ملٹری ڈکٹیٹر کا اصل قصور - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اگست 1947ء میں اسلام کے نام پر پاکستان نامی ریاست وجود میں آئی۔
ڈیڑھ سال بعد مارچ 1949ء میں دستور ساز اسمبلی نے "قراردادِ مقاصد" کے نام سے ایک اہم دستوری دستاویز کی منظوری دی جس کی رو سے قرار پایا کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہوگی جہاں قانون سازی سمیت تمام حکومتی اختیارات کے استعمال میں اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کے اندر کی پابندی کی جائے گی۔

سات سال بعد مارچ 1956ء میں اس ریاست کا پہلا دستور نافذ ہوا جس میں قرار دادِ مقاصد کو دیباچہ بنایا گیا اور ریاست کا نام "اسلامی جمہوریۂ پاکستان" رکھا گیا۔ اس دستور میں دو وعدے کیے گئےکہ اسلام سے متصادم تمام قوانین کا اسلام سے تصادم دور کردیا جائے گا اور یہ کہ آئندہ اسلام سے متصادم کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا۔ ان وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کا طریقہ دستور میں یہ وضع کیا گیا کہ ایک "اسلامی مشاورتی کونسل" اس ضمن میں پارلیمان کو سفارشات دے گی۔ تاہم ڈھائی سال میں وہ کونسل وجود میں نہیں آسکی اور اکتوبر 1958ء میں مارشل لا نافذ کرکے اس دستور کو ہی معطل کردیا گیا۔

پونے چار سال بعد جون 1962ء میں ملٹری ڈکٹیٹر نے ریاست کو نیا دستور دیا جس کی رو سے ریاست کو سیکولر بنا کر اس کا نام "جمہوریۂ پاکستان" رکھ دیا گیا اور قراردادِمقاصد میں بعض ترامیم کر کے اسے دستور کا دیباچہ بنا دیا گیا۔ سخت عوامی ردعمل کے بعد ملٹری ڈکٹیٹر کو مجبور ہو کر اپنے دستور میں ترمیم کرنی پڑی اور ریاست کا نام پھر سے "اسلامی جمہوریۂ پاکستان" رکھنا پڑا۔ اس دستور کی رو سے "اسلامی مشاورتی کونسل" کی تشکیل بھی کی گئی لیکن اس کونسل نے جس طرح کے "اجتہادات" شروع کیے، اس نے دستور اور قانونی نظام کی اسلامیت پر لوگوں کا اعتماد ختم کردیا۔

تقریباً سات سال بعد، یعنی تقریباً ایک عشرے تک ایسی پالیسیاں اختیار کرنے کے بعد جن کی وجہ سے ریاست کی اکائیاں مسلسل ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما ہوگئیں، 1969ء میں ملٹری ڈکٹیٹر نے خود اپنے دستور کو معطل کرکے تمام اختیارات ایک اور ملٹری ڈکٹیٹر کے سپرد کیے۔ اگلے ڈھائی سال تک ریاست کا نظام کسی دستور کے بجائے اس دوسرے ملٹری ڈکٹیٹر کے جاری کردہ "ایل ایف او" کے تحت چلتا رہا تاآنکہ دسمبر 1971ء میں ریاست دولخت ہوگئی۔

باقی ماندہ ریاست میں اگلے تقریباً ایک سال تک ایک سویلین سیاست دان نے "سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر" کے طور پر ریاست کا انتظام "عبوری دستور" کے تحت چلایا اور اسی عبوری دستور کی رو سے یہ سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر خود صدرِ ریاست کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ یہ "سول مارشل لا" اس وقت ختم کیا گیا جب 1972ء میں سپریم کورٹ نے "عاصمہ جیلانی بنام حکومت پنجاب" کیس میں قراردادِ مقاصد میں بیان شدہ اصولوں کی روشنی میں مارشل لا کو ناجائز قرار دیا۔ (عاصمہ جیلانی بعد میں عاصمہ جہانگیر بن گئیں اور طرفہ تماشا یہ ہے کہ قراردادِ مقاصد کی سخت ترین ناقد بھی بن گئیں!)

مزید پون سال گزرنے کے بعد اگست 1973ء میں ریاست میں تیسرا دستور نافذ کیا گیا جس میں ایک دفعہ پھر قراردادِ مقاصد کو دیباچے کے طور پر رکھا گیا اور ریاست کو "اسلامی جمہوریہ" قرار دیا گیا۔ ایک بار پھر دو وعدے دہرائے گئے کہ موجودہ تمام قوانین کو اسلام کے سانچے میں ڈھالا جائے گا اور آئندہ کوئی قانون اسلام کے خلاف نہیں بنایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے "اسلامی مشاورتی کونسل" کی تشکیلِ نو کرکے اسے "اسلامی نظریاتی کونسل" کا نام دیا گیا اور اسے یہ ذمہ داری دی گئی کہ وہ پانچ سال کے اندر تمام قوانین کے متعلق اپنی سفارشات پارلیمان کے سامنے پیش کرے۔ تاہم دستور میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اگر کونسل نے پانچ سال میں یہ کام مکمل نہیں کیا، یا اس نے سفارشات پارلیمان کے سامنے تو پیش کیں لیکن پارلیمان نے ان پر سرے سے بحث ہی نہیں کی بلکہ انھیں سردخانے میں ڈال دیا تو کیا کیا جائے گا؟

یہ بھی پڑھیں:   آمریتوں نے پاکستان کو کیا دیا؟ - نعیم احمد

بہرحال چار سال بعد 1977ء میں وزیرِ اعظم نے قبل از وقت انتخابات منعقد کرائے اور "کلین سویپ" اور "بلا مقابلہ" جیتنے کے ریکارڈ قائم کرنے کے شوق میں بدترین فاشزم کا مظاہرہ کیا جس کے بعد ان کے خلاف احتجاج شروع ہوا اور اس کا آخری نتیجہ یہ نکلا کہ تیسری دفعہ آرمی چیف نے مارشل لا کا نفاذ کیا۔

اس دفعہ آنے والا ملٹری ڈکٹیٹر پچھلے دو ملٹری ڈکٹیٹروں اور ایک سول ڈکٹیٹر سے اس طور پر مختلف ثابت ہوا کہ اس نے نہ صرف قراردادِ مقاصد کو دیباچے کی حیثیت سے اٹھاکر دستور کا باقاعدہ عملی حصہ (operative part) بنا دیا بلکہ اسلامی نظریاتی کونسل کے مردہ گھوڑے کو بھی زندہ کردیا۔ ان دونوں کاموں کے علاوہ جو سب سے اہم کام اس نے کیا، وہ یہ کہ جو دو دستوری وعدے 1956ء، 1962ء اور 1973ء کے دساتیر میں کیے گئے تھے ، ان کے عملی نفاذ کا طریقِ کار بھی دستور میں شامل کرلیا۔ یہ عملی طریقِ کار کئی مراحل میں طے پایا :
پہلے تو چاروں ہائی کورٹس میں "شریعت بنچ" بنائے گئے؛
پھر ان شریعت بنچوں کو ختم کرکے ان کی جگہ مرکزی سطح پر ایک "وفاقی شرعی عدالت" قائم کی گئی؛
پھر اس شرعی عدالت میں علماے کرام کو بطور ممبر جج شامل کیا گیا؛
پھر اس عدالت کو خود اپنے فیصلوں پر نظرِثانی کا اختیار دیا گیا؛
ساتھ ہی ان کے فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی صورت میں وہاں "شریعت اپیلیٹ بنچ" قائم کی گئی اور پھر اس بنچ میں بھی علماے کرام کو بطور ممبر جج شامل کیا گیا۔

اب طریقِ کار یہ طے پایا کہ کسی بھی شہری کی درخواست پر، یا ازخود نوٹس لے کر، وفاقی شرعی عدالت کسی بھی وفاقی یا صوبائی قانون کا جائزہ لے سکتی ہے اور اس قانون کو "قرآن و سنت میں مذکوراحکامِ اسلام کے ساتھ تصادم" کی بنیاد پر "تصادم کی حد تک" کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست کی سماعت یہ عدالت خود کرسکتی ہے۔ یا متاثرہ فریق اپیل میں سپریم کورٹ شریعت اپیلیٹ بنچ میں جاسکتا ہے جس کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے۔
"کسی بھی قانون" سے مراد تمام قوانین ہیں، سواے درج ذیل تین قسم کے قوانین کے:
دستور ؛
عدالتی طریقِ کار سے متعلق قوانین؛ اور
مسلم شخصی قانون۔
(مالیاتی امور سے متعلق قوانین کو بھی مستثنی کیا گیا تھا لیکن یہ استثنا موقت حیثت رکھتی تھی جو 1990ء میں ختم ہوچکی ہے۔)

دستور کا مفہوم تو واضح ہے ۔ دوسرے دو قسم کے قوانین سے کیا مراد ہے؟ اس کے متعلق وفاقی شرعی عدالت، شریعت اپیلیٹ بنچ اور خود سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلے دے کر ان کا مفہوم ممکن حد تک متعین کر دیا ہے اور اس تعیین نے فائدہ یہ دیا کہ معدودے چند قوانین کے سوا تمام قوانین وفاقی شرعی عدالت اور شریعت اپیلیٹ بنچ کے اختیارِ سماعت میں آگئے ہیں ۔ یہ اختیارِ سماعت اتنا اہم ہے کہ اگر کسی معاملے میں وفاقی شرعی عدالت نے فیصلہ سنادیا ہو اور اسے شریعت اپیلیٹ بنچ نے معطل یا تبدیل نہ کیا ہو تو اس کی پابندی سپریم کورٹ پر بھی لازم ہوتی ہے!

یہ بھی پڑھیں:   قرآن کی پکار اور کانوں میں پڑی ڈاٹ - محمد مبشر بدر

اس طریقِ کار پر عمل کرتے ہوئے اسی اور نوے کی دہائی میں بہت سارے قوانین سے ایسے امور نکال دیے گئے جو اسلامی قانون سے متصادم تھے۔ مثال کے طور پر شفعہ کا قانون مجریہ 1913ء ختم کرکے اس کی جگہ اسلامی قانونِ شفعہ لایا گیا۔ توہینِ مذہب کی سزا کے متعلق قانون میں دور رس تبدیلیاں لائی گئیں۔ (ان میں بعض تبدیلیوں پر اسلامی قانون کی رو سے بھی سوالات قائم ہیں لیکن ہم اس وقت ان سے تعرض نہیں کریں گے۔)

غالباً اس نظام کا سب سے اہم فیصلہ مالیاتی امور سے متعلق قوانین کی ان دفعات کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ تھا جن میں "سود" کو تحفظ دیا گیا تھا کیونکہ عدالت نے قرار دیا کہ سود "ربا" کی تعریف میں داخل ہے جو قرآن وسنت نے حرام کیا ہے ۔ یہ فیصلہ وفاقی شرعی عدالت نے 1991ء میں دیا جس کے بعد اس کے خلاف اپیل ہوئی اور آٹھ سال بعد دسمبر 1999ء میں شریعت اپیلیٹ بنچ نے اس فیصلے کو برقرار رکھا۔ اس آخری فیصلے کی رو سے حکومت کو (یاد رہے کہ اس دوران میں اکتوبر 1999ء میں چوتھے ملٹری ڈکٹیٹر نے دستور کو معطل کردیا تھا) ڈیڑھ سال کا وقت دیا گیا اور کہا گیا کہ اگر 30 جون 2001ء تک ان قوانین سے وہ دفعات ختم نہ کی گئیں جو اسلامی قانون سے متصادم ہیں تو یہ دفعات ازخود کالعدم ہوجائیں گی۔ یہ وہ فیصلہ تھا جس نے سرمایہ دارانہ نظام کے پجاریوں کے پیروں کے نیچے سے زمین نکال دی تھی ۔ چنانچہ پہلے تو انھوں نے اس فیصلے کو تبدیل کرانے کی کوشش کی اور جب اس میں ناکامی ہوئی (شریعت اپیلیٹ بنچ نے صرف ایک سال کا مزید وقت دیا اور مہلت جون 2202ء تک بڑھادی) تو اس کے بعد اس بنچ سے جید علماے کرام کو نکال کر ان کی جگہ من پسند لوگوں کو بٹھا دیا اور پھر تمام دستوری اور قانونی ضوابط کی پامالی کرتے ہوئے اس نئے بنچ سے جون 2002ء میں یہ فیصلہ لیا گیا کہ اس نے دسمبر 1999ء کے اپنے سابقہ فیصلے اور 1991ء کے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے کیس نئے سرے سے سماعت کے لیے وفاقی شرعی عدالت میں واپس بھجوادیا ۔ تب سے پندرہ سال سے زائد کا عرصہ ہوا لیکن وفاقی شرعی عدالت اس کیس کا فیصلہ نہیں دے سکی !

یہ صرف سودی نظام سے متعلق قوانین کا ہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ پچھلے پندرہ سال سے وفاقی شرعی عدالت اور شریعت اپیلیٹ بنچ دونوں کی حیثیت عضو معطل کی سی رہ گئی ہے ۔ پاکستان کی اسلامیت اور یہاں اسلامی قانون کے نفاذ کے مخالفین کا بس نہیں چلتا کہ وہ اس عدالت اور اس بنچ کو کیسے یکسر ختم کردیں تو غصے میں تلملا کر پھر وہ اس "ملٹری ڈکٹیٹر" پر تبرا شروع کردیتے ہیں جس نے اس عدالت اور اس بنچ کو دستور کا حصہ بنادیا تھا! اگر بات واقعی ملٹری ڈکٹیٹرشپ کی مخالفت کی ہوتی تو تین ملٹری (اور ایک سول) ڈکٹیٹر اس سے پہلے گزرے اور ایک ملٹری ڈکٹیٹر اس کے بعد بھی آیا اور یہ آخری ڈکٹیٹر تو اتنا ڈھیٹ تھا کہ اس نے دستور کو دو دفعہ معطل کردیا (پہلے اکتوبر 1999ء میں اور پھر نومبر 2007ء ،میں) ۔

نہیں یارو! سچی بات کرو۔ اس ڈکٹیٹر کا اصل قصور یہ ہے کہ اس نے اسلامی قانون کے عملی نفاذ کا دستوری اور قانونی نظام وضع کرکے دے دیا جسے اب ختم کرنے کا راستہ ان دوستوں کو سجھائی نہیں دے رہا ۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں