئی ریاستوں میں مسلمان بطور اقلیت رہ رہے ہیں۔ ان ریاستوں میں اگر مسلمان ظلم کا شکار ہوں تو ان کی مدد کیسے کی جائے گی؟ کیا عصر حاضر میں غیر مسلم ریاستوں میں مقیم مسلم اقلیت کی مدد کے لیے ”انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مداخلت“ (Humanitarian Intervention) کے تصور کو بنیاد بنایا جاسکتا ہے؟

تاہم جیسا کہ باب پنجم میں واضح کیا گیا، جب اس قسم کی کاروائی سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر کی جائے تو اس کا جواز مشتبہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی ریاست نے بھی اس قسم کی کاروائی میں تنہا ”انسانی ہمدردی“ کو ہی بنیاد نہیں بنایا بلکہ دیگر جواز بھی ساتھ ساتھ فراہم کرنے کی کوشش کی۔ لہٰذا اگر مسلمان ممالک دفاع کے اسلامی تصور کو عصر حاضر میں عملی شکل دینا چاہتے ہیں تو ان پر لازم ہے کہ ایک طرف تمام اسلامی ممالک آپس میں دفاعی معاہدات کریں، تاکہ ایک پر حملہ سب پر حملہ متصور ہو۔ دوسری طرف ان پر لازم ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر مشترکہ موقف اپنا کر مؤثر انداز میں آواز بلند کریں اور بالخصوص ”امن کے لیے متحد ہونے“ (Uniting for Peace) کے طریق کار کو مؤثر بنائیں۔ نیز مشترکہ دفاعی معاہدات کے بعد وہ سلامتی کونسل میں مستقل نشست بھی حاصل کرسکتے ہیں،جس پر وہ امت مسلمہ کی نمائندگی کے لیے مختلف ممالک کو باری باری موقع دیں۔ اگر مسلم ممالک بدستور اپنے اپنے مفادات کے حصول کے لیے تنہا کوشش کرتے رہیں گے تو امت مسلمہ کے دفاع کا فریضہ کبھی ادا نہیں ہوسکے گا۔

فصل چہارم: فریضۂ دفاع اور مسلم ریاستیں
جیسا کہ واضح کیا گیادفاع نہ صرف ایک فطری حق ہے بلکہ شرعی فریضہ بھی ہے۔ ایک مسلمان گروہ پر حملہ پوری امت مسلمہ پر حملہ تصور ہوگا اور سب پردفاع کا فریضہ عائد ہوگا۔فقہاء نے صراحت کی ہے کہ حملے کی زد میں آئے ہوئے علاقے کے لوگ اگر حملے کے خلاف دفاع نہ کرسکتے ہوں تو ان کے مجاور علاقوں پر یہ فریضہ عائد ہوگا۔ پھر اگر وہ بھی دفاع کی اہلیت نہ رکھتے ہوں یا وہ فریضے کی ادائیگی میں کوتاہی کریں تو ان کے بعد کے علاقوں پر فریضہ عائد ہوگا، یہاں تک کہ یہ فریضہ دنیا کے تمام مسلمانوں پر عائد ہوجائے گا۔
ان الجھاد اذا جاء النفیر انما یصیر فرض عین علی من یقرب من العدو۔ فأما من ورائھم ببعد من العدو فھو فرض کفاےۃ علیھم حتی یسعھم ترکہ اذا لم یحتج الیھم۔ فان احتیج الیھم بأن عجز من کان یقرب من العدو عن المقاومۃ مع العدو، أو لم یعجزوا عنھا لکنھم تکاسلوا و لم یجاھدوا، فانہ یفترض علی من یلیھم فرض عین کالصلوٰۃ و الصوم لا یسعھم ترکہ ثم و ثم الی أن یفترض علی جمیع أھل الاسلام شرقاً و غرباً علی ھذا التدریج۔ نظیرہ الصلوٰۃ علی المیت، ان کان الذی یبعد من المیت یعلم أن أھل محلتہ یضیعون حقوقہ أو یعجزون عنہ کان علیہ أن یقوم بحقوقہ، کذا ھنا۔
(نفیر عام کی صورت میں جہاد ہر اس شخص پر فرض عین ہو جاتا ہے جو دشمن سے قریب تر ہو۔ اور جو دشمن سے دور ہوں تو ان کے لیے یہ اس وقت تک فرض کفایہ ہوتا ہے جب تک جنگ میں ان کی شرکت کی ضرورت نہیں ہوتی اور اس وجہ سے ان کے لیے اس جنگ سے الگ رہنے کا موقع ہو۔پس اگر اس وجہ سے ان کی ضرورت پڑے کہ دشمن کے قریب کے لوگ کمزور ہیں یا کمزور نہیں ہیں مگر دفاع میں کوتاہی کررہے ہیں تو ان کے بعد ّنے والوں پر یہ نماز اور روزے کی طرح فرض عین ہو جا تا ہے جس کا تک کرنا ان کے لیے جائز نہیں ہوگا۔ اسی طرح دوسروں کی باری آئے گی یہاں تک کہ بتدریج شرقا و غربا تمام اہل اسلام پر یہ فرض عین ہوجاتا ہے۔ اس کی مثال میت کی نماز جنازہ کی ہے۔ اگر میت سے دور رہنے والا جانتا ہو کہ اس کے پڑوس کے لوگ اس کے حقوق ضائع کریں گے یا وہ ان کی ادائیگی سے عاجز ہیں تو اس پر فرض عین ہوجاتا ہے کہ اس کے حقوق ادا کرے۔ بعینہ اسی طرح اس صورت میں بھی ہوگا۔)

