پرچم - ریاض علی خٹک

لیکن آج تو 12 اگست ہے. صبح جلدی گھر سے نکلا تو گلی میں صفائی والا اپنے کام میں مگن تھا. میری توجہ اس کی قمیض پر گئی. سبز ہلالی پرچم سینے پر آویزاں تھا. صفائی والی ریڑھی کے ساتھ بہت محنت سے اس کی ہھتی کے قریب ایک چھوٹا پرچم ایستادہ تھا.

پیلی ہائی ایس نے چوک پر حسب روایت کٹ مارا، لیکن آج اس پر تاؤ کھانے کے بجائے میری توجہ اس بڑے پرچم نے لی جو ایک بانس کے ساتھ بنا شیشوں کی کھڑکی کے کالم کے ساتھ اس نے رسی کے ساتھ باندھا تھا. گٹکا کھاتے ڈرائیور کو پہلی بار میں نے محبت سے ہاتھ اٹھا کر سلام کیا.

پل کے پار ٹریفک پولیس کے سپاہیوں نے ہتھیار بھی اٹھائے تھے اور پرچم کے بیج بھی لگائے تھے. آفس میں کولیگز نے پرچم کے بیج لگائے تھے. پلانٹ میں کافی ورکرز نے پرچم کی ٹی شرٹس پہنی تھیں.
واپسی کے سفر میں ٹریفک کا رش تھا لیکن میری نگاہیں پرچم ڈھونڈ رہی تھیں، مجھے چنگچی پر پرچم لگا ملا، مجھے ہر دوسری بائیک پر لگا پرچم ملا، فراٹے بھرتے رکشہ بھی پرچم بردار تھا، مہنگی پوش گاڑیوں کے شیشوں پر بھی کلپ سے منسلک پرچم لگے تھے. فروٹ کی ریڑھی والے نے بھی سیبوں کے ڈھیر میں پرچم کھڑا کیا ہوا تھا. سبزی والے کے میلے کپڑوں پر بھی پرچم کا بیج لگا تھا. اچانک مجھے بے چینی ہوئی. اپنے خالی سینے کو دیکھا. ایسا لگا جیسے میری پہچان کوئی نہ ہو. دکان سے پرچم کا بیج لیا. وہاں کھڑے کھڑے اس سبز ہلالی پرچم کو سینے پر آویزاں کیا.

تاریخ انسانی میں پرچم کی یہ پہچان تواتر سے چلی آرہی ہے. رحمت العالمین بھی اپنے ہر لشکر کو پرچم و علم عطا کرتے تھے. یہ پرچم کیا ہے؟ یہ ایک شناخت ہے. یہ ایک عہد ہے. یہ ایک عزم ہے. زندگی کی اس دوڑ میں اس پرچم بردار شناخت والے جس سے ایک رشتہ بناتے ہیں. اس رشتے پر زنجیر بنتی ہے. اور یہ زنجیر اتفاق کی مشقت میں اپنی پہچان اپنی شناخت کو بلند سے بلند تر کرتے ہیں.

یہ بھی پڑھیں:   میں باغی کیوں ہوں؟-اوریا مقبول جان کے اہم انٹرویو کا آخری حصہ

اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں. اس پرچم کا احترام کریں. یہ سینے کے مقام کی شناخت ہے. یہ چومنے کی پاکیزگی ہے. اسے راستوں کی دھول میں قدموں کا نشان بننے نہ دیں.

Comments

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک خیبر پختونخوا کے کوہساروں سے روزی روٹی کی مشقت پر سندھ کے میدانوں میں سرگرداں, تعلیم کیمسٹ کی ہے. تحریر دعوت ہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں