روہنگیا مظلومین کی فوجی مدد سے قبل - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کئی احباب "انسانی ہمدردی" کی بنیاد پر یا مسلمانوں کے "حقِ دفاع" کے تحت ان مظلومین کی مدد کے لیے پاکستان یا مسلم ممالک کے اتحاد کی جانب سے حملے کی بات کر رہے ہیں۔ پوسٹس کی پچھلی سیریز میں اس ضمن میں اسلامی شریعت کے اہم مباحث کا خلاصہ پیش کیا گیا۔ یہاں بین الاقوامی قانون کے بعض متعلقہ اہم مباحث کا خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد ہی ہم اس مسئلے پر براہِ راست بحث کرسکیں گے۔ و باللہ التوفیق۔
(نوٹ: یہ مباحث میری کتاب "جہاد ، مزاحمت اور بغاوت اسلامی شریعت اور بین الاقوامی قانون کی روشنی میں " کے تیسرے ایڈیشن کے بابِ پنجم سے لیے گئے ہیں۔)

------------------------------------
باب پنجم: بین الاقوامی قانون میں جنگ کا جواز
------------------------------------
بین الاقوامی قانون اس وقت جس صورت میں پایا جاتا ہے، اس کا ارتقا مغرب میں ایک مخصوص تاریخی پس منظر میں چند مخصوص تاریخی اسباب کے تحت ہوا جس پر حصۂ اول کے باب چہارم میں مختصر گفتگو کی جاچکی ہے۔ اس باب میں ہم جنگ کے جواز اور عدم جواز سے متعلق اس قانون کے مختلف ارتقائی مراحل کا مختصر جائزہ لیں گے۔ اس کے بعد عصر حاضر میں جنگ کی جائز قانونی صورتوں پر بحث کریں گے۔

------------------------------------
فصل اول: جنگ کے جواز و عدم جواز کے متعلق قانون کا ارتقاء
------------------------------------
مسیحی مذہب کی جس طرح تشریح پولس (م 64ء) اور ان کے ساتھیوں نے کی اس کی رو سے ظلم کے خلاف طاقت کا استعمال ناجائز تھا۔ چنانچہ ابتدائی کئی صدیوں تک اکثر مسیحی علماء حق دفاع شخصی کے بھی منکر رہے۔ تاہم جب چوتھی صدی عیسوی میں رومی بادشاہ قسطنطین نے مسیحیت قبول کی اور مسیحیت کو رومی سلطنت کے سرکاری مذہب کی حیثیت حاصل ہوگئی تو پھر جنگ کے جواز کے لیے ایک نئے نظریے کی ضرورت محسوس کی جانے لگی کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ اتنی بڑی سلطنت طاقت کے استعمال کے بغیر قائم رہ سکے۔ تاریخ کے اس اہم موڑ پر مسیحی عالم سینٹ آگسٹائن (م 430ء) نے آگے بڑھ کر ”منصفانہ جنگ“ (Just War) کا نظریہ دیا۔ اس نظریے کے تحت فرد کے لیے طاقت کا استعمال بدستور ناجائز اور ناپسندیدہ رہا لیکن ”خدائی سلطنت“ (City of God) کے دفاع کے لیے طاقت کا استعمال جائز قرار دیا گیا اگر اس کے پاس جنگ کا منصفانہ جواز (Just Cause) ہو۔ منصفانہ جواز میں دو باتیں شامل تھیں: اگر سلطنت کے کسی حق کی ادائیگی کا انکار کیا گیا؛ یا اگر سلطنت کے خلاف کوئی ناجائز اقدام کیا گیا۔ مزید برآں، اس نظریے کے تحت قرار دیا گیا کہ جو جنگ مذہبی بنیادوں پر بت پرستوں اور ”بدعتیوں“ کے خلاف لڑی جائے وہ بہر حال منصفانہ جنگ ہے۔ جنگ کی اس مؤخر الذکر نوعیت کو قرون وسطی میں ”مقدس جنگ“ (Holy War) کا نام دیا گیا۔

منصفانہ جنگ کے اس نظریے نے کئی صدیوں تک مغرب میں ماہرین قانون اور فلسفیوں کے ذہنوں پر اپنی گرفت قائم رکھی۔ تحریک اصلاح مذہب اور نشاۃ ثانیہ کے نتیجے میں جب روم کی مقدس بادشاہت کا خاتمہ ہوا اور چھوٹی چھوٹی خود مختار قومی ریاستیں (Nation-states) وجود میں آگئیں تو اس نظریے میں کسی حد تک ترمیم کی گئی۔ ہوگو گروتیس (م 1645ء) نے اس موقع پر اس نظریے کی ترمیمی شکل پیش کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس ترمیم شدہ نظریے کے مطابق طے پایا کہ ”اگر قومی ریاست یہ سمجھے“کہ اس کے پاس جنگ کا منصفانہ جواز ہے تو وہ جنگ شروع کرسکتی ہے۔ گویا منصفانہ جواز کا ثابت کرنا بدستور ضروری رہا لیکن اس کے تعین کا کام ریاست نے لیا۔ بہ الفاظ دیگر، اہمیت منصفانہ جواز کے بجائے ریاست کے اختیار کی ہوگئی۔

اٹھارویں اور انیسیوں صدیوں میں جب ریاست کے لیے اقتدار اعلیٰ (Sovereignty) کا نظریہ مان لیا گیا تو پھر اس کے لازمی نتیجے کے طور پر یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ جنگ شروع کرنے کے لیے کسی جواز کی ضرورت نہیں ہے۔ ریاست جب چاہے جنگ شروع کرسکتی ہے۔ قانونی طور پر جنگ شروع کرنے کے اختیار کو ریاست کے اقتدار اعلی کا حق (Sovereign Right of States) تسلیم کیا گیا۔ تاہم اس قانونی جواز کے باوجود ریاستیں طاقت کے استعمال کے لیے بالعموم کچھ نہ کچھ جواز پیش کرتی رہیں۔ مثال کے طور پر کبھی یہ کہا گیا کہ کسی دوسری ریاست میں میرے شہریوں کی جان و مال کو خطرہ لاحق تھا اور وہ ریاست ان کی حفاظت کرنے کی اہل نہیں تھی یا وہ ان کی حفاظت نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے ان کی حفاظت کے لیے حملہ ضروری ہوگیا۔ اسی طرح کبھی یہ جواز پیش کیا گیا کہ ہم نے جنگ اس وجہ سے شروع کی ہے کہ فریق مخالف نے ہمارے خلاف ایک مجرمانہ اقدام کیا تھا اور یہ اس کا بدلہ ہوا۔ وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح جنگ کے عمومی جواز کے باوجود ”جائز جنگ“ کی مختلف صورتیں بتدریج مان لی گئیں۔ اس کے علاوہ بعض اوقات جنگ کے قانونی اثرات سے بچنے کے لیے یہ موقف اختیار کیا جاتا رہا کہ اگر چہ دوسری ریاست کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا لیکن یہ باقاعدہ جنگ نہیں ہے۔ اس طرح ”جنگ سے کم تر طاقت“ (Force Short of War) کا تصور بھی وضع کیا گیا۔

پہلی جنگ عظیم (1914ء-1918ء) تک قانونی پوزیشن یہی رہی۔ جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد جب مجلس اقوام (League of Nations) کی تشکیل کی گئی تو اس کے منشور کے تحت اگر چہ جنگ کو ناجائز نہیں کیا گیا لیکن ریاستوں کے ”اختیار“ پر کچھ قدغن لگادیے گئے۔ چنانچہ ریاستوں پر لازم کیا گیا کہ وہ پہلے تنازعے کے حل کے لیے پر امن ذرائع اختیار کریں اور اس مقصد کے لیے اپنے تنازعات مجلس اقوام کے سلامتی کونسل کے سامنے پیش کریں۔ اگر سلامتی کونسل تنازعے کو حل نہ کرپاتی تو پھر متاثرہ ریاست کو اختیار تھا کہ وہ طاقت کے استعمال کے ذریعے اپنے حق کے حصول کی کوشش کرتی۔

