آداب کا اہتمام کیجیے - محمد عنصر عثمانی

ہم اکثر محافل میں، شادی بیاہ میں، تقریبات میں، رشتہ داروں میں، دوستوں یاروں کی دعوتوں میں چندایسے افراد سے ملتے ہیں جولا شعوری طور پرایسے کام کرتے پائے جاتے ہیں، جن کا انہیں خود اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کایہ فعل دوسروں کے لیے کتنااذیت کاباعث بن رہاہے۔ انسان کواللہ رب العالمین اشرف المخلوقات بنایاہے، تواس کے زندگی گزارنے کے اصول بھی ادب، جذبہ، اطاعت وفرمانبرداری، خلوص سے مزین ہونے چاہئیں۔ اپنی ذات کی نفی کرکے کسی کودکھ پہنچاناادب کے خلاف ہے۔ حالت غم میں شکوہ نہ کرنا، راحت میں آپے سے باہرنہ ہونا بھی ادب ہے۔ اسی طرح حسن اخلاق، تسلیم ورضا، عاجزی، اطاعت، احترام، نرم خوئی بھی ادب کی علامات میں سے ہیں۔

ملک کے بڑے شہروں میں بارش کے موسم میں اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ موٹرسائیکلوں، گاڑیوں کے مڈفلگ نہ ہونے کی وجہ سے تیزرفتاری کے باعث، کیچڑ اڑ کرپیچھے آنے والے کسی بزرگ اور شریف آدمی کے کپڑوں کوخراب کردیتی ہے۔ اس بارے احتیاط کوملحوظ خاطرنہ رکھنا اوراحساس نہ کرنا راستے اورسفری ساتھیوں کی بے ادبی ہے۔ آپ رحمة اللعٰلمین ﷺ سفرمیں کس قدر خیال فرماتے تھے، اس کامطالعہ بے حد ضروری ہے۔ آپ ﷺ نے اپنی مکمل زندگی، اورزندگی کے ہرہر گوشہ کوبہترین نمونہ، اور روشن رستہ کے طورپر پیش فرمایا، کہ انسان ان سے اپنے قول وفعل، عادات واطوار سنوار سکتاہے۔

معاشرے میں حسن تب پیدا ہوگا جب ہم والدین، ازدواجی زندگی، اولاد کی پرورش، دوستی، مہمانی، میزبانی، مجلس، سلام، عیادت، ملاقات، گفتگو، خط وکتابت، کاروبار، غرض جملہ معاشرتی امور میں ادب وسلیقہ، وقار وشائستگی، نظافت وپاکیزگی، ترتیب وتنظیم، لطافت واحساس، حسن و ذوق، علی ظرفی، شرافت طبع، ہمدردی وخیرخواہی، شیریں کلامی، تواضع وانکساری، ایثار وقربانی، بے غرض و اخلاص، استقلال وپامردی، فرض شناسی، خداترسی اورپرہیزگاری سے اپنی زندگی کوآراستہ پرکشش بنائیں گے۔

اگرزندگی سے بھرپور فائدہ اٹھاناچاہتے ہیں، لطف اندوز ہوناچاہتے ہیں، فی الواقع کامیاب زندگی کاخواب دیکھتے ہیں، توکامیاب زندگی کے اصول و آداب سے واقف ہوناپڑے گا۔ اورعملاً ان اصول وآداب سے زندگی کوآراستہ کرکے اسلامی زندگی کی جاذبیت پیدا کرنی پڑے گی اور یہ دلکش اسلامی زندگی نہ صرف اہل اسلام، بلکہ ناآشنا بندگان خدا کے لیے بھی بے نظیرہوگی۔

سیرت طیبہ کامطالعہ بتاتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دین حنیف میں، بطن سے لحد تک، زندگی کے آداب مکمل بیان فرمائے ہیں۔ المیہ یہ نہیں کہ ہمارا نوجوان بگڑرہاہے، المیہ یہ ہے کہ آنے والی نسلوں کی تربیت اسلامی طورطریقوں سے کیسے ہوگی؟ سلیقہ وتہذیب کے تمام جملہ آداب، جن میں نمایاں طہارت و نظافت، صحت، لباس، کھانے پینے کے آداب، سونے جاگنے کے آداب، راستے کے آداب، سفرکے آداب، رنج وغم کے آداب، خوف وہراس کے آداب، خوشی کے آداب، اسی طرح حسن بندگی میں مسجد کے آداب، نماز کے آداب، تلاوت قرآن کے آداب، یوم جمعہ کے آداب، نماز جنازہ کے آداب، میت کے آداب، قبرستان کے آداب، کسوف وخسوف کے آداب، رمضان المبارک کے آداب، روزے کے آداب، زکوٰۃ وصدقات کے آداب سے آج کانوجوان بلکل نابلد ہے۔ جس طرح معدے کی بیماری، صحت مند جسم کو بیمار کردیتی ہے، اسی طرح دین سے دوری ذہنی الجھنوں میں جکڑکر، دل ودماغ کوبری طرح متاثر کرتی ہے اورقلبی بیماری کا باعث بنتی ہے۔ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا:" سیدھے سادے رہو، میانہ روی اختیار کرو، اورہشاش بشاش رہو۔ "(مشکوٰۃ)

ایک تقریب میں پڑھے لکھے صاحب کودیکھا کہ وہ مجلس کے آداب کاخیال نہ رکھتے ہوئے اپنی ناک صاف کرتے رہے جوکہ دوسروں کے لیے تکلیف اور کراہت کاباعث ہے۔ ایک دین دار نوجوان بغلوں کھجاتے ہوئے پائے گئے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ ان کی عادت ہے۔ اس طرح کی بے شمار عادات معاشرے میں مشاہداتی طورپر نظر آتی ہیں۔ ان کاحل صرف اورصرف اسلامی آداب سے ممکن ہے۔ اور حسن اخلاق سے اصلاح کرنا بھی معاشرے کے ہرفرد کے ذمہ لازم ہے۔

"الدین کلہ ادب" یعنی دین پوراکاپورا ادب ہے۔ اغیار کے چنگل میں پھنسا ہمارا ذہن آداب زندگی کوفراموش کرچکاہے۔ دین صرف جائے نماز و تسبیح تک محدود سمجھاجانے لگاہے۔ ہماری دینی حمیت سوچکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیاہم اپنی زندگی کودینی آداب سے سنوار کراپنے رب کی خوش نودی حاصل نہیں کرنا چاہتے ؟ یقیناً اس کی ہمیں ضرورت ہے اور معاشرے میں پھیلتی برائیوں پرنظررکھنا، اور ان کا قلع قمع کرنا بھی ہمارا دینی فریضہ ہے۔