مینگرووز اور ساحل مکران - ظریف بلوچ

مکران کے ساحلی علاقے قدرتی، معدنی اور سمندری وسائل سے مالامال ہیں۔ اس خطے کے ساحلی علاقے کئی لحاظ سے حساس تصور کیے جاتے ہیں۔ جیوانی سے گڈانی تک پھیلے سینکڑوں کلومیٹر طویل ساحلی علاقے میں قدرتی وسائل کے کئی ذخائر ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوں اور موسمی تغیرات کے خلاف بھرپور دفاع کر رہے ہیں۔ بالخصوص مینگروز یعنی تمر کے جنگلات جو بلوچستان کے زیادہ تر ساحلی علاقوں میں سمندری طوفانوں کا دباؤ کم کرنے میں مددگار ہیں۔

بلوچستان کے ساحلی علاقے سونمیانی ہور، پسنی ہور، گوادر، پشکان ہور اور کلمت ہور میں تمر کے جنگلات پائے جاتے ہیں، جو نہ صرف طوفانوں جیسی سمندری آفات کو روکنے میں مددگار ہوتے ہیں بلکہ ان میں اعلیٰ معیار کے جھینگے اور دیگر سمندری حیات بھی پائی جاتی ہے۔ اس کی واضح مثال کلمت ہور ہے جہاں تمر کے جنگلات بڑے علاقے میں پھیلے ہوئے ہیں اور اسی علاقے میں مکران کے دیگر ساحلی علاقوں کی بہ نسبت جھینگے اور مچھلیاں زیادہ پائی جاتی ہیں۔ یوں علاقے کے مکینوں کے روزگار کو تحفظ مل رہا ہے۔

ماہر حیاتیات اور آئی یو سی این کے مینگروو پلانٹیشن کے پروجیکٹ میں شامل عبد الرحیم بلوچ کہتے ہیں کہ پروگرام کے دوران بڑی مقدار میں تمر کے جنگلات اگائے گئے تھے اور مناسب دیکھ بھال کی وجہ سے اس کے درختوں کی حالت اچھی رہی اور یہ نشوونما بھی کرتے رہے۔ لیکن پروجیکٹ ختم ہونے کے بعد اب ان درختوں کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے حالات خراب ہو رہے ہیں۔ مقامی کمیونٹی اور متعلقہ اداروں ایسے قدرتی وسائل کے تحفظ اور نگہبانی کا کام کرتے تو یہ تمر کا بہت بڑا جنگل بن جاتا۔ آئی یو سی این نے 2009ء میں پسنی میں تین ہزار تمر کے پودے لگائے تھے۔

مکران کا ساحلی علاقہ پسنی چونکہ ماضی میں بھی سونامی کی زد میں آ چکا ہے، 1945ء میں ایک سونامی نے اس علاقے کو ہٹ کیا تھا، اس لیے یہ علاقہ اب بھی سونامی کی زد میں سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین کے خیال میں یہاں زیادہ سے زیادہ درخت اگانے کی ضرورت ہے۔

کلمت کے لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے تمر کے جنگلات اپنی مدد آپ کے تحت لگائے ہیں اور ان جنگلات کا تحفظ بھی علاقے کے لوگ خود کر رہے ہیں کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ انہیں مینگرووز کی اہمیت کا اندازہ ہے۔ اسلم بلوچ نامی مقامی کہتے ہیں کہ اس وقت کلمت میں اعلیٰ کوالٹی کے جھینگے پائے جاتے ہیں اور اس کی وجہ تمر کے جنگلات ہیں۔ ان درختوں کے تحفظ کی وجہ سے ہی ایسا ممکن ہوا ہے۔

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ تمر کے جنگلات کی کٹائی کا سلسلہ بھی جاری ہے اور مقامی لوگ ایندھن کے لیے ان درختوں کی لکڑی استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مکانات کی تعمیر میں بھی اس کی لکڑی کا استعمال ہو رہا ہے جس سے یہ اہم قدرتی وسیلہ بتدریج کم ہوتا جا رہا ہے۔ مرین بایولوجسٹ اسد اللہ بلوچ کہتے ہیں کہ پاکستان میں تمر کی چار اقسام پائی جاتی ہیں جن میں سے تین سونمیانی ہور میں ہیں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ تمر کے جنگلات کی شجرکاری قدرتی ماحول کے مطابق کرنا ہوگی۔ جہاں فطری طور پر تمر کی شجر کاری ممکن نہیں وہاں پودے لگانے کا کوئی فائدہ نہیں، بالخصوص دریاؤں کے کناروں پر پودے لگانے سے کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا کیونکہ پانی کا ایک تیز بہاؤ ساری محنت ضائع کردے گا۔ اس لیے مینگرو کے درخت وہاں اگائے جائیں جو کہ فطری لحاظ سے پائیدار ہوں۔ تمر کے جنگلات کے تحفظ اور اس کے حوالے سے آگہی فراہم کرنا بہت ضروری ہے تاکہ قدرتی وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