1928ء میں امریکہ اور فرانس کے درمیان ایک معاہدہ ہوا اور بعد میں دیگر ریاستیں بھی اس میں شامل ہوگئیں۔ اس ”معاہدۂ پیرس“ کے تحت طے پایا کہ جنگ کے ذریعے تنازعات کے حل کی کوشش ناجائز ہے۔ اس طرح جدید مغرب کی تاریخ میں پہلی دفعہ جنگ کو ناجائز قرار دیا گیا۔ اس معاہدے میں ریاستوں کے ”حق دفاع“ کے متعلق کچھ نہیں کہا گیا تھا اور غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ حق دفاع کے تحت جنگ کا جواز مسلم تھا۔ اسی طرح ”جنگ سے کم تر طاقت“ کے متعلق بھی یہ معاہدہ خاموش ہے۔ بین الاقوامی قانون کے ماہرین کا اس امر میں اختلاف ہے کہ یہ اس نوعیت کی طاقت کا استعمال بھی ممنوع ہوگیا تھا یا نہیں لیکن معاہدے کی شقوں اور ریاستوں کے طرز عمل کا جائزہ لینے سے راجح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ اس معاہدے نے جنگ سے کم تر طاقت کو ناجائز نہیں کیا۔

دوسری جنگ عظیم کے شروع ہونے کے وقت 1939ء) میں قانونی پوزیشن یہی تھی۔ اس جنگ کے بعد اقوام متحدہ کی تنظیم کی تشکیل کی گئی جس کے منشور کے تحت نہ صرف جنگ پر پابندی لگائی گئی بلکہ طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی کو بھی ناجائز قرار دیا گیا۔ چنانچہ منشور میں قرار دیا گیا ہے:
All members shall refrain in their international relations from the threat or use of force against the territorial integrity or political independence of any state, or in any other manner inconsistent with the purposes of the United Nations.
( تمام رکن ریاستوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے بین الاقوامی تعلقات میں دوسری ریاستوں کی علاقائی سا لمیت یا سیاسی خودمختاری کے خلاف یا اقوام متحدہ کے مقاصد سے متصادم کسی طریقے سے طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے گریز کریں۔ )

چونکہ دنیا کی تقریباً تمام ریاستوں نے اقوام متحدہ کے منشور پر دستخط کیے ہیں اس لیے اس اصول کو قانونی حیثیت حاصل ہوگئی ہے، بلکہ عالمی عدالت انصاف نے یہاں تک قرار دیا ہے کہ طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی کا عدم جواز اب بین الاقوامی عرف کا بھی حصہ بن چکا ہے۔ پس اگر کسی ریاست نے اقوام متحدہ کے منشور پر دستخط نہ بھی کیے ہوں تو وہ اس اصول کی پابند ہوگئی ہے کیونکہ عرف کی پابندی تمام ریاستوں پر لازم ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اقوام متحدہ کے منشور نے منشور سے قبل کے قانون کو منسوخ یا تبدیل کردیا ہے۔ تاہم بعض ریاستوں اور بعض ماہرین قانون کی رائے یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے منشور سے قبل کا قانون اب بھی نافذ العمل ہے۔ یہ اہم قانونی مسئلہ کچھ تفصیلی بحث کا متقاضی ہے۔

فصل دوم: طاقت کے استعمال پر عمومی پابندی؟
------------------------------------
اقوام متحدہ کے منشور میں طاقت کے استعمال کی دو جائز صورتیں ذکر کی گئی ہیں اور دونوں منشور کے باب ہفتم میں مذکور ہیں:
۱۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی نگرانی میں کسی جارح ریاست کے خلاف طاقت کا اجتماعی استعمال (Collective Use of Force)؛ اور
۲۔ جس ریاست کے خلاف جارحیت کا ارتکاب ہو اس کا حق دفاع (Self-defense)۔
بیشتر ماہرین قانون کی رائے میں جائز جنگ کی یہی دو صورتیں ہیں جو منشور کے تحت ذکر کی گئی ہیں۔ باقی تمام صورتوں میں جنگ ناجائز ہوگئی ہے۔
اس کے برعکس جن لوگوں کی رائے یہ ہے قبل از منشور قانون اب بھی کسی نہ کسی حد تک نافذ العمل ہے اور وہ کلیتاً منسوخ نہیں ہوا ان کی ایک دلیل یہ ہے کہ منشور نے صراحتاً پچھلے قانون کو منسوخ نہیں کیا ہے اس لیے محض استدلال سے اس کے نسخ کو ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ ایک دوسری دلیل یہ دی جاتی ہے کہ دفعہ ۲ ذیلی دفعہ ۴ میں صرف طاقت کے استعمال کی چند مخصوص صورتوں پر پابندی لگائی گئی ہے، یعنی:
۱۔ اگر یہ کسی ریاست کی علاقائی سا لمیت کے خلاف ہو؛ یا
۲۔ یہ کسی ریاست کی سیاسی خود مختاری کے خلاف ہو؛ یا
۳۔ یہ اقوام متحدہ کے مقاصد سے متصادم ہو۔
پس اگر طاقت کا استعمال اس طرح ہو کہ اس سے ان تین شرائط کی خلاف ورزی نہ ہوتی ہو تو طاقت کا وہ استعمال ناجائز نہیں ہوگا۔

یہ بحث ماہرین قانون کے حلقوں تک ہی محدود رہی اور ریاستوں نے بالعموم اس پابندی کو عمومی پابندی کے طور پر قبول کیا۔ تاہم وہ حق دفاع کی تشریح اس طرح کرتی رہیں کہ اس کے تحت بہت کچھ آجاتا تھا، جیسا کہ آگے ہم ذکر کریں گے۔ 1976ء میں پہلی دفعہ ریاست اسرائیل نے ریاستی سطح پر یہ موقف اختیار کیا کہ منشور کی یہ پابندی عمومی نہیں ہے اور اگر کسی ریاست کے خلاف طاقت کا استعمال اس طرح ہو کہ اس کی علاقائی سا لمیت کو نقصان نہ پہنچے نہ ہی اس کی سیاسی خود مختاری متاثر ہو تو طاقت کے اس استعمال کو دفعہ ۲ ذیلی دفعہ ۴ کی خلاف ورزی نہیں کہا جاسکتا۔ اسرائیل کے اس موقف کے مطابق ”علاقائی سا لمیت کو نقصان نہ پہنچنے“ سے مراد یہ ہے کہ ریاست کے کسی حصے پر قبضہ نہ کیا جائے اور ”سیاسی خود مختاری متاثر نہ ہونے“ سے مراد یہ ہے کہ اس ریاست کی حکومت ہر طرح کا اقدام کرنے کے لیے آزاد ہو۔ یہ بحث اس پس منظر میں شروع ہوئی کہ بعض فلسطینی ہائی جیکروں نے ایک اسرائیلی طیارہ اغوا کرکے اسے یوگنڈا میں اتار دیا تھا۔ اسرائیلی کمانڈوز نے مشہور آپریشن Swift Surgical Strike کرتے ہوئے یوگنڈا کے ائیر پورٹ پر حملہ کرکے ڈیڑھ گھنٹے کے اندر ہائی جیکرز کو ہلاک کیا اور طیارہ واپس اسرائیل لے گئے۔ اسرائیل کا موقف یہ تھا کہ یہ اس کا حق دفاع تھا کیونکہ دوسری ریاست میں اس کے شہریوں کی جانوں کا خطرہ لاحق تھا اور وہ ریاست ان کی حفاظت سے قاصر یا انکاری تھی اس لیے اسرائیل نے ازخود کاروائی کرکے اپنے شہریوں کو بچالیا اور اس کے لیے اس ریاست پر قبضہ نہیں کیا، نیز اس ریاست کو ہر قسم کا اقدام کرنے کی آزادی تھی۔

اس آپریشن کی مخصوص نوعیت کو دیکھتے ہوئے اکثر ریاستوں نے اسے ناجائز کہنے سے گریز کیا لیکن اسی استدلال کو استعمال کرتے ہوئے امریکا نے 1993ء میں بغداد پر حملہ کیا اور کہا کہ وہاں سابق امریکی صدر جارج بش (سینیئر) کے قتل کی سازش ہورہی تھی تو اکثر ریاستوں اور ماہرین کی رائے میں یہ اقوام متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی تھی۔

اسی طرح بعض ریاستوں اور ماہرین کی رائے یہ ہے کہ اگر کسی ریاست میں انسانوں کے ایک بڑے گروہ کا قتل عام ہورہا ہو یا ان پر مظالم ڈھائے جارہے ہوں تو ان کی مدد کے لیے کوئی دوسری ریاست مسلح کاروائی کرسکتی ہے کیونکہ یہ اقوام متحدہ کے مقاصد سے متصادم نہیں ہے بلکہ طاقت کا یہ استعمال اقوام متحدہ کے مقاصد کے حصول کے لیے بعض اوقات ضروری ہوجاتا ہے۔ اس قسم کے حملے کو ”مبنی بر انسانیت مداخلت“ (Humanitarian Intervention) کا نام دیا جاتا ہے۔ بھارت نے 1971ء میں مشرقی پاکستان میں مداخلت کے لیے جو جواز ذکر کیے تھے ان میں ایک یہ بھی تھا۔ اسی طرح 1998ء میں نیٹو نے سربیا پر جو بمباری کی اس کے لیے ایک جواز یہی ذکر کیا جاتا رہا۔ تاہم اکثر ریاستوں اور ماہرین کی رائے یہ ہے کہ اس قسم کی کاروائی اگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کرے یا اس کی اجازت سے کوئی ریاست یا تنظیم کرے تو وہ یقینا جائز ہوگی مگر کوئی ریاست یا تنظیم اپنی جانب سے اس قسم کی کاروائی نہیں کرسکتی۔ اس مسئلے پر مزید بحث آگے آرہی ہے۔

جو ماہرین اس کے قائل ہیں کہ منشور کی یہ پابندی عمومی ہے ان کی ایک اہم دلیل یہ ہے کہ قبل از منشور قانون میں زیادہ سے زیادہ جنگ کے عدم جواز کا اصول طے کیا گیا تھا اور وہ بھی منشور سے صرف 17سال قبل 1928ء میں معاہدۂ پیرس کے ذریعے۔ گویا قبل از منشور قانون کے تحت ”جنگ سے کم تر طاقت“ کا استعمال بالکل جائز تھا۔ اس کے برعکس منشور نے نہ صرف طاقت کے استعمال بلکہ اس کی دھمکی کو بھی ناجائز قرار دیا۔ پس یہ بالکل نہیں کہا جاسکتا کہ قبل ازمنشور قانون کو منشور نے تبدیل نہیں کیا۔ مزید برآں، منشور نے طاقت کے استعمال پر پابندی لگاتے ہوئے جن صفات کا ذکر کیا ہے ان کا مفہوم مخالفہ (Inverse Implication) مراد نہیں لیا جاسکتا کیونکہ اس کا لازمی مطلب یہ ہوگا کہ قبل از منشور قانون بدستور بعینہ برقرار ہے۔ اس طرح منشور میں جنگ کے بجائے ”طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی“ (Threat or Use of Force) کی جو ترکیب استعمال کی گئی ہے وہ بالکل لغو ہوجاتی ہے۔ اخیراً، سان فرانسسکو کانفرنس میں جب منشور کا آخری مسودہ لکھا جارہا تھا اس وقت اس شق پر جو بحث کی گئی اور جو اعتراضات و جوابات ذکر کیے گئے اور بالآخر یہ اس صورت میں آگئی وہ سارا ”شان نزول“اس بات کی دلیل ہے کہ مسودہ لکھنے والوں کی مراد یہی تھی کہ طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی پر عمومی پابندی ہو اور اس سے صرف وہی صورتیں مستثنی ہوں جو منشور میں صراحتاً ذکر کی جائیں۔

فصل سوم: سلامتی کونسل کی نگرانی میں طاقت کا اجتماعی استعمال
------------------------------------
طاقت کے اجتماعی استعمال کے اس نظام نے کئی جون تبدیل کیے ہیں۔ اس لیے اس پر ہم چار مختلف مراحل میں بحث کریں گے۔

اولاً: اصل نظام
دو بڑی جنگوں سے متاثرہ ریاستوں نے منشور کی تشکیل کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگر کوئی ریاست کسی دوسری ریاست کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کرے تو اقوام متحدہ کی رکن ریاستیں مل کر اس کے خلاف کاروائی کریں گی۔ اس مقصد کے لیے منشور کے باب ہفتم (دفعات ۹۳ تا ۱۵) میں نظام وضع کیا گیا اور سلامتی کونسل کو اس کاروائی کا اختیار دیا گیا۔ اس وقت سلامتی کونسل کے ارکان کی تعداد پندرہ ہوتی ہے جن میں پانچ مستقل ہیں (امریکا، روس، برطانیہ، فرانس اور چین) جبکہ دس ریاستیں دو، دو سال کے لیے سلامتی کونسل کی رکن بنتی ہیں۔ کسی بھی قرارداد پر ووٹنگ ہوتی ہے تو ہر ریاست کو ایک ووٹ کا حق دیا گیا ہے اس لیے عام حالات میں فیصلہ اکثریت کی بنیاد پر کیا جاسکتا ہے۔ تاہم تمام ارکان کو ووٹنگ کے وقت تین اختیارات حاصل ہوتے ہیں:
۱۔ یا تو وہ قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالیں؛
۲۔ یا اس کے خلاف ووٹ ڈالیں؛
۳۔ یا سرے سے ووٹ نہ ڈالیں۔

اگر مستقل ارکان میں کسی ایک نے بھی قرارداد کے خلاف ووٹ دیا تو قرارداد منظور نہیں ہوسکتی خواہ اس کے حق میں باقی چودہ ووٹ پڑے ہوں۔ اس کو ”مسترد کرنے“ (Veto) کا حق کہا جاتا ہے۔ اس کا پس منظر یہ تھا کہ بڑی طاقتوں کے درمیان تصادم سے گریز کے لیے طے کیا گیا کہ اگر ان میں سے کوئی ایک بھی کسی اقدام کا مخالف ہو تو وہ اقدام نہیں کیا جائے گا تاکہ ایک تو بڑی جنگ سے بچا جاسکے اور دوسرے مجلس اقوام کی طرح اقوام متحدہ کی تنظیم ختم نہ ہونے پائے۔ جس وقت منشور کی تشکیل کی گئی اس وقت طاقت کا تواز ن ان پانچ ریاستوں کے حق میں تھا۔ یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد فاتحین بن کر ابھرے تھے۔ تاہم پچھلے 63سالوں میں بہت کچھ تبدیل ہوچکا ہے اور پلوں کے نیچے بہت سا پانی بہہ چکا ہے۔ اب اس نظام کی تشکیل نو ضروری ہے کیونکہ اس نے دنیا کو تصادم سے بچانے کے بجائے جارح ریاستوں کو بچانے کا کام انجام دیا ہے۔

بہر حال سلامتی کونسل کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر امن اور سلامتی کے تحفظ کی کوشش کرے، یعنی ریاستوں کو جنگوں سے روکے، اور اگر کسی وجہ سے جنگ شروع ہو تو پھر سلامتی کونسل کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ امن کو بحال کرے۔ پس امن کا تحفظ اور اس کی بحالی (To Maintain and Restore International Peace) سلامتی کونسل کا بنیادی فریضہ ہے۔

اس مقصد کے لیے دفعہ 39کے تحت قرار دیا گیا کہ تین صورتوں میں سلامتی کونسل کسی ریاست کے خلاف کاروائی کرسکتی ہے:
۱۔ اگر کوئی ریاست کسی دوسری ریاست کے خلاف جارحیت (Aggression) کا ارتکاب کرے؛ یا
۲۔ اگر کوئی ریاست امن کی خلاف ورزی (Breach of the Peace) کرے؛ یا
۳۔ اگر کسی ریاست کی جانب سے امن کے لیے خطرہ (Threat to the Peace) پیدا ہوجائے۔
جیسا کہ ظاہر ہے، ابتدائی دو صورتیں ”امن کی بحالی“ کے زمرے میں آتی ہیں کیونکہ ان صورتوں میں ریاست کی جانب سے کسی ناجائز اقدام کے بعد سلامتی کونسل کاروائی کرتی ہے، جبکہ آخری صورت ”امن کے تحفظ“ کے تحت آتی ہے۔ بہ الفاظ دیگر، اس مؤخر الذکر صورت میں سلامتی کونسل کی کاروائی ”پیش بندی کے اقدام“ (Pre-emptive Strike) کے طور پر ہوتی ہے۔

جب قرارداد کے ذریعے طے کیا جائے کہ ان تین صورتوں میں کوئی صورت پائی جاتی ہے تو پھر مناسب کاروائی کے لیے بحث کے بعد ایک اور قرارداد پیش کی جاتی ہے۔ یہ کاروائی دو طرح کی ہوتی ہے:
۱۔ کبھی متعلقہ ریاست کے خلاف ”غیر فوجی سزائیں“ (Non-military Sanctions) نافذ کی جاتی ہیں، جیسے اقتصادی امداد کی بندش، اقتصادی تعلقات یا مواصلات کا انقطاع وغیرہ۔
۲۔ کبھی جب غیر فوجی سزائیں غیر مؤثر سمجھی جائیں یا سلامتی کونسل کی رائے یہ ہو کہ فوری طور پر فوجی حملے کی ضرورت ہے تو پھر فوجی کاروائی کی منظوری کے لیے قرارداد پیش کی جاتی ہے۔

اس دوران میں ضروری ہو تو بعض عبوری اقدامات (Provisional Measures) بھی اٹھائے جاسکتے ہیں۔
اگر کسی ریاست کے خلاف فوجی کاروائی ضروری ہوجائے تو ظاہر ہے کہ اس کے لیے فوج کی ضرورت ہوگی۔ اس مقصد کے لیے قرار دیا گیا تھا کہ اقوام متحدہ کی تمام رکن ریاستیں باقاعدہ معاہدے کے تحت اپنی افواج کا کچھ حصہ سلامتی کونسل کی کاروائی کے لیے مختص کریں گی اورسلامتی کونسل کی نگرانی میں یہ بین الاقوامی فوج کسی ریاست کے خلاف کاروائی کرے گی۔ ایسا کوئی معاہدہ کسی ریاست نے نہیں کیا اور اس وجہ سے ایسی بین الاقوامی فوج کبھی وجود میں نہیں آئی۔

دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے ساتھ ہی امریکا اور روس کے درمیان رسہ کشی شروع ہوگئی جو پہلے جرمنی پر کنٹرول کے مسئلے کی وجہ سے تھی اور اس کے بعد یہ ”سرد جنگ“ (Cold War) یورپ اور پھر ایشیا، افریقا سے ہوتے ہوتے مشرق بعید اور لاطینی امریکا تک پھیل گئی۔ اس وجہ سے منشور میں وضع کردہ اس نظام پر کبھی عملدرآمد نہ ہوسکا اور پھر دوسری راہیں ڈھونڈی جانے لگیں۔

ثانیاً: سرد جنگ کے دوران میں وضع کیا گیا نظام
1950ء میں کوریا کی جنگ کے دوران میں جب روس نے سلامتی کونسل کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا تو امریکا نے شمالی کوریا کے خلاف قرارداد منظور کروائی جس کے تحت طے کیا گیا تھا کہ شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کیا ہے۔ تاہم جب شمالی کوریا کے خلاف عملی اقدام کا موقع آیا تو روس نے اس وقت بائیکاٹ ختم کیا تھا اس لیے اس نے قرارداد ویٹو کردی۔ اس کے بعد امریکا نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کی جسے اس نے ”امن کے لیے متحد ہونے“ (Uniting for Peace)کی قرارداد کا نام دیا۔ اس قرارداد کے تحت طے پایا کہ جب سلامتی کونسل کی کسی رکن ریاست کے ویٹو کی وجہ سے سلامتی کونسل کسی جارح ریاست کے خلاف کاروائی نہ کرسکے تو پھر جنرل اسمبلی کاروائی کا اختیار رکھتی ہے۔ چونکہ جنرل اسمبلی میں تمام ریاستیں ووٹ کا برابر کا حق رکھتی ہیں اور کسی کو ویٹو کا اختیار حاصل نہیں اس لیے روس اور اس کے اتحادیوں کی مخالفت کے باوجود یہ قرارداد منظور کی گئی۔ اس اخلاقی جواز کے حصول کے بعد امریکا نے اپنے اتحادیوں کی مدد سے جنوبی کوریا کی مدد کے لیے شمالی کوریا پر حملہ کیا۔ دوسری طرف چین کی کمیونسٹ حکومت اور روس نے شمالی کوریا کی مدد کی۔ یہ جنگ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئی۔ چونکہ امریکا اور کے ساتھ اتحاد میں شامل ہونا کسی ریاست کے لیے قانوناً لازم نہیں تھا اس لیے اسے ”مرضی پر قائم اتحاد“ (Coalition of the Willing) کہا گیا۔

1956ء میں جب برطانیہ، فرانس اور اسرائیل نے سویز کینال پر حملہ کیا تو ان کے خلاف کاروائی کے لیے امریکا نے سلامتی کونسل میں قرارداد پیش کی جسے برطانیہ اور فرانس نے ویٹو کیا۔ اس کے بعد پھر ”امن کے لیے متحد ہونے“ (Uniting for Peace)کی قرارداد جنرل اسمبلی میں پیش کی گئی لیکن کسی عملی کاروائی کی ضرورت اس وجہ سے پیش نہیں آئی کہ عالمی دباؤ کے تحت برطانیہ، فرانس اور اسرائیل نے اپنی افواج واپس بلوالی تھیں۔ 1979ء میں جب روس نے افغانستان پر حملہ کیا تو پھر اسی طریقے کو اختیار کیا گیا لیکن روس کے خلاف کوئی ”مرضی کا اتحاد“ قائم نہیں کیا گیا کیونکہ امریکا روس کے ساتھ براہ راست جنگ سے گریز کررہا تھا۔ اس دفعہ اس نے پاکستان کو بیس کیمپ بنا کر دنیا بھر سے مجاہدین اکٹھے کرنے شروع کیے اور ان کی مالی امداد، تربیت اور ان تک انتہائی ترقی یافتہ ہتھیار کی ترسیل کے ذریعے روس کے خلاف ایک ”بین الاقوامی فوج“ کی تشکیل کی جس نے بالآخر 1989ء میں روس کو افغانستان سے نکلنے پر مجبور کردیا۔ اس کے فوراً بعد عالمی سیاست میں بڑی دوررس تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ ایک طرف مشرقی اور مغربی جرمنی کا الحاق ہوا تو دوسری طرف مشرقی یورپ میں کمیونسٹ حکومتوں کا زوال شروع ہوا۔ اس کے بعد 1991ء کے اختتام تک روس ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اور اس کے بعد دنیا یک قطبی نظام (Unipolar System) کے تحت آگئی جس میں امریکا کو واحد سپر پاور کی حیثیت حاصل ہوگئی۔