گویا اسلامی ملک پر حملے کو کوئی مسلمان پرایا جھگڑا نہیں سمجھے گا، بلکہ دفاع کو اپنا فریضہ سمجھ کر ہوشیار اور بیدار رہے گا، کیونکہ کسی بھی وقت یہ امکان ہوسکتا ہے کہ یہ فریضہ اس کے حق میں فرض عین ہوجائے۔ اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اسلامی ملک پر حملے کی صورت میں پوری امت مسلمہ میں ایک ایمرجنسی کی سی کیفیت پیدا ہو۔
یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ مجاورعلاقوں پر فریضہ عائد ہونے کا سبب یہ ہے کہ دور کے علاقوں کی بہ نسبت وہ حملے کے خلاف دفاع کی زیادہ بہتر پوزیشن پر ہوتے ہیں۔ پس اگر قریب کے علاقے یہ فریضہ احسن طریقے سے نہیں نبھاسکتے یا وہ اس کی ادائیگی میں کوتاہی کریں تو دور کے علاقے اس فرض کو ادا کرنے کے لیے آگے بڑھیں۔ موجودہ دور میں جبکہ ذرائع مواصلات نے بہت ترقی کی ہے قرب و بعد کے پیمانے بہت تبدیل ہوچکے ہیں۔ اب تو شاید زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ کس مسلمان ملک کے پاس زیادہ بہتر ہتھیار پائے جاتے ہیں؟ کس ملک کی معاشی پوزیشن زیادہ مستحکم ہے؟ کونسا ملک سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے ہے۔ جو جتنی زیادہ اہلیت رکھے گا اس پر فریضہ دوسرے کی بہ نسبت زیادہ جلدی عائد ہوگا۔ اس لحاظ سے یہ عین ممکن ہے کہ مجاور ملک کی بہ نسبت ایک دور دراز کے ملک،جس کے پاس ایٹمی ہتھیار بھی ہوں اور وہ ٹیکنالوجی کے لحاظ سے بھی آگے ہو،پر دفاع کا فریضہ جلدی عائد ہو۔ یہاں ایک بار پھر اس امر کی طرف توجہ ہو کہ دفاع کا فریضہ عام حالات میں فرض کفائی ہے جو بعض اوقات فرض عین بھی بن جاتا ہے۔ اس لیے ہر مسلمان ملک اور ہر مسلمان فرد کو خود غور کرکے فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا اس کے حق میں اس کی حیثیت فرض کفائی کی ہے یا یہ اس کے حق میں فرض عین کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔

اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دفاع کا فریضہ احسن طریقے سے ادا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان ممالک کے درمیان باہمی رابطے بہتر ہوں اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ دفاعی اور معاشی بندھنوں میں بندھ جائیں۔ اس سلسلے میں یورپی یونین اور معاہدۂ شمالی اوقیانوس کی تنظیم (نیٹو)کے تجربات سے بہت کچھ دروس و عبر حاصل ہوسکتے ہیں۔ نیٹو ممالک نے آپس میں دفاعی معاہدہ کرکے ”اجتماعی دفاع“ کے تصور کو ایک بہترین عملی شکل دے دی ہے۔ ایک ممبر ملک پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوتا ہے اور سب مل کر حملہ آوروں کے خلاف کاروائی کرتے ہیں۔ اس طریق کار کو بین الاقوامی قانون نے بھی صحیح تسلیم کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ ۱۵ نے مختلف ممالک کے اجتماعی حق دفاع کو سند جواز دی ہے۔ بین الاقوامی عدالت انصاف نے بھی اس طریق کار کو جائز ٹھہرایا ہے۔اس اجتماعی حق دفاع کے متعلق ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں قرب و بعد کی بات کو نظر انداز کردیاگیا ہے۔ کوئی سے دو یا زائد ممالک، جو مشترکہ مفاد رکھتے ہوں، آپس میں دفاعی معاہدہ کرکے اجتماعی حق دفاع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان بحر شمالی اوقیانوس حائل ہے لیکن اس کے باوجود وہ اس طریق کار سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

امت مسلمہ کے اجتماعی حق دفاع کے متعلق البتہ یہاں یہ بات واضح ہو کہ اس کی بنیاد کسی دفاعی معاہدے پر نہیں، بلکہ امت کے تصور پر ہے اور یہ امت پر اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے عائد کردہ فریضہ ہے۔ اس لیے اگر دو اسلامی ممالک میں دفاعی معاہدہ نہ بھی ہو تو ان پر لازم ہوگا کہ وہ ایک دوسرے کی مدد کریں۔ تاہم موجودہ بین الاقوامی نظام اور قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر مسلمان ممالک آپس میں دفاعی معاہدات بھی کرلیں تو وہ بہت سی پیچیدگیوں سے بچیں گے۔

فصل پنجم: فریضۂ دفاع اور افراد امت
جیسا کہ اوپر واضح کیاگیا، امت کے ہر خطے اور ہر فرد کا دفاع ایک فرض کفائی ہے جو بعض اوقات فرض عین بن جاتا ہے۔ فرض عین ہوجانے کی صورت میں اذن والدین یا اذن امام کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ تاہم دفاع کی صورت میں بھی افراد کی اولین کوشش یہی ہونی چاہیے کہ اسے حکومت کے ماتحت رہ کر ادا کیا جائے۔ اگر حکومت اپنا فریضہ ادا نہیں کرتی تو اسے اس پر مجبور کرنا چاہیے۔ بلکہ دفاع کے فریضے میں کوتاہی برتنے والی حکومت اپنا جواز ہی کھو بیٹھتی ہے۔ حکومت اور ریاست شریعت پر بہتر طریقے سے عمل کرنے کے لیے وجود میں لائی جاتی ہیں، ورنہ وہ خود مقصود بالذات نہیں۔ اگر ریاست یا حکومت اپنا فریضہ ادا کرنے پر تیار نہ ہو اور حکومت کی تبدیلی بھی بہت دور کی بات لگتی ہو جبکہ دفاع کا فریضہ فوری طور پر ادائیگی کا متقاضی ہو تو اس صورت میں اذن امام کی شرط ساقط ہوجاتی ہے۔فقہاء نے صراحت کی ہے:
أما اذا عم النفیر بأن ھجم العدو علی بلد فھو فرض عین یفترض علی کل واحد من آحاد المسلمین ممن ھو قادر علیہ ۔۔۔ فاذا عم النفیر لا یتحقق القیام بہ الا بالکل، فبقی فرضاً علی الکل عیناً بمنزلۃ الصوم و الصلوٰۃ۔ فیخرج العبد بغیر اذن مولاہ، و المرء ۃ بغیر اذن زوجھا لأن منافع العبد و المرء ۃ فی حق العبادات المفروضۃ عیناً مستثناۃ عن ملک المولی و الزوج شرعاً، کما فی الصوم و الصلوٰۃ۔ و کذا یباح للولد أن یخرج بغیر اذن الوالدین، لأن حق الوالدین لا یظھر فی فروض الأعیان کالصوم و الصلوٰۃ۔
(البتہ جب نفیر عام کی صورت ہو، مثلاً جب دشمن کسی علاقے پر حملہ کردے توجہاد فرض عین کی صورت میں ہرمسلمان فرد پر، جو اس کی مقدرت رکھتا ہو، لازم ہوجاتا ہے۔ پس نفیر عام کی صورت میں، جبکہ سب کے حصہ لیے بغیر فرض کی ادائیگی نہیں ہوسکتی، جہاد ہر فرد پر نماز اور روزے کی طرح فرض عین ہوجاتا ہے۔پس ایسی صورت میں غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر اور عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر فرض کی ادائیگی کے لیے نکلے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فروض اعیان کی صورت میں آقا اور شوہر کی ملکیت سے غلام اور بیوی کے منافع مستثنیٰ ہوتے ہیں، جیسے نماز اور روزے کا معاملہ ہے۔ اسی طرح بیٹے کو نکلنا ہوگا خواہ اس کے والدین نے اجازت نہ دی ہو کیونکہ والدین کی اجازت فروض اعیان کی صورت میں مؤثر نہیں ہوتی، جیسے نماز اور روزے کے متعلق حکم ہے۔)

