سیکولرازم، دو قومی نظریہ اور اسلامی ریاست - مجیب الحق حقی

آج کل پھر سیکولرازم، اسلام اور الحاد کے حوالوں سے بحثیں چل رہی ہیں۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ سیکولرازم عین اسلام ہے یعنی اس کو بحیثیت ایک نظام کے اپنانے سے ایمانیات پر اثر نہیں پڑتا۔ اس تمام تکرار میں جو بات اہم ہے، وہ یہ کہ مختلف گروہ مغربی اصطلاحات کا من مانا ترجمہ کر رہے ہیں یا دل کو بھاتا مطلب اخذ کر رہے ہیں۔ سادہ سی بات ہے کہ اسلام کیا ہے اور اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کی تشریح اسلام کی کتب اور علمی ذخیرے سے ملے گی نہ کہ ماسکو یا لندن یونیورسٹی کے کسی پروفیسرکے مقالے میں۔ اب اگر ہم اس سادہ سے نکتے کو تسلیم کرتے ہیں تو سیکولرازم کی اصطلاح کی تشریح وہیں ڈھونڈیں گے جہاں سے یہ وارد ہوئی۔ مغرب کی اصطلاحات اپنا ایک خاص پس منظر رکھتی ہیں اور آج بھی مغرب میں انہی معنوں میں استعمال ہوتی ہیں۔ ہمارے لیے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ان اصطلاحات کی تعبیر مغرب کیا لیتا ہے۔ اگر وہ تعبیر ہمارے ایمان اور نظریہ حیات سے مطابقت رکھتی ہے تب ہی قابل قبول ہونی چاہییں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ مغرب کے نزدیک سیکولرازم کیا ہے۔

Secularism is a principle that involves two basic propositions. The first is the strict separation of the state from religious institutions.
www.secularism.org.uk. (National secular Society)
سیکولرازم ایک اصول ہے جو دو نکات پر مشتمل ہے، جس میں پہلا یہ ہے کہ ریاست اورمذہبی اداروں کی سختی سے علیحدگی۔
نیشنل سیکولر سوسائٹی

The belief that religion should not play a role in government, education, or other public parts of society (Marium Webster Dictionery)
یہ یقینیت کہ مذہب گورنمنٹ، تعلیم اور معاشرے کے دوسرے عوامی امور میں کوئی کردار ادا نہیں کرے گا۔ (میریم ویبسٹرڈکشنری)

The belief that religion should not be involved with the ordinary social and political activities of a country. (The Cambridge dictionery)
مذہب کی ملک کی معاشرتی اور عام زندگی میں مداخلت نہیں ہوگی۔( کیمبرج ڈکشنری)

The principle of separation of the state from religious institutions.(Oxford Dictionery)
مذہبی امور کی ریاستی امور سے علیحدگی۔( آکسفورڈ ڈکشنری)

آپ نے دیکھا کہ جہاں سے یہ اصطلاح ہمارے بھائی مستعار لیتے ہیں وہاں اس کا مطلب مذہب کو عام معاشرتی زندگی سے بے دخل کرنا اور اسے انسان کا ذاتی فعل قرار دے کر ریاستی امور انسانوں کی رائے یعنی جمہوریت کے تئیں چلانا ہے۔ حکومت اور مذہب کی یہ علیحدگی مغرب میں سائنس کے مقابلے میں سیاسی عیسائیت کی علمی ناکامی کا شاخسانہ تھی اور بس۔ غلامی کے ماحول کے تئیں ہمارے اعصاب میں پیوست احساس کمتری کی وجہ سے جب ہم نے مغرب کی ہر چیز فخریہ اپنانی شروع کی تو وہاں کے ہر طرز کی پیروی ہمارا منتہائے مقصود بنا۔ اس ذہنیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مغرب نے اپنا یہ مہرہ (سیکولرازم) بھی آگے کر دیا۔ اب ہمارے تعلیم یافتہ طبقے کا ایک حصّہ جس میں مغرب زدہ اور احساس کمتری کا شکار صحافی اور سوشل میڈیا کے دوست بڑی تعداد میں ہیں، اس فلسفے یعنی سیکولرازم کو مسیحا سمجھ کر بغیر اس کی اصلیت جانے بھیڑ چال میں یا جان بوجھ کراس کی آبیاری کر رہے ہیں۔ سیکولر ازم کو عین اسلام کہا جا رہا ہے اور مضحکہ خیز حد تک جا کر پاکستان کی تخلیق کی بنیاد بھی۔ کچھ احباب اس کو قائداعظم کی تقاریر سے کشید کرتے ہیں اور کچھ ان کے فرامین سے جوڑتے ہیں۔ مقصد یہی ہے کہ عوام میں ایک کنفیوژن پیدا کیا جائے۔ سیکولرازم کی ترویج کی کوشش تو بھٹّو مرحوم کے دور سے جاری ہے لیکن کیونکہ اس میں قیام ِپاکستان کے حوالے سے منطقی، استدلالی اور نظریاتی جان نہیں، اسی لیے اب تک عوامی قبولیت کے حصول میں ناکام ہے۔

اب اس فلسفے کی اسلام میں گنجائش کا مختصر سا جائزہ مناسب ہوگا۔

جیسا کہ ہم نے جانا کہ سیکولرازم کے مطابق مذہب کا حکومتی امور سے واسطہ نہیں ہوناچاہیے۔ کیا ہماری تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے؟ اسلام کی تاریخ میں فتح مکّہ ایک اہم موڑ تھا۔ اُس وقت اسلام غالب ہوچکا تھا اور ایک ریاست پوری قوّت کے ساتھ منصہ شہود پر آشکارا ہو چکی تھی۔ نکتہ یہ ہے کہ اگر ریاست اور مذہب دو جدا چیزیں ہوتیں تو رسول اللہ ﷺ اس وقت ہی ریاستی معاملات کسی ایسے صحابی کے حوالے کرتے جو اچھے منتظم ہوتے اور خود دین کی تبلیغ اور اصلاح ِانسانیت میں مشغول ہوجاتے۔ گویا یہ اتنی اہمیت کی بات ہوتی تو آنحضرت ﷺ اسی وقت یا بعد میں اس کی تشریح فرما دیتے لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ آپ ﷺ کے وصال کے بعد بھی ایسا نہیں ہوا تو سیکولرازم کے پروانے کس منطق کی بنیاد پر اسے اسلامی اور مسلمانوں کے لیے مفید قرار دیتے ہیں؟ یہ ایک سادہ مگر اہم مثال سیکولرازم کی حقیقی تعریف کی روشنی میں ہے جس کی رو سے اسلام میں سیکولرازم کی ان معنوں میں گنجائش ہے ہی نہیں جن معنوں میں مغرب میں یہ جانا جاتا ہے۔ اگر سیکولر کا مطلب صرف یہ ہو کہ ریاست کا کسی کے عقیدے میں دخل نہیں تو یہ بات تو اظہر من الشّمس ہے کہ اسلام عقائد کو فرد کا ذاتی اختیار ہی سمجھتا ہے جس میں زبردستی نہیں، لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ اپنے دائرہ ٔکار کے بموجب ایک محدود معنی میں ایسا سیکولرطرز عمل اسلامی ریاست کا حصہ ہوتا ہے۔ اس طرح یہ تو پہلے ہی ایک اسلامی ریاست کا ڈیفائنڈ طرز عمل ہے۔

اہم نکتہ یہ ہے کہ اسلامی اور سیکولر ریاست میں صرف یہ فرق ہے کہ اسلامی ریاست اپنے فلسفہ ٔحیات کی محافظ ہوتے ہوئے تمام مذاہب، ان کی عبادت گاہوں اور ان کے ماننے والوں کی بھی محافظ ہوتی ہے۔ جبکہ سیکولر ریاست تمام مذہبی عقائد کو ذاتی قرار دیکر اس شرط پر مذہب اور عبادت گاہوں کو تحفظ دیتی ہے کہ وہ ریاست کے امور پر اثرانداز نہیں ہوں گے۔ لیکن دوسری طرف تاریخ تو اس بات کی بھی شاہد ہے کہ سیکولر ریاستیں بھی مجنوں ہوکر مذہب اور مذہبی اقدار پر حملہ آور ہو سکتی ہیں جیسا کہ نہ صرف ترکی میں ہوا بلکہ جدید دور میں مثالی جمہوریتیں بھی تقریباً اتنی ہی انتہا پسندی اور تنگ دلی کی طرف مراجعت کر رہی ہیں جتنا کہ سیکولر ازم کے وکیل مذہب اور مذہبی ایجنڈے پر الزام لگاتے رہے ہیں۔

یاد رکھیں کہ سیکولرازم میں اخلاقیات کی کوئی ناقابل تبدیل اساس نہیں ہوتی اور یہی اس کی سب سے بڑی خامی ہے۔ مذہبی ریاست وحی کے ذریعے اخلاقیات کے پیرامیٹر متعیّن کرتی ہے جو مستقل constant اور ناقابل تبدیل ہوتے ہیں اور معاشرے کے فیبرک کو بکھرنے نہیں دیتے۔ سیکولر معاشرہ جسے کھلا معاشرہ بھی کہا جاتا ہے، اس میں اخلاقیات کے اصول ٹھوس نہیں بلکہ سیّال اور تغیر پذیر ہوتے ہیں۔ اسی کا شاخسانہ آزاد اور بے قید طرز زندگی میں ہم جنسی شادیاں، بغیر شادی کے رہنا اور جانوروں، جیسے کتّوں سے شادیاں ہیں۔ اس نظریے کے آخری اور ممکنہ تباہ کن نتائج میں سے یہ چند ہی ہیں۔ آگے اس سمت میں پیش قدمی میں احترام کے رشتوں کا معدوم ہوجانا یقینی ہے۔ دوسری طرف عمومی طور پر کسی مذہب کی دستاویزات، نظریاتی اساس، اخلاقیات اور عقائد ہی اس کی راہ عمل کا تعیّن کرتے ہیں۔ اسلامی ریاست غیر مسلم کے عقائد کے تحفّظ کا ذمّہ لیتی ہے، اس طرح آزاد سیکولر ازم کے فیل بے مہار کے مقابلے میں خدائی احکامات کی روشنی میں زیادہ محفوظ اخلاقی معاشرہ جنم لیتا ہے۔

اب پاکستان کی طرف آتے ہیں۔ پاکستان کی سیکولر بنیاد پر تخلیق ایک بے منطق بات ہے۔ حیرت ہوتی ہے اتنے عالم اور قابل لوگوں کی ذہن رسائی پر کہ کوئی مناسب منطقی بات ہی لے کر آئیں۔ پاکستان جس تحریک پر بنا، وہ تھی ہی سیکولرازم کے مقابل۔ کانگریس کے سیکولرازم کے مقابل پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الّا اللہ ہی تو تھا۔ اگر ہندوستان اور پاکستان دونوں کو ہی سیکولر ازم کا نظریہ اپنانا تھا تو ہندوستان دولخت کیوں ہوا؟ ایک ہی نظریے کی بنیاد پر کسی جغرافیائی تقسیم پراتنا کشت و خون تو کبھی نہ ہونا تھا۔ اس تقسیم کی بنیاد ہی دو قومی نظریہ تھا تبھی دونوں قومیں نہ صرف اس وقت لڑ کر خون میں نہا گئیں بلکہ آج تو پہلے سے زیادہ خون آشام لہجے میں رطب الّلسان ہیں۔ امن کی آشا کا بُرا حشر اس کے غیرفطری اور مصنوعی ہونے کی وجہ سے ہوا۔ پاکستان اور بھارت میں دوستی کی ہر کوشش کا ہمالیہ محض ایک معمولی منفی رویّے یا واقعہ سے ہی نیست و نابود ہوجاتا ہے۔ وجہ اس کی یہی لاشعور میں پیوست صدیوں کی مخاصمت ہے جو روز ِروشن کی طرح اعلان کر رہی ہے کہ یہاں ایک نہیں دو قومیں بستی ہیں جن کی بنیاد زبان و نسل نہیں بلکہ مذہب ہے۔ ایک طرف بت پرست اور دوسری طرف توحید کے متوالے، کیا ہمارے سیکولر دوستوں کو یہ حقائق نظر نہیں آتے۔

برّصغیر کے مسلمانوں کو سیکولر بنانے میں ہمارے پرانے آقا نے بھی کم کوششیں نہیں کیں۔ لیکن انگریز کی دور اندیشی ماننی پڑے گی کہ اس نے ہمارے قدیم مؤثر تعلیمی نظام کو چالاکی سے دولخت کیا، جب لارڈ ہیسٹنگ نے غالباً کلکتہ میں پہلے خالص دینی مدرسے کی بنیاد رکھی۔ دین اور دنیا کی تعلیم الگ کرکے انگریز نے اسلامی عقیدے کی معاشرتی اور معاشی اثرانگیزی کو دولخت کیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس کے باوجود بھی اس وقت سے آج تک مسلمانوں کو ذہنی طور پر پراگندہ کرنے کی کاوش مغرب نے کبھی ماند نہیں پڑنے دی۔ وہ آج بھی چین سے نہیں بیٹھا۔ آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہو کہ ایک اخباری اطلاع کے بموجب پاکستان میں تعلیمی نصاب کے ذمّہ داران نے علم کی ترقّی کے نام پر پرائیوٹ اداروں کو آزادی دی ہوئی ہے کہ وہ اپنے طلبہ کے لیے جہاں سے چاہے کتاب منتخب کرسکتے ہیں۔ اپنی کتب میں سے تاریخ کے اہم ابواب نکالنے کے بعد ارباب اختیار کی اس کھلی چھٹّی پر مغرب کی اندھی تقلید کی ذہنیت میں غرق پرائیوٹ اسکول مغربی پبلشرز کی کتب بچّوں کو پڑھا رہے ہیں جس سے ان کی ایک خاص نہج پر ذہن سازی ہو رہی ہے۔ اب یہی افراد آگے جاکر انتظامی عہدوں پر بیٹھیں گے تو مغربی نظریات کی ترویج کو ہی درست سمجھیں گے کیونکہ ان کی ذہن سازی کے وقت ہمارے ارباب ِاختیار سوئے ہوئے ہیں۔

افسوس کی بات یہی ہے کہ ایسی حکومت جو دعویٰ کرتی ہے کہ وہ پاکستان کی خالق جماعت ہے، وہی پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے دفاع سے غافل ہے۔ یاد رکھنے کی بات یہی ہے کہ اپنے نظریہ حیات کا تحفظ اپنے نظام تعلیم کے رخ پر منحصر ہے۔ قابل تحسین ہیں وہ علماء اور ادارے جنہوں نے مدرسوں میں دین کے ساتھ دنیاوی تعلیم کا اہتمام شروع کر دیا ہے۔ پاکستان میں لادینیت کے پروموٹرز کو یہ بہت مؤثر جواب ہے۔ جدیدیت اور اس سے منسلک نظریات سائنس کی نئی دریافتوں کی وجہ سے خود نظریاتی دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں۔ امید ہے کہ آئندہ برسوں میں جدید دلائل سے لیس علماء کی کثیر تعداد سیکولرازم اور مغربی نظریات کی کمزور ہوتی جڑوں پر مؤثر دلیلوں سے حملہ آور ہوگی، اور فتح آدھی سائنسی دلیل کی نہیں بلکہ پوری منطقی دلیل کی ہوگی۔

Comments

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقّی پی آئی اے کے ریٹائرڈ آفیسر ہیں۔ اسلام اور جدید نظریات کے تقابل پر نظر ڈالتی کتاب Understanding The Divine Whispers کے مصنّف ہیں۔ اس کتاب کی اردو تشریح " خدائی سرگوشیاں اوجدید نظریاتی اشکال " کے نام سے زیر تدوین ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.