طلاقِ ثلاثہ کے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر بحث سے قبل - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

پچھلے سولہ سال سے قانون اور فلسفۂ قانون پڑھاتا آرہا ہوں۔ اس ڈیڑھ عشرے سے زائد عرصے پر محیط تدریسی تجربے کی روشنی میں پوری قطعیت سے کہتا ہوں کہ قانون اور فلسفۂ قانون پڑھانے اور سمجھانے کا سب سے مؤثر طریقہ وہ ہے جسے تعلیمِ قانون (legal education) کی اصطلاح میں case method کہتے ہیں۔ یہ وہی طریقہ ہے جس کے ذریعے امام ابوحنیفہ نے اپنے شاگردوں کو اسلامی قانون اور اس کے اصولوں کی تدریس کی ۔ اسی طریق پر میں اپنے شاگردوں کے ساتھ بھی مختلف مشقیں کیا کرتا ہوں۔ یہاں ایسی ہی ایک مشق آپ کے سامنے رکھنی ہے جسے کبھی دستوری قانون کی تدریس میں ، کبھی حقوقِ انسانی کے بین الاقوامی قانون کی تدریس میں ، کبھی پاکستانی قانون براے خانگی امور کی تدریس میں ، کبھی تعبیرِ دستور اور تعبیرِ قانون کے اصولوں کی تدریس میں اور کبھی فلسفۂ قانون کی تدریس میں استعمال کیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہی مشق طلاقِ ثلاثہ کے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کی تفہیم میں بھی کچھ کام آسکے۔ (کیس کے درمیان میں "نوٹ" عام قارئین کی وضاحت کے لیے درج کیے گئے ہیں۔ قانون کے طلبہ عموماً ان امور سے واقف ہوتے ہیں اور کلاس میں ان پر پہلے ہی سے کافی بحث ہوچکی ہوتی ہے۔)

عورت بنام وفاقِ پاکستان
آپ سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج ہیں اور آپ کے سامنے عنوانِ بالا سے ایک مقدمے میں استدعا کی گئی ہے کہ تعددِ ازواج سے متعلق پاکستانی قانون ، مسلم فیملی لا آرڈی نینس 1961ء ، کی دفعہ 6 کو دستورِ پاکستان کی دفعہ 25کے ساتھ تصادم کی بنیاد پر دستور کی دفعہ 8 کے تحت کالعدم قرار دیا جائے ۔ نیزیہ بھی کہا گیا ہے کہ تعددِ ازواج کا یہ قانون عورتوں کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے کے بین الاقوامی معاہدے کی دفعہ 16سے بھی متصادم ہے اور پاکستان اس بین الاقوامی معاہدے کی توثیق کرچکا ہے اور اسی وجہ سے امتیازی قوانین ختم نہ کرنے پر وہ بین الاقوامی برادری کے سامنے جواب دہ بھی ہوگا۔
(نوٹ: تعددِ ازواج کے قانون میں مسلمان مرد کو بعض شروط اور قیود میں ایک سے زائد شادیوں کی (چار کی حد تک) اجازت دی گئی ہے اور ان شروط اور قیود کی خلاف ورزی کرکے کی جانے والی شادی پر شوہر کے لیے سزا مقرر کی گئی ہے لیکن شادی کو ناجائز نہیں کہا گیا ہے۔ دستورِ پاکستان کی دفعہ 25 نے شہریوں کے درمیان امتیازی سلوک کوبنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور دستور کی دفعہ 8 میں تصریح کی گئی ہے کہ بنیادی انسانی حقوق سے متصادم قوانین کالعدم تصور ہوں گے۔ جس بین الاقوامی معاہدے کا حوالہ دیا گیا ہے اس کی متعلقہ دفعہ میں قرار دیا گیا ہے کہ عورتوں اور مَردوں کو نکاح اوار طلاق کے حوالے سے یکساں حقوق حاصل ہوں گے۔)

وفاقِ پاکستان کی جانب سے جواب میں کہا گیا ہے کہ تعددِ ازواج کی اجازت اسلامی قانون کے تحت دی گئی ہے اور دستور کی دفعہ 227 کے تحت قرار دیا گیا ہے کہ پاکستان میں کوئی ایسا قانون نہیں بنایا جائے گا جو قرآن وسنت میں مذکور احکامِ اسلام سے متصادم ہو۔ نیز دستور کی دفعہ 2 میں اسلام کو پاکستان کا ریاستی مذہب قرار دیا گیا ہے اور دفعہ 2-الف کے تحت قراردادِ مقاصد میں مذکور اصولوں کو دستور کے نافذ العمل حصے کی حیثیت دی گئی ہے۔ قراردادِ مقاصد میں اس بات کا اقرار کیا گیا ہے کہ پوری کائنات پر اللہ تعالیٰ کو حاکمیتِ اعلیٰ حاصل ہے اور پاکستان کے عوام اللہ تعالیٰ کی جانب سے تفویض کردہ اختیارات اللہ تعالیٰ کی جانب سے مقرر کردہ حدود کے اندر ہی استعمال کریں گے۔ جہاں تک بین الاقوامی معاہدے کا تعلق ہے تو ایک تو پاکستانی قانونی نظام میں بین الاقوامی معاہدات براہِ راست نافذ العمل نہیں ہوتے بلکہ ان کے نافذ العمل کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ پارلیمان قانون سازی کرے جس کے بعد عدالتیں پارلیمان کے بنائے گئے قانون کو، نہ کہ بین الاقوامی معاہدے کی دفعات، کو نافذ کرتی ہیں۔ نیز مذکورہ معاہدے کی توثیق کرتے ہوئے صدرِ پاکستان جناب فاروق احمد خان لغاری نے صراحت سے لکھا تھا کہ اس معاہدے کی توثیق "دستورِ پاکستان کی حدود کے اندر" کی جارہی ہے۔
(نوٹ: بہ الفاظِ دیگر آپ کے سامنے دو مختلف زاویہ ہاے نظر پیش کیے گئے : ایک کی رو سے تعددِ ازواج کا قانون دستور کی دفعہ 25 اور بین الاقوامی قانون کے تحت پاکستان کی ذمہ داریوں سے متصادم ہے ؛ دوسرے زاویۂ نظر سے دستور کی دفعہ 2- الف کے تحت اس قانون کو تحفظ حاصل ہے اور اسلامی قانون کو امتیازی قرار دے کر کالعدم نہیں قرار دیا جا سکتا۔ نیز بین الاقوامی ذمہ داریاں بھی پاکستانی دستور کی ان دفعات میں ذکر کردہ حدود کے اندر ہیں۔)

یہ بھی پڑھیں:   کرتار پور امن کی راہداری - حاجی محمد لطیف کھوکھر

اب بطورِ جج سپریم کورٹ آف پاکستان آپ نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا دستور کی دفعہ2– الف اور دفعہ 25 کے درمیان تعارض ہے کہ ایک دفعہ کے تحت تعددِ ازواج کے قانون کو تحفظ حاصل ہے اور دوسری دفعہ کے تحت یہ قانون کالعدم ہے؟ اگر ہاں ، تو کیا آپ یہ تعارض اس طور پر دور کرسکتے ہیں کہ دفعہ 25 کی تعبیر دفعہ 2-الف کے تحت کی جائے ؟
(نوٹ: بہ الفاظِ دیگر، "امتیازی سلوک" سے مراد وہ سلوک ہے جسے "اسلامی قانون کے اصولوں کی روشنی میں " امتیازی سلوک قرار دیا جاسکے؟ یوں مردوں کو ایک سے زائد شادیوں کی اجازت اور عورتوں کے لیے اس اجازت کی نفی کو امتیازی سلوک نہیں کہا جاسکے گا۔ )

یا دفعہ 25 کو اصل قرار دیا جائے اور دفعہ 2-الف کو محض ایک ایسا رسمی اعلان سمجھا جائے جو ناقابل تنفیذ ہو ؟
(نوٹ: اس صورت میں "امتیازی سلوک" سے مراد وہ سلوک ہوگا جسے "حقوقِ انسانی" کے اصولوں کی روشنی میں امتیازی سلوک کہا جاتا ہے ۔ اس بنیاد پر نہ صرف تعددِ ازواج کا قانون بلکہ طلاق کا پورا قانون بھی امتیازی قرار دیا جاسکے گا کیونکہ اس میں مرد کو یک طرفہ طور پر نکاح ختم کرنے کی اجازت دی گئی ہے ، خواہ اس کے مؤثر ہونے پر کئی قدغن لگائے گئے ہوں ، لیکن عورت کو یک طرف طور پر نکاح ختم کرنے کا اختیار نہیں ہے جب تک شوہر نے اسے یہ اختیار تفویض نہ کیا ہو ۔ )