ثالثاً: سرد جنگ کے خاتمے کے بعد نظام کی صورت
اگست 1990ء میں عراق نے ایک تنازعے کو بنیاد بنا کر کویت پر قبضہ کیا۔ اس سے پہلے اس قسم کی جنگ وہ ایران پر مسلط کرچکا تھا اور 1980ء سے 1988ء تک ایک طویل بے فائدہ جنگ نے دونوں ریاستوں کو غیر معمولی نقصان پہنچایا تھا لیکن اس جنگ کے دوران میں اسے امریکا اور اس کی اتحادی عرب ریاستوں کا تعاون حاصل تھا۔ اس پس منظر میں عراقی قیادت کا خیال یہ تھا امریکا اس کی حمایت کرے گا، یا کم از کم مخالفت نہیں کرے گا۔ نیز سرد جنگ کے دور میں اس قسم کی کاروائی پر جارح ریاست کو بالعموم کسی بڑی سزا کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تھا۔ تاہم اب حالات تبدیل ہوچکے تھے جن کا ادراک عراقی قیادت کو نہیں تھا۔

سلامتی کونسل نے باب ہفتم کے تحت کاروائی کرتے ہوئے عراقی اقدام کو جارحیت قرار دیا اور عراق سے مطالبہ کیا کہ وہ کویت پر قبضہ فوری طور پر ختم کردے عراق کی جانب سے انکار کے بعد بالآخر سلامتی کونسل نے اس کے خلاف فوجی کاروائی کی منظوری دے دی۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ کوئی بین الاقوامی فوج سلامتی کونسل کے پاس نہیں تھی۔ چنانچہ ایک دفعہ پھر ”مرضی کا اتحاد“ (Coalition of the Willing) قائم کیا گیا اور سلامتی کونسل نے اس اتحاد کو فوجی کاروائی کے لیے با اختیار (Authorise) کردیا۔ یہ ایک نئی صورت تھی جس کا سرد جنگ کے دور میں کوئی تصور نہیں تھا۔ جنوری 1991ء میں عراق کے خلاف اس اتحاد نے فوجی کاروائی کی اور کویت کو آزاد کرالیا۔ اس کے بعد نوے کی دہائی میں کئی دفعہ اس طریق کار کو استعمال کیا گیا۔ سلامتی کونسل فوجی کاروائی کا اختیار کسی اتحاد کو تفویض کردیتی اور سلامتی کونسل کی جانب سے کاروائی کرتی۔
اس تفویض کے لیے جو قراردادیں منظور کی گئیں ان کے متون کا جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوتا کہ جب تک کسی قرارداد میں مندرجہ ذیل تراکیب استعمال نہ کی جائیں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ سلامتی کونسل نے کسی ریاست یا اتحاد کو فوجی کاروائی کی اجازت دے دی ہے:
۱۔ قرارداد میں لازماً اس کا ذکر ہو کہ سلامتی کونسل منشور کے باب ہفتم کے تحت اپنے اختیارات کا استعمال کررہی ہے؛
۲۔ اس میں لازماً ذکر ہو کہ کسی مخصوص ریاست یا اتحاد کو چند مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے ”تمام ضروری ذرائع بشمول طاقت کے استعمال“ (to use all necessary measures including the use of force) کی اجازت دی گئی، یا کم از کم یہ ترکیب اس میں ہو کہ اس ریاست یا اتحاد کو ”تمام ضروری ذرائع“ استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس سے کم تر مفہوم کی کوئی بھی ترکیب استعمال کی جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ جنگ کی اجازت دی گئی۔ مثال کے طور پر 2003ء میں عراق کے خلاف ایک قرارداد میں کہا گیا کہ اگر اس نے اقوام متحدہ کے اسلحہ انسپکٹروں کے ساتھ تعاون نہیں کیا تو اسے ”سنگین نتائج“ (dire consequences) کا سامنا کرنا ہوگا۔ امریکا نے بعد میں یہ موقف اختیار کیا کہ اس قرارداد کے تحت عراق پر حملے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ تاہم فرانس، چین اور روس کا موقف یہ تھا اس سے جنگ کی اجازت کا استدلال غلط ہے۔ بالآخر امریکا کو اسی موقف کو ماننے پر مجبور ہونا پڑا۔

رابعاً: نائن الیون کے بعد صورت حال
امریکا میں 11ستمبر 2001ء کو رونما ہونے والے واقعات کے بعد امریکا نے جس طرح ”دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ“ (Global War on Terror) شروع کی اس نے بین الاقوامی قانون کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ افغانستان اور عراق پر حملوں میں بین الاقوامی قانون کے تمام ضابطوں کو پامال کیا گیا اور عجیب بات یہ ہے کہ اسے طاقت کے اجتماعی استعمال کے تصور کے تحت جواز دینے کی کوشش کی جاتی ہے حالانکہ اس نظام کی جو خصوصیات اوپر ذکر کی گئیں ان کی رو سے اس ”عالمی جنگ“کو کسی طور پر بھی طاقت کا اجتماعی استعمال نہیں کہا جاسکتا۔ اس مسئلے پر مزید بحث اس کتاب کے پہلے ضمیمے میں کی جائے گی۔

فصل چہارم: حق دفاع (Self-defense) کی وسعت
حق دفاع سے متعلق قانون پر بھی مختلف ارتقائی مراحل آئے ہیں۔ یہاں ان مراحل پر مختصر بحث کی جائے گی۔

اولاً: رواجی قانون میں حق دفاع
جیسا کہ باب چہارم میں تفصیل سے بیان کیا جاچکا ہے، کہ اٹھارھویں اور انیسویں صدی میں بین الاقوامی قانون کے تحت ریاست کے لیے ”اقتدار اعلیٰ“ کی صفت مانی جاچکی تھی جس کا ایک لازمی تقاضا یہ تھا کہ جنگ شروع کرنے کو ریاست کا جائز قانونی اختیار سمجھا جاتا۔ چنانچہ اس دور میں قانونی طور پر جنگ کوناجائز نہیں سمجھا جاتا تھا۔ تاہم اخلاقی جواز کے لیے، یا اصل مقاصد کو چھپانے کی خاطر، یا رائے عامہ کو ہموار کرنے کی غرض سے، یا کسی اور سیاسی مقصد کے حصول کی خاطر ریاستیں بالعموم جنگی کاروائی کے لیے کوئی نہ کوئی جواز پیش کرتی رہیں۔ ان میں سب سے اہم جواز ”دفاع“ کا تھا۔ چنانچہ اگرچہ قانونی لحاظ سے کوئی جنگ ناجائز نہیں تھی لیکن اس کے باوجود دفاعی جنگ کے متعلق کچھ رواجی ضابطے اور اصول بتدریج وجود میں آگئے جن کے ذریعے یہ معلوم کیا جاتا تھا کہ کسی ریاست کا فلاں اقدام دفاع کے تحت آتا تھا یا نہیں۔ اس حق دفاع کی وسعت اور اس کی شرائط کی توضیح میں امریکی سیکریٹری خارجہ مسٹر ویبسٹر (Webster)کے بیان کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے جو انہوں نے 1837ء میں برطانوی حکومت سے خط و کتابت کے دوران میں دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر برطانوی حکومت کا یہ دعوی ہے کہ اس نے اقدام دفاع کے حق کو استعمال کرتے ہوئے کیا تھا تو اسے ثابت کرنا پڑے گا کہ:
۱۔ یہ اقدام ضروری تھا؛
۲۔ خطرہ بالکل فوری اور سنگین نوعیت کا تھا؛
۳۔ طاقت کے استعمال کے سوا اور کوئی راستہ نہیں تھا؛ اور
۴۔ طاقت کا استعمال خطرے کے تناسب سے کیا گیا۔
"... a necessity of self-defense, instant, overwhelming, leaving no choice of means and no moment for deliberation... )and that the armed forces( did nothing unreasonable or excessive; since the act justified by the necessity of self-defense must be limited by that necessity and kept clearly within it."

ان شرائط اور قیود کو مد نظر رکھتے ہوئے مندرجہ ذیل صورتوں میں طاقت کے استعمال کو دفاع کے حق میں شامل سمجھا جاتا تھا:
۱۔ حقیقی اور جاری فوجی جارحیت کے خلاف؛
۲۔ کسی فوری اور سنگین خطرے کے خلاف پیش بندی کے اقدام کے طور پر تاکہ حملے سے پہلے ہی اس کے امکان کو ختم یا کم کیا جاسکے؛
۳۔ ریاست کے حقوق اور مفادات یا اس کے شہریوں یا اموال کے لیے پیدا ہونے والے خطرے کے خلاف خواہ یہ خطرہ ریاست سے باہر پیدا ہوا ہو؛
۴۔ اقتصادی ناکہ بندی یا نقصان دہ پروپیگنڈے کے خلاف بشرطیکہ وہ اس نوعیت کا ہو کہ اس کے خلاف مسلح اقدام ضروری ہوجائے۔
جیسا کہ اوپر مذکور ہوا معاہدۂ پیرس 1928ء کے بعد بھی حق دفاع پر مزید کوئی قید عائد نہیں کی گئی۔ اس پس منظر میں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ جب 1945ء میں اقوام متحدہ کا منشور لکھا گیا اور اس میں دفعہ 51میں حق دفاع کا ذکر کیا گیا تو کیا اس نے حق دفاع پر مزید کوئی قید لگائی یا نہیں؟

ثانیاً: اقوام متحدہ کے منشور کے تحت حق دفاع
اوپر ذکر کیا گیا کہ اقوام متحدہ کے منشور کے باب ہفتم میں یہ نظام دیا گیا کہ کسی جارح ریاست کے خلاف تنہا یا یکطرفہ کاروائی کے بجائے تنظیم اس کے طاقت کا اجتماعی استعمال کرے۔ اس باب کے آخر میں حق دفاع کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے:
Nothing in the present Charter shall impair the inherent right of individual or collective self-defense if an armed attack occurs against a Member of the United Nations, until the Security Council has taken measures necessary to maintain international peace.
(اس منشور میں موجود کسی بات سے انفرادی یا اجتماعی دفاع کا فطری حق متاثر نہیں ہوتا اگر اقوام متحدہ کے کسی رکن کے خلاف فوجی حملہ ہوجائے، یہاں تک کہ سلامتی کونسل وہ اقدامات کرے جو بین الاقوامی امن کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔)

پس منشور میں حق دفاع کا ذکر اس سیاق میں آیا ہے کہ اگرچہ جارح ریاست کے خلاف اقوام متحدہ اجتماعی اقدام کرے گی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ جارحیت کی زد آئی ہوئی ریاست کو دفاع کا حق حاصل نہیں ہے۔ اسے یقینا یہ حق حاصل ہے کیونکہ یہ ”ریاست ہونے“ کا لازمی تقاضا ہے۔ پس اس حق کو استعمال کرتے ہوئے وہ طاقت استعمال کرسکتی ہے یہاں تک کہ سلامتی کونسل اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے جارح ریاست کے خلاف کاروائی کرلے۔ البتہ آگے اس دفعہ میں ذکر کیا گیا ہے کہ حق دفاع استعمال کرتے ہوئے ریاست جو اقدامات کرے گی اس سے وہ سلامتی کونسل کو آگاہ کرے گی۔

چونکہ دفعہ 51میں کسی ریاست پر ”حملہ ہونے“ کا ذکر ہے (if an armed attack occurs) اس لیے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پیش بندی کا اقدام (Pre-emptive Strike) جسے رواجی قانون کے تحت حق دفاع میں شامل سمجھا جاتا تھا اب جائز نہیں رہا؟ یہاں پھر وہی بحث آجاتی ہے کہ کیا منشور نے قبل از منشور کے رواجی قانون کو منسوخ یا تبدیل کردیا ہے یا نہیں؟ جو لوگ اس کا جواب اثبات میں دیتے ہیں ان کے نزدیک قانونی پوزیشن یہی ہے کہ اب صرف جاری حملے کے خلاف دفاع کا حق حاصل ہے۔ اس کے برعکس، امریکا، اسرائیل اور کئی مغربی طاقتوں کی رائے یہ ہے کہ رواجی قانون کے تحت دفاع کا جو حق تھا وہ اب بھی اسی وسعت کے ساتھ موجود ہے اور اسے منشور نے برقرار رکھا ہے۔

اس موقف کے حق میں ایک دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ دفعہ 51میں حق دفاع کو ریاست کا inherent right کہا گیا ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس ترکیب سے یہ استدلال بہت ضعیف ہے کہ اس سے مراد رواجی قانون کا حق دفاع ہے۔ جیسا کہ اوپر مذکور ہوا، اس کا سیدھا سادھا مفہوم یہ ہے کہ حق دفاع کسی ریاست کے ریاست ہونے کا لازمی تقاضا ہے۔

ایک اور دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ منشور نے سلامتی کونسل کو ذمہ داری دی ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کا تحفظ یا اس کی بحالی (to maintain and restore international peace) کرے۔ امن کی بحالی تو اس وقت کی جاتی ہے جب امن کی خلاف ورزی ہو لیکن ”امن کے تحفظ“ سے معلوم ہوا کہ بعض اوقات پیش بندی کا اقدام کرنا پڑتا ہے، بالخصوص جبکہ دفعہ 39میں مذکور تین صورتوں، جن میں سلامتی کونسل فوجی کاروائی کرسکتی ہے، میں ایک یہ ہے کہ کسی ریاست کی جانب سے امن کو خطرہ ہو۔ پس ایسی صورت میں پیش بندی کے اقدام کو خود منشور نے جواز دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ استدلال بھی ضعیف ہے کیونکہ تنازعہ اس پر نہیں ہے کہ بین الاقوامی امن کے تحفظ کے لیے بعض اوقات پیش بندی کا اقدام ضروری ہوجاتا ہے یا نہیں؟ نہ ہی اس پر کوئی اختلاف ہے کہ سلامتی کونسل کو پیش بندی کے اقدام کی اجازت ہے یا نہیں؟ بلکہ اصل تنازعہ اس پر ہے کہ کیا کسی ریاست یا ریاستوں کو اپنے طور پر اس طرح کے پیش بندی کے اقدام کی اجازت ہے یا نہیں ہے؟

اس سلسلے میں ایک اور دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ جدید دور میں جس طرح کے ہتھیار وجود میں آچکے ہیں ان کی موجودگی کی صورت میں اگر ریاستوں کو پیش بندی کے اقدام کی اجازت نہیں دی جائے اور صرف اس صورت میں ان کے لیے حق دفاع تسلیم کیا جائے جب ان پر باقاعدہ حملہ ہوجائے تو اس طرح طاقتور ریاستوں کو موقع مل جائے گا کہ وہ کمزور ریاستوں کو نیست و نابود کردیں کیونکہ ان کے پاس جو تباہ کن ہتھیار ہیں ان کے استعمال کے بعد کمزور ریاستوں کے پاس دفاع یا جوابی کاروائی کے لیے کچھ باقی نہیں رہے گا۔ یہ دلیل بظاہر بہت وزن رکھتی ہے لیکن ذرا گہرائی میں جاکر دیکھیں تو اس کی کمزوری بھی واضح ہوجاتی ہے۔ اس دلیل سے زیادہ سے زیادہ یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ریاست اپنے دفاع کے لیے بعض اوقات پیش بندی کا اقدام ضروری سمجھتی ہے۔ اس بات پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔ محل نزاع تو یہ امر ہے کہ کیا اقوام متحدہ کے منشور کے تحت اس قسم کے اقدام کی اجازت ہے یا نہیں؟ اور اس دلیل سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ منشور کے تحت اس کی اجازت ہے۔ پھر یہ بات بھی کم حیران کن نہیں ہے کہ اس دلیل کی بنا یہ ہے کہ پیش بندی کا اقدام کمزور ملکوں کے لیے ضروری ہے حالانکہ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے فورم پر جب بھی اس مسئلے پر بحث ہوئی تو تیسری دنیا کے ممالک نے بالعموم پیش بندی کے اقدام کی مخالفت کی ہے اور ترقی یافتہ ممالک اس کے حق میں بولتے رہے ہیں۔

اس ساری بحث میں اس بات کو نظر انداز کیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے منشور میں حق دفاع کا ذکر طاقت کے اجتماعی استعمال کے باب کے آخر میں کیا گیا ہے۔ اگر اس زاویے سے اس مسئلے پر نظر ڈالی جائے تو صحیح قانونی پوزیشن یہ معلوم ہوتی ہے کہ منشور کے تحت حق دفاع کو صرف حقیقی جاری حملوں تک محدود کردیا گیا تھا اور جارح ریاستوں کے خلاف پیش بندی کے اقدام کا حق ریاستوں سے لے کر سلامتی کونسل کو دیا گیا تھا۔ اس مقصد کے لیے یہ بھی طے کیا گیا کہ اقوام متحدہ کی اپنی بین الاقوامی فوج ہوگی جو اس قسم کی کاروائی کرے گی۔ اس نظام کے پیچھے مفروضہ یہ تھا (یا خوش فہمی یہ تھی) کہ ریاستیں بین االاقوامی قانون پر عملدرآمد کریں گی اور ظالم کے خلاف مظلوم کی مدد کے لیے انصاف کے تقاضوں کا لحاظ رکھیں گی، بالخصوص سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کے متعلق فرض کیا گیا تھا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے حق اور انصاف کا ساتھ دیں گے۔ ایسا کچھ نہیں ہوا اور ان مستقل اراکین نے اپنے مفادات کی خاطر اس اجتماعی نظام کے خواب کو چکنا چور کردیا۔ پھر جبکہ اجتماعی نظام وجود میں ہی نہیں آسکا تو ریاستوں کو اپنے تحفظ کے لیے پھر اپنے زور بازو اور اپنے اتحادیوں پر بھروسہ کرنا پڑا۔ اس کے ساتھ جب جدید تباہ کن ہتھیاروں کے مسئلے پر بھی نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ریاستوں نے منشور کے الفاظ کو ناقابل عمل سمجھتے ہوئے رواجی قانون کا احیا ء کرلیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پیش بندی کے اقدام کے جواز یا عدم جواز کا فیصلہ انہی اصولوں کی روشنی میں کیا جاتا ہے جو رواجی قانون میں موجود تھے۔ ہم وہ اصول یہاں دوبارہ نقل کردیتے ہیں:
۱۔ اقدام ضروری ہو؛
۲۔ خطرہ بالکل فوری اور سنگین نوعیت کا ہو؛
۳۔ خطرے سے نمٹنے کے لیے طاقت کے استعمال کے سوا اور کوئی راستہ نہ ہو؛ اور
۴۔ طاقت کا استعمال خطرے کے تناسب سے کیا جائے۔
ان اصولوں کی روشنی میں دیکھا جائے تو 1976ء میں اسرائیل کی جانب سے عربوں کی مشترکہ افواج کے خلاف حملے میں پہل کو جائز پیش بندی کا اقدام کہا جائے گا جبکہ 2003ء میں امریکا کی جانب سے عراق پر حملے کو قطعی طور پر ناجائز قرار دیا جائے گا۔

دفعہ 51میں مذکور حق دفاع کے سلسلے میں ایک اہم قابل توجہ بات یہ ہے کہ حق دفاع کو کوئی ایک ریاست تنہا بھی استعمال کرسکتی ہے اور کئی ممالک مشترکہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ طور پر بھی ”اجتماعی حق دفاع“کے تحت کاروائی کرسکتے ہیں۔ اس اجتماعی حق دفاع کے لیے بالعموم ریاستوں نے آپس میں مشترکہ دفاعی معاہدات کیے ہیں جن کے تحت کسی ایک ریاست پر حملے کو اس معاہدے میں شامل تمام ریاستوں کے خلاف حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ معاہدۂ شمالی اوقیانوس کی تنظیم (NATO) اسی اصول پر قائم کی گئی ہے۔

ثالثاً: نائن الیون کے بعد حق دفاع اور پیش بندی کا اقدام
امریکی حکومت نے نائن الیون کے بعد جس طرح بین الاقوامی قانون کی دیگر شقوں کا حلیہ تبدیل کیا ہے اسی طرح اس نے حق دفاع اور پیش بندی کے اقدام کے متعلق قانون کی من مانی تعبیر کے ذریعے پورے قانونی نظام کا ڈھانچہ ڈھادینے کی کوشش کی ہے۔ چنانچہ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے ستمبر 2002ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کے دوران میں پیش بندی کے اقدام کی جو تشریح کی اور پھر اس کی روشنی میں اپریل 2003ء میں عراق پر حملہ کیا وہ سراسر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔ اس کی وضاحت اس کتاب کے پہلے ضمیمے میں کی گئی ہے۔

فصل پنجم: غیر ممالک میں مقیم شہریوں اور مفادات کا تحفظ
رواجی بین الاقوامی قانون میں دفاع کا تصور بہت وسیع تھا اور اس میں ریاست کے لیے یہ حق تسلیم کیا گیا تھا کہ کسی غیر ملک میں موجود اس کے شہریوں یا مفادات کو خطرہ ہو اور وہ ملک ان کی حفاظت سے قاصر یا انکاری ہو تو ایسی صورت میں اس ملک کو اپنے شہریوں اور مفادات کی حفاظت کے لیے مناسب اقدام کا اختیار حاصل ہوجاتا تھا اور اسے دفاع میں شمار کیاجاتاتھا۔ کیا یہ حق اب بھی ریاستوں کو حاصل ہے؟ اس سوال کے جواب پر بین الاقوامی قانون کے ماہرین کا اختلاف ہے۔ کچھ اب بھی اس حق کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں اور کچھ کے نزدیک اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ2 ذیلی دفعہ 4نے طاقت کے استعمال کی تمام صورتوں پر پابندی عائد کردی ہے اور اب صرف انہی صورتوں میں طاقت کا استعمال جائز ہوگا جن کی منشور نے صراحتاً اجازت دی ہے، یعنی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اجازت سے مشترکہ فوجی کاروائی اور منشور کی دفعہ 51میں مذکور شرائط کے تحت دفاعی جنگ۔ تاہم جو ماہرین غیر ممالک میں اس قسم کی کاروائی کو جائز سمجھتے ہیں ان کے نزدیک اس قسم کی کاروائی اسی ملک کے لیے جائز ہوتی ہے جس کے شہری یا مفادات خطرے میں ہوں۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا، اسرائیل نے اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے یوگنڈا میں جس قسم کی کاروائی کی اس کی قانونی حیثیت پر اعتراض کرنا مشکل ہے لیکن اسی تصور کو استعمال کرتے ہوئے امریکا نے جب 1993ء میں بغداد پر بمباری کی تو وہ یقینی طور پر ناجائز تھی۔ دونوں کاروائیوں میں فرق کی بنیاد یہی ہے کہ ایک میں رواجی قانون کی قیود کا لحاظ رکھا گیا جبکہ دوسری کاروائی نے ان حدودو قیود سے یقینی طور پر تجاوز کیا۔

فصل ششم: انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مداخلت
کسی دوسری ریاست میں ”انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مداخلت“ (Humanitarian Intervention) اس وقت کی جاتی ہے جب وہ ریاست خود اپنے باشندوں یا اپنے ہاں مقیم غیرملکی لوگوں کو ظلم کا نشانہ بناتی ہے۔ اس قسم کی کاروائی کو بعض ممالک جائز قرار دے دیتے ہیں۔ 1971ء میں جب بھارت نے مشرقی پاکستان پر حملہ کیا تھا تو اس کے لیے ایک جواز یہی پیش کیاگیا تھا کہ پاکستانی فوج بنگالیوں پر مظالم ڈھارہی تھی۔ 1998ء میں سربیا پر نیٹو کی بمباری کے لیے بھی ایک جواز یہی ذکر کیا جاتاتھا۔
جو لوگ اسے جائز قرار دیتے ہیں ان کی ایک دلیل یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 39کے تحت جن صورتوں میں کسی ریاست کے خلاف کاروائی ضروری ہوجاتی ہے ان میں ایک صورت یہ ہے کہ اس ریاست کی طرف ”امن عالم کو خطرہ“ ہو، اور یہ بھی قانونی طور پر مسلمہ ہے کہ ”امن عالم کو خطرہ“ کسی ریاست کے ”اندرونی معاملات“ سے بھی ہوسکتا ہے۔ پس اصولاً کسی ریاست کے اندرونی معاملات میں مداخلت ناجائز ہے لیکن جب ان اندرونی معاملات سے امن عالم کو خطرہ ہو تو پھر مداخلت جائز ہوجاتی ہے، جیسا کہ منشور کی دفعہ 2ذیلی دفعہ 7میں تصریح کی گئی ہے۔

تاہم اس موقف پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ دفعہ 39کے تحت اس قسم کے معاملات میں کاروائی کا اختیار سلامتی کونسل کو حاصل ہوتا ہے نہ کہ انفرادی طور پر ریاستوں کو۔ پس اگر سلامتی کونسل انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کسی ریاست کے اپنے باشندوں پر ظلم کو روکنے کے لیے کاروائی کرے تو اس کے جواز میں کے متعلق کوئی اشکال نہیں پایاجاتا لیکن اس سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ یہ حق انفرادی طور پر ریاستوں کو بھی حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی ریاست نے بھی اس قسم کی کاروائی میں تنہا ”انسانی ہمدردی“ کو ہی بنیاد نہیں بنایا بلکہ دیگر جواز بھی ساتھ ساتھ فراہم کرنے کی کوشش کی۔ مثلاً بھارت نے مشرقی پاکستان میں کاروائی کے لیے اپنے حق دفاع کو بھی جواز کے طور پر پیش کیا اور نیٹو نے سربیا پر بمباری کے ضمن میں سلامتی کونسل کی ”قراردادوں پر عملدرآمد“ کو بھی ایک بنیاد کے طور پر پیش کیا۔ پس سلامتی کونسل کی منظوری کے بعد اگر کوئی ریاست یا ریاستوں کا مجموعہ اس قسم کی کاروائی کرے تو اسے قانونی طور پر جائز سمجھا جائے گا لیکن سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کسی دوسری ریاست میں فوجی کاروائی کا جواز کم از کم یقینی نہیں ہے۔

بعض اوقات یہ دلیل بھی پیش کی جاتی ہے کہ جب سلامتی کونسل کسی مستقل رکن کی جانب سے ویٹو کے استعمال کی بنا پر کسی جارح ریاست کے خلاف کاروائی نہیں کرپاتی تو پھر انفرادی طور پر ریاستوں کی ذمہ داری ہوجاتی ہے کہ بین الاقوامی برادری کی نمائندگی کرتے ہوئے جارح کے خلاف کاروائی کریں کیونکہ کاروائی نہ کرنے کی صورت میں ہزاروں انسانوں کی جان و مال اور دیگر حقوق کی پامالی کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ ”بین الاقوامی برادری“ کی نمائندگی کا اختیار چند ریاستوں کو کیسے حاصل ہوگیا؟ اگر بین الاقوامی برادری نام کی کوئی چیز دنیا میں پائی جاتی ہے تو اس کی نمائندگی کا اصل فورم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ہے کیونکہ دنیا کی تمام ریاستیں جنرل اسمبلی کی رکن ہیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جنرل اسمبلی میں کسی ریاست کو ویٹو کا حق حاصل نہیں ہے۔ اس لیے اگر سلامتی کونسل ویٹو کی وجہ سے معذور ہوجائے تو صحیح راستہ یہی ہے کہ معاملہ جنرل اسمبلی میں پیش کیا جائے اور اس سے کاروائی کی منظوری حاصل کی جائے۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کاروائی کا اختیار صرف سلامتی کونسل کے پاس ہے کیونکہ منشور نے صرف اتنا کہا ہے کہ کاروائی کی ”اولین ذمہ داری“ (Primary Responsibility) سلامتی کونسل کی ہے۔ پس اگر سلامتی کونسل کاروائی نہ کرپائے تو ثانوی ذمہ داری جنرل اسمبلی ہی کی ہے۔ انفرادی طور پر ریاستوں کو کاروائی کا اختیار دینے سے بدرجہا بہتر یہ ہے کہ جنرل اسمبلی سے کاروائی کی منظوری لی جائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سرد جنگ کے دوران میں روس کی جانب سے ویٹو کا سامنا کرنے کی صورت میں مغربی طاقتیں اس طریق کار کو ”امن کے لیے متحد ہونے“ (Uniting for Peace) کی قرارداد کے ذریعے اپناتی رہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اب اس طریق کار کو اختیار نہیں کیا جاسکتا؟ یہ صحیح ہے کہ سلامتی کونسل کے معذور ہونے کی صورت میں مناسب نہیں کہ ہزاروں انسانوں کا قتل عام ہونے دیا جائے لیکن یہ بھی ہر گز مناسب نہیں ہے کہ ایسی صورت میں انفرادی طور پر ریاستوں کو کاروائی کا اختیار دیا جائے کیونکہ اس طرح کمزور ریاستوں میں ”انسانی ہمدردی کی بنیاد پر“ بڑی طاقتوں کی مداخلت کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ پس جب چند طاقتیں بین الاقوامی برادری کی نمائندگی کا دعوی کرتے ہوئے کاروائی کرتی ہیں تو لازم ہے کہ وہ بین الاقوامی برادری کی نمائندہ فورم - جنرل اسمبلی - سے اس کے لیے باقاعدہ منظوری حاصل کریں۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com