سعادت حج اور حجاج کرام کی ذمہ داریاں - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے 26 -ذو القعدہ- 1438 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان " سعادت حج اور حجاج کرام کی ذمہ داریاں" ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ حج بیت اللہ کی سعادت ہر مسلمان کیلیے انمول نعمت ہے، عین سنت کے مطابق حج کی سعادت حاصل ہونے پر اظہار خوشی مسلمان کا حق بنتا ہے؛ کیونکہ اس طرح مسلمان کتاب و سنت میں ثابت شدہ اجر و ثواب کا مستحق ٹھہرتا ہے، جیسے کہ حج مبرور کا بدلہ صرف جنت ہے، حج اور عمرہ گناہوں کو مٹا دیتے ہیں، خواتین کیلیے حج جہاد کا درجہ رکھتا ہے، حجاج اور معتمرین اللہ کے وفد اور مہمان ٹھہرتے ہیں، حجاج کے یوم عرفات کے اجتماع پر اللہ تعالی فخر فرماتا ہے، نیز حج کی وجہ سے انسان شیطانی حملوں سے محفوظ ہو جاتا ہے ایسے ہی حج قبول ہونے کی صورت میں انسان کی بقیہ ساری زندگی پہلے سے اچھی گزرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ: حج کیلیے تمام سہولیات کی دستیابی اور فراہمی پر حجاج کرام کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ پر فتن دور میں بھی اللہ تعالی نے مملکت حرمین کو پر امن رکھا ہوا ہے۔ حج سے پہلے حج کا طریقہ سیکھنا انتہائی ضروری ہے تبھی انسان حج کو مبرور بنا سکتا ہے، انہوں نے حج کے ارکان، واجبات اور مستحبات کی جانب بھی اشارہ کیا اور مختصراً حج کے چند ایک مسائل بھی ذکر کئے، انہوں دوران حج کثرت سے رفاہی اور نیکی کے کام کرنے کی ترغیب دلائی، یہ بھی کہا کہ حدود حرم میں مذموم حرکتوں کا ارادہ کرنا بھی اللہ تعالی کے ہاں سخت سزا کا موجب ہے، تو انہیں عملی جامہ پہنانے کا انجام کیا ہوگا؟! عہد جاہلیت کے کافر بھی مشاعر مقدسہ کا احترام کرتے تھے تو سچے مسلمان کو ان کا احترام بالاولی کرنا چاہیے۔ دوسرے خطبے میں انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو حج کا موقع نہ ملے تو وہ دیگر نیک اعمال کر کے حج کے برابر ثواب پا سکتا ہے، اس کے بعد انہوں نے سب کیلیے جامع دعا کروائی۔

خطبہ کی عربی آڈیو، ویڈیو اور ٹیکسٹ حاصل کرنے کیلیے یہاں کلک کریں۔

پہلا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں جس نے تزکیۂ نفس فرمایا ،فرائض اور واجبات کے ذریعے نفسوں کو پاک کیا، نیز دلوں کو برائی اور خبیث چیزوں سے تحفظ دینے کیلیے حرام چیزوں کو حرام قرار دیا اور برائیوں کو چھوڑنے کی ترغیب دلائی، پھر دلوں کو ایمانی زندگی عطا کرنے کیلیے واضح نشانیاں نازل فرمائیں، اور ہمارے رسول ﷺ کی ہدایات و بلیغ تعلیمات کو ایمانی زندگی کا ذریعہ قرار دیا، میں بے پناہ نعمتوں پر اسی کی حمد و شکر بجا لاتا ہوں کہ جنہیں اس کے علاوہ کوئی شمار نہیں کر سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں ، وہ یکتا ہے اسکا کوئی شریک نہیں، وہی آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سربراہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، آپ نے جس جگہ بھی عبادت کی وہاں عبادت کا حق ادا کر دیا، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد -ﷺ-، انکی آل اور نیکیوں کیلیے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تمام صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

تقوی الہی اختیار کرو اور اس کیلیے فرائض کی تعمیل کرو اور جن کاموں سے اللہ تعالی نے روکا ہے ان سے رک جاؤ؛ کیونکہ تقوی روزِ آخرت کیلیے بہترین زادِ راہ ہے۔ نیز تقوی لوگوں کے معاملات سنوارنے کیلیے بہترین ذریعہ، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا} اور جو تقوی الہی اختیار کرے تو اللہ اس کے معاملات آسان فرما دیتا ہے۔ [الطلاق: 4]

مسلمانو!

بیت اللہ کا حج بالغ اور مکلف مسلمان پر زندگی میں ایک بار فرض ہے، ایک سے زیادہ حج نفل ہو گا، چنانچہ جس کو اللہ تعالی نفل یا فرض حج کا موقع دے اور وہ حج کے سارے اعمال مکمل بھی کر لے تو یہ اس پر اللہ تعالی کی جانب سے عظیم نعمت ہے ۔ جو کہ انتہائی بلند مقام ہے، اس میں وسیع مغفرت پنہاں ہے، نیز ایسے حج کا اجر و ثواب بھی متنوع ہے۔

اللہ تعالی جسے فضل سے نوازتے ہوئے حج کا موقع دے تو اس پر خوشی کا اظہار اس کا حق بنتا ہے

اللہ تعالی جسے فضل سے نوازتے ہوئے حج کا موقع دے تو اس پر خوشی کا اظہار اس کا حق بنتا ہے کہ وہ مسرت کا اظہار کرے، فرمانِ باری تعالی ہے: {قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ} آپ کہہ دیجئے کہ لوگوں کو اللہ کے اس انعام اور رحمت پر خوش ہونا چاہیے۔ جو کہ اس سے بدرجہا بہتر ہے جس کو وہ جمع کر رہے ہیں۔ [يونس: 58]؛ کیونکہ اس نے قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں ذکر شدہ حج کے تمام فضائل حاصل کر لیے ہیں، جیسے کہ اللہ تعالی نے حج کے ارکان مکمل ادا کرنے کے متعلق فرمایا: {وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِينَ } اور اعلی ترین انداز سے [ارکان حج ادا ] کرنے والوں کو خوشخبری دے دو۔[الحج: 37]، اسی طرح حج میں عمل صالح کے متعلق فرمایا: {وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ} اور تم جو بھی بھلائی کا کام کرو تو اللہ اسے جانتا ہے۔[البقرة: 197] یعنی مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی تمہارے ان نیک اعمال کا بھی اجر دے گا۔

اسی طرح جس کا عمل اللہ تعالی قبول فرما لے ان کے بارے میں فرمایا: {وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (201) أُولَئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِمَّا كَسَبُوا وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ} اور ان میں سے کچھ کہتے ہیں: ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی، نیز ہمیں جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما [201] یہی لوگ ہیں جن کو ان کی کمائی ملے گی، اور اللہ تعالی جلدی سے حساب لینے والا ہے۔[البقرة: 201، 202]

ایک حدیث میں ہے کہ: (ایک عمرہ دوسرے عمرے تک کے درمیانی گناہوں کا کفارہ ہے، اور حج مبرور کا بدلہ صرف جنت ہی ہے) اس روایت کو بخاری، مسلم نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

اسی طرح آپ ﷺ کا فرمان ہے: (جو شخص اللہ کیلیے حج کرے اور اس میں کوئی بیہودگی یا فسق کا کام نہ کرے تو وہ ایسے واپس آتا ہے جس طرح آج اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہو) اس کو بھی بخاری، مسلم نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

نبی ﷺ نے فرمایا: (حجاج اور معتمرین اللہ کے وفد ہیں، اگر وہ اللہ سے دعا کریں تو اللہ تعالی ان کی دعا قبول فرماتا ہے اور اگر وہ اللہ سے بخشش مانگیں تو اللہ تعالی انہیں بخش دیتا ہے)

اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: "اللہ کے رسول! ہم جہاد کو افضل ترین عمل کہتے ہیں تو کیا ہم جہاد میں شریک نہ ہوں؟" تو آپ ﷺ نے فرمایا: (تمہارے لیے افضل ترین اور خوبصورت ترین جہاد : حج مبرور ہے) بخاری، نسائی

حجاج کرام اور معتمرین اللہ تعالی کے وفد ہیں اور اللہ تعالی اپنے وفد کی نہایت ہی تکریم کرنے والا ہے، چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (حجاج اور معتمرین اللہ کے وفد ہیں، اگر وہ اللہ سے دعا کریں تو اللہ تعالی ان کی دعا قبول فرماتا ہے اور اگر وہ اللہ سے بخشش مانگیں تو اللہ تعالی انہیں بخش دیتا ہے) نسائی

اسی طرح ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (حاجی کو بخش دیا جاتا ہے اور اس شخص کو بھی جس کے لیے حاجی مغفرت کی دعا کرے) طبرانی، بزار

ایسے ہی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں نبی ﷺ نے فرمایا: (کوئی دن ایسا نہیں ہے جس میں اللہ تعالی یوم عرفات سے بڑھ کر لوگوں کو جہنم سے آزادی دیتا ہو، اللہ تعالی قریب ہو کر تجلی فرماتا ہے اور پھر فرشتوں کے سامنے فخر سے کہتا ہے: "یہ لوگ کیا چاہتے ہیں!؟") مسلم

حج کا ثواب اور اس میں حاصل ہونے والے فوائد تو صرف اللہ تعالی ہی شمار کر سکتا ہے ؛ یہی وجہ ہے کہ حج کے فوائد میں سے لوگوں کو اب تک معمولی سے فوائد کا ہی علم ہو سکا ہے؛ کیونکہ جس کا حج اللہ تعالی قبول فرما لے اسے ڈھیروں اجر ملتا ہے۔

حاجی اگرچہ دورانِ حج حاصل ہونے والے فوائد شمار کرنے سے قاصر ہے لیکن پھر بھی اسے دینی اور دنیاوی دونوں ڈھیروں فوائد حاصل ہوتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ (27) لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ} اور لوگوں میں حج کیلیے صدا لگا دے، لوگ تیرے پاس پیادہ آئیں گے۔ اور دور دراز کی تمام راہوں سے دبلے پتلے اونٹوں پر بھی آئیں گے [27] تا کہ وہ اپنے لیے رکھے گئے فوائد حاصل کریں۔[الحج: 27، 28]

یہ بھی حج کی برکتوں میں شامل ہے کہ اگر مسلمان کا حج قبول ہو جائے تو اس کے سارے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔

اللہ تعالی نے حجاج کیلیے بری، بحری اور فضائی تمام راستے آسان بنا دئیے۔ آنے جانے کیلیے پر سکون ذرائع وافر مقدار میں مہیا فرمائے۔ ان کے مالی اخراجات برداشت کرنے کیلیے روزی سے بھی نوازا۔ حرمین شریفین میں امن و استحکام کو برقرار رکھا؛ حالانکہ آج کل فتنے ٹھاٹھے مارتے ہوئے سمندر کی مانند امنڈ رہے ہیں

حج کی وجہ سے مسلمان کو شیطان سے تحفظ ملتا ہے، حج کے باعث شیطان کی مکاری کمزور پڑ جاتی ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی نے ابلیس کے واقعے میں فرمایا ہے: {قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ (82) إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ} [ابلیس]نے کہا: تیری عزت کی قسم ! میں سب کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔ [82] ان میں سے سوائے تیرے مخلص بندوں کے۔ [ص: 82، 83] چنانچہ جو شخص حج کرتے ہوئے مخلص ہو اور سنت پر عمل پیرا رہے تو وہ شیطان کے گمراہ کرنے سے بچ جاتا ہے، اور جس کا حج کوتاہیوں سے پاک رہے تو اس کی بقیہ زندگی بھی گناہوں سے پاک رہتی ہے۔

حج کی توفیق ملنے پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا مسلمان پر حق ہے کہ اللہ تعالی نے اسے حج کی توفیق دی اور اس کے اسباب بھی مہیا فرمائے، حج کیلیے ضروری اقدامات، خدمات اور تمام ضروریات کی چیزیں میسر فرمائیں۔

اسی طرح یہ بھی یاد رکھے کہ اللہ تعالی نے حجاج کیلیے بری، بحری اور فضائی تمام راستے آسان بنا دئیے۔ آنے جانے کیلیے پر سکون ذرائع وافر مقدار میں مہیا فرمائے۔ ان کے مالی اخراجات برداشت کرنے کیلیے روزی سے بھی نوازا۔ حرمین شریفین میں امن و استحکام کو برقرار رکھا؛ حالانکہ آج کل فتنے ٹھاٹھے مارتے ہوئے سمندر کی مانند امنڈ رہے ہیں ، ان فتنوں میں تباہ کن آتش فشاؤں جیسی جنگیں بپا ہیں، اسی امن و امان کی نعمت کے بارے میں اللہ تعالی کا فرمان ہے: {أَوَلَمْ نُمَكِّنْ لَهُمْ حَرَمًا آمِنًا يُجْبَى إِلَيْهِ ثَمَرَاتُ كُلِّ شَيْءٍ رِزْقًا مِنْ لَدُنَّا وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ} کیا ہم نے انہیں پرامن حرم عطا نہیں کیا؟! جہاں ہماری طرف سے بطور رزق ہر طرح کے پھل کھچے چلے آتے ہیں ؟ لیکن ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں۔ [القصص: 57]

اسی طرح فرمایا: {فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ (3) الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ} انہیں اس گھر کے پروردگار کی عبادت کرنی چاہیے [3] جس نے انہیں بھوک میں کھلایا اور دہشت سے امن عطا کیا۔[قريش: 3، 4]

مسلمان پر یہ بھی حق بنتا ہے کہ اللہ تعالی کا بیت اللہ جیسی بابرکت نعمت ملنے پر خوب شکر ادا کرے، اس گھر کو ہمارے والد ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام نے اللہ تعالی کے حکم سے بنایا تھا؛ تا کہ یہ لوگوں کیلیے رحمت کا باعث ہو ۔ پھر اللہ تعالی نے بیت اللہ کو دینی اور دنیاوی فوائد کا مرکز بھی قرار دیا، فرمانِ باری تعالی ہے: {جَعَلَ اللَّهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِلنَّاسِ} اللہ تعالی نے کعبہ کو احترام والا گھر اور لوگوں کے لیے قائم رہنے کا سبب بنایا ہے۔[المائدة: 97] اس آیت کی تفسیر میں بغوی رحمہ اللہ کہتے ہیں: "[یہاں قیام بمعنی قِوَام ہے] یعنی بیت اللہ لوگوں کے دینی اور دنیاوی معاملات کی قائم رکھنے کا ذریعہ ہے۔" انتہی

اللہ تعالی کا اپنے بندوں پر یہ حق ہے کہ بندے اسی کی حمد بیان کریں اور شکر کریں کہ اللہ تعالی نے مشاعر مقدسہ کو حج کیلیے منتخب فرمایا، مسلمانوں کو ان کی عظمت سے متعارف کروایا؛ صرف اس لیے کہ مشاعر مقدسہ کی عظمت کی وجہ سے لوگوں کی یہاں کی ہوئی عبادات کا اجر و ثواب بھی عظیم بن جائے، چنانچہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : "جبریل علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام کو منی لے گئے تو وہاں پر انہوں نے ظہر، عصر، مغرب ، عشا اور اگلے روز کی فجر ادا کی، پھر جبریل آپ کو منی سے عرفات لے گئے وہاں پر دو نمازیں ادا کیں، اس کے بعد غروب آفتاب تک عرفات میں قیام کیا، پھر آپ مزدلفہ آئے اور وہاں پر رات بھر پڑاؤ کیا، پھر وہاں اتنی جلدی نماز فجر ادا کی کہ جس قدر کوئی مسلمان جلدی سے نماز ادا کر سکتا ہے، پھر جبریل علیہ السلام آپ کو منی واپس لے آئے اور یہاں پر کنکریاں ماری، بال منڈوائے اور قربانی کی، پھر اللہ تعالی نے سیدنا محمد ﷺ کی جانب وحی فرما دی: {أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ} یہ کہ آپ ابراہیم کی ملت کی پیروی کریں آپ یکسو تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔[النحل: 123] "طبرانی نے اس روایت کو معجم الکبیر میں نقل کیا ہے۔

اللہ تعالی نے ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کی دعا بیان فرمائی: {وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا} اور ہمیں مناسک سکھا اور ہماری توبہ قبول فرما۔[البقرة: 128] ، اس کی تفسیر میں بغوی رحمہ اللہ کہتے ہیں: " تو اللہ تعالی نے ان دونوں کی دعا قبول فرمائی اور پھر جبریل کو بھیجا تو انہوں نے مناسک سکھائے " انتہی

لہذا اگر کسی کو حج کی توفیق ملی ہے اور اس کے نصیب میں حج لکھ دیا گیا ہے تو وہ حج کے احکام اور ارکان سیکھے، پھر صحیح طریقے کے مطابق حج ادا کرے تا کہ اس کا حج، حج مبرور بن جائے۔

حج کے ارکان یہ ہیں : احرام کے ساتھ حج یا عمرے کی نیت، عرفات میں وقوف، مزدلفہ کی رات کے بعد طوافِ زیارت، اور سعی۔ چنانچہ اگر کسی سے وقوفِ عرفات چوک جائے تو اس کا حج شروع ہی نہیں ہو سکا۔ نیز حج کا رکن رہ جائے تو اس کے بغیر حج مکمل ہی نہیں ہو گا۔

یوم النحر یعنی 10 ذو الحجہ کے اعمال میں ترتیب آگے پیچھے ہو جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

حج کے واجبات یہ ہیں کہ: میقات سے احرام باندھیں، عرفات میں غروب آفتاب تک وقوف کریں، منی اور مزدلفہ کی راتیں کم ازکم آدھی وہاں گزاریں، کنکریاں ماریں، سرمنڈوائیں، اور طواف الوداع کریں۔

مسلمان کو حج کی سنتوں اور مستحبات کا بھی بھر پور خیال رکھنا چاہیے۔

یوم النحر یعنی 10 ذو الحجہ کے اعمال میں ترتیب آگے پیچھے ہو جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

وہ شخص نہایت خوش بختی کا مستحق ہے جو حج کی نیت صرف اللہ کیلیے کرے، دوران حج مختلف اقسام کی نیکیاں بجا لائے، کثرت سے ذکر اور تلاوت کرے، ہر عبادت اعلی معیار سے بجا لائے، دوسروں کے کام آئے اور کسی کو تکلیف دینے سے بچے۔

اگر کوئی شخص حج میں آتا ہی اس لیے ہے کہ مسلمانوں کو گزند پہنچائے، انہیں تکلیف میں مبتلا کرے، حجاج کو مشقت میں ڈالے، مسلمانوں کے خلاف مکاری اور عیاری کرے، لوگوں کی جیبیں کُترے، منشیات پھیلائے، یا کسی بھی کسی قسم کے جرم کا ارتکاب کرے تو اللہ تعالی ایسے فسادی شخص کی گھات میں ہے، اللہ تعالی مسلمانوں کو اس کے شر سے کافی ہے، اللہ تعالی اس کی تمام کارستانی کو غارت فرما دے گا۔

مسلمان کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ احرام کی حالت میں ممنوع کاموں سے بھی مکمل اجتناب کرے اور حج کو باطل کر دینے والی چیزوں سے دور رہے۔

لیکن اگر کوئی شخص حج میں آتا ہی اس لیے ہے کہ مسلمانوں کو گزند پہنچائے، انہیں تکلیف میں مبتلا کرے، حجاج کو مشقت میں ڈالے، مسلمانوں کے خلاف مکاری اور عیاری کرے، لوگوں کی جیبیں کُترے، منشیات پھیلائے، یا کسی بھی کسی قسم کے جرم کا ارتکاب کرے تو اللہ تعالی ایسے فسادی شخص کی گھات میں ہے، اللہ تعالی مسلمانوں کو اس کے شر سے کافی ہے، اللہ تعالی اس کی تمام کارستانی کو غارت فرما دے گا۔

اور چونکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف محاذ آرا ہے چنانچہ جو بھی اللہ اور اس کے رسول کے خلاف محاذ آرائی کرے تو وہ ذلیل رسوا ہی ہوتا ہے، تباہی اس کا مقدر ہے، اس بات پر تاریخ شاہد عدل ہے، اسی کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا: {إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَئِكَ فِي الْأَذَلِّينَ (20) كَتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ} جو بیشک لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں یقیناً یہی لوگ ذلیل ترین ہیں [20] اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے۔ بلاشبہ اللہ بڑا زور آور اور غالب ہے۔ [المجادلہ: 20، 21] ایسے ارادے رکھنے والا شخص حج کے اجر سے تو محروم ہے ہی بلکہ وہ بھاری بھرکم گناہوں کا بوجھ بھی ساتھ لیکر جائے گا جسے پہاڑ بھی اٹھانے سے قاصر ہیں۔

دور جاہلیت کے لوگ شرک پر ہونے کے باوجود بلد الحرام کی تعظیم کرتے تھے، حتی کہ اگر کوئی شخص اپنے باپ کے قاتل کو بھی وہاں دیکھتا تھا تو اسے کچھ نہ کہتا۔

اللہ تعالی کو دلوں کے بھیدوں کا بھی علم ہے ، چنانچہ وہ حرمت والے شہر میں گناہ کے ارادے پر بھی سزا دیتا ہے تو بلد الحرام میں گناہ کا ارتکاب کرنے والے کا کیا حال ہو گا؟ فرمانِ باری تعالی ہے: {وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ} اور جو بھی اس میں کسی قسم کے ظلم کے ساتھ کج روی کا ارادہ کرے گا ہم اسے درد ناک عذاب چکھائیں گے۔ [الحج: 25]اسی طرح فرمایا: {يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ} وہ تو آنکھوں کی خیانت اور سینوں کے بھیدوں کو بھی جانتا ہے۔[غافر: 19]

دوسری طرف دور جاہلیت کے لوگ شرک پر ہونے کے باوجود بلد الحرام کی تعظیم کرتے تھے، حتی کہ اگر کوئی شخص اپنے باپ کے قاتل کو بھی وہاں دیکھتا تھا تو اسے کچھ نہ کہتا۔

بالکل اسی طرح سچا مسلمان بھی اللہ تعالی کی احترام والی اشیا کی تعظیم کرتا ہے، اسلامی اخوت کے تقاضوں کا بھر پور خیال رکھتا ہے، بلکہ اسلامی اخوت کے حقوق کو مکمل تحفظ بھی دیتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: { وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ} اور جو بھی اللہ تعالی کے شعائر کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کے متقی [ہونے کی ایک دلیل] ہے۔[الحج: 32]

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلیے قرآن کریم کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اس کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، اور ہمیں سید المرسلین ﷺ کی سیرت اور ٹھوس احکامات پر چلنے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے گناہوں کی بخشش مانگو ۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کیلیے ہیں ، وہی طاقتور اور مضبوط ہے، میں اپنے رب کی بے پناہ نعمتوں پر اسی کا شکر گزار ہوں اور گواہی دیتا ہوں کہ اس کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، وہی بادشاہ ، حق اور واضح کرنے والا ہے، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سربراہ اور نبی جناب محمد اس کے بندے اور صادق، امین رسول ہیں، یا اللہ !اپنے بندے اور رسول محمد ، انکی آل ، اور صحابہ کرام پر اپنی رحمت ،سلامتی اور برکتیں نازل فرما ۔

کسی کو حج کا موقع نہیں ملتا تو اللہ تعالی نے اس کیلیے دیگر طریقوں سے اجرو ثواب حاصل کرنے کا رستہ کھولا ہوا ہے، جن کی وجہ سے انسان حج اور عمرے جیسا اجر پا سکتا ہے

حمد و صلاۃ کے بعد:

کماحقُّہ تقوی اختیار کرو اور دین کے مضبوط کڑے کو اچھی طرح تھام لو۔

مسلمانو!

اللہ تعالی نے اپنی رحمت کے صدقے نیکی اور بھلائی کے بہت سے راستے شریعت میں شامل فرمائے ہیں، لہذا اگر کسی کو کسی سال میں حج کا موقع نہیں ملتا تو اللہ تعالی نے اس کیلیے دیگر طریقوں سے اجرو ثواب حاصل کرنے کا رستہ کھولا ہوا ہے، جن کی وجہ سے انسان حج اور عمرے جیسا اجر پا سکتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ إِلَى اللَّهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ} پس نیکیوں کیلیے بڑھ چڑھ کر حصہ لو، اللہ تعالی کی جانب ہی تم نے لوٹنا ہے، وہ تمہیں ان کے بارے میں بتلائے گا جن میں تم اختلاف کرتے تھے۔[المائدة: 48]

اسی طرح فرمانِ باری تعالی ہے: {فَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْيِهِ وَإِنَّا لَهُ كَاتِبُونَ} پھر جو شخص نیک عمل کرے اور وہ مومن ہو۔ تو اس کی کوشش کی ناقدری نہیں ہوگی اور ہم اس (کے ہر عمل) کو لکھتے جارہے ہیں۔ [الأنبياء: 94]

ایک اور حدیث میں ہے کہ : (جہاں بھی رہو اللہ سے ڈرو، برائی کے بعد اچھائی کرو یہ برائی کو مٹا دے گی، اور لوگوں سے اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آؤ)اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور حسن قرار دیا ہے، جبکہ ترمذی نے بعض نسخوں میں اسے حسن اور صحیح کہا ہے اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

اللہ کے بندو! {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} یقیناً اللہ اور اسکے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام پڑھو[الأحزاب: 56]

آپ ﷺ کا فرمان ہے: (جو شخص مجھ پر ایک بار درود پڑھے اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے) اس لیے سید الاولین و الآخرین اور امام المرسلین پر درود و سلام پڑھو:

اللهم صلِّ على محمدٍ وعلى آل محمدٍ، كما صلَّيتَ على إبراهيم وعلى آل إبراهيم، إنك حميدٌ مجيد، اللهم بارِك على محمدٍ وعلى آل محمدٍ، كما باركتَ على إبراهيم وعلى آل إبراهيم، إنك حميدٌ مجيد، وسلم تسليما كثيراً۔

یا اللہ! تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے راضی ہو جا، یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان ، علی اور عشرہ مبشرہ سمیت تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین! یا اللہ! تابعین کرام اور قیامت تک انکے نقشِ قدم پر چلنے والے تمام لوگوں سے بھی راضی ہو جا، یا اللہ ! انکے ساتھ ساتھ اپنی رحمت ، سخاوت اور کرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! تمام معاملات میں ہمارا انجام کار بہتر فرما، اور ہمیں دنیا و آخرت کی رسوائی سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرما، یا اللہ! کفر اور تمام کافروں کو ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! شرک اور مشرکوں کو ذلیل و رسوا فرما، یا قوی ! یا متین! یا رب العالمین! تو ہی یہ سب کچھ کر سکتا ہے ، تو ہی ہر چیز پر قادر ہے۔

یا اللہ! ہم تجھ سے دعا گو ہیں کہ ہمارے اگلے ، پچھلے، خفیہ، اعلانیہ اور جنہیں تو ہم سے بھی زیادہ جانتا ہے ہمارے سب گناہ معاف فرما، توں ہی پست و بالا کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔

یا اللہ! یا ذو الجلال و الاکرام! ہم تجھ سے دعا گو ہیں کہ ہمیں ایک لمحے کیلیے بھی ہمارے اپنے رحم و کرم پر مت چھوڑنا، یا اللہ! مسلمانوں کے حالات سنوار دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! اپنے دین، قرآن اور سنت نبوی کا بول بالا فرما، یا اللہ! اپنے دین، قرآن اور سنت نبوی کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! مشرکوں کو چاہے کتنا ہی ناگوار گزرے تو اپنے پسندیدہ دین کو بقیہ تمام مذاہب پر غالب فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم تجھ سے دعا گو ہیں کہ اسلام اور مسلمانوں کی مدد فرما، یا اللہ! کفر اور تمام کافروں کو ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! ہم تجھ سے دعا گو ہیں کہ تیرے دین اور تیرے نبی محمد ﷺ کی سنت سے متصادم بدعات کو ذلیل و رسوا فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! تیرے دین اور تیرے نبی محمد ﷺ کی سنت سے متصادم بدعات کو روزِ قیامت تک کیلیے ذلیل و رسوا فرما دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! شر انگیز فتنوں کا خاتمہ فرما، یا اللہ! مسلمانوں میں پھیل جانے والے گمراہ کن فتنوں کا خاتمہ فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! مسلمانوں کے دلوں کو آپس میں ملا دے، جن کی آپس میں ناچاقیاں ہیں ان کے ما بین صلح فرما دے، یا اللہ! انہیں سلامتی کا راستہ دکھا اور انہیں اندھیروں سے روشنی میں لا کھڑا فرما، اور اپنی رحمت کے صدقے انہیں حق بات پر متحد فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یا اللہ! تمام مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما، یا اللہ! تمام مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما، یا اللہ! تمام مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما، یا اللہ! مسلمانوں کی قبروں کو منور فرما، یا اللہ! ہماری مغفرت فرما، تمام مسلمانوں کی مغفرت فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! مسلمان فوت شدگان کی نیکیوں میں اضافہ فرما، ان کی کوتاہیوں سے در گزر فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! یا ذو الجلال و الاکرام! ہم تجھ سے دعا گو ہیں کہ تمام مسلمان مرد و خواتین اور صاحب ایمان مرد و زن کے معاملات خود سنبھال لے، یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے مسلمانوں کے معاملات سنوار دے، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! امت محمدیہ پر رحم فرما، انہیں باہمی نفرت، دست و گریبان ہونے اور تفرقے سے محفوظ فرما، یا اللہ! ان پر رحم فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! انہیں ذلت اور قلت سے محفوظ فرما، بیشک توں ہر چیز پر قادر ہے۔ یا رب العالمین! یا ذو الجلال و الاکرام!

یا اللہ! ہمارے ملک کی جارحین سے حفاظت فرما، یا اللہ! ہمارے ملک کی ظالموں سے حفاظت فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! یا ذو الجلال و الاکرام! ہمارے فوجیوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! انہیں صرف ایسے کاموں کی توفیق دے جو تجھے پسند ہوں، انہیں صحیح سمت عطا فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یا اللہ! ہمارے ملک کی ہمہ قسم کے شر اور برائی سے حفاظت فرما، یا ذو الجلال و الاکرام! یا اللہ! اسلام دشمن قوتوں کی منصوبہ بندیاں غارت فرما، یا اللہ! اسلام دشمن قوتوں کی منصوبہ بندیاں غارت فرما، یا اللہ! دشمن قوتوں کی اسلام کے خلاف مکاریاں غارت فرما، یا رب العالمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! ہمیں اور ہماری اولاد کو شیطان اور شیطانی چیلوں ،شیطانی لشکروں اور شیطان کے یاروں سے محفوظ فرما، یا رب العالمین، یا اللہ! مسلمانوں کو شیطان اور شیطانی چیلوں ،شیطانی لشکروں اور شیطان کے یاروں سے محفوظ فرما، یا رب العالمین، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یا اللہ! خادم حرمین شریفین کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق دے، یا اللہ! ان کی تیری مرضی کے مطابق رہنمائی فرما، اور ان کے تمام اعمال تیری رضا کیلیے قبول فرما، یا اللہ! ہر اچھے اور نیکی کے کام کی انہیں توفیق دے، یا رب العالمین! انہیں ہدایت یافتہ اور راہِ ہدایت کا راہی بنا، یا ذو الجلال و الاکرام!

یا اللہ! ان کے ولی عہد کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! ان کے ولی عہد کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! انہیں صرف ایسے کام کرنے کی توفیق عطا فرما جن میں اسلام اور مسلمانوں کیلیے خیر ہو، یا رب العالمین!

یا اللہ! انہیں بہترین حاشیہ نشین میسر فرما، یا ذو الجلال والاکرام! جو بھلائی کے کاموں میں مدد اور رہنمائی کریں، جو بھولنے پر یاد کروائیں، اور یاد رہنے پر تعاون کریں، یا ذو الجلال والاکرام! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یا اللہ! یا ذو الجلال و الاکرام! ہم تجھ سے دعا گو ہیں کہ اس ملک کو امن و امان کا گہوارہ اور مستحکم بنا، یا اللہ! تمام اسلامی ممالک کو امن و امان کا گہوارہ اور مستحکم بنا، یا رب العالمین!

اللہ کے بندو!

{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} اللہ تعالی تمہیں عدل و احسان اور قریبی رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے، اور تمہیں فحاشی، برائی، اور سرکشی سے روکتا ہے ، اللہ تعالی تمہیں وعظ کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو [النحل: 90، 91]

عظمت و جلال والے اللہ کا کثرت سے ذکر کرو، اسکی نعمتوں پر شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے، اور اللہ تعالی تمہارے سب کاموں سے با خبر ہے۔

پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاؤنلوڈ یا پرنٹ کیلیے کلک کریں

Comments

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے بی ایس حدیث کے بعد ایم ایس تفسیر مکمل کر چکے ہیں اور مسجد نبوی ﷺ کے خطبات کا ترجمہ اردو دان طبقے تک پہنچانا ان کا مشن ہے. ان کے توسط سے دلیل کے قارئین ہر خطبہ جمعہ کا ترجمہ دلیل پر پڑھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.