یا اس تعارض کو دور کرنے کے لیے معاملے کو پارلیمان کی طرف بھیجا جائے ؟
(نوٹ: یہ کوئی حل نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں جب تک پارلیمان تعارض کو دور کرنے کے لیے دستور میں ترمیم نہ کرے ، تب تک متعلقہ قانون کو دستور کی ایک دفعہ سے متصادم اور دوسری دفعہ سے ہم آہنگ سمجھا جائے گا ۔ ایسی صورت میں اگر اس قانون کو کالعدم قرار دیا جائے تو گویا آپ نے دفعہ 25 کو ترجیح دی اور اگر اسے برقرار رکھا جائے تو گویا آپ نے دفعہ 2-الف کو ترجیح دی ۔ اس لیے ترجیح کیے بنا کوئی چارہ نہیں! )

یہ بھی پڑھیں:   کرتار پور امن کی راہداری - حاجی محمد لطیف کھوکھر

اس مقدمے کے دوران میں آپ کے سامنے سپریم کورٹ کے کئی سابقہ نظائر کے حوالے بھی دیے گئے ہیں جن میں زیادہ اہم یہ چار نظائر ہیں:
عاصمہ جیلانی بنام حکومتِ پنجاب 1972، ریاست بنام ضیاء الرحمان 1973، حاکم خان بنام ریاست 1992 اور الجہاد ٹرسٹ بنام وفاقِ پاکستان1996۔
(نوٹ : پہلے کیس میں سپریم کورٹ نے اس وقت جب کہ دستور کو معطل کیا گیا تھا، قرار دیا تھا کہ مارشل لا قراردادِ مقاصد میں مذکور اصولوں کے خلاف ہے اور اس وجہ سے ناجائز ہے ۔ اس فیصلے کے بعد حکومت کو مارشل لا ختم کرنے کا اعلان کرنا پڑا اور اس سے یہ عام تاثر بنا کہ قراردادِ مقاصد کو ایسی بنیادی حیثیت حاصل ہے کہ اسے مارشل لا کے ذریعے بھی معطل نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم ضیاء الرحمان کیس میں سپریم کورٹ نے کہا کہ قراردادِ مقاصد کو اس وقت محض دستور کے دیباچے کی حیثیت حاصل ہے اور دیباچے کو دستور کی دفعات پر فوقیت نہیں دی جاسکتی۔ 1985ء میں دستور میں دفعہ 2-الف کے اضافے کے ذریعے قراردادِ مقاصد کو دستور کا عملی حصہ بنادیا گیا۔ تاہم اس کے باوجود حاکم خان کیس میں سپریم کورٹ نے یہ مان چکنے کے بعد دستور کی دفعہ 45 (جس میں صدر کو کسی بھی سزا کی معافی اختیار دیا گیا ہے ) اور دفعہ 2-الف میں تعارض ہے ، اس معاملے کو پارلیمان کی طرف بھیج دیا کہ وہ یہ تعارض دور کردے۔ الجہاد ٹرسٹ کیس میں، جسے عام طور پر ججز کیس کہا جاتا ہے، تصریح کی گئی کہ پارلیمان دستور میں ترمیم تو کرسکتی ہے لیکن یہ ترمیم ایسی نہ ہو کہ اس سے دستور کا بنیادی ڈھانچہ ہی تبدیل ہوجائے۔ اس بنیادی ڈھانچے کی چار خصوصیات ہیں : اسلامیت ، وفاقیت ، پارلیمانی نظامِ حکومت اور عدلیہ کی آزادی۔ واضح رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ بھی اس سے قبل بھارت کے دستور کے متعلق یہی قرار دے چکی تھی کہ بھارتی پارلیمان اس دستور کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل نہیں کرسکتی۔ اس نے بنیادی ڈھانچے کی تین خصوصیات تو وہی ذکر کیں جو بعد میں پاکستانی سپریم کورٹ نے پاکستانی دستور کے متعلق بیان کیں لیکن ایک خصوصیت بھارتی سپریم کورٹ نے مختلف ذکر کی اور وہ یہ کہ بھارت ایک "سیکولر" ریاست ہے! )

امید کی جاتی ہے کہ ان سوالات پر غور کے بعد بھارت میں طلاقِ ثلاثہ کے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر بحث آسان ہوجائے گی۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.