جو مسلمان حملے کی زد میں آئے ہوئے ہوں وہ، جیسا کہ پیچھے واضح کیاگیا، کسی امیر کی اطاعت میں ہی کاروائی کریں گے۔ ایسی صورت میں ان کی مدد کے لیے جانے والے بھی اس ریاست کے حکمران یا امیر جہاد کی اطاعت میں دفاع کا فریضہ ادا کریں گے۔

فصل ششم: اعانت کی حدود
جہاں تک ایسی صورت میں اعانت کی حدود کا معاملہ ہے تو وہ حالات پر منحصر ہے۔ بعض اوقات محض اخلاقی مدد (مثلاً حملے کو ناجائز قرار دینا، حملے کی زد میں آئے ہوئے لوگوں کو مظلوم قرار دینا، دفاع کا فریضہ ادا کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کرنا وغیرہ) بھی کافی ہوتا ہے اور بعض اوقات اس کے ساتھ ساتھ سیاسی اور سفارتی مدد (جیسے بین الاقوامی رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کرنا، حملہ آوروں پر سیاسی دباؤ ڈالنا، اسے بین الاقوامی برادری میں تنہا کرنا وغیرہ) بھی ضروری ہوتا ہے اور اس کے بغیر محض اخلاقی مدد سے کام نہیں چلتا۔ تاہم بعض حالات میں سفارتی اور سیاسی مدد بھی کافی نہیں ہوتی، بلکہ عملی مدد (جیسے مظلوموں تک ادویات کی رسائی، مہاجرین کی آباد کاری کے لیے کوشش کرنا، مزاحمت کرنے والوں کی مالی امداد، انہیں پناہ گاہیں فراہم کرنا وغیرہ) بھی لازم ہوجاتی ہے۔ اور بعض صورتوں میں باقاعدہ جنگ میں شرکت بھی ضروری ہوجاتی ہے۔ مختصراً یہ کہ مدد کی حیثیت فرض کفائی کی ہو جاتی ہے۔ مدد کی مختلف صورتوں کو ضرورت کے مطابق اختیار کیاجائے گا۔ رہنما اصول اس سلسلے میں یہ ہے کہ کسی طور حملہ آوروں کو بلاد اسلام سے واپس دھکیلنا اور بلاد اسلام میں امن کی فضا بحال کرنا ہے، اس کے لیے جو اقدام ضروری ہو وہ اٹھایاجائے گا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بعض اشخاص پر مدد کی ایک صورت لازم ہو اور بعض پر کوئی دوسری۔ البتہ یہاں پھر یہ بات واضح کرناضروری ہے کہ اگر حملے کا جواب بغیر فوجی مدد کے ممکن نہ ہو تو محض اخلاقی یا سفارتی بلکہ مالی مدد سے بھی اعانت کا فرض ادا نہیں ہوگا۔ قرآن کے الفاظ اس معاملے میں بالکل واضح ہیں کہ مظلوموں کی مدد کے لیے فوجی طاقت استعمال کرنا بعض اوقات واجب ہوجاتا ہے اور یہ واجب صرف فوجی اعانت سے ہی ادا ہوتا ہے۔
وَمَا لَکُمْ لاَ تُقَاتِلُونَ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ ہَ ذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ أَہْلُہَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنکَ وَلِیّاً وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنکَ نَصِیْراً (سورۃ النساء، آیت ۵۷)
(تمہیں ہوا کیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑرہے جو کمزور پاکر دبالیے گئے ہیں اور فریاد کررہے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور اپنی جانب سے ہما را کوئی حامی اور مددگار پیدا کردے۔ )

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں