مسلمان"جشن" نہیں "شکر" منایا کرتے ہیں - بنت طاہر قریشی

گزشتہ ساڑھے چودہ سو سال کی تاریخ اٹھاکر دیکھ لیجیے، آپ کو اسلامی تاریخ کے ایسے ایسے روشن اور تابناک کارنامے نظر آئیں گے جن پر انسانی عقل حیران نظر آتی ہے۔ ان محیر العقول کارناموں کی ابتدا ہجرت مدینہ سے ہوتی ہے-کفار کے سفاکی کی حدوں کو پار کرتے مظالم کا شکار کم مایہ و بے سرمایہ مسلمان نبوت کے دسویں سال اللہ کے حکم سے مدینہ ہجرت کرتے ہیں،وہاں کے رہائشی انکا فقید المثال استقبال کرتے ہیں،اپنے مال و دولت ان کے سامنے ڈھیر کردیتے ہیں۔ یہ سب خبریں کفار مکہ کو پہنچتی ہیں ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے اور پھر" معرکہ بدر" پیش آتا ہے۔ "معرکہ بدر"صرف اسی لیے اہمیت نہیں رکھتا کہ یہ کفر و باطل کا پہلا معرکہ تھا بلکہ یہ معرکہ بذات خود عقل انسانی کو مات دیتا ہے وہ اس طرح کہ جس وقت، جس مقام اور جس حالت میں یہ معرکہ لڑا گیا وہ قطعاً مسلمانوں کے حق میں نہیں تھی۔ لیکن خدائے بزرگ و برتر کی غیبی مدد سے یہ "ناممکن" ممکن میں بدل گیا اور مسلمانوں کو بغیر کسی جانی و مالی نقصان کے نہ صرف عظیم الشان فتح نصیب ہوئی بلکہ کفار پر ہیبت و دھاک بھی بیٹھ گئی۔

اس ناقابل یقین فتح کے بعد مسلمانوں نے"جشن" نہیں منایا تھا بلکہ اس ذات باری کے سامنے"شکر" کی ادائیگی میں سجدہ ریز ہوگئے تھے جس کی اعانت سے یہ عظیم الشان فتح نصیب ہوئی۔

کیوں؟

کیونکہ ان کے سامنے رب کا فرمان عالیشان تھا

لئن شکرتم لازیدنکم

اگر تم شکر کرو گے تو تمہیں مزید نوازا جائے گا

ان کو چونکہ"مزید نعمتیں" چاہیے تھیں تو انہوں نے "شکر" کی کثرت کردی۔ جس کے صلے میں ان کو ایسے ایسے انعامات اور فتوحات سے نوازا گیا جن پر عقل اب تک انگشت بدنداں ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دس سال کے قلیل عرصےمیں ساڑھے 22 لاکھ مربع میل پر حکومت کرنا اور اس عرصے میں اس وقت کی دو بڑی سپر پاورز کا مجاہدین اسلام کے ہاتھوں خاتمہ اور بیت المقدس پر مسلمانوں کی پھر سے حکومت اسی"شکر" کی ادائیگی کی بدولت تھی۔

"قیام پاکستان" بھی ایسے ہی عقل کو حیران کردینے والا واقعہ ہے ۔ وہ وقت،حالات اور مسلمانوں کی خود اپنی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ دو جابر و مقتدر قوموں ہندو اور انگریزوں سے لڑ کر یہ ملک حاصل کرتے لیکن اللہ کی ذات پر یقین،مدد خداوندی کی پوری امید اور اتحاد کی قوت نے اس ملک کا حصول نا صرف ممکن بنایا بلکہ پوری دنیا نے دیکھ لیا کہ مسلمان جب جب اپنے رب کی طرف پوری طرح رجوع ہوکر کوئی کام کرتے ہیں تو پھر ناممکن کو بھی ممکن بنالیتے ہیں۔

مگر المیہ یہ ہوا کہ ہم نے "فتح" کے بعد "شکر" کے بجائے"جشن" منانا شروع کردیا جس کا نقصان یہ ہوا کہ ہمیں"مزید" یعنی مقبوضہ کشمیر ملنے کے بجائے" ملا ہوا" یعنی بنگلہ دیش بھی ہم سے چھین لیاگیا۔ ہم "جشن"مناتے گئے اور حاصل شدہ نعمتوں کو بھی کھوتے گئے اور ہمارے اسلاف "شکر" مناتے گئے اور "مزید نعمتیں" حاصل کرتے گئے۔

عزیز پاکستانیو! 14 اگست "جشن "منانے کا دن نہیں،بلکہ "شکر" کی ادائیگی کا دن ہے۔ اس دن موٹر سائیکلوں کے سائلینسر نکال کر سڑکوں پر ون وہیلنگ کرنا، اندھا دھند فائرنگ کرنا، رقص و سرود کی محفلیں سجانا، جن جابروں سے آزادی حاصل کی انہی کے گانوں کو لاؤڈ اسپیکرز پر چلا کر سڑکوں اور گلیوں میں جشن آزادی کے نام پر اودھم مچاتے پھرنا، یہ رب کو راضی کرنے والے نہیں بلکہ ناراض کرنے والے کام ہیں۔ پاکستان رب کا "انعام" ہے اور اس انعام کے شکر پر رب کے سامنے جھک جاؤ، رب کی رضا والا کام یعنی" صلوۃ الشکر " ادا کرو، رب کی ناراضی والے کاموں سے اجتناب کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ "قوم لایشکرون" کی فہرست میں شامل ہوکر"ان بطش ربک لشدید" کی پکڑ میں آجائیں اور اس ناشکری اور بے عملی پر صفحہ ہستی سے ہی مٹادئیے جائیں اور پچھلی قوموں کی طرح آنے والی قوموں کے لیے نشان عبرت بنادیئے جائیں!