امین و صادق کا قضیہ - ڈاکٹر زاہد شاہ

آج کل ہر جگہ اور ہر فورم پر دستور پاکستان کی دفعات 62 و 63، بالخصوص "امین و صادق" کی شرط" پر جو گفتگو ہو رہی ہے، وہ اکثر لاعلمی اور تعصب پر مبنی ہے، نہ کہ علمی، دستوری اور قانونی ہو۔ عام لوگ تو کیا؟ خود جج صاحبان نے جو ریمارکس دیے یا فیصلے میں لکھا، وہ کسی لطیفے سے کم نہیں۔ مثلاً جسٹس عظمت سعید صاحب نے کہا کہ "آئین میں لفظ صادق سے مراد قانونی لحاظ سے سچا ہونا ہے۔ یہ اخلاقیات کاسوال نہیں ہے بلکہ اس صداقت کی قانونی حیثیت ہے۔ یہ ایک آبجیکٹِو تقاضا ہے نہ کہ سبجیکٹِو" جسٹس صاحب یہ لکھا تو درست ہے لیکن سوال یہ ہے کہ دستور میں "صادق" لفظ یا اصطلاح ہے کہاں؟ یاد رکھنا چاہیے کہ دستور کی مذکورہ دفعات میں "صادق" سرے سے ہے ہی نہیں ۔

آگے کہا کہ "62 و 63 میں میں صادق اور امین کی تشریح واضح نہیں ہے۔" یہ بھی درست ہے کہ اول آئین میں امین و پارسا جیسے الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہیے تھے یا اس کا تعریف اور تشریح کرنی چاہیے تھی۔ لیکن خود آگےکہتے ہیں کہ یہ تو "پیغمبر کی صفات ہیں۔"بالکل درست لیکن اس معنی میں عام حکمران کے لیے کیسے استعمال ہو سکتے ہیں؟ اس کے باوجود جج صاحب نے ادھر ادھر سے قرآن وسنت کے دلائل ڈھونڈ کر حکمران کے لیے یہ شرائط اور صفات ثابت کرنے کی کوشش کی۔ حالانکہ یہ کام ایک تو ان کے اپنے بیان کے متناقض ہے۔ دوسری بات یہ کہ قرآن وسنت کا ادنیٰ طالب علم بھی جانتا ہے کہ قرآن وسنت میں یہ الفاظ کس معنی میں استعمال ہوئے ہیں اور یہاں کیا معنی ہیں؟ اگر یہ قرآن وسنت کے مطابق حکمران کے لیے شرائط تھیں، یا ہوسکتی تھیں تو گزشتہ 14سو سالوں میں کوئی کہتا۔ پورے اسلامی لٹریچر میں "امین وصادق" لفظاً، نہ اصطلاحاً حکمران کے لیے استعمال نہیں ہوئے ۔

(1)اسلامی فقہ میں حکمران کے لیے عاقل، بالغ، ایمان، علم، عدالت اور صلاحیت(یعنی اپنے کام جاننے اور چلانے کی صلاحیت) کی شرائط مقرر کی گئی ہیں۔ (رسائل ابن عابدین، رسالہ ثانیہ 44/1،الا شباہ، سیوطی، ص 89،احکام السلطانیہ، الماوردی، ص6،احکام السطانیہ. ابی یعلی، ص 19،اسلامی سیاست، گوہر الرحمٰن، 300،301)

(2)امین وصادق ناممکن ومبہم شرائط ہیں، اس کی جگہ شریعت نے "عدالت اور عادل"کا استعمال کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ جھوٹا، فاسق، فاجر، بدعتی نہ ہونا اور ایک معتدل مسلمان، گناہ کبیرہ سے اجتناب کرتاہو (اصول فقہ، اصول حدیث، اعظمی نجمی، ص 120،165،المعجم الوسیط مادہ ع د ل، ص 696،697)

(3)امین کے معنی امانتدار، دیانتدار، محافظ اور نگہبان کے ہیں لیکن اس سے مراد انتہائی درجے امانتدار اور محافظ ہے۔ (المعجم الوسیط، ص 40، 41)۔ صادق کے معنی، سچا، مخلص اور وفادار ہے، لیکن مفہوم کے اعتبار سے بہت بڑے سچے، اور قول وفعل میں انتہائی سچے اور کسی عیب سے پاک انسان کے لیے استعمال ہوتا ہے، (الوسیط، ص د ق، ص 602)

اس اعتبار سے "امین وصادق " نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے القاب ہیں (الرحیق المختوم، ص 115)، اور ابوبکرؓ، کا لقب صدیق ہے، جو آسمانوں میں دیا گیا( طبرانی، بحوالہ حکیم بن سلیم، تاریخ الخلفاء، سیوطی، ص42).

(4)دستور پاکستان میں سمجھدار، پارسا..... ..امین الفاظ استعمال ہوئے ہیں، یہ اور اس کے ساتھ دیگر جو الفاظ ہیں وہ"تقریری اور خطابی" ہیں، قانونی زبان میں استعمال نہیں ہوئے، نہ اس کی تعریف کی گئی ہے۔ سرکاری انگریزی نسخے میں دفعہ 62 کا متن کچھ یوں ہے:

(d) He is of good character and is not commonly known as one who violates Islamic Injunctions;

(c) He has adequate knowledge of Islamic teachings and practices obligatory duties prescribed by Islam as well as abstains from major sins;

(f) He is sagacious, righteous, non-profligate, honest and ameen, there being no declaration to the contrary by a court of law;

یہ دفعہ سرکاری(اصل) اردو نسخہ میں یوں ہے:

62(1)(د) وہ اچھے کردار کا حامل نہ ہو اور عام طورپر احکام اسلام سے انحراف میں مشہور نہ ہو

(ہ) وہ اسلامی تعلیمات کا خاطر خواہ علم رکھتاہواور اسلام کے مقررکردہ فرائض کا پابند نیز کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتا ہو

(و) وہ سمجھدار، پارسا ہواور فاسق اور ایماندار اور امین ہو، کسی بھی معاملے میں عدالت نےاس کے برعکس قرار نہ دیا ہو

مذکورہ دفعہ میں ایک تو صادق نہیں ہے، دوسرا "سمجھدار" اور "پارسا" کیا ہے؟ امین کیا ہے؟ ان چیزوں کی وضاحت ضروری ہے، ورنہ اس کا استعمال انتہائی بھونڈے طریقے سے ہوگا۔

خلاصہ: اسلامی فقہ نے جو شرائط مقرر کیے ہیں وہ ان دفعات میں درست طور شامل کرنا چاہیے۔ امین وصادق اور پارسا وغیرہ کے بجائے "عدالت" یا "عادل" ہونا چاہیے۔ اگر امین اور صادق مقرر کرنا ہے تو اس کی تعریف اور قانونی مفہوم طے کرنا چاہیے، جو ادارہ یا عدالت اس کا اطلاق یا تشریح کرتاہو، دستور کے مطابق ان کے اراکین یا ججز کے لیے بھی عدالت یا امین وصادق، جو بھی صورت ہو، ضرور مقرر ہونا چاہیے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ان کے لیے امین وصادق کیا سرے سے مسلمان ہو نا شرط نہ ہو اور فیصلہ یا تشریح کرے امین وصادق کی؟